• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے ناول کے غائب صفحات ڈھونڈنے والے کامریڈ ننگر چنا بھی غائب کر دیے گئے!

کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے ناول کے غائب صفحات ڈھونڈنے والے کامریڈ ننگر چنا بھی غائب کر دیے گئے!

گزشتہ دنوں سندھ کے شہر نصیر آباد میں مقیم ہمارے دوست اور بہترین مترجم ( کامریڈ ننگر چنا شاید سندھ کے واحد ترجمہ نگار ہیں جنہوں نے اردو ، پشتو ، پنجابی اور سرائیکی زبانوں سے سندھی زبان میں ادبی وانقلابی شہہ پارے سندھی زبان میں ترجمہ کیے ہیں )، افسانہ نگار ،شاعر اور سیاسی و سماجی شخصیت کامریڈ ننگر چنا نے بتایا کہ وہ کامریڈ نور محمد ترہ کئی کا پشتو ناول ”سنگسار“ پڑھ رہے ہیں ۔ عید کے دن ان کا ایس ایم ایس ملا کہ” ناول مکمل کر لیا ہے ،کیا ہی شاندار ناول ہے۔پشتو زبان میں سماجی حقیقت نگاری کا ایسا مرقع شاید ہی کسی نے لکھا ہو ۔ لیکن افسوس کہ کابل ایڈیشن کے اس ناول کا صفحہ نمبر 14,15اور 18,19خالی ہے ۔“

میں نے کامریڈ ننگر چنا کو جوابی ایس ایم ایس کیا کہ ” میں چیک کرتا ہوں میرے پاس ہوگا ۔“
آج صبح یہ افسوس ناک خبر ملی کہ کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے ناول ”سنگسار“ کے غائب صفحات کے متلاشی ہمارے دوست کامریڈ ننگر چنا کو رات ان کے گھر پردھاوا بول کر باوردی رینجرز اہلکاروں نے غائب کر دیا ہے ۔اس موقع پر رینجرز اہلکاروں نے گھر کی خواتین کووحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کی ضعیف اور بیمار والدہ بے ہوش ہو گئیں ۔ان کی چھوٹی بہنوں اور گھر پر موجود چھوٹے بھائی کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔رینجرز اہلکار ایک گھنٹے تک ان کی کتابوں کو الٹتے پلٹنے رہے اور کامریڈ ننگر چنا کو لے جاتے ہوئے ان کی متعدد کتابیں بھی ساتھ لے گئے ہیں ۔ایک بے ضرر ،پر امن اور ممتاز علمی ،ادبی شخصیت اورسیاسی وسماجی کارکن کے گھر پر یوں شبِ خون مارکر انھیں غائب کرنے اور خواتین پر بہیمانہ تشدد کرنے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

کامریڈ ننگر چنا سندھ کی قومی سیاست اور مختلف قوم پرست جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں ۔ وہ ایک قومی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی پسندی اور انقلابی بنیادوں پر استوار مزدور دوستی اور بشر دوستی کا مضبوط اور معتبر حوالہ رکھتے ہیں ۔ابھی کچھ ہی عرصہ قبل انھوں نے نصیر آباد میں ایک پریس کانفرنس میں سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب صرف لکھنے پڑھنے کا کام کریں گے ۔لیکن ” سنگسار“ کرنے والوں کے لیے شاید یہ بھی قابلِ قبول عمل نہیں ہے ۔
کامریڈ ننگر چنا کے کیے ہوئے ادبی کام کی طویل فہرست میں تیس سے زائد کتابوں کے تراجم اور سندھی زبان میں لکھے گئے دو ناولٹ شامل ہیں۔وہ سندھ کے ہاریوں کی جدوجہد سے متاثر رہے ہیں۔چند ماہ قبل انہوں نے سندھ ہاری کمیٹی کی طبقاتی جدوجہد کے تناظر میں لکھے گئے گوبند مالی کے سندھی ناول ”شرم بوٹی“ کا اردو ترجمہ کیا ہے جو اشاعت کے مراحل میں ہے ۔ انہوں نے شیخ ایاز کے انقلابی دور سے یادگارکئی ایک سندھی افسانوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ افغان انقلابِ ثور کے قائد اور پشتو زبان کے ممتاز انقلابی ادیب کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے مشہور ناول” سپین “ کے ترجمے کے لیے پرعزم تھے تاکہ اس اہم انقلابی ادبی شہہ پارے سے یہاں کے محنت کار عوام کو روشناس کر سکیں۔

اگرکامریڈ ننگر چنا مجرم ہیں اور ان سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اس ملک میں متعلقہ ادارے اور عدالتیں موجود ہیں انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جاتا ۔ان کی ماورائے عدالت گمشدگی اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کیا جانے والا غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک مقتدر ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ،خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والی عدالتوں اور منتخب جمہوری حکومت پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے ۔یہ وہ سوالیہ نشان ہے جو بلوچستان سے لے کر سندھ اور پختونخوا ، سے لے کر کشمیر ، گلگت بلتستان تک میں سیاسی وسماجی کارکنوں ، دانشوروں ، علمی وادبی شخصیات ، سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کے مساعی پسندوں کی جبری گمشدگیوں ، مسخ شدہ لاشوں ، گرفتاریوں کی صورت میں جبر کی اس مشین کے منہ پر کالک کی صورت میں موجود ہے ۔

طویل عرصے سے سیاسی ،سماجی کارکنوں کے ماوارائے عدالت قتل وجبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ طبقاتی اور قومی جبر کے خاتمے اور محنت کش طبقے کودرپیش سماجی، سیاسی اور معاشرتی بحرانوں کے حل کے لیے آواز بلند کرنے والوں کوجبری طور پر غائب کر دیا جاتا ہے ،بیشتر کے مسخ شدہ لاشے اچھالے جاتے ہیں۔بلوچستان میں یہ صورتحال گھمبیر شکل اختیار کرنے کے بعد اب سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ۔سندھ میں سیاسی وسماجی کارکنوں اور علمی وادبی شخصیت کی جبری گمشدگیوں کی حالیہ لہر میں کچھ دنوں قبل معروف سیاسی وسماجی کارکن کامریڈ پنھل ساریوجو جبری طور پر غائب کیے گئے سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے حوالے سے کیے جانے والے احتجاجات میں بیماری کے باوجود متحرک تھے اور معروف پبلشر انعام عباسی سمیت درجنوں افراد کو جبری طور پر غائب کیا گیا ہے اور وہ تاحال لاپتہ ہیں ۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کامریڈ ننگر چنا سمیت جبری طور پر غائب کیے گئے افراد کو فی الفور بازیاب کیا جائے سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیاسی وسماجی کارکنوں اور علمی وادبی شخصیات کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل عام کا سلسلہ بند کیا جائے ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *