• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • امریکہ شدید سکیورٹی بحران کی لپیٹ میں۔۔مصطفیٰ شاہ

امریکہ شدید سکیورٹی بحران کی لپیٹ میں۔۔مصطفیٰ شاہ

دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے امریکی نیوز چینل سی این این کے ذریعے سے رپورٹ دی ہے کہ سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائڈ کی پولیس کے ہاتھوں موت کے نتیجے میں جنم لینے والا عوامی احتجاج انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں سی این این کا ایک سیاہ فام رپورٹر بھی پولیس گردی کا نشانہ بنا ہے۔ سی این این نے اعلان کیا ہے کہ اس کے رپورٹر عمر خیمنز نے اپنے عملے کے ہمراہ پولیس کو شناختی کارڈ بھی دکھایا لیکن اس کے باوجود پولیس نے اسے زدوکوب کیا اور گرفتار کر کے لے گئی۔ امریکہ کے انتظامی اور حکومتی اداروں میں نسل پرستانہ سوچ کی عکاسی اس واقعے سے ہوتی ہے کہ پولیس نے اسی ٹیم میں شامل ایک سفید فام شخص کو شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد چھوڑ دیا اور گرفتار نہیں کیا۔ امریکی پولیس کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کس قدر اس ملک پر حکمفرما نظام میں بھی جڑیں پیدا کر چکی ہے۔گذشتہ طویل عرصے سے امریکہ کی بعض اہم اور معروف شخصیات اور محققین حکمرانوں کو حکومتی اداروں میں بڑھتی ہوئی نسل پرستانہ سوچ اور اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے آئے ہیں۔

امریکہ کے معروف ماہر تاریخ یورگن مرتچوکات کا شمار انہی محققین میں ہوتا ہے۔ وہ گذشتہ کئی سالوں سے شمالی امریکہ میں شدت پسندانہ اقدامات کی تاریخ پر تحقیق میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے خبررساں ادارے ایس آر ایف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “امریکہ کا موجودہ حکومتی نظام نسل پرستی اور سفید فام شہریوں کو سیاہ فام شہریوں پر ترجیح دینے کی بنیاد پر استوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سیاہ فام شہری کی زندگی کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ یہاں سیاہ فام ہونے کا مطلب غربت، افلاس اور کم آمدن کے حامل شخص کے ہیں۔ امریکہ میں غلامی کے دور کے بعد یہ نسل پرستانہ نظام معرض وجود میں آیا ہے۔ اس نظام کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جن کے باعث افریقی نژاد سیاہ فام شہری قانونی اور سیاسی مراکز میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ ان کے ساتھ بہت زیادہ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ یہ قصہ کافی عرصے سے جاری ہے۔” منی پولس میں عوام مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے سی این این کے ایک سیاہ فام رپورٹر کو گرفتار کئے جانا اور اسی کی ٹیم میں شامل سفید فام شخص کو آزاد کر دیے جانا اس ماہر تاریخ کی باتوں کی تصدیق کیلئے کافی ہے۔

دوسری طرف امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولینا میں لاک ڈاون کے خلاف جاری مہم کے سربراہ ایڈم سمتھ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا گروہ مسلح اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام ایک ویڈیو کی صورت میں جاری کیا ہے۔ پیغام میں مزید کہا گیا ہے: “میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری آنے والی نسل ملک کے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے کہے: دیکھو ہم کس قدر عظیم قوم ہیں۔ جس وقت پوری دنیا کی نگاہیں امریکہ پر جمی تھیں اور نیا ورلڈ آرڈر خود کو دنیا پر مسلط کرنے کے درپے تھا امریکہ نے کہا نہیں، ہم مسلح ہوں گے۔ اب اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ہم اپنے ہدف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔” ان کا یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک کی کئی ریاستوں میں جاری عوامی احتجاج کے خلاف آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بہت اچھا قدام کیا ہے اور فوج کو چاہئے کہ وہ پوری طاقت سے عوامی مظاہرے کچل کر رکھ دے۔

وائٹ ہاوس کے اردگرد بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق عالمی خبررساں ادارے رویٹرز کے دو صحافی بھی پولیس کی جانب سے فائر کی گئی پلاسٹک کی گولیوں کی زد میں آئے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس کے تشدد پسندانہ اقدامات سے مشتعل ہو کر عمارتوں پر پتھراو کیا اور آگ لگائی۔ یاد رہے کچھ دن پہلے ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں ایک سیاہ فام شہری جارج فلائڈ پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس افسر نے اسے گرفتار کرتے وقت اپنے گھٹنے سے اس کی گردن دبا رکھی تھی۔ جارج فلائڈ کی موت اس وقت دم گھٹنے سے واقع ہوئی جب وہ کئی بار چلا کر پولیس افسر کو بتا چکا تھا کہ اسے سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر مظاہرین نے ایسے بینر اٹھا رکھے ہیں جن پر لکھا ہے “I can’t breathe”۔ کچھ ماہ پہلے بھی ملتے جلتے واقعے میں ایک سیاہ فام شہری ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس افسر نے اس کی گردن اپنے بازو سے دبوچ رکھی تھی۔ امریکہ میں حالیہ عوامی احتجاج شدت اختیار کر جانے کے باعث کئی سیاسی اور سکیورٹی ماہرین نے اس ملک میں خانہ جنگی شروع ہونے کی بھی وارننگ دی ہے۔

اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *