سوشلزم نجات کا راستہ ہے۔ضیغم اسماعیل خاقان

انسانی سماج اور خود انسان کے ارتقاء میں انسانی محنت کا بڑا عمل دخل ہے۔ یہ انسانی محنت کا ہی کمال ہے کہ انسان کے شعور نے ترقی کی،  درختوں سے اتر کر سر سبز میدانوں کا رخ کیا، موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے تن ڈھانپنے کا بندوبست کیا، درختوں سے غاروں اور غاروں سے گھروں تک میں رہائش کا سفر اختیار کیا۔ یہ انسانی محنت کا ہی ثمر ہے کہ انسان نے شکار کرنا سیکھا، شکار کے لیے ہتھیار بنائے، زراعت کی طرح ڈالی اور مختلف انواع کے اوزار ایجاد کیے جس نے اسے دیگر جانداروں سے ممتاز کیا۔ جیسے جیسے انسانی شعور ارتقاء کے مراحل طے کرتا اور ترقی کرتا گیا، آلات و اوزار میں جدت آتی گئی انسانی سماج بھی اسی طرح ارتقاء کے عمل سے گزرتا ہوا ترقی کرتا چلا گیا۔ چنانچہ انسان کی ترقی انسان کی محنت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ جس طرح انسان نے ترقی کی ہے اسی طرح انسانی سماج کی مختلف اشکال نے جنم لیا۔  انسان نے قدیم اشتراکی دور سے اپنی محنت کے بل بوتے پر غلام داری اور پھر جاگیرداری دور میں قدم رکھا، درختوں کے پھلوں سے شکار اور پھر کھیتی باڑی کرنا سیکھا۔ انسانی سماج جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دارانہ نظام کے معذرت خواہ دانشور اور فلسفی کہتے ہیں کہ طبقاتی تقسیم ازل سے اسی طرح تھی اور ابد تک رہے گی، تاریخ کا جدلی مطالعہ اسے غلط ثابت کرتا ہے۔ سماج شروع سے طبقات میں نا تو منقسم تھا، نا ہی ذاتی ملکیت ابدی تھی اور نا رہے گی، ایک  مسلسل حرکت اور تبدیلی ہے جو  ہے اور رہے گی۔ انسانی سماج مختلف ادوار سے گزرتا ہوا آج کی ترقی یافتہ شکل کو پہنچا اور مزید ترقی کرتا رہے گا۔ آلات پیداوارپیداواری رشتوں میں تبدیلی کے باعث سماج قدیم اشتراکی دور سے غلام داری، جاگیرداری اور پھر سرمایہ داری میں تبدیل ہوا ہے۔
تاریخ کا مادی نقطہ نظر ہمیں بتاتا ہے کہ زائد پیداوار ذاتی ملکیت کی بنیاد پر طاقتور قبائل نے کمزور قبائل پہ قبضہ اور کثرتِ زمین کی وجہ سے  اس پہ کاشت کے لیے محکوم قبائل کے لوگوں کو غلام بنایا گیا اور سماج غلام داری دور میں داخل ہوا۔ جس سے کرہ ارض پر دو ایسے متحارب طبقات کا ظہور ہوا جن کے مختلف طبقاتی مفادات سے ایک ایسی طبقاتی جدوجہد کا آغاز ہوا جو آقاؤں کے خلاف غلاموں کی بڑی بڑی بغاوتوں پر منتج ہوئی۔ اسی دور میں آہستہ آہستہ ریاست اور اس کے ادارے بالادست اور ذرائع پیداور پر قابض طبقے کے مفادات کی نگہبانی کے لیے وجود میں آئے۔ بہر کیف  آہستہ آہستہ سماجی ارتقاء نے فرسودہ غلام داری نظام کو خیرباد کہا اور ایک زیادہ جدید نظام جاگیرداری میں تبدیل کر دیا۔ غلام داری کی طرح یہ بھی ایک طبقاتی نظام تھا جس میں دو مخالف اور متحارب طبقے وجود رکھتے تھے۔
انیسویں صدی کے وسط میں نئے انقلابات نے جنم لیا جو پرانے رجعتی جاگیردارانہ اور شاہی نظام کے خلاف ایک زیادہ ترقی یافتہ نظام سرمایہ داری کے حق میں تھے۔ یوں انسان نے سرمایہ دارانہ نظام کی دہلیز پار قدم رکھا اور پرانے نظام کا خاتمہ کر دیا۔ اس نظام کی خاصیت یہ تھی کہ فرد پہلے کی نسبت زیادہ آزاد تھا، معاشی و سماجی ترقی کا عمل تیزی سے ہوا جس کی مثال پہلے کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لیکن پھر ہر سماج میں ایک ایسا دور آتا ہے جب نظام جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنی افادیت کھو دیتا ہے، سرمایہ داری کا موجودہ دور اسی مرحلے سے گزرتے ہوئے اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ یہ ایک فرسودہ اور رجعتی نظام بن چکا ہے اور تیزی سے زوال پذیر ہے۔
اگر آج ہم سرمایہ داری نظام کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ     ذرائع پیداوار اور انسانی محنت سے پیدا ہونے والی دولت اگر کبھی ایک حقیر اقلیت یعنی آقاؤں اور پھر چند جاگیرداروں کے ہاتھ میں مرکوز تھی تو آج چند سرمایہ داروں کے ہاتھ مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ دنیا کی آدھی دولت صرف 8 لوگوں کے پاس مرکوز ہو چکی ہے، جب کہ  اس دولت کا 93 فیصد صرف 2 فیصد لوگوں کے پاس ہے باقی کی دنیا 7 فیصد دولت کے لیے دست و گریباں ہے۔ ایک طرف وہ سرمایہ دار اقلیت ہے جو دوسروں کی محنت کا استحصال کر کے عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہی ہے اور ایک طرف پورے سماج کا پہیہ چلانے والے محنت کار ہیں جن کی بھاری اکثریت دو وقت کی روٹی کو ترس گئی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیے   یہ دیکھتے ہیں کی ایک سرمایہ دار مزدور کی اجرت کیسے متعین کرتا ہے اور محنت کش کا استحصال کیسے کرتا ہے۔ ایک مزدور اگر دن میں آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے تو اس میں سے چار گھنٹے وہ اپنے لیے کام کرتا ہے جس کی اسے اجرت ملتی ہے اور اپنے زندہ رہنے کا سامان کرتا ہے، بقیہ کے چار گھنٹے سرمایہ دار کی جیب میں بطور منافع جاتا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ دار امیر سے امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سرمایہ دار کے اس منافع کو قدر زائد کہتے ہیں۔ مزدور کو جو اجرت ملتی ہے وہ بھی روزمرہ کی اشیائے ضروریات خرید کر سرمایہ دار کی جیب میں ڈال دیتا ہے۔ دوسری جانب اجرتوں کا معاملہ ہے تو سرمایہ دار ایک محنت کش کو اتنی ہی اجرت دیتا ہے کہ وہ زندہ رہ سکے اور ایک مزدور اور پیدا کر سکے جو اس کی جگہ، جب وہ کام کے قابل نہ رہے تو، لے سکے۔ اس طبقاتی نظام میں محنت کی تقسیم بھی طبقاتی ہے، مثال کے طور پر ایک انجینئر وغیرہ کو تیار کرنے میں سرمایہ زیادہ درکار ہوتا ہے اس لیے ایک انجنیئر کی اجرت بھی زیادہ ہوتی ہے اسی طرح ایک غیر تکنیکی مزدور پہ سرمایہ لگتا ہی نہیں ہے اس لیے اسے اتنی ہی اجرت ملتی ہے جس سے وہ زندہ رہ سکے۔
مزید برآں ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ محنت کشوں کو پہلے کی نسبت دو گنا کام کرنا پڑ رہا ہے، جہاں وہ آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے اب بارہ یا سولہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سرمایہ زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی ہوس، بےروزگاری میں اضافہ، چھوٹے سرمایہ کار اور کسانوں کا پرولتاریہ کی صفوں میں شمولیت ہے۔ آج کا محنت کش کم اجرت میں زیادہ کام کرنے پر مجبور ہے، بڑھتی ہوئی بےروزگاری کی وجہ سے اس کی جگہ لینے کو بےپناہ محنت کش صف آراء ہیں۔ یعنی آلات پیداوار میں جدت کی وجہ سے زیادہ پیداوار ہونے لگتی ہے لیکن سرمایہ دار ایک محنت کش کو سہولت دینے کی بجائے بے روزگار کر دیتا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ سرکار کی طرف سے کم از کم متعین کی ہوئی ماہانہ اجرت پندرہ ہزا روپے ہے جو انتہائی قلیل ہے لیکن یہ قلیل اجرت بھی سرمایہ دار دینے کو تیار نہیں۔ صحت، تعلیم، گھر اور پانی جیسی بنیادی سہولیات جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے کو نجی ملکیت میں دیا جا چکا ہے، محنت کشوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور خودکشیوں پر مجبور ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظامِ زر کو بدلا جائے لیکن کیسے اور کس سے؟ جواب یہ ہے کہ پرولتاری انقلاب یعنی مزود انقلاب اور سرمایہ دارانہ نظام کے جواب یعنی سوشلزم سے جو انفرادی ترقی کے بجائے سماجی ترقی کا ضامن ہے، جو ہر انسان کو ترقی کے برابر مواقع فراہم کرتا ہے، ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ اور سماجی ملکیت کی بنیاد رکھتا ہے، جو سرمایہ داری سے افضل اور ترقی یافتہ نظام کے طور پہ خود کو ثابت کرتا ہے۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز تفصیلاً بتاتے ہیں کہ سوشلزم بغیر پرولتاری انقلاب کے ممکن نہیں اور اینگلز کے الفاظ میں اسے سائنسی سوشلزم کہا جاتا ہے۔
سوشلسٹ انقلاب ہی درحقیقت وہ انقلاب ہے جو محنت کی نجات ثابت ہو گا اور اس سے نہ صرف دنیا کی عظیم اکثریت یعنی محنت کار عوام بلکہ کل انسانیت آگے کی جانب پیشرفت کرے گی۔ اس انقلاب کا راستہ محنت کشوں کی نمائندہ جماعت جو کہ طبقاتی شعور سے لیس محنت کشوں پر مشتمل ہوتی ہے، کی قیادت میں طے کیا جاتا ہے۔ محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم کا اولین فریضہ ہے کہ محنت کشوں میں طبقاتی شعور کو بیدار کرے، محنت کشوں کو انقلاب کے لیے تیار کرے، انقلاب کی قیادت کرے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد سرمایہ داری کا مکمل خاتمہ، پرانی سرمایہ دار ریاست کا شیرازہ بکھیر دے اور نئی مزدور ریاست کی بنیاد رکھے۔
محنت کش طبقے کی نجات کے نظریے یعنی سوشلزم کے خلاف سرمایہ داریت کی طرف سے بےپناہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے جو اب تک جاری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار آج بھی سوشلزم اور اس کی میراث سے خوف زدہ ہیں۔ اس پروپیگنڈے میں سوویت یونین اور اشتراکی بلاک کا انہدام، سوشلزم کے اساتذہ مارکس، اینگلز، لینن، استالین اور دیگر کے نظریات کو فرسودہ اور ازکار رفتہ قرار دینا شامل ہے۔ لیکن سرمایہ داریت کے نمائندے اور کاسہ لیس یہ بات چھپانے میں ناکام رہے ہیں کہ ان کے تمام تر ہیرو سب سے بڑے قاتل، انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب  اور استحصال کرنے والے ہیں اور آج بھی محنت کشوں کا خون چوس رہے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال قحط بنگال ہے جو برطانوی سامراج کی  پلاننگ کے تحت رونما ہوا اور اس کے خلاف آواز بلند ہونے پر اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کا کہنا تھا کہ “سارہ قصور بنگالیوں کا ہے کیونکہ یہ چوہوں کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں”۔
ہمیں سرمایہ داروں کے نمائندوں کے اس پروپیگنڈا پہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں ان تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے اور مستقبل میں ان تجربات سے فائدہ اٹھا کر ایک پائیدار سوشلسٹ سماج کی تعمیر کرنی ہے۔ سرمایہ داری کے ابتدائی انقلابات کو اس سے بھی زیادہ بری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخر جیت ایک زیادہ ترقی یافتہ نظام کی ہوئی اسی طرح سوشلزم کی ابتدائی شکست کے باوجود جیت سوشلزم کی ہی ہوگی کیونکہ سوشلزم سرمایہ داری سے زیادہ ترقی یافتہ اور ترقی پسند نظام ہے اورمحنت کی نجات کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی نجات کا واحد راستہ ہے۔
فاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گے
سینے کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گے
یہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی
وہ صبح ہمیں سے آئے گی
اس صبح کو ہم ہی لائیں گے!

ضیغم اسماعیل خاقان
ضیغم اسماعیل خاقان
میں اسلام آباد میں مقیم ہوں اور سماجی علوم کے مطالعہ اور تحریر و تقریر میں مصروف ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *