مثنوی معنوی از مولانا روم ۔۔۔۔ لالہ صحرائی ۔۔۔ قسط 7

مثنوی معنوی از مولانا روم

نثر نگاری و اندازِ بیان

لالہء صـحـرائی

مرض جاننے کےلئے طبیب کا لونڈی سے تنہائی میں ملنا

طبیب جب بادشاہ کا رازدار ہو گیا تو اس نے کہا اے بادشاہ گھر خالی کر دے، سب اپنے پرائے کو گردوپیش سے ہٹا دے تاکہ کوئی دروازوں پر کان نہ لگائے اور میں کنیز سے کچھ باتیں پوچھ سکوں۔

بادشاہ نے سب کو ہٹا دیا اور خود بھی باہر چلا گیا تاکہ طبیب کنیز پر فسوں پھونکے، جب کمرے میں طبیب اور مریضہ کے سوا کوئی نہ رہا تو طبیب نے لڑکی سے کہا، تیرا شہر کونسا ہے؟ کیونکہ میرے ہاں ہر شہر کے لوگوں کا علیحدہ طریقہ علاج ہے، تیرے شہر میں تیرا رشتے دار کون ہے اور اپنایت کس کے ساتھ زیادہ ہے؟ طبیب کا ہاتھ کنیز کی نبض پر تھا اور وہ اس پر آسمان کے ستم کا حال پوچھتا جا رہا تھا۔

جب کسی کے پیر میں کانٹا چبھتا ہے تو وہ اپنا پاؤں اپنی ران پر رکھ لیتا ہے، اس کانٹے کا سرا سوئی کی نوک سے تلاش کرتا ہے، اگر نہیں ملتا تو اس جگہ پر لب لگا کر جگہ نرم اور صاف کرتا ھے، پاؤں کا کانٹا ڈھونڈنا جب اس قدر دشوار ہے تو جواب دے بیٹا، دل کے کانٹے کا کیا حال ہوگا؟

دل کا کانٹا اگر ہر کوئی دیکھ سکتا تو غم کسی کو یوں ہلکان نہ کرتے، جب کوئی گدھے کی دم کے نیچے کانٹا رکھ دیتا ہے تو وہ گدھا اس کو نکالنا نہیں جانتا، پھر تکلیف سے کودتا ہے، سوزش اور درد کو دور کرنے کے لئے دولتیاں جھاڑتا ہے اور سو جگہ مزید زخم کر بیٹھتا ہے، بھلا گدھے کی دولتیاں اس کا کانٹا کہاں نکال سکتی ہیں؟، اس کام کےلئے ایک ماہر چاہئے جو کانٹے کی جگہ کو سمجھے، گدھا کودتا ہے اور کانٹے کو مزید اندر دھکیل لیتا ھے حالانکہ اس کےلئے ایک عقلمند چاہئے جو کانٹے کو تلاش کر کے نکالے

کانٹا نکالنے والا طبیب ماہر استاد تھا، وہ مختلف سوالوں سے اسے آزماتا رہا، وہ پوچھتا رہا اور کنیز اسے سب کچھ سچ سچ بتاتی رہی، وہ کنیز کے مقام ، شہر، سابقہ آقاؤں سے متعلق ہر بات پر کان دھرے بیٹھا تھا جبکہ نبض کی حرکات پر بھی پوری طرح متوجہ تھا تاکہ یہ جان لے کہ کس نام پر اس کی نبض پھڑکتی ہے اور کون ہے جو اس کے دل میں بسا ہے؟

پہلے اس نے اپنے شہر کے دوستوں کو گنا، پھر ایک دوسرے شہر کا نام لیا، طبیب نے کہا جب تو اپنے شہر سے نکلی تو زیادہ کس شہر میں رہی تھی، اس نے ایک شہر کا نام لیا اور آگے بڑھی، یہاں تک اس کے چہرے کا رنگ اور نبض نہ بدلی، اس نے اپنے آقاؤں کے شہروں کا ایک ایک کر کے نام لیا پھر وہاں کے کھانے پینے کا ذکر کیا، ایک ایک شہر اور (اپنے تعلق والے) ایک ایک گھر کا ذکر کیا نہ اس کی نبض پھڑکی نہ چہرہ زرد پڑا، اس کی نبض بلاتکلف اپنی حالت پر تھی یہاں تک کہ طبیب نے شکر جیسے میٹھے سمرقند کا حال پوچھا

سمر قند کا نام سن کر اس چاند سے مکھڑے والی نے ایک سرد آہ بھری، نہر کی طرح اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، بولی مجھے ایک تاجر وہاں لے گیا تھا جہاں اس تاجر سے ایک سنار نے مجھے خرید لیا تھا، اس نے چھ مہینے مجھے اپنے پہلو میں رکھا پھر بیچ دیا، جب اس نے یہ کہا تو رنج کی آگ سے جل اٹھی، نبض پھڑکی اور اس کا سرخ چہرہ زرد ہو گیا، بس کہ اس سنار سے جدائی ہی اس کا مرض تھا

طبیب نے جب یہ راز پا لیا اور مریضہ کے درد و مصیبت کی جڑ معلوم کرلی تو اس سنار کے گھر کا پتا پوچھا، اس لونڈی نے بتایا کہ اس کا راستہ سرپل اور کوچہ غاتفر ہے، تب راست باز حکیم نے کہا کہ بس اب تو اس تکلیف سے نجات پا گئی ہے، میں تیرا مرض سمجھ گیا ہوں، اب دیکھنا میں جلد ہی تیرے علاج میں جادو دکھاؤں گا

شاد باش و ایمن و فارغ کہ من آن کنم با تو کہ باراں با چمن خوش باش مطمئن اور فارغ البال رہ کہ میں تیرے ساتھ وہ کروں گا جو بارش چمن کے ساتھ کرتی ہے

میں تیرا غم خوار ہوں تو غم نہ کر، میں سو باپوں سے بڑھ کر تجھ پر مہربان ہوں لیکن خبردار یہ راز کسی سے نہ کہنا اگر بادشاہ بھی تجھ سے دریافت کرے تو بھی کسی پر اس راز کا دروازہ نہ کھولنا، جب تیرا راز دل میں چھپا ہوگا تو تیری مراد بہت جلد تجھ کو حاصل ہو جائے گی

گفت پیغمبرﷺ ہر آں کو سر نہفت زود گردد بامرادِ خویش جفت پیغمبرﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا راز چھپایا وہ بہت جلد اپنی مراد سے وابستہ ہوا

دانہ چوں اندر زمیں پنہاں شود بعد ازاں سرسبزیِ بستاں شود دانہ جب زمیں کے اندر چھپتا ہے تو ہی باغ کی سرسبزی کا باعث بنتا ھے

زر و نقرہ گر نہ بودندے نہاں پرورش کے یافتندے زیر کاں سونا اور چاندی اگر چھپے نہ ہوتے تو کان میں پرورش کیسے پاتے

طبیب کے وعدوں اور مہربانیوں نے اس بیمار کو خوف سے مطمئن کر دیا،

وعدہا باشد حقیقی دلپذیر وعدہا باشد مجازی تا سہہ گیر وعدہء اہل کرم گنجِ رواں وعدہء نااہل شد رنجِ رواں

سچے وعدے دلپسند ہوتے ہیں اور جھوٹے وعدے پریشان کرتے ہیں، اہل کرم کا وعدہ جاری خزانہ ہے اور نااہل کا وعدہ عذابِ جاں ہے

وعدوں کو پورا کرنا چاہئے اگر نہ کرے گا تو سرد اور خام بنے گا، وعدوں کو دل و جاں سے پورا کرنا ضروری ہے تاکہ قیامت کے دن تو اس کا فیض دیکھے

طبیب کا بادشاہ پر مرض ظاہر کرنا:

اس مہربان طبیب نے جب درد کا راز معلوم کرلیا اور اس لونڈی کے مرض کو جان گیا تو اس نے اٹھ کر بادشاہ سے ملنے کا قصد کیا اور تھوڑا سا حال اس پر آشکار کیا

بادشاہ نے اس معاملے کی تدبیر پوچھی تو کہا کہ ہم اس مرد کو اس درد کے علاج کےلئے یہاں بلائیں گے، ایک قاصد بھیج دو جو اس کو انعام اور بخشش کا طلبگار بنائے، نقد اور خلعت کالالچ دے کر اس سنار کو یہاں لے آئے تاکہ تیری محبوبہ اس کی بدولت خوش ہو جائے اور اس کے ذریعے سے یہ مشکل آسان ہو جائے

جب وہ تنگدست چاندی اور سونا دیکھے گا تو سونے کی خاطر گھر بار سے جدا ہو جائے گا،

زر کرد را والہ و شیدا کند خاصہ مفلس را کہ خوش رسوا کند سونا عقل کو دیوانہ بنا دیتا ہے خصوصاً مفلس کو، اور خوب ذلیل کرتا ہے ( مال و دولت پانے کی ہوس انسان کو خوب ذلیل کرتی ہے خصوصاً مفلس اس ہوس کے داؤ میں بہت جلدی پھنستا ہے)

زر اگرچہ عقل می آرد و لیک مرد، عاقل باید او را نیک نیک

تونگری اگرچہ عقل پیدا کرتی ہے لیکن تونگری کا فائدہ اٹھانے کے لئے انسان کا عقلمند اور صالح ہونا ضروری ہے

ایلچیوں کا سنار کی تلاش میں ثمرقند کی طرف جانا:

جب بادشاہ نے طبیب سے وہ بات سنی تو دل و جاں سے اس کی نصیحت کو قبول کیا اور کہا میں آپ کے فیصلے کے مطابق حکم جاری کرتا ہوں، جو آپ کہیں گے بس ویسا ہی ہوگا

پھر ایک دو قاصد اس سنار کی طرف روانہ کئے گئے جو ماہر کارگزار اور نیک لوگ تھے، وہ دونوں سردار ثمرقند میں سنار کے پاس بادشاہ کی طرف سے خوشخبری لے کر پہنچے کہ اے ماہر کاریگر اچھا کام کرنے میں تیری شناخت اور شہرت بہت دور دراز تک پھیلی ہوئی ہے، ہمارے بادشاہ نے زیور گھڑنے کےلئے تجھے چنا ہے کیونکہ تو زرگری میں سردار مانا گیا ھے، یہ شاہی جوڑا اور سونا تحفے کے طور پہ رکھ لے، جب تو وہاں آئے گا تو ہمارے بادشاہ کا خاص ہمنشیں ٹھہرے گا

اس سنار نے جب بہت سا مال اور شاہی خلعت کا جوڑا دیکھا تو فریفتہ ہو گیا، اپنے شہر اور اولاد سے جدا ہونے کو تیار ہو گیا اور خوشی خوشی اس سفر پر آمادہ ہو گیا اس بات سے بے خبر کہ بادشاہ نے اس کی جان لینے کا ارادہ کیا ہے

سنار عربی گھوڑے پر بیٹھا اور خوشی خوشی دوڑ پڑا اسے خبر نہ تھی کہ جسے وہ شاہی خلعت سمجھ بیٹھا ہے وہ تو اس کے خون کا عوض ہے، افسوس کہ وہ ہنسی خوشی سفر کرنے والا اپنے پاؤں سے چل کر بری موت کی طرف روانہ ہو گیا، اس کے خیال میں تو حکومت، عزت اور سرداری سے سرفرازی سمائی تھی لیکن شائد ملک الموت نے بھی اس وقت اسے استہزاء کیا ہوگا کہ تو زرا چل تو سہی، وہاں تجھے یہ چیزیں جیسے مل ہی جائیں گی

جب وہ سنار راستہ طے کر کے وہاں پہنچا تو طبیب نے اسے بادشاہ کے روبرو پیش کیا تاکہ اسے طراز (چین کا ایک حسن خیز شہر) کی شمع کے سر پہ جلا دیا جائے، بادشاہ نے اس کی بہت تعظیم کی اور سونے کا خزانہ اس کے سپرد کر دیا اور حکم دیا کہ اس سے کنگن، طوق، پازیب اور پٹکا بنائے اور برتنوں کی بیشمار قسمیں جو بادشاہ کی مجلس کے لائق ہوں

اس مرد نے سونا لیا اور اس کام میں جُت گیا جس کی اصل حقیقت سے وہ بے خبر تھا، طبیب نے کہا اے بادشاہ، وہ لونڈی اس سنار کو دے دے

تاکنیزک در وصالش خوش شود آبِ وصلش دفع ایں آتش شود تاکہ وہ اس کے وصل سے خوش ہو جائے اور اُس کے وصل کا پانی اِس کی آگ کا دافع ہو

بادشاہ نے وہ چاند سے مکھڑے والی اس سنار کو بخش دی اور ان دونوں کا نکاح کر دیا، چھ مہینے تک انہوں نے مقصد برآری کی یہاں تک کہ اس لڑکی کو پوری صحت ہو گئی، اس کے بعد طبیب نے سنار کے لئے ایک شربت بنایا جسے پی کر وہ لڑکی کے مقابلے میں گھلتا چلا گیا، جب سنار کا دلکش سراپا گھل گیا تو لڑکی کی جان اس کے عشق کے وبال سے نکل گئی، چونکہ دن بدن وہ بدصورت ناگوار اور زرد ہوتا چلا گیا تھا اس لئے آہستہ آہستہ اس لڑکی کے دل میں بھی اس کا عشق ٹھنڈا ہوتا چلا گیا

عشقہائے کز پئے رنگے بود عشق نبود عاقبت ننگے بود وہ عشق جو رنگ کی خاطر ہوتا ہے وہ عشق نہیں بلکہ ناعاقبت اندیشی کا موجب ہوتا ھے

کاش وہ حسن ظاہری پائدار ہوتا تو اس سنار پر یہ ظلم نہ ہوتا مگر اس کا چہرہ ہی اس کی جان کا دشمن بنا اور بالآخر ایک دن اس کی آنکھوں سے خون بہنے لگا جیسے کہ

دشمنِ طاؤس آمد پرِ اُو اے بساشہ را بکشتہ فرِ اُو مور کے دشمن اس کے پر ہوئے اور بہت سے بادشاہوں کو ان کی شان و شوکت نے مار ڈالا (جیسے مور کے پر حاصل کرنے کےلئے شکاری ان کا شکار کر ڈالتے ہیں ایسے ہی شان و شوکت دکھانے والوں شاہوں کو بھی لوٹ لیا جاتا ھے گویا بعض اوقات کسی کی اپنی ہی فضیلتیں اس کی جان کی دشمن بن جاتی ہیں)

جب سنار مرض سے بدحال ہو گیا اور اس کا جسم پگھل کر قلم کے ریشے کی طرح ہو گیا تو اس نے کہا کہ میں وہ ہرن ہوں جس کی ناف سے مشک حاصل کرنے کےلئے اس صیاد نے صاف صاف میرا خون کیا ہے، میں جنگل کی وہ لومڑی ہوں جس کی پوستین حاصل کرنے کےلئے گھات لگا کر میرا سر قلم کیا گیا اور میں وہ ہاتھی ہوں کہ پیلبان کے زخم نے میری ہڈیوں کی خاطر میرا خون بہا دیا، جس نے مجھے مجھ سے کمتر کی خاطر مار ڈالا اس کو معلوم نہیں کہ میرا خون رائیگاں نہ جائے گا، مصیبت آج مجھ پر ھے تو کل اس پر ھے، بھلا مجھ جیسے آدمی کا خون رائیگاں کیسے ہو سکتاھے؟

گرچہ دیوار افگند سایہ دراز باز گردد سوئے اُو آن سایہ باز اگرچہ دیوار لمبا سایہ ڈالتی ہے لیکن وہ سایہ پھر اسی کی طرف لوٹتا ہے

ایں جہاں کوہ ست و فعلِ ما نِدا سوئے ما آئد نداہا را صدا یہ دنیا ایک پہاڑ ہے اور ہمارا فعل آواز ہے اور اس آواز کی گونج پھر ہماری ہی طرف لوٹتی ہے

سنار نے اپنا دکھ بھرا آخری کلام کیا اور دنیا کی قید سے چھوٹ گیا اور وہ لونڈی بھی درد وغم سے نجات پاگئی، اس لئے کہ مُردوں سے عشق پائدار نہیں ہوتا کیونکہ مردہ ہماری طرف واپس آنے والا نہیں ہے

زانکہ عشقِ مُردگان پائیندہ نیست چونکہ مُردہ سوئے ما آئیندہ نیست مُردوں سے عشق پائدار نہیں ہوتا کیونکہ مردہ ہماری طرف واپس آنے والا نہیں ہے

عشق زندہ در رواں و در بصر ہر دمے باشد ز غنچہ تازہ تر زندہ (خدا) کا عشق روح اور آنکھ میں ہر وقت غنچہ سے بھی زیادہ تروتازہ رہتا ہے

عشق آن زندہ گزیں کو باقی ست وز شرابِ جانفزائیت ساقی ست اس زندہ کا عشق اختیار کر جو سدا رہنے والا ہے اور تجھے جانفزا شراب سے سیراب کرنے والا ہے

عشق آن بگویں کہ جملہ انبیاء یافتند از عشق او کار و کیا اس (خدا) کا عشق اختیار کر کہ تمام انبیاء اکرام علیہم السلام نے اسی کے عشق سے عزوشرف پایا ہے

تو مگو پارا بداں شہ بار نیست بر کریماں کار ہا دشوار نیست میرے بیٹے تو یہ نہ کہہ کہ ہماری اس بادشاہ تک رسائی ممکن نہیں بس یہ سمجھ لو کہ کریموں پر بڑے کام دشوار نہیں ہوتے ( یہ ٹھیک ہے کہ بندہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا لیکن یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہ کریم اہل طلب کو خود اپنی طرف بلند کر لیتا ہے)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *