تعلیم کی زبوں حالی..

آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے۔‘‘، ’’تعلیم زندگی کیلئے تیاری نہیں بلکہ بذات خود زندگی ہے۔‘‘، ’’ایک انسان اس وقت تک معاشرے کے لیے مفید نہیں بن پاتا جب تک وہ تعلیم یافتہ نہ ہو۔‘‘، ’’پڑھی لکھی ماں ہی بہترین معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتی ہے۔‘‘۔۔۔ یہ وہ رٹے رٹائے بیانات ہیں جو پبلک سے لے کر پرائیویٹ سیکٹر تک ہر صاحب اختیار اور اقتدار کی زبان پر ہوتے ہیں۔ حکومتی اجلاسوں، جلسوں اور این جی اوز کی مہنگے ہوٹلوں میں تعلیمی کانفرنسز تک ہر مقرر جب بولتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر پاکستان میں تعلیمی بدحالی کا کوئی غم خوار ہی نہیں… لیکن افسوس! تعلیمی پسماندگی کے درد میں ڈوب کر کی جانے والی یہ تمام جوشیلی تقاریر صرف لفظوں کی حد
تک محدود ہیں، عملی کوششوں سے ان کا دور دور کا کوئی رشتہ نہیں-
٭گو کہ پاکستان میں شعبہ تعلیم کے لئے بہت بڑا نظام موجود ہے لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر یہ ہماری تعلیمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ جن شہروں میں ترقی کے آثار ہیں وہاں تو تعلیمی حالات کچھ بہتر ہیں لیکن دیہی علاقوں میں تعلیمی مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ وہاں تعلیمی ادارے آسانی سے عوام کی پہنچ میں نہیں ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو تو چھوڑیئے صوبائی دارالحکومت لاہور کے قریب واقع اضلاع گجرات، حافظ آباد، سرگودھا کے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں آج بھی سرکاری تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔ اور ان اداروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ کے بجائے ضم کرنے کی پالیسیاں اپناتے ہوئے کمی آتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی صرف بات کریں تو یہاں اساتذہ کی تعداد تو 3لاکھ 30 ہزار ہے لیکن سکولز چند سال میں ہی 85ہزار سے کم ہو کر 56 ہزار پر آگئے ہیں۔
پنجاب بھر میں 3 کروڑ 74 لاکھ 63 ہزار بچے سکولز میں داخل ہیں جن میں تعلیمی درجہ بندی کچھ یوں ہے کہ پرائمری میں 2 کروڑ 26 لاکھ 50 ہزار، سکینڈری 28 لاکھ 84 ہزار 4 سو جبکہ ہائی سکولز میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد 13 لاکھ 49 ہزار بنتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی کمی کے مسئلہ کی تفہیم کو مزید آسان بنانے کے لئے یہ مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ حال ہی میں میٹرک کے نتائج کا اعلان کیا گیا، جس میں لاہور بورڈ سے ایک لاکھ 20 ہزار بچوں نے کامیابی حاصل کی لیکن لاہور کے 51سرکاری کالجز میں صرف 45 ہزار سیٹیں دستیاب ہیں، تو سوال یہ ہے کہ باقی 75ہزار بچے کہاں جائیںگے؟ جن کے والدین سکت رکھتے ہیں وہ تو پرائیویٹ کالجز میں چلے جائیں گے اور جن کے پاس نہیں وہ مجبوراً پھر تعلیم کو خیر باد ہی کہیں گے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ دیہی علاقوں میں اتنے فاصلے پر سکول و کالج بنائے جائیں کہ جن تک پہنچنا طلبہ و طالبات کے لئے باآسانی ممکن ہو۔
دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں والدین بچوں خاص کر بچیوں کو تعلیم دلوانے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے وہ اپنے بچوں سے مزدوری کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں والدین کو رہنمائی کی ضرورت ہے کہ کس طرح حصول تعلیم سے ان کے بچے بہتر انداز میں گھر چلا سکتے ہیں اور غربت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان بھی چھوٹ سکتی ہے۔ آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ حکومت اگر حقیقتاً تعلیم کو اس ملک کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتی ہے تو بچوں کو ماہانہ بنیادوں پر کم از کم اتنا وظیفہ تو دیا جائے جتنا کہ ایک بچہ ورکشاپ پر کام سیکھتے ہوئے گھر لا کردیتا ہے اور یہ بہت زیادہ نہیں بلکہ صرف 60 سے 100 روپے کے درمیان ہوگا۔ حکومت کو سوچنا ہو گا کہ اگر ڈینگی کے خاتمے کے لئے ایک ٹھوس، مضبوط اور تیز رفتار مہم چل سکتی ہے تو پھر جہالت کے خاتمے کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام ہوسکتا ہے۔
مار نہیں پیار‘‘ کی پالیسی پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ آج بھی دیہات کو چھوڑیئے بعض شہروں میں بھی اساتذہ بچوں کو ایسی جسمانی سزائیں دیتے ہیں جو انہیں تعلیم سے دور بھگانے کا سبب بن رہی ہیں۔
گھوسٹ سکول یعنی ایسے تعلیمی ادارے جو صرف کاغذات کی حد تک موجود ہیں عملاً وہاں درس و تدریس کا نام و نشان تک نہیں اور تنخواہیں باقاعدگی سے سرکاری خزانہ سے وصول کی جا رہی ہیں۔ گھوسٹ سکولز کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور متعلقہ اداروں کو کارروائی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اب بھی ملک بھر میں تقریباً 13ہزار گھوسٹ سکول موجود ہیں۔
تعلیمی اداروں میں فرنیچر، چاردیواری، بجلی، پانی اور ٹائلٹ سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس شعبہ کی زبوں حالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 9 فیصد سکول ذاتی عمارت، 37 فیصد چاردیواری، 34 فیصد پانی، 37 فیصد بیت الخلاء اور 59 فیصد بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
٭ امتحانی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ طلباء و طالبات بغیر بجلی کے شدید موسمی حالات کا سامنا کرتے ہوئے پرچہ دینے کے مرحلے سے لے کر غلط نتائج بھگتنے تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ امتحانی نظام کے بگاڑ کی وجہ سے طلبہ صرف تعلیم ہی سے نہیں بلکہ بعض تو زندگی سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔
تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے ابتدائی تعلیم کو قومی امنگوں کے مطابق استوار کیا جائے، پروفیسرمحمداکرم چوہدری:
یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلر و ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے پاکستان کے تعلیمی نظام کی پسماندگی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ نظام تعلیم میں سب سے زیادہ اہم چیز ابتدائی تعلیم ہے اور اسی کی بنیاد پر پورا تعلیمی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں آج تک ابتدائی تعلیم کو قومی امنگوں کے مطابق استوار کرنے کی سعی ہی نہیں کی گئی۔ آج ہر بندہ بچے کو پیدا ہوتے ہی انگریزی سکھانا چاہتا ہے اور 17 بچوں میں سے 12بچے صرف انگریزی کی وجہ سے ہی تعلیم سے بھاگ جاتے ہیں۔ لہذا شرح خواندگی اور معیارِ تعلیم میں اضافہ کے لئے پرائمری سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔
تعلیمی زبوں حالی کی دوسری بڑی وجہ دوہرا نظام تعلیم ہے، یکساں تعلیمی نظام نہ ہونے سے معاشرے میں احساس کمتری بڑھ رہا ہے اور نتیجتاً غریب کا بچہ بھی تعلیم سے دور جا رہا ہے۔ تیسری وجہ شعبہ تعلیم میں متعلقہ افراد کی عدم دستیابی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری کا کہنا تھا کہ بحثیت قوم ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آج اساتذہ طلبہ کو پڑھا رہے ہیں نہ ان سے کوئی پڑھنے والا ہے۔ فرائض کی ادائیگی میں دیانتداری پہلی شرط ہے اور یہی چیز کسی بھی کام کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں شعبہ تعلیم میں مانیٹرنگ سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر بندہ اپنا کام دیانتداری سے کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں معیاری تعلیم کے ساتھ شرح خواندگی میں اضافہ نہ ہو۔ اساتذہ دیانتداری سے پڑھائیں اور مانیٹرنگ کرنے والے ادارے انصاف کریں۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔تعلیم کی مثلث استاد ،طالب علم اور نصاب سے مکمل ہوتی ہے جس میں نصاب پہلی اینٹ ہے جس پر کسی قوم کی تعلیمی عمارت استوار ہوتی ہے۔تعلیمی اداروں میں جن چیزوں کی مدد سے متعین تجربوں کے ذریعے طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے انہیں تعلیمی نصاب کہا جاتا ہے۔ نصاب کے لیے انگریزی کا لفظ Cirriculm استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے”ایسا راستہ جس پر دوڑ لگائی جائے”ْ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیمی نصاب کے راستے بچوں کے لیے اتنے کٹھن ہیں کہ ان کے لیے منزل تک پہنچنا دشوار ہوچکا ہے۔
ایک اچھے نصاب کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف طالبعلم کو خواندہ بناتا ہے بلکہ طالبعلم کو اس کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے اور معاشی سرگرمیوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل بھی بناتا ہے۔تعلیمی نصاب کا اولین مقصدطالبعلم کی ایسی تربیت کرنا ہے کہ وہ عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سلجھاتے ہوئے معاشرے میں باوقار شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکے۔ طالبعلم کی کردار سازی کے علاوہ اس کی فکری، تمدنی اور تہذیبی تربیت کا انحصار بھی تعلیمی نصاب پر ہوتاہے۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی نصاب اس بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے کہ سکولوں اور کالجوں سے فارغ ہونے والے طلبااور طا لبات اپنے مضا مین میں ماہر ہوں۔ اگر کوئی طالب علم معاشیات سیکھ رہا ہے تو اسے ایک اچھا ماہر اقتصادیات اور ذمہ دار شہری بن کر نکلنا ہوگا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب اس معیار پر پورا نہیں اترتا جوطلباء کو ڈگری دینے کے علاوہ انہیں عملی زندگی میں کامیاب اور مہذب شہری بناسکے۔یہی وجہ ہے کہ اس نصاب کے پیداکردہ طالب علم ڈگری کے ذریعے نوکری تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ووٹ کا صحیح استعمال، قوانین کی پابندی، احترام انسانیت اور رواداری جیسے اوصاف حمیدہ سے محروم ہوتے ہیں
ہمارے نظام تعلیم کی تباہی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک نصاب تعلیم کی کوئی سمت تعین نہیں کرسکے کہ ہمیں اپنے طالبعلم کو کیا پڑھانا ہے؟ اور کس طرح پڑھانا ہے؟ ہمارا نصاب منطق کی بجائے جذباتیت پر مبنی ہے جس میں فرسودہ روایات اور گھسی پھٹی کہانیوں کو نصاب کا حصہ بنا کر طلباء کی سوچ کو محدود کر دیا گیا ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ سائنس ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایک قدم آگے بڑھ رہی ہے جس کا براہ راست اثر تعلیمی نظام اور نصاب پر پڑا ہے۔لیکن ہمارے ہاں آج بھی گزشتہ صدی کا نصاب رائج ہے جس میں کئی نسلوں سے ترمیم نہیں کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ہم تعلیم کے میدان میں اقوام عالم سے دو دہائیاں پیچھے ہیں۔نئی نسل کی نفسیات اور ماحول کے مطابق ایسا نصاب مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہو۔
مشہور فلسفی وہائٹ ہیڈ کا قول ہے “علم زیادہ ہے اور زندگی چھوٹی، اس لیے زیادہ مضامین مت پڑھائیں لیکن جو کچھ پڑھائیں اسے بھرپور انداز میں پڑھائیں”۔اس کے برعکس ہمارے ہاں نصاب میں معیار کے بجائے مقدار پر زور دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں درسی کتابیں اتنی ضخیم ہوچکی ہیں کہ بچے کے لیے ان کا پڑھنا تو کجا اٹھانا بھی بوجھ ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ درسی نصاب کی موجودہ کتابوں میں غیر ضروری مواد زیادہ ہوتا ہے جس میں ایک ہی بات کی بار بار تکرار کی جاتی ہے جس کا عام زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ نصاب میں اکثر ابواب اتنے خشک اور بور ہوتے ہیں کہ ان میں بچے کی دلچسپی کے لیے کوئی چیز نہیں ہوتی۔
پاکستان میں قوم پرستی اور حب الوطنی متنازعہ فیہ موضوعات ہیں، یہ ہم پاکستانیوں کو کیا بناتے ہیں، اور اس سے کیسے ہم اپنی سرزمین اور قوم سے محبت کرتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ یہ کس سے پوچھ رہے ہیں، ہماری قوم شناخت کا بڑا حصہ ہمارے تاریخی احساس اور ثقافت پر مشتمل ہے جبکہ خطے کی قدیم تہذیبوں کے ترکے کی جڑیں بھی کافی گہری ہیں، اسی طرح مذہب کا بھی اہم کردار ہے، مگر ہمارے نصاب میں شامل تاریخ کی کتابوں میں ہماری شناخت کے متعدد پہلوﺅں کا ذکر ہی موجود نہیں۔
نصاب میں یہ بتانے کی بجائے ہم کون ہیں، کی بجائے تاریخی حقائق میں ردوبدل کرکے ہمارے اپنی شناخت کے احساس کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا گیا ہے، اور ان کتابوں میں سب سے بڑا دھوکہ ان واقعات کے بارے میں جو ابھی تک ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔
ہیرالڈ نے اس معاملے پر ایسے مصنفین اور ماہرین کو دعوت دی جو تاریخ پر عبور رکھتے ہیں تاکہ وہ ان سوالات پر اپنے جوابات کو شیئر کرسکیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ پاکستانی تاریخی نصابی کتب میں انہیں غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
رہنماﺅں کی قصیدہ خوانی
مقدمہ ابن خلدون کے دیباچے میں ان سات غلطیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو تاریخ دان اکثر کرتے ہیں، ان میں سے ایک"اعلیٰ حکام کی حمایت حاصل کرنے کی عام خواہش ہوتی ہے، اس مقصد کے لیے ان کی تعریف کی جاتی ہے اور انہیں مشہور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے"۔
یہ غلطی یا جھوٹ پاکستان کی نصابی کتب کو 1950 کی دہائی سے اپنا شکار بنا رہا ہے اور اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر گزشتہ حکمرانوں چاہے سویلین ہو یا فوجی، کی قصیدہ خوانی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور بیوقوفی مختلف فریقین کو غائب کرنا ہے، یعنی ہندوستان اور کانگریس کو غیرضروری طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے اور قوم پرستی کی سوچ کو فروغ دینے کے لیے تاریخ کا یکطرفہ تصور پیش کیا جاتا ہے۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد سے سکولوں کے طالبعلموں کے لیے تاریخی کتب میں یہ خلاءمووجد ہے اور ان حیرت انگیز طور پر تاریخی حقائق کو موڑ تروڑ کر پیش کرنے کی منظوری وفاقی اور صوبائی ٹیکسٹ بورڈز کی جانب سے دی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ ' دشمن' کے خلاف اپنی دشمنی کا اظہار سرکاری تاریخی کتب میں کھلم کھلا اور غیرضروری طور پر بڑھ چڑھ کر کیا جاتا ہے، بدقسمتی سے ایسا ہی سرحد کی دوسری جانب ہندوستانی اسکولوں میں بھی ہوتا ہے۔
بیشتر ریاستیں انیس ویں اور بیس ویں صدی میں تاریخ کے سرکاری ورژن کو استعمال کرتی تھیں تاکہ قوم پرستانہ اور یکساں شناخت کو قائم کیا جاسکے، پاکستان کے پہلے وزیر تعلیم فضل الرحمان نے 1948 میں ہسٹوریکل سوسائٹی آف پاکستان کو قائم کای تھا، تاکہ نئی قوم کی تاریخ کو منصفانہ اور متوازن انداز میں لکھ کر اسے مستند اور قابل اعتبار ذرائع کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
گزشتہ حکومتوں نے اس مقصد پر توجہ نہیں دی اور پاکستانی اسکولوں میں تاریخ پر لکھنا ٹیکسٹ بک بورڈز کا ہدف بن گیا جس میں مصنفین کے غیراخلاقی اور غیرعالمانہ کاموں کی توثیق کی جاتی جنھیں سرکاری اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
ذاتی مفاد کے حصول کا یہ طریقہ 2004 کی اوپن ڈور پالیسی کے باوجود ختم نہیں ہوسکا، جس کے تحت نجی پبلشرز کو معیاری درسی کتب کی اشاعت کا موقع فراہم کیا گیا۔
طالبعلم سائنس سے بیزار کیوں ہیں؟
۔
اگرچہ ہمارے ذہین طلبہ یقیناً سائنس سے متعلق شعبوں مثلاً انجینیئرنگ، طب، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں کچھ حد تک کامیاب رہتے ہیں مگر سائنسی میدان میں کم علمی انہیں ان ارتقا پزیر شعبوں میں جدتیں لانے سے مانع رکھتا ہے۔
اس صورت حال کا تقابل ہندوستان سے کیجئے، یہ دیکھئے کہ مختلف سروے یہ بتاتے ہیں کہ وہاں کے طلبہ سائنس کو سب سے زیادہ شاندار اور باوقار پیشہ سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے آئن سٹائن، سٹیفن ہاکنگ، بلیک ہول، جینیات وغیرہ پڑھنا اصل میدان ہے۔ اگرچہ وہاں پر بھی زیادہ تر طلبہ بالآخر گھسے پٹے پیشے ہی اختیار کرتے ہیں جو ہمارے طلبہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے نوجوانوں کی ایک اچھی تعداد سائنس کو اپنا کریئر بناتے ہیں اور کچھ دنیا کے اچھے سائنس دانوں میں شمار بھی ہوتے ہیں۔ ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بننے میں ہندوستان کے ایسے لوگوں کا بھی ہاتھ ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ خاصی حد تک تو اس کا جواب ہمیں ہماری سائنسی نصابی کتب دیکھ کر مل سکتا ہے اگرچہ اس کا کچھ الزام ہمارے غیر فعال نظام امتحانات اور سائنس کے نااہل اساتذہ کو بھی جاتا ہے۔ ایسے کلچر میں جہاں لکھے کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے وہاں بے کار نصابی کتب ہماری سائنس میں ناکامی کی بہت بڑی ذمہ دار ہیں۔
پچھلے کئی سالوں میں میں نے بہت سی اردو اور انگریزی کی نصابی کتابیں اکٹھی کی ہیں۔ اردو کتابیں تو انگریزی کتابوں سے بھی گئی گزری ہیں۔ یہ تمام کتابیں پنجاب اور سندھ کے نصابی کتب کے بورڈز نے شائع کی ہیں جن کی کروڑوں کاپیاں فروخت چکی ہیں۔
ان کتابوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید سائنس کو جغرافیہ یا تاریخ کی طرز پر پڑھانا ہی کافی ہوگا۔ اگرچہ ان کتابوں کے سرورق کے اندر والے صفحے پر قائدِ اعظم کی ایک سنجیدہ سی تصویر بچوں کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے تعلیم حاصل نہ کی تو ہمارا نام صفحہِ ہستی سے مٹ جائے گا۔ لیکن ایسی دھمکیاں یا یہ کہنا کہ ‘علم سیکھنا ایک مذہبی فریضہ ہے جس سے ہمارے آخرت میں کامیابی کے امکان بڑھ جائیں گے’ بے فیض ثابت ہوتے ہیں۔ جس مضمون کا اکھوا انسانی تجسس سے پھوٹتا ہو اس میں بچوں کی دلچسپی ایسی باتوں سے بڑھائی نہیں جاسکتی۔
مقامی کتابیں اس انسانی تجسس کے فروغ کی بجائے اس کے قتل کا باعث ہیں۔ ریاضی کی کتابوں میں بے مقصد اور بے فیض مشقیں کرائی جاتی ہیں اور طبیعات، کیمیا، اور حیاتیات کے مضامین میں صرف فارمولے اور اشکال یاد کرنے پر زور ہوتا ہے۔ چاہے یہ کتابیں نئے سرے سے لکھی گئی ہوں یا کاٹ چھانٹ کر مواد اکٹھا کر کے بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا ہو، انہیں پڑھ کر یہ احساس نہیں ہوتا کہ علم انسان کی مسلسل کوشش اور ذہانت کی وجہ سے پھلتا پھولتا ہے۔
گھسا پٹا طرز تدریس آپ کو ان کتابوں میں جگہ جگہ ملے گا۔ مثال کے طور پر سطحی تناؤ کے بارے میں انتہائی ناقص طریقہ یہ کہنا ہوگا کہ ‘سطحی تناؤ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ مالیکیولز کی باہمی کشش کی وجہ سے مائع کی سطح پر ایک چادر سی بن جاتی ہے۔’ یاد رکھئے کہ آج تک نہ تو کسی نے کوئی مالیکیول دیکھا ہے اور نہ ہی دو مالیکیولز کے درمیان پائی جانے والی کشش کو۔ چنانچہ جو طالبِ علم اس طریقے سے سیکھتا ہے اس نے گویا کچھ نہیں سیکھا۔
اس کے برعکس، زیادہ موثر طرز تدریس یہ ہوگا کہ طالبِ علم سے یہ کہا جائے کہ وہ سطح اب پر ایک ریزر بلیڈ کو رکھے اور پھر یہ بتائے کہ یہ ڈوبنے کی بجائے تیر کیوں رہا ہے۔ اس سے طالبِ علم خود سوچنے پر مجبور ہوگا کہ غالباً کوئی نظر نہ آنے والی پرت ہے جو اسے ڈوبنے سے روکتی ہے۔ صابن کے ایک قطرے سے یہ چادر کمزور پڑ جاتی ہے اور بلیڈ ڈوب جاتا ہے۔ ایسے منطقی طرز تدریس سے طالب علم اس عمل کا منطقی استدلال کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔
ان کتابوں کا سب سے ناقص حصہ ہر باب کے آخر میں دیے گئے سوالات اور مشقیں ہیں جن میں محض یاداشت پر زور دیا جاتا ہے۔ مصنفین کو غالباً یہ علم نہیں ہے کہ سائنس کی بنیاد ہی پہلے سے ان دیکھے مسائل کو حل کرنا ہے چنانچہ اچھی سائنسی تعلیم کا مقصد بھی یہ ہونا چاہئے کہ طلبہ کو نئے سیکھے گئے سائنسی اصولوں کی سمجھ ہو اور وہ ان دیکھے سائنسی مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے قابل ہوجائیں۔ ان کتابوں کے برعکس غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں جو کہ پاکستان میں بہترین سکولوں میں او لیول کے لئے پڑھائی جاتی ہیں مشقیں قدرے بہتر ہیں۔
جدید کتابوں کے مواد میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ پچھلی کتابوں کی نسبت آج کی کتابوں میں سائنسی اصولوں کے بارے میں غلط بیانی اور گرامر کی غلطیاں قدرے کم ہیں۔ اس کے علاوہ بہتر چھپائی اور رنگین تصاویر اب زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن محض حقائق کا ملغوبہ بنا کر پیش کر دینا نوجوان ذہن کو سیکھنے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ سرمائے کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نصابی کتب کی تصنیف اور اشاعت ایک منافع بخش کاروبار ہے کیونکہ ان کتابوں کی طلب بہت زیادہ ہے۔ منافع بٹورنے کے لئے نااہل لوگوں کو کتابوں کے مصنفین میں زبردستی شامل کر لیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب نصابی کتب کے بورڈ کی شائع کی گئی دسویں جماعت کی ریاضی کی کتاب کے چھ مصنفین ہیں اور محض 187 صفحوں پر مشتمل دسویں جماعت کی کیمیا کی کتاب کے آٹھ مصنفین ہیں۔ چنانچہ جہاں منافع اتنے سارے لوگوں میں بٹتا ہے وہیں غیر معیاری کام کا الزام بھی دوسروں پر تھونپ کر خود کو بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس معاملے میں شاید سخت قوانین بھی فائدہ مند ثابت نہ ہوں۔ اپنے ملک میں لکھی گئی کتابوں کے غیر معیاری ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے قومی کلچر میں سائنس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ٹیلی ویژن پر دن رات سیاسی شعبدے بازی تو ہوتی ہے لیکن سائنس کے بارے میں ایک بھی معیاری پروگرام ہمارے ہاں نہیں بنتا…. پچهلے چند روز جب میں نے اس تحریر کے لئے سوچنا شروع کیا تها سو اسی سلسلے میں میں نے فیس بک کے دوستوں سے ان کے ضلع میں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال کا پتہ کیا جن میں سے چند دوستوں کی باتیں بهی آپ کے سامنے رکهوں گا Bilal Hassan Bhatti ضلع شیخوپورہ ہے تعلیم کی حالت قدرے بہتر ہے۔ لیکن اساتذہ کا اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر نہ سمجھنا ہمارے ہاں بہت بڑا المیہ ہے۔
تعلیم میں ہمارے لیے رٹا مار پیدا کیے جا رہے ہیں۔۔۔ جو تحقیق اور چیزوں کو گہرائ میں جا کر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں
Jehanzeb Butt لاہور میں تعلیم صرف ایک کاروبار بن کر رہ گئی ہے۔ علم بانٹنے والے اساتذہ کی تعداد شاید آٹے میں نمک کے برابر ہے باقی تو صرف اپنا روزگار سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔
طالب علموں کا بھی یہی حال ہے جو صرف کتابی حروف کا رٹا لگانا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ قصور شاید انکا بھی نہیں کیونکہ انکی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو محدود سے محدود تر کیا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں موجودہ تعلیمی نظام سے صرف نوکر ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔۔۔ Amjad Ali Bhatti اضلاع کے تفاوت سے بے نیاز مملکت خدادا کا نظام تعلیم پورے طور سے زبوں حالی کا شکار ھے
خاص طور پر تعلیم جب سے کمرشلائز ھوئی ھے بیڑہ ھی غرق ھو گیا ھے
رہتی سہتی کسر پرائیویٹ سیکٹر نے پوری کر دی ھے Ahmed Dar
یار میرا خیال ہے تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔۔۔۔۔ اس میں طالب علموں کے ساتھ ساتھ استادوں کی بھی لاپرواہی شامل ہے۔۔۔۔۔
میرے ابّو کے دوست ایک پرائمری ٹیچر ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ ہم اپنی تنخواہ حلال کرنے آتے ہیں مگر بچے ہی نہیں ہوتے، کس کو پڑھائیں۔۔۔؟؟؟ اور کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے آۓ بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ماسٹر جی کاپتا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
میرے ضلعے کا تو پتا ہی ہے تمہیں۔۔۔۔۔ Nizam Uddin ناقص نظام تعلیم، نصاب تعلیم اور غرض تعلیم کا احساس دل میں لیے ضلع شانگلہ خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کی علمی حالت زار پر روتے ہوئے لکھوں گا کہ بلا تبصرہt; Umair Hassan ہمارے تعلیمی نطام سے تین نسلیں پیدا ہو رہی ہیں ۔۔
ایک مدرسے کا تعلیمی نظام
گورنمنٹ کا تعلیمی نظام
آکسفورڈ کا تعلیمی نظام
ہر تعلیمی نظام کے طلبا کی سوچ الگ ہے۔۔۔۔
جب تک نظام ایک نہیں ہو گا ترقی کی رفتار سست رہے گی۔۔۔
خصوصاً اردو کا رائج ہونا ضروری ہے کیونکہ آپ کی اپنی زبان میں پڑھنا آپ کی سوچنے کی صلاحیت کو بہتر اجاگر کرتا ہے۔۔۔ اور مقابلہ کی دور ختم ہو گی تو دل و دماغ پہ علم اثر کرے

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *