کرونا، شادی و روزگار۔۔شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

زیر نظر پہلی تصویر بہت مقبول ہوئی تھی جس میں ترکی سے دلہا اور دلہن بننے یعنی عقد نکاح میں بندھنے والے اس جوڑے نے ولیمے والے دن مل کر اپنے جیسے با حیثیت مہمانوں کیلئے ولیمے کا پر تعیش اہتمام کرنے کی بجائے اپنے ہاتھوں سے 4000 شامی مہاجرین میں کھانا تقسیم کر دیا تھا۔

اب آئیے کرونا کی وباء کی طرف جس کی بابت سننے میں آ رہا ہے کہ یہ سال دو سال کم و بیش دنیا کو آزمائش میں مبتلا رکھے گا۔ اس لئے تجویز کیا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کی دنیا میں موجودگی کے ساتھ رہنا سیکھ لیجیے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ زندگی کے معمولات جاری و ساری رکھیں۔ تو اس تمہید کی روشنی میں عرض کرنا تھا کہ شادی بیاہ نکاح بھی پر وقار سادگی سے کیجیے اور ولیمے کی رقم سے کرونا وباء سے متاثرہ ضرورتمند گھرانوں میں راشن فراہم کر دیجیے۔ یا کسی کو چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرا دیجیے تا کہ پوری فیملی قدموں پر کھڑی ہو سکے۔ اب اگر آپ کے ذہن میں آئے کہ تھوڑے سے پیسوں میں کاروبار کون سا ہو سکتا ہے تو جناب کاروبار تو دو ہزار روپے سے بھی شروع ہو سکتا ہے جیسے کہ غبارے لے کر ان میں ہوا بھر کر فروخت کرنا۔ تین چار ہزار میں سبزی منڈی سے سبزی یا فروٹ لا کر فروخت کرنا شروع کیا جا سکتا ہے۔ پانچ ہزار میں تو بریانی کا کام یا سموسوں پکوڑوں جلیبیوں کی ریڑھی لگ سکتی ہے۔ ہم نے زمانہ امن (یہ زمانہ کرونا وباء ہے) میں سو 100 ایسے کاروبار  کی لسٹ بنائی تھی جو پانچ ہزار سے بیس ہزار تک شروع کئے جا سکتے ہیں اور اس پر الحمدللہ کامیابی سے کام کیا تھا۔ وہ لسٹ تھوڑی کمی بیشی ساتھ اب بھی موثر ہے۔ اب کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ لفاظی ہے حقیقت بہت تلخ تو حقیقت یہ ہے کہ الحمدللہ میں خود وہیل چیئر پر زندگی گذارتے ہوئے گھر پر اچار چٹنیاں بنا کر آن لائن وہ بھی صرف فیس بک یا واٹس ایپ پر فروخت کرتا تھا اور اب ساتھ دیسی گھی، شہد، چاول، چھلکا اسبغول، شربت، ہئر آئل، دیسی سرسوں کا تیل وغیرہ وغیرہ فروخت کرتا ہوں۔ اور الحمدللہ میرے رب نے مجھے سنبھالا ہوا ہے اور میری فیملی کی سفید پوشی کا بھرم بھی رکھا ہوا ہے۔ اب کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کا تو یہ خاندانی کام ہو گا یا آپ کو اس کے علاوہ آتا کچھ نہیں ہو گا یا ان پڑھ و کم تعلیم یافتہ ہوں گے وغیرہ وغیرہ اس لئے یہ چھوٹا کام کر رہے ہیں۔ تو اللہ کی کا بے پایاں احسان کہ میں اپنی سپائن انجری سے پہلے الحمدللہ ایک عرصہ وکالت کرتا رہا ہوں اور پھر حکومت میں بطور افسر خدمات سرانجام دیتا رہا ہوں اور پنجاب میں ایک قانون اور عدالتی نظام ایسا ہے جس کو صفر سے معرض وجود میں لانے والی ٹیم کا حصہ رہا ہوں۔ اب سوال یہ پیدا ہو سکتا کہ میں پینشن پر گزارہ کرنے کی بجائے یہ کیا کام لے بیٹھا ہوں تو عرض یہ کہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے گریڈ 16 تک کے افراد کو ہم نے بطور افسر حکومتی پالیسی کے تحت خود کنفرم کیا لیکن ہم افسران ابھی Contact پر تھے جب میری سپائن انجری ہوئی   اور میں وہیل چیئر پر چلا گیا اور میرا Job Contract ختم ہو گیا۔ کنٹریکٹ آفیسرز کو پینشن یا کسی بھی قسم کی دیگر مراعات نہیں ملتیں۔ اب چونکہ اللہ کریم کے فضل و کرم سے law practice سے لے کر law drafting پھر قانون کی اسمبلیوں سے منظوری سے لے کر اس کے نتیجے میں پورا ایک عدالتی نظام قائم کرنے اور اس کی ایڈمنسٹریشن کا بھی الحمدللہ وسیع تجربہ تھا تو بہت سی جامعات Universities میں پڑھانے کے لئے Apply کیا اور Head of The Department تکسیدی کے لئے شارٹ لسٹ ہوا لیکن “آپ وہیل چیئر پر ہیں” کہ کر جاب نہیں دی گئی تو کوئی بات نہیں جب تک زندہ ہوں الحمدللہ جتنی ہمت رکھتا ہوں کام کرتا ہوں نتیجہ اللہ کریم کے حوالے۔
اپنا واقعہ صرف motivation کے لئے تحریر کیا ہے۔
دعا گو، طالب دعا شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

نوٹ: میری وال پر بہت سے احباب نے پوسٹ پڑھ کر ان سو 100 کاموں کی لسٹ کی بابت پوچھا ہے جو 5 ہزار سے بیس ہزار روپے تک شروع کئے جا سکتے ہیں۔ سارے اس وقت ذہن میں نہیں جو یاد ہیں وہ راہنمائی کے لئے پوسٹ کا حصہ بنائے جا رہے ہیں:-

1- اخبار / میگزین / رسائل و جرائد گھروں میں پہنچانا

2- کتابوں کا سٹال / رمضان میں قرآن پاک / دینی کتب

3- پکوڑوں / سموسوں کی ریڑھی / سٹال

4- برگر / شوارما کا سٹال

5- بریانی / دال چاول کا سٹال

6- منیاری کے سامان کی ریڑھی / سٹال

7- ٹوپی/ رومال/ جرابوں/ بنیان / انڈروئیر کی ریڑھی / سٹال

8- جلیبیوں کی ریڑھی / سٹال

9- گول گپوں کی ریڑھی / سٹال

10- دہی بھلوں کی ریڑھی / سٹال

11- فروٹ چاٹ کی ریڑھی / سٹال

12- املی آلو بخارا شربت کی ریڑھی / سٹال

13- گنے کے رس کی ریڑھی / سٹال

14- صبح کے ناشتے انڈا پراٹھا / آلو والا پراٹھا کی ریڑھی / سٹال

15- لچھے Cotton candy فروخت کرنا

16- غبارے / گیس والے غبارے فروخت کرنا

17- مکئی کے سٹے کی ریڑھی

18- جھاڑو / برش / وائپر وغیرہ سائکل پر فروخت کرنا

19- سبزی کی ریڑھی

20- پھل کی ریڑھی

21- آلو کے چپس فروخت کرنا

22- گھر میں دس بیس روپے والے گرم مصالحہ جات کے پیکٹ بنا کر دکانوں پر فروخت کرنا

23- مرغی کے گوشت کا سٹال

24- شاپنگ بیگ / لفافے دکانوں پر سپلائی کرنا

25- اے سی Air Conditioner کی صفائی / فٹنگ

26- ائیر کولر کی صفائی / فٹنگ

27- ائیر کولر کی خسیں تیار کرنا

28- کتابوں کی جلدیں کرنا

29- مہریں Stamps بنانے کا سٹال

30- ردی کی خرید و فروخت

31- گھروں پر ان کی ڈیمانڈ کے مطابق روزمرہ کی سبزی / گوشت / پھل سپلائی کرنا

32- دودھ خرید کر گھروں پر سپلائی کرنا

33- ایزی لوڈ کرانا

34- دس بیس روپے فی بل کے عوض لوگوں کے یوٹیلیٹی بلز جمع کرانا

35- کمپیوٹر ٹائپ / کمپوزنگ کا کام

36- کپڑوں کے کٹ پیس فروخت کرنا

37- بچوں کے کھلونوں کی ریڑھی

38- ہر مال دس بیس تیس پچاس روپے والے سامان کی ریڑھی جس میں کاٹن بڈ، نیل کٹر، سرمے، موچنے، قینچیاں، چھوٹی کچن والی چھریاں، کچن میں استعمال کی بہت سی چیزیں برتن دھونے والی جالی، فوم، ازاربند ڈالنے والا آلہ وغیرہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں

39- پلاسٹک کے برتنوں کی ریڑھی

40- مٹی کے برتنوں کی ریڑھی مٹی کی ہانڈی، جگ، گلاس، پیالے، گھڑے، صراحی، گلے وغیرہ آج کل لوگ شوق و فیشن سے خریدتے ہیں

41- اتوار بازار / رمضان بازار میں سٹال لگانا

42- اتوار بازار / رمضان بازار میں لوگوں کا سامان ان کی گاڑیوں تک پہنچانا اس مقصد کےلئے ایک پہیوں والی ٹرالی بھی لے سکتے ہیں

43- دفاتر / ہاسٹلز میں گھر کا بنا کھانا سپلائی کرنا

44- درزی کا کام

45- الیکڑیشن کا کام گلی محلوں میں گھوم پھر کر گھروں کی روزمرہ استعمال کی چیزیں مرمت کرنا

46- سلائی مشین کی مرمت کام

47- برف فروخت کرنا

48- جانوروں کا چارہ فروخت کرنا

49- سوئی گیس کے چولہے / ہیٹر / گیزر مرمت کرنا

50۔ گھر سے ان لائن کام کرنا، دستکاری فروخت کرنا، کپڑے فروخت کرنا۔ گھر سے کھانے بنا کر فروخت کرنا

51۔ گھر کے اچار، مربے، چٹنیاں بنا کر فروخت کرنا

52۔ انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن پڑھانا / قرآن پاک و ترجمہ بھی پڑھایا جاتا ہے

53۔ بچوں کے رشتے کروانا

54۔ بینکوں اور دفاتر میں کرایہ پر پودے / گملے دینا

55۔ موڑھے / بید کے بنے فرنیچر کا کام

56۔ کھیس / دریاں سائیکل / سٹال پر بیچنا

57۔ موٹر سائیکل ہونے کی صورت میں ڈلیوری کا کام کرنا

58۔ پالتو پرندوں / مرغیوں / بطخوں / خرگوشوں کی خرید و فروخت

59۔ دودھ یا کریم سے دیسی گھی / مکھن بنانا / فروخت کرنا

60۔ دیہات / گاوں سے چاٹی کا دیسی گھی اور خالص شہد و دیگر سوغاتیں / دستکاری شہر میں کا کر فروخت کرنا

61۔ آن لائن کار واش سروس کے آرڈر لے کر یہ کام خود کرنا یا کروانا

62۔ اپنے علاقے میں سیاحت کے مواقع ہوں تو سیاحوں کے لئے ٹور ارینج کرنا

63۔ اور آپ سب بھی راہنمائی کے لئے تجاویز و تجربات شئیر کر سکتے ہیں کیونکہ سو میں سے اتنے ہی یاد اس وقت۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *