جہاد ۔۔۔ مظفر عباس

سر،میں جہاد پے جانا چاہتا ہوں۔
بیٹا کیوں؟
سر مجھے روہنگیا مسلمانوں کو بدھو بکشوؤں کے ظلم سے نجات دلانی ہے۔
فلسطینیوں کو ان کی غضب شدہ زمین واپس دلوانی ہے۔
شام کے بشار الااسد کے ظلم بند کروانے ہیں۔
کشمیرکو پاکستان کی حقیقی معنوں میں شہہ رگ بنانا ہے۔
مگرمیں ایک زندگی اور اتنے کم عرصے میں یہ کیسے کروں گا۔
بیٹا کوئی مشکل کام نہیں۔
سر: وہ کیسے
بیٹا  ۔۔جیسے تم نے بلوچستان سے مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔
اب ہر اقلیت  ہمارے ملک میں محفوظ ہو گئی ہے۔
اب کسی مسجد،  امام بارگاہ ، بازا راور سکول میں دہشت گرد حملہ نہیں کرتے۔
اب  عید،  میلاد  ،   میلہ اور  محرم کے جلوس کو کوئی سیکورٹی نہیں چاہیے ہوتی۔
جب تم اتنے کم وقت میں یہ سب کر سکتے ہو۔
تو یہ تو کچھ بھی نہیں۔

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *