ساتواں ہمشکل۔۔عنبر عابر

شہر کے اس معروف چوراہے میں اس قدر رش تھا کہ خود کو ڈھونڈنا بھی دشوار تھا۔۔میں یہی تو کر رہا تھا، خود کو ڈھونڈ رہا تھا، اپنا پرتو تلاش کر رہا تھا۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں اس شخص کو تلاش کر رہا تھا جو میرا ہم شکل تھا۔۔

یہ دنیا انوکھے مہم جو لوگوں سے بھری پڑی ہے۔میں بھی ان میں سے ایک تھا۔لیکن میری مہم سب سے الگ تھی۔بیس سال قبل میں اپنے ہم شکل انسانوں کی تلاش میں نکلا تھا۔اس تلاش کا باعث میری حد سے بڑھی انانیت تھی۔ میں ہرگز ایسی دنیا میں جینے کا روادار نہیں تھا جہاں میرے جیسے سات اور انسان بستے ہوں۔

tripako tours pakistan

اب جبکہ بیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے تو میری تلاش تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔میں وہ چھ انسان صفحۂ ہستی سے مٹا چکا ہوں جو مجھ جیسی شباہت رکھتے تھے۔میں نے اپنے ضمیر کو مطمئن رکھنے کیلئے شعوری طور پر اس جرم کو قدرت کے کھاتے میں ڈال دیا ہے کیونکہ میرے وہ چھ ہم شکل اسی کے پیدا کردہ تھے۔اس تلاش میں مَیں نے کتنی صعوبتیں اٹھائیں، کتنے چہروں کو ملاحظہ کیا، کتنی جگہیں چھان ماریں، یہ ایک الگ داستان ہے۔

اس وقت میں اس پرہجوم چوراہے پر موجود ہوں اور میری جیب کا ابھار سائلینسر لگی پستول کی گواہی دے رہا ہے۔اصول پسند اور راز کو راز رکھنے والے جرائم پیشہ افراد کی معاونت سے مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ میرا ہمشکل اس وقت یہاں ہے۔یہ میرے لئے اچھا موقع ہے کہ میں رش کا فائدہ اٹھا کر اپنا کام بخوبی انجام دوں۔

تب جبکہ میں آس پاس نظریں دوڑا رہا تھا میری نگاہیں سڑک کنارے ایستادہ تنہا اور ٹہنیوں سے بھرپور درخت سے ٹکی ایک سائیکل پر پڑیں۔سائیکل دیکھ کر میرے ہونٹوں پر خفیف مسکراہٹ دوڑ گئی۔یہ میری سائیکل تھی۔نہیں۔۔ بلکہ یہ ہوبہو وہی سائیکل تھی جو مجھے پسند تھی اور جس کے استعمال کا میں برسوں سے عادی تھا۔مجھے اب ان باتوں سے حیرانگی نہ ہوتی تھی کہ میرے ہم شکلوں کی عادات مجھ سے ملتی جلتی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ میرا ایک ہم شکل اپنی زبان دانتوں سے کاٹتا تھا جو کہ میری دیرینہ عادت تھی اور ایک دوسرا ہم شکل بولتے ہوئے میری طرح آخری لفظ پر زور دیتا تھا۔یہ سب قدرت کے کھیل ہیں اور آج میں اس کھیل میں فاؤل کھیلنے والا تھا۔

تب وہ نمودار ہوا۔۔دائیں طرف موجود شاپنگ ہال کے دروازے سے نکلتے ہوئے۔۔اسے دیکھ کر میں چونک پڑا کیونکہ اس کا داہنا ہاتھ عجیب انداز میں میری طرف اٹھا ہوا تھا۔میں نے اس کے ہاتھ کو بغور دیکھا تو میرے رگ و پے میں سنسنی سی دوڑ گئی۔مجھے اس کی آستین میں موت کی نال نظر آرہی تھی۔یہ کوئی جدید پستول تھی۔
اس نے جونہی اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر مارا تو ٹھک کی آواز کے ساتھ ایک گولی میری طرف آئی۔

Advertisements
merkit.pk

مجھے یہ سوچنے کی بھی مہلت نہ  مل سکی کہ میرا ساتواں ہم شکل سائیکل کے ساتھ ساتھ قتل پر جری ہونے کی عادت میں بھی میرے مشابہہ تھا!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply