• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بحرہ احمر کے قریب واقع، البلدہ القدیمہ، قلعہ الشھوان و قلعہ الزریب۔۔منصور ندیم

بحرہ احمر کے قریب واقع، البلدہ القدیمہ، قلعہ الشھوان و قلعہ الزریب۔۔منصور ندیم

SHOPPING
SHOPPING

سعودی عرب میں بحیرہ احمر کے ساحل پر ضلع تبوک میں الوجہ کمشنری کا قدیم گاؤں “البلدہ القدیمہ”، تاریخی قلعہ ”الزریب“ اور ضلع تبوک کے کمشنری تیما کے تاریخی مقامات، کچی مٹی کی دیوہیکل عمارتیں، قلعہ الشھوان اور قدیم کنواں ‘ھداج” زبان حال سے اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کے ثقافتی و سماجی حالات کی کہانیاں سناتا یے۔

البلدہ القدیمہ گاؤں:

یہ بحیرہ احمرکے شمال میں ضلع تبوک میں واقع ہے- یہاں کی عمارتیں کچی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں۔ جگہ جگہ پرشکوہ تاریخی قلعے بھی ہیں۔ یہ عمارتیں منفرد طرز تعمیر کے حسن کا پتہ دے رہی ہیں۔ عمارتوں کے روشن دان، کھڑکیاں، مختلف شکل و صورت میں پھول، پتیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

البلدہ القدیمہ کی عمارتوں کی تصاویر بالکل فن پاروں کی مانند ہیں۔ یہ قدیم قصبہ تاریخی عمارتوں، قلعوں، چھاؤنیوں، فصیلوں اور ساحل سمندر کے دلکش نظاروں سے مالا مال ہے۔ یہ ماضی کی ایک تہذیب کی مکمل تاریخ ہے، زمانہ قدیم کے فن تعمیر کے عظیم نمونے بھی ہیں اور فن تعمیر میں انسانی مہارتوں کے دلاویز نمونے بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں کی عمارتوں کی کھڑکیوں کا فن منفرد ہے۔ انہیں کچھ اس اندازسے بنایا گیا ہے کہ موسم گرما میں درجہ حرارت خود بخود کم ہوجاتا ہے۔ لکڑیاں اس انداز سے استعمال کی گئی ہیں کہ وہ درجہ حرارت میں بڑھنے میں مانع ہوتی ہیں گرد وغبار عمارتوں میں داخل نہیں ہونے دیتیں۔

آج ’البلدہ القدیمہ‘ اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاریا ہے۔ سمندر کی لہریں اور سحر آفریں ساحل، اور ساحل کے قریب واقع جزیرے دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ الوجہ بندرگاہ بحیرہ احمر کی خوبصورت ترین اور شفاف ترین بندرگاہ مانی جاتی ہے۔ یہاں ماہی گیری کا شوق رکھنے والے افراد کے علاوہ سیاح بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

الوجہ کا تاریخی قلعہ “الزریب” :

ضلع تبوک کی الوجہ کمشنری کا تاریخی قلعہ ”الزریب“ بھی سیاحوں کے لئے بہت کشش رکھتا ہے ، یہ قلعہ سنہء 1617 میں حجاج کے قافلوں اور انکے سامان کی حفاظت کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ حجاج کے قافلے حج سے واپسی پر اپنے ہمراہ سامان لیجایا کرتے تھے۔ حجاج یہاں قیام کیا کرتے تھے۔

الزریب قلعے کے کئی برج ہیں۔ اسکے دسیوں کمرے ہیں۔ اطراف میں صحن ہیں۔ چھوٹی سی مسجد ہے جسے (مصلّٰی) کہا جاتا ہے۔ اس میں مکان بھی ہیں۔ اس کے اطراف کنویں ہیں۔ یہ قلعہ ضلع تبوک کے باقی ماندہ آثار قدیمہ میں سے ایک ہے۔ اسکی تعمیر میں پتھر استعمال کئے گئے ہیں۔ قلعہ کا صدر دروازہ مغرب کی جانب ہے۔ اس میں اس وقت کی ضرورت کے حساب سے 2 تالاب پانی ذخیرہ کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ یہ الوجہ کمشنری سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر سطح مرتفع پر بنا ہوا ہے۔ اسکے اطراف پہاڑوں کا سلسلہ ہے

تیما کا قلعہ الشھوان اور بئر ھداج :

ضلع تبوک کی کمشنری تیما کے تاریخی مقامات بھی عہد قدیم کے انسانی معاشرے کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں، یہاں کی کچی مٹی کی دیوہیکل دیواریں بتاتی ہیں کہ شمالی سعودی عرب کے اس علاقے کے لوگوں کا طرز معاشرت کیا تھا- تیما، تبوک سے جنوب مشرق میں 264 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے- قدیم دور کے عربوں نے اسے بسایا تھا- یہ سعودی عرب کے تاریخی مقامات میں سے ایک ہے-

مشرق وسطیٰ کے مشہور ترین کنویں ’ھداج‘ کے قریب ہی قلعہ الشھوان واقع ہے، اس قلعے کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ سیکڑوں برس گزرنے کے باوجود یہ قلعہ ماضی کی تہذیب کے انسانوں کی عظمت رفتہ کی کہانی بیان کر رہا ہے- تیما میں آباؤ اجداد کے فن تعمیر کا ورثہ بے حد اہم ہے- یہاں البلدہ القدیمہ کی عمارتیں تاریخ نویسوں کو مطالعے کی دعوت دے رہی ہیں-قلعہ الشھوان ان میں نمایاں ترین ہے- اس کے مالک تیما میں الشھوان خاندان کے لوگ ہیں-

جو کہ سعودی عرب میں اس سے پہلے ان چیزوں کو کبھی بھی تاریخی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا تھا اس لئے آج بھی بہت سارے مقامی عرب لوگوں کو بھی اس بات کا علم نہیں کہ تیما منفرد عمارتوں کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے، اس کی ہر عمارت منفرد فن تعمیر کی آئینہ دار ہے- بعض عمارتیں آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق دو سو برس پرانی ہیں- ان میں الشھوان کا تاریخی قلعہ بھی آتا ہے۔

SHOPPING

یہاں پانچ ہزار برس پرانے آثار قدیمہ بھی ملے ہیں- آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ جدید حجری دور میں بھی یہاں لوگ آباد تھے، یہاں ملنے والے نوادر کی تاریخ 2 ہزار قبل مسیح پرانی ہے- یہاں سے مٹی کے منقش بھی برتن ملے ہیں، الشھوان قلعہ اپنی تعمیر میں منفرد انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔ کھجوروں اور زرعی فارموں کے درمیان موجود قلعہ بڑا خوبصورت اور پر شوکت نظر آتا ہے، یہاں کی عمارتیں دیکھ کر جدید و قدیم طرز تعمیر کے خوبصورت سنگم کا اندازہ ہوتا ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *