آسیب اتارنا۔۔وہارا امباکر

ہم اپنے کئی خوف اس وقت کم کر سکتے ہیں جب ہم چیزوں کو سمجھ لیں۔ ذہنی بیماریوں کو نہ سمجھنے کا ایک نتیجہ ایک قدیم روایت رہی ہے جو آسیب اتارنے کی ہے۔ دنیا میں بہت جگہوں پر اس بارے میں روایات رہی ہیں اور انہوں نے بڑے لوگوں پر بہت طرح کے مظالم ڈھائے ہیں۔

اس رسم یا پریکٹس کی بنیاد اس پر ہے کہ کوئی انسان، جگہ یا شے کو کسی بدروح کی “انفیکشن” ہو گئی ہے۔ یہ دنیا کے بہت سے کلچرز کا حصہ رہا ہے۔ کتابوں اور ڈراونی فلموں میں یہ ایک مرکزی خیال رہا ہے۔

رومن کیتھولک چرچ نے 1614 میں ستائیس صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ جاری کیا جس میں آسیب اتارنے کی ہدایات تھیں۔ اس میں مقدس پانی، منتر، کچھ کلمات، لوبان، جانوروں کے خون اور ہڈیوں، صلیب جیسے اوزاوں کے استعمال کی تکنیک سکھائی گئی تھی۔ ان کو 1999 میں تبدیل کیا گیا اور نئی ہدایات، جنہیں جاری کرنے میں 385 سال کی تاخیر ہوئی تھی، میں کہا گیا کہ نفسیاتی مسائل کا کام ماہرینِ نفسیات کو دیکھنا چاہیے۔

یہ بزنس جاری ہے اور حالیہ برسوں میں ان کہانیوں میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا کوئی ڈیٹا تو نہیں کہ کتنے لوگ یہ کام کرتے ہیں لیکن ایسے افراد کی تعداد کم نہیں جو یہ کام پیشے کے طور پر کرتے ہیں۔ اور اس کی سب سے تاریک سائیڈ کسی شخص کے اوپر سے آسیب نکالنا ہے۔

نفسیاتی اور نیورولوجیکل ڈس آرڈر میں مبتلا شخص نازک ذہنی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اس کے شواہد کہ “اس پر آسیب ہے” یہ ہوتے ہیں کہ اس کی حرکات کیا ہیں۔ اور وہ حرکات ویسی ہوتی ہیں جیسا کہ دوسرے لوگ توقع کرتے ہیں کہ آسیب زدہ شخص کی حرکات کیسی ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ لاشعوری طور پر ہونے والی مدد کی اور توجہ کی پکار ہوتی ہے۔ اور یہ معصوم لوگ تشدد، ظلم اور یہاں تک کہ موت بھی اس علاج کی وجہ سے دیکھ لیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذکیہ ایوری میری لینڈ میں چار بچوں کی والدہ تھیں جن کی عمر آٹھ، پانچ، دو اور ایک سال تھی۔ 2014 میں انہوں نے اپنے دو چھوٹے بچوں کو گلا گھونٹ کر اور چاقو کے وار کر کے مار دیا۔ ان کو یقین تھا کہ ایک بدروح ان کے بچوں کے درمیان پھر رہی تھی اور وہ صرف اس کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

جنوبی افریقہ میں چار خواتین ۔۔۔ فاکو، لنڈیلا، نوکوبونگا اور مڈلیش ۔۔۔ نے 2012 میں فاکو کی پندرہ سالہ کزن دلامینی سے آسیب نکالنے کی کوشش کی۔ اس پر ہونے والے تشدد سے جب دلامینی کی موت ہوئی تو اس کی آنتیں باہر نکل چکی تھیں۔

جرمنی میں اس سے موت کا سب سے مشہور واقعہ اینیلیز مشل کا ہے جو 1976 میں پیش آیا۔ (اسی واقعے پر بعد میں تین فلمیں بنیں)۔ مشل کے والدین کو یقین تھا کہ انکی بیٹی پر آسیب کا سایہ ہے۔ اس بچی کو مرگی کے دورے پڑتے تھے اور ڈیپریشن بھی تھا۔ والدین نے دو “ماہرین” بلوائے۔ اس بچی کی موت میں کئی مہینے لگے۔ یہ موت بھوک اور پیاس سے ہوئی۔ ماہرین کی راہنمائی میں والدین نے اس کا کھانا پینا بہت محدود کر دیا تھا۔ یہ ایک سست اور بہت ہی تکلیف دہ موت تھی۔ اینیلیز مشل کو بہت خوفناک سزا ملی تھی۔ عدالت نے والدین اور ماہرین کو بچی کے قتل میں قصوروار قرار دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اس قسم کی رسومات مارتی نہیں تو بھی بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک شخص جو نفسیاتی طور پر مستحکم نہیں اور ذہنی فریب کا شکار ہے اس کی بدترین سزا اس کے فریب کو کنفرم کر دینا ہے۔ اسے بتانا کہ اس پر آسیب ہے، اس کو اس کا یقین دلا دیتا ہے۔ اس کا رشتہ حقیقت سے بالکل ہی منقطع کر دیتا ہے۔ جیسے کسی پیرانویا میں مبتلا شخص کو بتا دیا جائے کہ خفیہ ایجنسی اس کی سوچ کی جاسوسی اس کے دانت کے اندر لگے آلے سے کر رہی ہے۔ وہ اب اس فریب سے نکل بھی نہیں سکے گا۔

جب کسی کو آسیب کا یقین ہو جائے، اس کے اردگرد کے لوگوں کو اس کا یقین ہو جائے تو پھر معمولی بھی غیرمعمولی لگنے لگتا ہے۔ تعصبات کا بادشاہ، کنفرمیشن بائیس، میدان میں آ جاتا ہے اور یوں، یہ کہانیاں اصل ہو جاتی ہے۔ مریض کے لئے بھی اور اس کے آس پاس لوگوں کے لئے بھی۔

معلوم تاریخ میں دنیا بھر میں ایک بھی ایسا کیس نہیں جہاں پر یہ ثابت ہوا ہو کہ کسی شخص پر آسیب ہے لیکن دنیا میں کروڑوں (یا شاید اس سے بھی زیادہ) لوگ ایسے ہیں جنہیں یہ ماننے میں کوئی مسئلہ نہیں کہ آسیب لوگوں کو قابو کر لیتے ہیں اور ان کے ماہرین ان کو نکال سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیب کے نام پر ہونے والے ظلم برِصغیر میں کم نہیں اور یہ بہت طرح کے ہیں۔ جن نکالنے کے ماہر مشکلات میں گھرے افراد کا شکار کرتے ہیں۔ نہ صرف اس مریض کا بلکہ اس کے رشتہ داروں کا، جو کسی امید، کسی آسرے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ بہت سی رسومات ابھی تک زندہ ہیں۔ ذہنی امراض کو بدروح کا چمٹنا یا جن چڑھنا قرار دینا اور مریض کی زندگی مزید بگاڑ دینا عام ہے۔ ایک اور مثال: ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کو آسیب کا شکار کہہ کر اس کے سر میں زخم کر کے درخت کے ساتھ زنجیر سے باندھ کر چھوڑ دینا ۔۔۔۔ یہ رسم پچ نکالا کہلاتی ہے۔ آسیب اتارنے کے اکثر ایسے واقعات خبروں میں آتے ہی نہیں کیونکہ ان رسومات میں ملوث لوگ ۔۔۔ نہ کرنے والے اور نہ ہی اس کا شکار ہونے والے ۔۔۔۔ اس کو اصل سمجھتے ہیں۔

یہ ہماری دنیا ہے۔ احتیاط، تشکیک اور علم ۔۔۔ ہمارے پاس اس دلدل سے نکلنے کا راستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *