اردو ادب کا کریکٹر ایکٹر۔۔حافظ صفوان محمد

کرونا کے دنوں کی بری خبروں میں کراچی میں جہاز گرنے کا سانحہ ابھی تازہ ہے کہ یکم جون کو آصف فرخی کی سناؤنی آگئی۔ ناگہانی ہی کہیے۔ دل مسوس کے رہ گیا۔ خدا غریقِ رحمت کرے اور اپنے شایانِ شان معاملہ فرمائے۔

آصف صاحب سے کچھ رسمی و تقریباتی ملاقاتیں ہوئیں لیکن ان سے پہلی ملاقات کبھی نہیں بھولے گی۔ یہ ملاقات ان کے والد جنابِ اسلم فرخی کی موجودگی میں ان کے ہاں گلشنِ اقبال میں غالبًا 1999ء یا ایک آدھ سال بعد میں ہوئی۔ اسلم فرخی صاحب سے فون پر بہت رابطہ رہا۔ کراچی میں مشفق خواجہ صاحب کے ہاں جانا ہوا تو وہاں بھی ان کا ذکر ہوا۔ اگلے روز ڈاکٹر فرمان فتحپوری صاحب سے لغت بورڈ میں، دوپہر کو جمیل جالبی صاحب سے اور شام میں اسلم فرخی صاحب سے ان کے گھر میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔ میرے عزیز دوست جناب سلمان سعد خاں ان سب ملاقاتوں کا وسیلہ بنے۔

اسلم فرخی صاحب نے ڈپٹی نذیر احمد کی بعض کتابوں کے اولین ایڈیشن دکھائے اور ڈپٹی صاحب کے بارے میں بہت کچھ بتاتے رہے۔ یوں لگتا تھا کہ ڈپٹی صاحب پر بات کرتے ہوئے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے آجاتے تھے اور وہ ان کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بول رہے ہیں۔ کیا توبۃ النصوح اور کیا مرآۃ العروس اور کیا ایامیٰ اور کیا تعزیراتِ ہند اور امہات الامہ اور غرائب القرآن اور فتح الحمید، سبھی کچھ بتاتے رہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی اور ان کی شاعری کا بھی خاصا ذکر آیا کیونکہ جنابِ سلمان سعد خاں کا تعلق امروہہ برادری سے ہے اور رضوی صاحب اور میرے والد جنابِ عابد صدیق کا تعلق بھی انھیں معلوم تھا۔ آصف فرخی اس سارے دورانیے میں کتابیں لاتے اور لے جاتے رہے اور چائے و لوازمات و تشریفات۔ اردو لغت بورڈ کے لغت کی آخری کچھ جلدیں باقی تھیں، ان پر تفصیلی باتیں ہوئیں۔ شان الحق حقی صاحب فوت ہوئے تو ان کے زیرِ تکمیل اوکسفرڈ اردو-اردو لغت کے کچھ معاملات بعد ازاں فون پر بھی بات وات میں بہت دیر چلتے رہے۔ خدا غریقِ رحمت کرے۔ اس ملاقات کا احوال مدت ہوئی لکھا تھا۔

ایک بڑے باپ سے ایک بڑے بیٹے کی موجودگی میں یہ ملاقات اس لیے بھی یاد رہے گی کہ اس میں مجھے قدیم اور جدید کی دو لہروں کا علم ہوا۔ اسلم فرخی صاحب پرانے ادب اور ماضیات کی باتیں کرتے رہے جب کہ آصف فرخی مستقبل ہی کو فوکس کرتے رہے۔ وہ نہایت چوکسی سے صرف افادی ادب کی بات کرتے اور کوشش کرتے کہ ادب سے آج کے معاملات کو جوڑیں اور ادب کو اس انداز میں پیش کریں کہ آج کے دور میں اس کا کچھ فائدہ ہو۔ اور باتوں کے علاوہ انھوں نے تراجم کا بہت ذکر کیا کیونکہ میری کتاب Words & Reflections of Maulana Muhammad Ilyas کچھ ہی عرصہ پہلے شائع ہوئی تھی اور جس کا ایک نسخہ میں نے ان کے ابا کی خدمت میں پیش کیا تھا۔

آصف صاحب سے فون پر کبھی کبھار بات ہوجاتی تھی۔ میں نے مولوی محمد حسین آزاد کے تعلیمی کارپس پر مضمون لکھا تو خاص طور پر فون کیا اور اپنے والد سے بات کرائی جنھیں اس پر تحفظات تھے کہ میں نے آزاد کے استعمال کیے ہوئے لفظ “گوڈا” کو پنجابی کیوں لکھا ہے۔ میں نے اس پر اپنا نقطۂ نظر عرض کیا کہ ہم لوگوں کو تطہیرِ زبان کے زور میں قدماء کی اصلاح نہیں کرنی چاہیے اور خصوصًا اردو نثر کے عناصرِ خمسہ کو اصلاح دینے سے باز رہنا چاہیے۔ اس پر بہت خوش ہوئے۔

اردو لغت بورڈ کراچی کی 22 جلدی لغت مکمل ہوئی تو 17 جولائی 2010ء کو یونی کیرینز نے جامعہ کراچی میں ایک بڑی تقریب منعقد کی۔ اس موقع پر آصف فرخی سے پہلی تقریباتی ملاقات ہوئی۔ اس شام بھی خاصی دیر گفتگو رہی۔

یہ غالبًا 2013 کی بات ہے کہ آواری ہوٹل لاہور میں ایک تقریب میں عبداللہ حسین اور ڈاکٹر David Matthews وغیرہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ آصف صاحب سے دوسری تفصیلی تقریباتی ملاقات تھی۔ یہاں اوکسفرڈ کے سٹال سے اوکسفرڈ اردو-انگریزی ڈکشنری لی تو قریب ہی آصف صاحب کو موجود پایا۔ اس ڈکشنری میں اردو حروف کا تلفظ پہلی بار عالمی صوتی ابجد میں لکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر میتھیوز اور ان کی بیگم (نام بھول رہا ہوں) نے چائے پر اس میں سے کچھ لفظ دیکھے۔ میتھیوز نے چکوترہ کا لفظ نکالا اور اس کا تلفظ بولا۔ تلفظ کی تصحیح آصف صاحب نے کی اور اس کے ذائقے اور طبی فائدے پر ایک دو جملے کہے۔ یہاں آصف صاحب سے اوکسفرڈ کے متذکرہ بالا اردو-اردو لغت کا ذکر بھی آیا جو اس وقت تک بھی مکمل نہ ہوسکا تھا۔

آصف صاحب سے دو ملاقاتیں LUMS میں ہوئیں۔ یہاں ایک بار ان کی موجودگی میں انتظار حسین، شمس الرحمٰن فاروقی، مہر افشاں فاروقی اور اطہر مسعود کے ساتھ غیر رسمی نشست ہوئی اور زبان کی اقتدار داری کے موضوع پر باتیں ہوئیں۔ اس سے پہلے 2015 میں میں، ڈاکٹر ہائنز ورنر ویسلر (Heinz Werner Wessler)، اطہر مسعود، عاصم حسن اور آصف فرخی LUMS کے پیپسی ڈائننگ سنٹر میں کھانے پر بیٹھے۔ اردو میں تحقیق کی کچھ باتیں چلیں تو ہم میں سے کسی نے کہا کہ ادب میں دکانداری بہت ہوگئی ہے۔ آصف صاحب نے چھوٹتے ہی کہا کہ دکان پہ اچھا سامان ہو تو گاہگ آتا ہے۔ کیا حرج ہے اگر اچھا ادب چھاپا جائے اور مہنگا بیچا جائے؟ خوب قہقہہ لگا۔

ایک بار کسرِ نفسی کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہیں کہہ دیا کہ میں اردو کا آدمی نہیں ہوں اور اردو کے سٹیج پر مہمان اداکار ہوں۔ کہنے لگے کہ آپ مہمان اداکار ہیں تو پھر میں کریکٹر ایکٹر ہوں۔

کتنی ہی باتیں ہیں جو یاد آئے چلی جا رہی ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کس کو پرسہ دوں اور کون ہے جو مجھے پرسہ دے۔ پرسانِ حال کوئی نہیں۔ آج کشور ناہید نے جنگ میں ” کیا تیرا بگڑتا جو نہ جاتا” لکھ کر وہ سب کچھ کہہ ڈالا ہے جو نہ کہا جاتا تو آصف فرخی کو فی گھنٹہ کی رفتار سے کتابیں رسالے چھاپنے والی ایک مشین ہی سمجھا جاتا۔ صاحبو آصف ایک جیتا جاگتا انسان بھی تھا۔ ہائے۔

5 جون 2020

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *