جاگتی آنکھوں کے خواب۔۔دیپک بدکی

آرزوؤں کی اُڑان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وہ نہ مالی حالت دیکھتی ہے اور نہ سماجی رتبہ۔ شعبان ڈار کی دِلی آرزو تھی کہ اس کے دونوں بیٹے، خالد اور اشتیاق ڈاکٹر بن جائیں۔ در اصل ان دنوں اکثر والدین اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ ان پیشوں کے علاوہ کچھ سوجھتا بھی نہ تھا۔ خود شعبان ڈار سونم پورہ ہائر سیکنڈری سکول میں بیالوجی ٹیچر تھے۔ اس کے تحت تعلیم پائے ہوئے کئی طلبہ ڈاکٹر بن چکے تھے۔ ان سے کبھی کبھار اتفاقاً سامنا ہو جاتا تو شعبان ڈار کی چھاتی گز بھر کی ہو جاتی۔ استاد کی فطرت ہی کچھ ایسی ہوتی ہے کہ اپنے طالب علم کو ترقی کرتا دیکھ کر پھولا نہیں سماتا ہے۔ شعبان ڈار اپنے بچوں کے لیے بھی دعائیں کرتا کہ دونوں ڈاکٹر بن کر اس کا نام روشن کر لیں۔ آخر کار خدا نے اس کی سن لی۔ دونوں لڑکے پانچ سال کی وقفے سے ایک کے بعد ایک میڈیکل کالج میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ شعبان ڈار شکم سیر ہوا اور اب اسے مزید کچھ مانگنے کی ضرورت نہ تھی۔ روزانہ صبح و شام خدا کا شکر بجا لاتا۔

بڑا لڑکا خالد محمود بہت ہی ذہین تھا۔ اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر ایم بی بی ایس میں امتیازی نمبر حاصل کر کے چند مہینے گورنمنٹ ہسپتال میں ملازم ہو گیا۔ وہاں جتنی دیر رہا، آتش زیر پا رہا۔ پھر بنک سے تعلیمی قرضہ لے کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا چلا گیا۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہاں اچھی نوکری ملی اس لیے امریکا کو ہی مستقر بنا لیا۔ سال میں ایک بار چھٹی مل جاتی تو والدین کی خیر خبر لینے چلا آتا اور وقتاً فوقتاً مالی اعانت کرنا اپنا فرض سمجھ لیتا۔ لیکن کچھ مدّت کے بعد حالات نے عجیب سی کروٹ لے لی۔ اس نے امریکا ہی میں شادی کر لی اور اپنی بیوی کے ہمراہ چھٹیاں منانے کے لیے کشمیر چلا آیا۔ ابتدا میں خالد کی یہ کوشش رہی کہ بیوی گھر کے ماحول میں ڈھل جائے مگر جب اسے احساس ہوا کہ اس کی بیوی کو وہاں کی ہوا راس نہیں آئی تو گرینڈ پیلس ہوٹل میں منتقل ہوا۔ دونوں کے شب و روز زیادہ تر دور دراز صحت افزا مقامات جیسے پہلگام، گلمرگ، سونمرگ، کوکر ناگ، یوس مرگ وغیرہ ہی میں گزرنے لگے تاکہ والدین سے کوئی تعامل نہ رہے۔ البتہ جاتے وقت والدین کے پاس حاضری دی اور انھیں کچھ روپے دینے کی کوشش کی مگر والد نے صاف انکار کر دیا۔ خالد کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ماضی میں جو رقوم اس نے اپنے والد کو دی تھیں وہ سب تعلیمی قرضے کو اتارنے کے لیے اسی کے بنک کھاتے میں جمع ہو چکی ہیں۔ الوداع کہتے وقت سوزش دل کے سبب ماں کی آنکھوں میں کہرا اٹھتا رہا پھر بھی اس نے ضبط کا دامن نہیں چھوڑا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اِدھر چھوٹے بھائی، اشتیاق احمد نے بھی ڈاکٹری کا امتحان پاس کر لیا اور ان ہاؤس ٹریننگ کرنے کے بعد سرکاری ہسپتال ہی میں تعینات ہوا۔ بڑے بھائی کے چلے جانے کے بعد گھر کی دیکھ ریکھ کی ذمے داری اس کے سر پر آن پڑی تھی اور وہ اسے بخوبی نبھا تا رہا۔ کم سے کم اسے اس بات کی تسلی تھی کہ کالج میں جس لڑکی کو دل دے بیٹھا تھا وہ کشمیری ہے۔ شاہینہ ملکۂ حسن تھی۔ اسے دیکھ کر گل لالہ بھی شرما جاتا۔ گوری، سڈول، خم دار، نازک خرام اور خوش گفتار۔ بڑے نازوں کی پلّی تھی۔ راج باغ میں اس کے والدین کا تین کنال زمین پر ایک خوبصورت بنگلہ تھا۔ بنگلے کے سامنے رنگا رنگ پھولوں اور پھل دار درختوں سے مزّین بہت بڑا باغ تھا۔ اشتیاق خود کو بہت ہی قسمت والا سمجھ رہا تھا۔ عشق ایسی چیز ہے جو آدمی کی آنکھوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ اس کے سوچنے کی قوت سلب ہو جاتی ہے۔ اشتیاق کو اپنی معشوقہ کے سوا دنیا میں اور کوئی چیز اچھی نہیں لگتی تھی۔

شادی بڑے دھوم دھام سے ہوئی۔ چنانچہ شاہینہ والدین کی اکلوتی بیٹی تھی اس لیے والد نے روپیہ پانی کی طرح بہا دیا۔ لیکن شادی کے فوراً بعد دونوں گھروں کے درمیان کی خلیج سامنے آئی۔ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔ شادی کے کچھ ہی مہینے بعد شاہینہ اس بات پر مصر تھی کہ دونوں اس کے میکے کے مکان میں شفٹ ہو جائیں۔ اشتیاق کے پوچھنے پر کہ ابّا اور امّی کا کیا ہو گا اس نے جواب دیا۔ ’’ وہ بھی ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ وہاں ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی۔ ‘‘

شعبان ڈار اور نسیمہ نے اپنے بیٹے اور بہو کی تجویز یک لخت ٹھکرائی۔ ایک تو یہ کہ جس مکان میں وہ رہ رہے تھے، اس کو بیس برس پہلے انھوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے از سر نو تعمیر کیا تھا۔ وہ ان کی محبت کا شیش محل تھا۔ دوسرے یہ کہ شعبان ڈار انانیت پسند اور خوددار آدمی تھا۔ اس نے پوری زندگی قناعت سے گزاری تھی اور کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا۔ اسے بچوں کی اس تجویز میں اپنی انّا کی تحقیر نظر آ رہی تھی۔ دو ٹوک جواب دیا۔

’’ اشتیاق، جب تک ہم زندہ ہیں، اس آبائی جگہ کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہاں ہمارے پُرکھوں کی اساس ہے۔ یہ ہمارے لیے متبرک ہے۔ تمھارا بڑا بھائی فرنگن کے ساتھ امریکا میں جا بسا، ہم نے کبھی کوئی سوال نہیں پوچھا۔ تم نے اپنی مرضی سے شادی کی، ہم نے تمھاری بات بھی مان لی کیونکہ وہ تمھاری نجی زندگی کا فیصلہ تھا۔ مگر میری یہ درخواست ہے کہ ہماری زندگی میں دخل دینے کی کوشش نہ کرو۔ ہم اپنا بُرا بھلا جانتے ہیں۔ ہم سے ہماری آزادی مت چھین لو۔ ‘‘

جواب سن کر اشتیاق اور شاہینہ گھر چھوڑ کر راج باغ منتقل ہو گئے اور وہیں گراونڈ فلور میں تین بیڈ کا نرسنگ ہوم کھول دیا۔ مہینے کے آخر میں اشتیاق خیریت پوچھنے اور کچھ روپے دینے کے لیے اپنے والد کے سامنے حاضر ہوا۔ والد نے پھر اسی ترشی سے اسے ٹھکرا دیا۔

’’ بیٹے، میں نے تمھارے بڑے بھائی کو بھی منع کر لیا اور تمھیں بھی کرتا ہوں۔ میں اور نسیمہ دونوں معقول پنشن پاتے ہیں جو دو نفوٗس کے لیے ضرورت سے زیادہ ہے۔ خدا ہم پر ہمیشہ مہربان رہا ہے۔ خدانخواستہ کبھی ہم پر کوئی مصیبت آ جائے اور ہم دوسروں کے رحم و کرم کے محتاج ہو جائیں۔ پھر بھی اگر ایسا ہوا تو اپنے بچوں سے نہ مانگیں گے تو کس کے پاس ہاتھ پھیلائیں گے۔ تم اطمینان رکھو۔ ‘‘

جواب سن کر اشتیاق کھسیاناہو گیا۔ روپے واپس کوٹ کی جیب میں ڈال دیے اور اپنا سا منہ لے کر لوٹ گیا۔ اس روز کے بعد اس کا چہرہ خال خال ہی نظر آنے لگا۔ یہ وہی دن تھے جب کشمیر میں دہشت کے بادل منڈلانے لگے تھے۔ ہر طرف شور و غل، آہ و زاری اور نالہ و فریاد سنائی دے رہی تھی۔ فضا میں بارود کی بو بس گئی تھی۔ کبھی سرکار کی طرف سے کرفیو یا جامہ تلاشی کا اعلان ہوتا اور کبھی حریت پسند تنظیمیں سول کرفیو، ہڑتال یا پھر بندھ کا اعلان کرتیں۔ بیچ میں عوام پس کر رہ جاتی۔ غریب لوگوں کا کیا، وہ جس طرف پلڑا بھاری دیکھتے ہیں اسی طرف رخ کرتے ہیں۔ وہ نہ سرکار کے منہ لگنے کی قابلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی دہشت پسندوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ جان بچی تو لاکھوں پائے۔

ہر روز کہیں بم پھٹنے کی خبریں ملتیں، کہیں گولیاں چلتیں اور کہیں ٹیئر گیس کے گولے داغے جاتے۔ درجنوں لوگ زخمی ہو جاتے اور ان میں سے چند ایک دم توڑ دیتے۔ ملی ٹنٹوں کی حکمت عملی یہ رہتی کہ کسی گلی کوچے سے نکل کر لوگوں کی بھیڑ میں گھس جاتے اور فوجی بنکروں پر یا تو ہتھ گولے پھینک دیتے یا پھر گولیاں برساتے۔ جب تک مکافاتی کار روائی ہوتی، وہ منظر سے غائب ہو جاتے۔ فوجی کار روائی میں جو گولیاں چلتیں ان سے عموماً معصوم شہری مر جاتے اور اس بات کو حریت پسند تنظیمیں انسانی حقوق کے تحت اچھالنے میں کامیاب ہو جاتے۔ دہشت گردی کے ابتدائی دور میں انتظامیہ ٹھپ ہو گیا اور نظام کا کچھ حصہ ان تنظیموں کے قبضے میں آ گیا۔ انھیں یقین ہو گیا کہ سیکورٹی فورسز کو پسپا کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی اور اب آزادی بہت دور نہیں۔ اِدھر دہشت گردوں کی وارداتیں بڑھتی گئیں، اُدھر سیکورٹی فورسز کے پِکٹوں اور بنکروں کی تعداد بڑھتی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری وادی فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو گئی۔ ناکہ بندی، جامہ تلاشیاں اور حراستیں معمول بن گئیں۔ ان غیر یقینی حالات کو دیکھ کر طبقۂ اشرافیہ وادی چھوڑ کر باہر چلا گیا۔ تجارت پیشہ لوگوں نے دہلی، ممبئی، کولکتہ اور خلیجی ممالک میں اپنی دکانیں کھول دیں جبکہ پیشہ ور لوگوں، خاص کر ڈاکٹروں، نے یورپی ممالک اور امریکا کا رخ کر لیا۔ وادی میں بس نام کے ڈاکٹر رہ گئے۔ جن ڈاکٹروں کو پہلے کوئی گھاس تک نہیں ڈالتا تھا وہ سپیشلسٹ کہلانے لگے۔ تنظیمی سربرا ہوں کی خوشنودی کے لیے انھوں نے ہفتہ میں ایک دن غریبوں کو مفت علاج کرنے کے لیے مختص کر لیا۔ مریضوں کے نسخوں پر ٹیسٹ اور ادویات کے نام لکھتے لکھتے کہیں کوئی جگہ نہیں بچ پاتی۔ دس بارہ دوائیاں اور دو تین ٹیسٹ لکھ دیے اور تین چار سو بطور کمیشن کما لیے۔ پھر مشورے کی فیس لینے کی کیا ضرورت تھی۔

اشتیاق اور شاہینہ کو یہ سب راس نہ آیا۔ خالد سے رابطہ کر کے وہ بھی امریکا جا کر نوکری کرنے لگے۔ یہاں وادی کے حالات روز بروز بگڑتے چلے گئے جس کی خبریں پڑھ کر دونوں بھائیوں نے چھٹی کے ایام میں کشمیر آنا ترک کر لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شعبان ڈار اور نسیمہ کی صحت گرنے لگی تاہم دونوں خدا کی عبادت میں اپنا بیشتر وقت صرف کرتے رہے۔ شعبان ڈار مسجد میں اور نسیمہ گھر پر ہی پنجگانہ نماز ادا کرتی۔ عبادت کے دوران ان کی آنکھیں خود بہ خود نم ہو جاتیں۔ اب نہ تو ان کے چہرے پر وہ پہلی سی رونق نظر آتی تھی اور نہ ہی وہ بشاشت۔

کبھی کبھی نسیمہ کے پیٹ میں درد اٹھتا مگر وہ برداشت کرتی اور اسے ظاہر نہ ہونے دیتی تاکہ اس کا ہراساں شوہر مزید پریشاں نہ ہو۔ البتہ یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ایک روز نسیمہ شدت درد سے تڑپنے لگی اور اس کے منہ سے چیخیں نکلنے لگیں۔ شعبان ڈار نے جلدی سے پانی پلایا اور پھر ٹیکسی منگوا کر اس کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ، صورہ لے کر گیا۔ ڈاکٹروں نے دیکھتے ہی تاسف کا اظہار کیا۔ تاہم وہ تب تک کوئی فیصلہ نہیں دینا چاہتے تھے جب تک سبھی ٹیسٹوں کے رپورٹ نہ آ جاتے۔ دو تین روز میں رپورٹ آ گئے اور یہ طے پایا کہ نسیمہ کو رحم کا سرطان ہے اور وہ بھی ایڈوانسڈ سٹیج پر۔ ایک ڈاکٹر نے شعبان ڈار کو ایک طرف لے جا کر کہا۔ ’’ ڈار صاحب، اس سے پہلے آپ مریض کو کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے گئے تھے ؟ آپ نے تو بہت دیر کر دی ہے۔ ‘‘

شعبان ڈار جیسے آسمان سے گر پڑا۔ ’’ کیوں کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب ؟نسیمہ نے تو اس سے پہلے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ بس کبھی کبھار کہتی تھی کہ پیٹ میں معمولی سا درد ہو رہا ہے۔ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘

’’خبر کچھ اچھی نہیں ہے۔ اس کو وومب کا کینسر ہے۔ اور اب اوپر والا ہی بچا سکتا ہے۔ ‘‘

شعبان ڈار کے جیسے لب سِل گئے۔ کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو امڈتے چلے آئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی رفیقِ حیات اس طرح دغا دے جائے گی۔ وہ سوچنے لگا کہ کہیں اس نے اشتیاق کی بات نہ مان کر غلطی تو نہیں کی تھی۔ اسے اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا۔ نسیمہ تو اس کا سایہ بن کر رہتی تھی۔ کبھی بھی اس کو تنہا محسوس نہ ہونے دیا۔ اور خود وہ بھی تو اسے بہت پیار کرتا تھا۔ اپنی جان سے بھی زیادہ۔ ایسی جوڑیاں تو دنیا میں بہت کم نظر آتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اس کی خاموشی کو دیکھ کر پھر گویا ہوا۔ ’’ ہم بہت کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو ریڈیشن تھیریپی یا کیموتھریپی دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا کارگر ہو سکتا ہے۔ ‘‘

دس پندرہ روز یوں ہی گزر گئے۔ نسیمہ پنجر بنتی جا رہی تھی۔ اس کے دل میں بس ایک آخری آرزو تھی کہ مرنے سے پہلے کاش وہ ایک بار، صرف ایک بار، اپنے بچوں کو دیکھ پاتی۔ نہ جانے کہاں ہوں گے ؟مگر وہ اس خواہش کا اظہار کرنے سے گھبرا رہی تھی۔ یہاں تک کہ ایک روز خالد کا ٹیلی فون آیا مگر شعبان ڈار نے اپنی بیوی کے مرض کی بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ ہوں ہاں کر کے موبائیل کا سوئچ آف کر دیا۔ نسیمہ چپ چاپ اپنے آنسو پیتی رہی۔

اب تونسیمہ کی الٹی گنتی شروع ہو گئی تھی۔ سبھی ڈاکٹروں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ نرس کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ اس نیک اور پارسا عورت کو دیکھ کر اسے نسیمہ پر ترس آیا۔ شوہر کی غیر موجودگی میں نرس نے اسے پوچھ لیا۔ ’’ نسیمہ بی بی، یہاں صرف آپ کے شوہر آتے ہیں۔ کیا آپ کے گھر میں اور کوئی نہیں ہے ؟‘‘

نسیمہ کی آنکھیں ڈبڈبائیں۔ نرس کو یوں لگا جیسے اس سے کوئی گناہ سر زد ہوا ہو۔ اس نے مریضہ کو ڈھارس بندھانے کی کوشش کی۔ کچھ دیر کے بعد نسیمہ بول پڑی۔ ’’ بیٹی، ہے کیوں نہیں۔ دو دو بیٹے ہیں۔ دونوں امریکا میں ہیں۔ ایک نامور آ نکولوجسٹ(ماہر سرطان ) ہے اور دوسرا سرجن سپیشلسٹ ہے۔ بہویں بھی ڈاکٹر ہیں۔ مگر حالات دیکھ کر دونوں یہاں سے بھاگ گئے۔ وہ اس جہنم میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔ میرے شوہر نے انھیں روکا بھی نہیں۔ وہ تو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں۔ انھوں نے مجھے کبھی بھی بچوں کی غیر موجودگی کا احساس نہ ہونے دیا۔ ‘‘

’’ ان کو معلوم ہے کیا؟‘‘

’’ نہیں سسٹر ہم نہیں چاہتے کہ وہ پریشاں ہوں۔ دنیا میں آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے۔ میرا تو کیا۔ دو چار روز کی مہمان ہوں۔ ‘‘

’’ نہیں بہن، ایسے ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ آپ کے پاس ان کا نمبر تو ہو گا۔ میں خود بات کر لوں گی۔ ‘‘

’’ نہیں سسٹر، ڈار صاحب بہت ناراض ہو جائیں گے۔ ‘‘

’’ آپ اطمینان رکھیں۔ میں ایسے اطلاع دوں گی کہ ڈار صاحب کو بالکل شک نہ ہو گا۔ ‘‘

’’ ٹھیک ہے سسٹر۔ وہ دراز ہے نا۔ اس میں میری ڈائری ہے۔ اسی میں نوٹ کر لیا ہے۔ مگر دیکھو سسٹر، ہوشیاری سے بات کرنا۔ اس کو پتا نہ چلے کہ میں نے تمھیں ٹیلیفون کرنے کو کہا ہے۔ اور میرے خاوند کو بھی اس بات کی بھنک نہیں پڑنی چاہیے۔ ‘‘

سسٹر نے اپنے موبائیل سے ڈاکٹر خالد محمود، کینسر سپیشلسٹ کا موبائیل نمبر ملایا اور اس کو بڑی ہوشیاری سے خبر دی کہ اس کی ماں کینسر سے مر رہی ہے اور زیادہ دن نہیں بچ پائے گی۔ خالد محمود کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ سوچنے لگا کہ ابو نے اتنی بڑی بات اسے کیسے چھپائی۔ خیر اس نے جلدی سے اشتیاق کو بھی خبر کر دی اور دونوں دوسرے دن دہلی کے لیے روانہ ہو گئے اور وہاں سے کشمیر بذریعہ طیارہ پہنچ گئے۔

اِدھر نسیمہ اس تذبذب میں تھی کہ اس نے صحیح قدم اٹھایا یا نہیں ؟ تین دن اسی اضطراب میں گزر گئے اور اس کی آنکھیں دروازے کی جانب لگی رہیں۔ اُدھر ہوائی اڈّے پر پہنچ کر دونوں بیٹے براہ راست صورہ ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہسپتال پہنچ کر انھوں نے ریسیپشن سے نسیمہ کا روم نمبر معلوم کر لیا اور وہاں کی طرف چل دیے۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی ان کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ان کی والدہ کو سفید چادر میں لپیٹا گیا تھا اور ہسپتال کے کرمچاری اس کی لاش کو سٹریچر پر ٹرانسفر کرنے میں منہمک تھے۔ شعبان ڈار مبہوت کھڑا اپنی محبوبہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ نسیمہ اس کو چھوڑ کر چلی گئی۔

اسی روزنسیمہ کو سپرد خاک کر کے باپ بیٹے واپس گھر پہونچے۔ شعبان ڈار کو ایسا لگ رہا تھا کہ گھر میں سے روح غائب ہو چکی ہے۔ سبھی دیواریں اس کو کھانے کو دوڑ رہی تھیں۔ دوسری صبح بیٹوں نے اپنے والد سے ضد چھوڑنے کی درخواست کی اور ان کے ہمراہ چلنے کی تاکید کی۔ انھوں نے بہت سمجھایا۔ ’’ابو جان، ابھی تک تو چلو آپ کی رفیقِ حیات زندہ تھی اور آپ کی دیکھ بھال کرتی تھی مگر اب آپ اکیلے ہیں، اس لیے بہتر یہ رہے گا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں۔ زندگی کی اونچ نیچ کا کیا بھروسہ!‘‘

شعبان ڈار چند لمحوں کے لیے چُپ رہا اور پھر کچھ سوچ کر جواب دیا۔ ’’ نہیں بیٹے، اب تو بالکل بھی نہیں۔ وہ ہوتی تو شاید میں غور بھی کر لیتا مگر اب میں پردیس میں جا کر مرنا نہیں چاہتا۔ میں مرنے کے بعد نسیمہ کی قبر کی بغل میں ابدی نیند سونا چاہتا ہوں۔ اس کی رفاقت نے مجھے آج تک زندہ رکھا، آگے بھی کوئی سبیل نکل ہی جائے گی۔ شاید خدا کو یہی منظور تھا۔ ‘‘

Advertisements
julia rana solicitors london

آج پہلی بار بیٹوں کے سامنے اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

دیپک بُدکی
Deepak Kumar Budki, IPS (Retd) MSc, BEd, Associate, Insurance Institute of India, ndc, Retired Member, Postal Services Board. Pen Name: Deepak Budki Urdu Short Story Writer & Critic,

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply