پاکستان میں ٹی وی پروگرامز کی ریٹنگ کا طریقہ ۔۔۔ پرویز بزدار

آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات ہمارے ٹی وی  ٹاک شوز میں گرما گرمی بہت بڑھ جاتی ہے۔ شرکاء ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگتے ہیں، مگر پروگرام کا میزبان  بریک نہیں لیتا،  اور مزے سے دیکھتا رہتا ہے۔آپ جانتے ہیں ایسے ریٹنگ حاصل کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔مگر کیا آپ   یہ جانتے ہیں کہ ٹی وی پروگرامز کی رینٹنگ ہوتی کیسے ہے؟آئیے یہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

جس طرح ہر چیز کو ماپنے کا ایک پیمانہ ہے اسی طرح کسی ٹی وی پروگرام کو ماپنے کا پیمانہ ٹی آر پی (ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ) ہے۔  ماپنے کا طریقہ یہ ہے کہ ملک میں موجود کچھ گھروں میں ٹیلی ویژنز کے ساتھ ریٹنگ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں اور ان گھروں سے ڈیٹا انہی میٹرز کی مدد سے اس کمپنی کو بھیجا جاتا ہے جو ٹی وی ریٹنگ کا فیصلہ کرتی ہے۔  اس ڈیٹا میں سب سے اہم چیز آڈیو سمپلز ہیں جن سے ریٹنگ کمپنی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس گھر میں کون کون سے پروگرام دیکھے گئے۔   ریٹنگ کمپنی کےلیے بہت زیادہ ڈیٹا کو مینج کرنا ممکن نہیں اس لیےوہ صرف چند گھر اس طرح کے میٹرز کےلیے  کےلیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ ان چند گھروں کا انتخاب ایسے کیا جاتا ہے کہ جس سے ہر عمر نسل اور دلچسپی والے لوگوں کی نمائندگی ہو سکے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً  دوہزار ایسے گھر ہیں جن میں ریٹنگ میٹرز نصب ہیں اور وہی ٹی وی ریٹنگ کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اب قدرتی طور پر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ  تو باآسانی ٹی وی مالکان جوڑ توڑ کر سکتے ہیں۔  اس جوڑ توڑ سے بچنے کےلیے رینکنگ کمپنی کا ان سے یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بھی نہیں بتائیں گے کہ ان کے پاس رینکنگ میٹر نصب ہے۔ اس کے علاوہ اگر کمپنی کو محسوس ہو کہ کسی ایک میٹر سے کسی قسم کا مشتبہ ڈیٹا آ رہا ہے تو وہ کسی بھی وقت میٹر والے گھر کا سروے بھی کر سکتے ہیں۔   کسی قسم کے  معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

شایدآپ سوچ رہے ہوں کہ چلو یہ رینٹنگ والی بات تو ٹھیک،  مگر لڑائی نہ روکنے سے اس شو کی ریٹنگ کیسے بڑھ سکتی ہے، کیونکہ جس نے وہ چینل نہیں لگایا ہوا اس کو اس بات کا علم نہیں ہوگا  کہ اس ٹاک شو میں لڑائی ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔  وہ پروگرام پھر رپیٹ ہوگا اور رپیٹ چلنے تک بات کسی نہ کسی ذریعے سے پھیل چکی ہوتی ہے۔  اور اس پروگرام کی لڑائی والے حصے رپیٹ شو میں بھی نہیں کاٹے جاتے۔ اس لیے شاید آپ نے نوٹ کیا ہو کہ چینل والے بتاتے ہیں کہ ہمارا پروگرام رپیٹ میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ دراصل  بات یہاں تک نہیں  بھی رکتی، جن گھروں میں ٹی وی میٹرز نصب ہوتے ہیں ان کے رہائشیوں کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ وغیرہ میں بھی ریٹنگ میٹر کے سافٹ وئیر انسٹال کیے جاتے ہیں ۔  جب وہ لوگ یوٹیوب وغیرہ پر کوئی پروگرام دیکھتے ہیں تو وہ ڈیٹا بھی ریٹنگ کمپنی کو ارسال کیا جاتا ہے ۔  اس سب ڈیٹا کو ملا کر ریٹنگ کمپنی ہر پروگرام کا چار ہفتوں کی اوسط ریٹنگ جاری کرتی ہے۔  اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ لڑائی والے پروگرام کی اوسط ریٹنگ اس مہینے کےلیے کتنی زیادہ ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ ریٹنگ ہائی ہونے سے ٹی وی کو کیا فائدہ ہوگا ؟ اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ جس پروگرام کی ریٹنگ زیادہ ہو اس میں  فی منٹ اشتہار دکھانے کی قیمت بھی زیادہ ہی ہوگی اوریوں  سب سے زیادہ کمائی اسی کی ہوگی۔  اس کے علاوہ ایڈورٹائزنگ کمپنیز ٹی وی رینک کرنے والی کمپنیز سے ڈیٹا لیتے ہیں اور اس ٹی وی کو زیادہ  اشتہارات  دیتے ہیں جس کی ریٹنگ اشتہار سے متعلقہ علاقے میں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چونکہ زیادہ تر اشتہار پنجاب اور سندھ سے متعلق ہوتے ہیں  اس لیے ریٹنگ میٹرز بھی یہاں زیادہ نصب  ہیں اور چینلز کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ان علاقوں کے بارے میں بات کرکے یہاں اپنی ریٹنگ بہتر کی جائے  تاکہ بہتر قیمت مل سکے۔

ریٹنگ کی کہانی تو یہاں  ختم ہوتی ہے مگر ایک اہم ضمنی بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔  آپ دیکھتے ہیں کہ آئے روز  میڈیا والے سرکار سے امداد کی اپیل کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا انڈسٹری کا ماڈل سرے سے غلط ہے۔ پاکستانی میڈیا  کا مکمل انحصار ایڈز پر ہے اور ایڈز کی قیمت کا مکمل انحصار دو ہزار گھروں پر ہے۔ باقی دنیا میں آپ جہاں دیکھیں وہاں اشتہارات  کمائی کا صرف ایک  ذریعہ ہے جبکہ ان کی اچھی خاصی  کمائی سبسکرپشن سے آتی ہے۔ اگر پاکستان میں بھی میڈیا والے سبسکرپشن کے پیسے یا کیبل آپریٹرز سے کمائی کرنے لگیں تو شاید جاوید چوہدری کو بھی لڑائی کے درمیان بریک لینے میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔

پرویز بزدار
پرویز بزدار
مضمون نگار کائسٹ جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ وہ موبائل اور کمپیوٹر کے پروسیسرز بنانے میں آرٹی فیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *