کلامِ الہی اور ہم۔۔۔۔۔ حمزہ حنیف

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱ۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝۲ۙمٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝۳ۭ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝۵ۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ۥۙغَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗ لِّيْنَ۝۶ۧ
ترجمہ: تمام تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔ نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ روزِ جزا ء کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا جو معتوب نہیں ہوئے جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔ ” القرآن” اللہ کی وہ واحد اور محفوظ اور آخری کتاب ہے جو قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کیلئے دستور بندگی و زندگی ، آخرت کی ابدی زندگی کے علم کی کتاب ہے جس کی قیامت تک حفاظت کا اللہ تعالی نے خود ذمہ لے لیا ہے،
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۝۹ (الحجر)
جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہے، اسی کتاب کے نزول کی وجہ سے آپؐ آخری نبی خاتم الانبیاء و رحمۃ للعالمین بنے ۔

قرآن کی اہمیت و عظمت اور اس پر ایمان کا اوّلین و بنیادی و لازمی تقاضا تو یہی ہے کہ مسلمان خود قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں ، مگر دین کے ٹھیکہ داروں نے مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور وہ عربی زبان میں ہے اس لئے اس کلام کا سمجھنا ہر ایک مسلمان کا کام نہیں ، تم صرف دین کی جو باتیں ہم بتلائیں اس پر عمل کرو اور قرآن کی ناظرہ تلاوت کر کے برکت و ثواب حاصل کرتے رہو ، چونکہ یہ بات بظاہر سہل اور آسان ہے اس لئے ہدایت کے لئے قرآن سمجھ کر پڑھنے کی زحمت سے بچنے کے لئے عوام نے اس کو برکت و ثواب کی کتاب بنا لیا ہے اور قرآن کے مقابلے میں ظن و گمان ، اقوال الرجّال اور غیر مستند لٹریچرکواہمیت دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں اللہ پرست بننے کی بجائے شخصیت پرستی میں غرق ہوتے چلے گئے ۔ مثلا ًکوئی قاسمی ہے تو کوئی مظاہری، کوئی دیوبندی ہے تو کوئی بریلوی ۔ وجہ عذر یہ کہ ہم عربی زبان سے ناواقف ہیں اس لئے قرآن کے معنی و مفہوم کا معلوم کرنا ہمارے لئے کوئی ضروری نہیں ۔ یہ بات عذر نہیں بلکہ طفلِ تسلی اور جھوٹا بہانہ ہے اس طرح اپنے آپ کو مغالطہ دے کر ضمیر کو خاموش کر لینا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جب کسی اجنبی زبان میں خط آتا ہے تو اس زبان کے جاننے والے سے خط پڑھوا کر خط کا مفہوم معلوم کر لیتے ہیں اگر ایک سے تشفی نہ ہو تو دوسرے سے پڑھوا لیتے ہیں ۔ الغرض ہم خط کے مضمون سے واقف ہوئے بغیر چین نہیں لیتے مگر اللہ پر ایمان کا دعویٰ اور خود اپنے نام کے پیغامِ الہٰی کو جاننے کی اتنی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے‘ جتنی کہ خط کا مضمون معلوم کرنے کی کرتے ہیں جب کہ تقریبا ہر گھر میں مترجم قرآن ہیں اور تفسیریں بھی ہماری اپنی زبان میں موجود ہیں ۔ دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللہ کا کلام بالکل محفوظ، تمام تحریفات سے پاک، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللہ کے رسولؐ برحق پر اترا تھا۔ اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللہ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حدو حساب نعمتوں سے محروم ہیں ۔

قرآن ان کے پاس اس لئے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں ، سمجھیں ، اس کے مطابق عمل کریں اور اس کو لے کر خدا کی زمین پر خدا کے قانون کی حکومت قائم کردیں ۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا۔ وہ انھیں زمین پر خدا کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بناکر بھی دکھا دیا۔ مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں ، اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گھول کر پئیں اور محض ثواب کیلئے بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں ۔
اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے۔ اس سے نہیں پوچھتے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہئیں ؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہئیں ؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں ؟ ہم لین دین کس طرح کریں ؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں ؟ خدا کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق ہم پر کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں ہمارے لئے حق کیا ہے اور باطل کیا؟ اطاعت ہمیں کس کی کرنی چاہئے اور نافرمانی کس کی؟ تعلق کس سے رکھنا چاہئے اور کس سے نہ رکھنا چاہئے؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ ہمارے لئے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اورنامرادی اور نقصان کس چیز میں ؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے ، گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور خود اپنے نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں اور انہی کے کہے پر چلتے ہیں ۔ اس لئے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہئے وہی ان کا ہوا اور اسی کو یہ آج ہندستان میں ، چین اور جاوا میں ، فلسطین اور شام میں ، الجزائر اور مراکش میں ، ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں ۔

قرآن مجید تو خیر کا سر چشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمہیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمہ کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ذلیل و بے حقیقت چیزیں مانگتے ہو تو یہی تمہیں ملیں گی۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگوگے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الٰہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو یہ تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا۔ یہ تمہارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کیلئے بھی تیار ہے۔ نوید رزاق بٹ صاحب کی نظم “اقبال اور فرشتے ” یاد آگئی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دور آیا؟ نہیں ابھی تک
نظام بدلا؟ نہیں ابھی تک
وہ کاخِ اُمرا؟ ہلے نہیں ہے
غریب جاگا؟ نہیں ابھی تک
وہ میرا شاہیں؟ بے بال و پر ہے
پلٹ کے جھپٹا؟ نہیں ابھی تک
وہ مردِ مومن؟ گُماں کا مارا
یقین پیدا ؟ نہیں ابھی تک!

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *