طاقت کا توازن ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ریاستیں اپنی بقا کیلئے سہ قسمی قوتّوں کی متلاشی رہتی ہیں، فکری، معاشی اور عسکری قوت ۔
فکری اور معاشی قوتّیں اپنی جگہ پر اہم ضرور ہیں، مگر حتمی کردار عسکری قوت کا ہی رہا ہے، فکری و معاشی طور پر مضبوط بے شمار ممالک صفحۂ ہستی پر موجود ہیں، مگر بین الاقوامی معاملات میں انگریزی محاورے ، might is right, کے مطابق فیصلہ کن کردار عسکری قوّت کے حامل کا ہی رہا، اور رہے گا۔ معیشت کو زورِ بازو سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے، اور فکر کے نفاذ کیلئے بھی معاشرتی و ریاستی قوت درکار ہے، لہذا تکلفات و کتابی سوچ کو ایک طرف رکھتے ہوئے آئینۂ حقائق کو غور سے دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں عموماً عسکری قوت ہی فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔
سوویت یونین کے سقوط کے بعد امریکہ حتمی طور پر دنیا کی واحد طاقت بن کے سامنے آیا، اور توازن کا یہی بگاڑ کمزور، بالخصوص تیسری دنیا کے، ممالک کیلئے آسمانی عذاب بن کر نازل ہوا، افغانستان، عراق، لیبیا وغیرہ وہ ممالک ہیں جہاں کھلم کھلا خون کی ہولی کھیلی گئی، جبکہ ایسے ممالک کی فہرست طویل ہے، جنہیں امریکہ نے، معاشی و اقتصادی طور پر تباہ کرتے ہوئے، اپنے مفاد کیلئے بے دردی سے استعمال کیا۔
یہ معاملہ چلتا رہا، جب تک شام کے معاملے میں روس نے فیصلہ کن لکیر کھینچ کر امریکہ کی تھانیداری کو چیلینج نہ کر ڈالا، یہ کام صرف روس ہی کر سکتا تھا کہ امریکہ کے مقابلے کی عسکری قوت اسی کے پاس ہے، وگرنہ معاشی یا فکری طور پر بے شمار ممالک روس سے کئی گنا مضبوط ہیں۔
امریکہ اور روس دو ہی قوتیں ہیں، جو خشکی، پانی اور خلا میں جوہری ہتھیار رکھتی ہیں، اور اکثر عالمی مسائل کی جڑ (اور حل) اسی نکتے میں پوشیدہ ہے۔
شام میں حالیہ خانہ جنگی نے عالمی قوتوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر ڈالا، ایک طرف امریکہ، سعودیہ عرب ، ترکی اور ہم نوا شامل تھے، دوسری طرف روس، شام، ایران و ہم خیال جماعتیں تھیں، اگرچہ ترکی نے اپنی پالیسی پر از سر غور کی زحمت گوارا کر رکھی ہے۔
روس کو اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے معاشی بہتری درکار ہے اور فی الوقت روسی قیادت کی توجہ کا محور ان کی معیشت ہی ہے، شام کی خانہ جنگی، یوکرائن و کریمیا والے معاملے کے وقت سے روس، امریکہ و مغرب کی طرف سے شدید پابندیوں کی زد میں ہے، جو ہر چڑھتے دن کے ساتھ اس کی معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں، ان سے بچاؤ کیلئے روس نے چین و دیگر مشرقی ممالک سے اپنے سفارتی و معاشی تعلقات بہتر بنائے اور مستقبل کی منصوبہ سازی کی بھر پور کوشش کی، اس کے مثبت اثرات یقینا دیکھے جا سکیں گے، مگر غالب گمان ہے کہ روسی انٹیلیجینسیا یہ بات سمجھ چکی ہے کہ، چینی زبان کے ساتھ ساتھ چینی ذہن بھی نہ سمجھ آنے والا ایک معمّہ ہے، چین پر تکیہ کرنا، کھلے سمندر میں خوشگوار موسم کا انتظار کرنے جیسا ہے،
اس مسئلے کے حل کیلئے روس نے اپنی کوششوں کا رخ مغرب کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، اور بالخصوص بحیرۂ بالٹک کے گرد پھیلے ممالک پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ممالک کی اکثریت، نیٹو کی مستقل رکنیت بھی رکھتی ہے۔
روس کی معیشت میں قدرتی تیل و گیس کی برآمد ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے، گاز پروم ,GazProm, نامی روسی کمپنی دنیا میں سب سے زیادہ تیل اور گیس برآمد کرتی ہے، اور مغرب کے سرد ممالک جن کے پاس یہ نعمت موجود نہیں، مجبور ہیں کہ روس کی مناسب قیمت پر تیل، گیس کی فروخت کی پیشکش کو قبول کریں،
گاز پروم، GazProm, کمپنی کی پائپ لائنز پہلے بیلاروس اور پالینڈ سے ہوتے ہوئے مغربی ممالک کو گیس فراہم کرنے کا واحد ذریعہ تھیں، اس راستے سے تینتیس بلینز کیوبک میٹر سالانہ گیس کی فراہمی کی جاتی ہے، اسے ,Yamal Europe pipeline, کا نام دیا جاتا ہے۔
مگر چند سال پہلے روس نے بحیرۂ بالٹک میں سے پائپ لائن گزار کر اس راستے کو مختصر اور تینتیس کی بجائے پچپن بلینز کیوبک میٹر تک گیس کی سالانہ فراہمی بڑھانے میں کامیابی حاصل کی، اس پائپ لائن کو Nord stream کے نام سے پکارا جاتا ہے، اس راستے سے روسی تیل گیس کا سب سے بڑا خریدار جرمنی ہو گا، روس کیلئے اس منصوبے کی کامیابی و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس کے قتل، جس کا الزام روسی قیادت پر لگایا جاتا ہے، پر آسٹریا جیسے ملک نے روس کے خلاف لب کشائی سے پرہیز کیا۔
یورپ میں قدرتی گیس کے مطالبے اور روس کو اپنی معیشت کی بہتری کی خواہش نے اایک اور پائپ لائن بچھانے پر آمادہ کر لیا ہے، جو اسی Nord stream کے متوازی، اسی حجم کی دوسری لائن ہوگی۔
اسی کمپنی، GazProm, کے دو اور پروجیکٹ South Stream, جو بحراسود سے ہوتی ہوئی بلغاریہ، سربیا، ہنگری، آسٹریا، سلووانیا جیسے ممالک کو گیس فراہم کرتی ہے، اور دوسری Turkish pipeline, جس کے ذریعے ترکی کو قدرتی گیس تیل کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے،،،،
یہ تمام پروجیکٹس ماضی قریب کی شروعات ہیں، روس کی پوری کوشش ہے کہ ان برآمدات کو بڑھاتے ہوئے اور بنیاد بناتے ہوئے ان مغربی ممالک کا روس پر انحصار بڑھایا جائے اور معیشت کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر تعلقات میں مضبوطی لائی جائے۔
ان برآمدات کے حجم و فوائد کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے گازپروم کے ساتھ لین دین پر یورپی ممالک کی کچھ کمپنیوں کو پابندیوں کی دھمکی دے ڈالی، جس پر جرمنی آسٹریا اور بالٹکس ممالک امریکہ سے برہمی کا اظہار کرنے پر مجبور ہوئے، اس وقت خطے میں ایک سرد جنگ کا سا سماں جاری ہے، نیٹو افواج بحیرۂ بالٹک کے گرد پھیلے ممالک سے ہوتے ہوئے روس کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں چند دن پہلے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اعلانیہ کہا کہ کسی بھی کاروائی کے نتیجے میں روس بلاٹوک ہر اس مغربی ملک پہ حملہ کرے گا جو نیٹو کا سہولت کار ہوگا۔
بالٹکس ممالک مجبور ہیں کہ نیٹو کی رکنیت میں رہیں کہ ان کے ہمسائے میں روس جیسی عسکری طاقت ہر وقت ان کیلئے خطرے کا باعث ہے، مگر قدرتی تیل گیس کیلئے ان کا مکمل دارومدار روس پر ہے۔
امریکہ کی بے چینییاں اور روس کی مجبوریاں خطے میں امن کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں، آنے والے دنوں میں فرانس اور جرمنی اس معاملے کو یورپین لیگ میں بحث کا موضوع بنانے کو ہیں، اگر فیصلہ روس کے حق میں آتا ہے تو دنیا طاقت کی غیر متوازن پیچیدگیوں سے نکلتی نظر آئے گی، اگر امریکہ اپنی فطری چالاکی اور دھونس دھمکیوں سے یورپ کو اپنے حق میں جھکاؤ پر مجبور کر لیتا ہے تو روس کو چین اور ترکی کی طرف توجہ مبذول کرنا ہو گی۔
ترکی اس وقت سیاسی طور پر اپنی پانچوں انگلیاں دیسی گھی میں تر محسوس کرتا ہے، اور مختلف امکانات میں سے اپنا فائدہ کشید کرنے کے فن سے ترکی قیادت خوب واقف ہے، اور یہ ان کی بہترین خوبی ہے، واقعہ یہ ہے کہ اس وقت دوطرفہ قوتیں ترکی کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتیں۔
باوجود اس کے کہ ترکی نیٹو تنظیم کا رکن ہے، شام کی جنگ میں سبق سیکھنے کے بعد ترکی کا جھکاؤ روس کی طرف سرکتا محسوس ہوا، اگرچہ عربوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ایران دشمنی آڑے رہیں کہ اس کا اظہار کرتے ہوئے مزید پیش قدمی کی جائے، مگر چند دن قبل ترکی میں موجود سعودی صحافی کے قتل نے اردگان کیلئے مسلکی تکلفات کو سرد خانے میں دھکیلتے ہوئے اپنی پوزیشن کو واضح کرنے میں آسانی پیدا کر دی ہے۔
ترکی کیلئے ضروری ہے کہ وہ آزادئ صحافت کے اظہار کی حفاظت کیلئے ان قاتلوں کا سعودیہ سے مطالبہ کرے، اور عالمی برادری کا دباؤ بھی ہے ترکی پر، اور اردگان سمیت سب جانتے ہیں کہ سعودیہ کبھی بھی ان افراد کو ترکی کے حوالے نہ کرے گا، یقینا ترکی اس کے بدلے ، خلیجی دوستوں سے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرے گا، جناب طیب اردگان کا پر اعتماد اور طمانت بھرا چہرہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ انہوں نے بن سلمان السعود کے مصدرِ شباب کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیا ہے، اگرچہ نوجوان عربی خون اس دعوئ حال کو خاطر میں لانے کا تکلف کرتے دکھائی نہیں دیتا، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سوجن گردوں تک سرایت کر پاتی ہے کہ نہیں ؟ مگر اس صورت حال نے ترکی کیلئے سہولت میسر کر دی ہے کہ وہ اگر چاہے تو روسی بلاک میں شامل ہو سکتا ہے۔
مستقبل قریب میں تصویر کچھ واضح ہوتی دکھائی دے گی، اس صورتحال کا مایوس ترین پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی پرانی علّت، زمین جنبد نہ جنبد گل محمد، کو بنیاد بنائے دو برائیوں میں سے بڑی برائی کے ساتھ چِپکے رہیں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply