شاہی ضیافت۔۔وہاراامباکر

ایرانی بادشاہ نے 1971 میں فارس کی سلطنت کے ڈھائی ہزار مکمل ہونے پر ایک دعوت کی جو دنیا کی تاریخ میں کی جانے والی شاندار ترین تقریب تھی۔ دنیا کے ہر برِاعظم سے بادشاہ، ملکہ، شہزادے، شہزادیاں، شیخ، سلطان، سربراہانِ مملکت، وزیر، سفیر، بزنس کی اہم شخصیات سبھی اس محفل میں شریک ہوئے۔ اس تقریب کی جگہ کوئی قدیم قلعہ یا سیون سٹار ہوٹل نہیں تھی بلکہ صحرا کے وسط میں صرف اسی تقریب کے لئے تعمیر کردہ مقام تھا۔

اس کی قیمت؟ یہ ایک پوری بادشاہت کو لے ڈوبی۔ ایرانی انقلاب کے لئے یہ اہم قدم ثابت ہوئی۔ بادشاہت ختم ہونے اور انقلابیوں کے آ جانے نے نہ صرف اس ملک کو بلکہ اس خطے کو بھی ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا۔ یہ کہانی شاہِ ایران کی پارٹی کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا پس منظر طویل اور پیچیدہ ہے لیکن بہت سادہ الفاظ میں۔ ایران ساٹھ کی دہائی میں ایک آئینی بادشاہت تھا جس پر شاہ محمد رضا پہلوی حکمران تھے جو خود کو شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلواتے تھے۔ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے تھے اور مطلق العنان حکمران تھے۔ وزیرِ اعظم بنا سکتے تھے۔ پارلیمنٹ تحلیل کر سکتے تھے۔ فوج کے سربراہ تھے۔ ان کی بات قانون کا درجہ رکھتی تھی اور وہ اپنے اختیارات شیئر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ سترہ سال پہلے انہوں نے ایک جمہوری وزیرِاعظم کا تخت الٹا تھا جس میں امریکہ اور برطانیہ نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ شاہ کا خیال تھا کہ وزیرِاعظم طاقتور اور مقبول ہو رہے ہیں۔ شاہ نے اپنے زندگی میں صرف عیش و آرام دیکھا تھا۔ سویٹزرلینڈ میں پڑھے تھے۔ مغربی کلچر اور ماڈرن لائف سٹائل کے رسیا تھے۔ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ایران کو جدید اور آزاد معاشرہ بنانا چاہتے ہیں۔ خواتین کو طاقتور کرنا چاہتے ہیں۔ غریبوں کی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر یہ پراپیگنڈہ سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔ آزادئ اظہار پر کڑی پابندی تھی اور حکومت کے خلاف بات کرنے پر سزا تھی۔ سول لبرٹی اور انسانی حقوق جیسے الفاظ اجنبی تھے۔ شاہ کی حکومت میں سیاسی قیدیوں اور سزائے موت دئے جانے کی شرح دنیا بھر سے زیادہ تھی۔ خفیہ ایجنسی کا لوگوں کو گھروں سے اٹھا لئے جانا اور قتل کر دئے جانا عام تھا۔ تیل کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود عوام کی معاشی حالت اچھی نہیں تھی۔ نصف آبادی غریب کی لکیر تلے تھے۔ شہروں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی تھی۔ دیہات میں صاف پانی، صحت کی سہولیات، تعلیمی اداروں کی شدید کمی تھی۔

اور ان حالات میں شاہ کو ایک خیال سوجھا۔ ایک شاندار دعوت کا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے ایران کے بارے میں عالمی تاثر بہتر ہو گا۔ یہ بتائے گا کہ ایک شاندار ماضی والی سلطنت کیسے واپس بڑی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اور یہ سائرس اعظم کی بنائی گئی فارس کی سلطنت کا ڈھائی ہزار سال مکمل ہونے کا وقت تھا۔ شاہ اپنے آپ کو جدید دور کے سائرس کے طور پر دیکھتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقریب کا انتظام کرنے کے لئے کمیٹی بنی۔ دعوت نامے بھیجے گئے۔ ڈیڑھ سال پہلے اس کی تیاری شروع کر دی گئی۔ ایران میں انفراسٹرکچر موجود نہ ہونا ایک مسئلہ تھا۔ تقریب کے شایانِ شان ہوٹل نہیں تھے۔ سوچ بچار کے بعد اس کے لئے قدیم شہر پرسیپولس کے صحرا کا انتخاب کیا گیا۔

سب سے پہلے طے ہوا کہ اس صحرا کو جنگل میں بدلا جائے۔ درخت درآمد کئے گئے۔ پندرہ ہزار درخت جہازوں پر لائے گئے۔ پھولدار پودے لگائے گئے۔ پانی کی کمی کے شکار ملک کے لئے تین روزہ تقریب کے لئے ان کی آبیار کا بندوبست پاگل پن کہا جا سکتا ہے لیکن ایک اچھی دعوت کے لئے یہ ضروری تھا۔ اٹلی کے مشہور باغبان جارج ٹرروفوٹ کو بلایا گیا کہ وہ چار ہیکٹئر پر مشتمل خوشبودار باغ لگائیں۔ اس کے لئے مٹی منگوائی گئی۔ اس جگہ پر سانپ اور بچھو بہت تھے جو مہمانوں کے لئے خطرناک ہو سکتے تھے۔ تیس کلومیٹر تک کے علاقے پر کیمیکل چھڑکے گئے اور رینگنے والے جانوروں کے ٹرکوں کے ٹرک پکڑے گئے۔ اس دوران ایسی انواع بھی ملیں جو نامعلوم تھیں اور انہیں یونیورسٹیوں کو تحقیق کے لئے دیا گیا۔

اس جنگل کو آباد کرنے کے لئے یورپ سے پچاس ہزار چہچانے والے پرندے درآمد کئے گئے۔ بیس ہزار چڑیوں کو سپین سے منگوایا گیا لیکن پرندوں کی بڑی تعداد چند روز میں ہی مر گئی۔ وہ یہاں کے موسم سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ صحرا میں گالف کورس بنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عام طور پر اس قسم کی کسی تقریب میں مقامی ہنرمندوں اور آرٹسٹ کے کام کی نمائش کی توقع کی جاتی ہے کیونکہ پارٹی کا مقصد ہی ایران کی شان و شوکت دکھانا تھا لیکن شاہ ایک “باذوق” شخص تھے۔ زیادہ تر کام مشہور یورپی کمپینیوں کے حوالے ہوا۔
شاہی خیموں کا شہر بنانے کے لئے پیرس کی مشہور جینسن کمپنی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اس کمپنی نے رہائش کے لئے ائیر کنڈیشنڈ ٹینٹ ڈیزائن کئے جس میں لگژری سویٹ ہوں اور انہیں روایتی ایرانی پردوں سے ڈھکا گیا۔ ہر خیمے میں دو بیڈروم، دو باتھ روم، ایک لاونج، ایک کچن تھا جس میں باورچی اور خدمت گار چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر تھے۔ فرانسیسی آرکیٹکٹ، انٹیرئیر ڈیزائنر اور ہنرمندوں کو ایک سال سے زیادہ ان خیموں کی تعمیر پر لگا۔ ان کو پیرس کے ہوائی اڈے کے قریب تعمیر کیا گیا اور سینکڑوں جہازوں میں انہیں پرسیپولس پر پہنچایا گیا۔ خیموں کا یہ شہر 160 ایکڑ پر پھیلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانے کے لئے فرانس کے مشہور میکسیم ڈی پیری سے معاملہ ہوا۔ یہ اس وقت دنیا کا بہترین ریسٹورنٹ سمجھا جاتا تھا۔ پارٹی کے وقت یہ ریسٹورنٹ دو ہفتے بند رہا۔ اس کا تمام سٹاف ایران میں دس روز پہلے پہنچ گیا تھا۔

فرانس سے اٹھارہ ٹن خوراک منگوائی گئی۔ ڈھائی لاکھ انڈے۔ 2700 کلوگرام گوشت اور بہت کچھ اور۔ یہاں تک کہ تیس کلوگرام خاویار بھی! مشہور ترین ہوٹلییر میکس بلوئے، اپنی ریٹائرمنٹ چھوڑ کر انتظامات سپروائز کرنے پہنچے۔ پارٹی کا مینو جب پریس کو پہنچا تو یہ ایک سکینڈل تھا۔

اس جگہ تک اتنا سامان پہنچانا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس سے پچاس کلومیٹر دور شیراز تھا جہاں ایئر فیلڈ تعمیر ہوا جہاں جہازوں کی آمدورفت ہو سکتی تھی۔ اس ائیرفیلڈ کو پرسیپولس سے ملانے کے لئے ایک ہائی وے تعمیر کی گئی۔ سامان لانے کا کام ایرانی ائرفورس کے سپرد ہوا۔ چھ ماہ تک ایرفورس شیراز اور پیرس کے درمیان سامان کی ترسیل میں مصروف رہی۔ شیراز سے آرمی کے ٹرکوں میں سامان منزل تک پہنچا دیا جاتا۔ پردے اور قالین اٹلی سے آئے۔ باکاراٹ کرسٹلز پہنچے۔ برتن لموژے چائنہ کے بنوائے گئے جس میں پہلویوں کا کوٹ آف آرمز کنندہ تھا۔ تولیہ اور چادریں پورٹہو سے۔ پرچ اور پیالیاں رابرٹ ہاویلانڈ سے۔ اور مہنگی ترین شراب کی ہزاروں بوتلیں آئیں جن کا وزن بارہ ٹن تھا۔ کھانا پکانے کے لئے پیرس سے جو سامان آیا، وہ تیس ٹن وزنی تھا۔ جہاز اس کو سرد رکھنے کے لئے برف لے کر آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اس کا سب سے اہم مرحلہ سیکورٹی کا تھا۔ دنیا کے اہم ترین لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو رہے تھے۔ شاہ کی غیرمقبولیت کی دوسری کئی وجوہات بھی تھیں۔ شاہ کو طلباء کی طرف سے سبوتاژ کئے جانے کا خطرہ تھا۔ سیکورٹی پر 65000 اہلکار تعینات ہوئے۔ یہ بھی خدشہ تھا کہ کہیں کوئی کھانے میں کوئی چیز نہ ملانے میں کامیاب ہو جائے۔ کھانے کی حفاظت خاص طور سے کی گئی جس تک بہت کم لوگوں کو رسائی تھی۔ بیرے سوئٹزلینڈ سے منگوائے گئے۔ ایران کی سرحد کو تقریب کے دوران سیل کر دیا گیا۔ یونیورسٹیاں اور سکول بند کر دئے گئے۔ شک کی بنیاد پر ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ طلباء تنظیموں میں متحرک لوگوں کو تقریب سے چند ماہ قبل احتیاط کے طور پر جیل میں ڈال دیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی پبلسٹی پر خاص توجہ دی گئی۔ مختلف ممالک کے ٹی وی چینلوں کے ساتھ اس کو براہِ راست دکھانے کی ڈیل کی گئی۔ ایران کے قومی فلم بورڈ نے اس تقریب پر فلم “فارس کے شعلے” کے نام سے بنائی جو کئی زبانوں میں ترجمہ کی گئی۔ انگریزی ڈبنگ کے لئے ہالی وڈ کے ایکٹر اور ڈائریکٹر اورسن ویلز کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ایرانی سفارتخانوں کو اس تقریب کی طرف توجہ دلانے کے لئے ایک سال پہلے سے کانفرنس، پارٹی، سمپوزیم اور دوسری کلچرل تقریبات کے لئے کہا گیا۔ کئی کتابیں لکھوائی گئیں اور دنیا بھر میں تقسیم کی گئیں۔ یہ کامیاب رہا اور دنیا بھر کے میڈیا میں یہ دعوت توجہ کا مرکز رہی۔ “کون آ رہا ہے؟ کیا پہن رہا ہے؟ کھانے میں کیا ہو گا؟” یہ قیاس آرائیاں خبروں کے طور پر لگتی رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیس میل کی سڑک کو روشن کرنے کے لئے ایرانی آئل کمپنی نے مشعلیں جلانے کا بندوبست کیا۔سیاحت کی وزارت نے شیراز میں دو نئے ہوٹل تعمیر کروائے۔ کروش اور درویش نامی ان ہوٹلوں میں کم اہم مہمانوں اور میڈیا کے لوگوں کو ٹھہرایا گیا۔

تقریب کے مقام کے ایک ایک انچ کی پلاننگ کی گئی تھی کہ وہ الف لیلہ جیسا جادوئی منظر پیش کرے۔ شاہی خاندان کے لباس فرانسیسی درزیوں نے سیے۔ اس میں سونے کی تاریں، قیمتی جواہرات جڑے تھے۔ ہر لباس دسیوں ہزار ڈالر کا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب وہ دن آ گیا۔ 14 اکتوبر 1971 کو فوارے چلا دئے گئے۔ شہر روشن ہو گیا۔ کیمرے آن ہو گئے۔ ایک کے بعد اگلے وی آئی پی کا جہاز آنے لگا۔ شاہ کا خواب حقیقت بننے لگا۔ مہمان مغربی ممالک سے بھی تھے اور سوویت بلاک سے بھی۔ امریکی نائب صدر، سوویت یونین کی طرف سے نکولائی پوڈگورنی۔ آسٹریا، فن لینڈ، سویٹزرلینڈ کے سربراہانِ مملکت۔ فرانس، جنوبی کوریا اور سوازی لینڈ کے وزرائے اعظم۔ پاکستان کے صدر یحیٰی خان، انڈیا کے صدر گیری، ترکی، ہنگری، برازیل، چیکوسلواکیہ، انڈونیشیا، لبنان، جنوبی افریقہ، ماریطانیہ، سینی گال، زائرے، یوگوسلاویہ، رومانیہ کے صدور آئے۔کینیڈا اور آسٹریلیا کے گورنر جنرل آئے۔ چین، جرمنی، پرتگال، پولینڈ نے بھی اپنے وزرائے خارجہ یا سفیروں کو بھیجا۔ پوپ نے بھی اپنا خصوصی نمائندہ بھیجا۔

لیکن سب سے زیادہ نظریں دوسرے بادشاہوں پر تھیں۔ اتنے زیادہ بادشاہ، ملکائیں، شہزادے اور شہزادیاں ایک جگہ پر کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ ڈنمارک، بلجیم، نیپال اور گریس کے شاہی جوڑے۔ اردن، ناورے، ایتھیوپیا اور لیسوتھو کے بادشاہ۔ قطر، کویت، ابوظہبی کے امیر، عمان کے سلطان، افغانستان، لگزمبرگ، لیکٹنسٹائن، موناکو، فرانس، سویڈن، سپین، اٹلی، جاپان، مراکش، تھائی لینڈ، اردن اور ملیشیا سے شہزادے اور شہزادیاں۔

برطانوی ملکہ الزبتھ نے اس میں شرکت نہیں کی کیونکہ بادشاہوں کے بادشاہ کہلانے والے کی میزبانی قبول کرنے میں ہچکچاہٹ تھی۔ لیکن انہیں نے اپنے شوہر فلپ اور شزادی این کو بھیجا۔ چند جگہوں سے مہمان اندرونی پریشر کی وجہ سے نہیں آئے کیونکہ شاہ کو کئی ممالک میں ڈکٹیٹر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

مہمانوں کو ائیرپورٹ سے لانے کے لئے 250 بلٹ پروف لموزین گاڑیاں منگوائی گئی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقریب کا آغاز سائرس کے مزار پر تقریب سے ہوا۔ ملکہ فرح اور ولی عہد رضا کے ساتھ سٹیج پر شاہ نے جذباتی تقریر کی اور سائرس سے وعدہ کیا کہ ان کے جانشین اس تابناک ماضی کی وراثت کا صحیح طور پر حق ادا کریں گے۔

ہر سربراہ کو اس کا خیمہ دیا گیا۔ ہر ایک کی تزئین و آرائش میں ہنرمندوں کو مہینوں لگے تھے۔ کہیں کوئی صدر، کہیں کوئی ملکہ تو کہیں کوئی وزیرِاعظم خیمے کے باہر کرسی پر بیٹھا چائے کی چسکیاں لے رہا ہے۔ کہیں کسی خیمے میں سوویت لیڈر کی ڈنمارک کے شاہی خاندان سے اکٹھے گپ شپ ہو رہی ہے۔ یہ عالمی اشرافیہ کا چھوٹا سا شہر تھا۔

ایک سوشل خیمہ بنایا گیا تھا جس میں بار، ریسٹورنٹ، کسینو تھا۔ ایک اور سپیشل خیمے میں میک اپ سیلون، ہیرڈریسنگ سیلون سیٹ کئے گئے تھے۔ ان میں پیرس کے بہترین ہیرڈریسرز اور میک اپ کے ماہرین کو بلایا گیا تھا کہ وہ مہمانوں کو خدمات مہیا کریں۔ ان کی مہینوں تک خاص ٹریننگ کی گئی تھی کہ وہ تیزرفتاری سے کام کر سکیں۔ اور کیسے صرف چند منٹ میں تاج فٹ کر سکیں۔

پیرس سے فیشن ڈیزائنرز کی ایک ٹیم بھی بلوائی گئی تھی تا کہ اگر کسی کو اپنے لباس میں آخری وقت پر تراش خراش کروانی پڑے تو خدمات دستیاب ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی شام کو شاہ نے مہمانوں کو پرتعیش ضیافت دی۔ یہ بندوبست بڑے خیمے میں کیا گیا تھا۔ یہاں کے فانوس اور سونے کا ملمع چڑھائی گئی کٹلری ایک صدی پہلے کے کسی یورپی دربار کا نظارہ پیش کر رہے تھے۔ کھانے کو 70 میٹر لمبی سانپ کی طرح بل کھاتی ایک میز پر پیش کیا گیا۔ اس کا میزپوش سینے میں 125 خواتین نے چھ ماہ تک کام کیا تھا۔ عام مہمانوں، جیسے کہ سفیر یا سربراہان کے ساتھ آئے وفود کے لئے خیمے میں الگ چھوٹی میزیں تھیں۔ مشرق و مغرب، کمیونسٹ اور کیپیٹلسٹ، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، بادشاہتیں، سابق کالونیاں، سب کھانے پر اکٹھے تھے۔ مینو فارسی اور فرنچ میں لکھا تھا۔ اس میں جو چیزیں پکائی گئی تھیں، وہ اپنی مثال آپ تھیں۔ ثابت مور، جن کو اپنے پروں کے ساتھ پیش کیا گیا، خاص توجہ کا باعث رہے۔ چھ سو مہمانوں کی یہ ضیافت چھ گھنٹے جاری رہی۔

مسلمان اکثریت والے ملک ایران میں الکوحل ناپسند کی جاتی تھی لیکن شاہ کی دعوت میں ڈھائی ہزار شمپین کی بوتلیں، ایک ہزار بورڈو کی بوتلیں، ایک ہزار برگنڈی کی بوتلیں شامل تھیں۔ شیمپین ساٹھ سال پرانی تھی جبکہ کوگنیک 1860 کی تھی۔ ان سب کو بحفاظت رکھنے کے لئے خاص سیلر تعمیر کروایا گیا تھا جہاں چار ہفتے انہیں محفوظ رکھا گیا تھا۔

اس پارٹی میں ہر کوئی تھا لیکن ایرانی نہیں تھے۔ شاہ نے اپنے وزراء کو بھی نہیں بلایا تھا۔ صرف چند لوگ جو انتظامی امور دیکھ رہے تھے، موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے روز بڑا ایونٹ تھا۔ اس میں فارس کی عظیم سلطنت کے ڈھائی ہزار سال دکھانے کا شو ہوا۔ ایران کے پونے دو ہزار فوجیوں اور سینکڑوں گھوڑوں اور اونٹوں نے اس میں حصہ لیا۔ اس کی تفصیلات پر بہت توجہ دی گی تھی کہ تاریخ دکھانے میں ٹھیک ماحول پیدا کیا جائے۔ ہر دور کے اپنے کاسٹیوم، داڑھیاں، وگ، یونیفارم، سواریاں، ہتھیار، جنگی جہاز، ٹوپیاں۔ یہ سب بنانے کے لئے ملٹری مورخین کے ملٹی نیشنل ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ تہران کی ملٹری ورک شاپ نے کئی طرح کے کاسٹیوم بنائے تھے۔ قدیم باجے اور بھولے بسرے موسیقی کے آلات بنائے گئے تا کہ وہ آوازیں صحرا میں گونجیں جو صدیوں سے نہں سنی گئی تھیں۔ زورکسس کے تین قدیم بحری جہازوں کے ریپلیکا بھی تیار کئے گئے۔

غروبِ آفتاب کے بعد فارس کی تاروں بھری رات میں روشنی اور آوازوں کی پرفارمنس مہمانوں کا انتظار کر رہی تھی۔ اس میں مختلف فارسی حکمرانوں کی آوازوں میں فارس کے تابناک ماضی کو یاد کیا گیا۔ اور آخر میں آتشبازی کے شاندار مظاہرے کے ساتھ روشن ہونے والے آسمان کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرے روز وی آئی پیز کو تہران لے جایا گیا۔ یہاں پر کچھ پروگرام رکھے گئے تھے جس میں شاہِ ایران کی یاد میں تعمیر کردہ شاہ یاد ٹاور کی افتتاحی تقریب بھی تھی۔

تقریب خود میں بہت کامیاب شو رہا۔ شاہ نے دنیا کو دکھایا کہ پارٹی کیسے کی جاتی ہے۔ ملکہ فرح کے لباس اور زیور دنیا بھر کی خبروں میں رہے۔ ایک اور مشہور موضوع ایتھیوپیا کے بادشاہ کا پالتو کتا تھا جس کا ہیروں جڑا پٹہ کئی ملکاوٗں کے زیورات سے زیادہ قیمتی تھا۔ دنیا کے ہر میگیزین میں اس پارٹی کو بڑی کوریج ملی۔ “دعوتوں کی ماں”، “صدی کی سب سے بڑی تقریب” جیسے عنوانات دئے گئے۔ کچھ دیر ایران میں بھی اس کے کامیاب انعقاد کی خوشیاں منائی گئیں۔ ایرانی ٹی وی سکرین پر شاہ کو دنیا کے طاقتور ترین ممالک سے ملنے والی عزت دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔ لیکن یہ سب زیادہ دیر نہیں رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جلد ہی سنجیدہ سوالات نے آن لیا۔ “یہ سب کیا تھا؟” شاہ کا ایک بےقابو اور فضول خرچ حکمران کا تاثر بنا۔ آیت اللہ خمینی، جو اس وقت عراق میں جلاوطن تھے، نے اس کو “شیطان کی دعوت” کہا۔ اس پارٹی میں استعمال ہونے والی شراب کی تفصیلات، ایرانیوں کی اس میں غیرموجودگی اور تقریب کی تفصیلات عام ایرانیوں کے لئے شاک تھیں۔

اس پر خرچ کتنا آیا؟ اس پر اندازے لگائے جاتے رہے۔ ٹائم میگیزین نے اندازہ دس کروڑ ڈالر (آج کے حساب سے 65 کروڑ ڈالر) لگایا۔ فرانس کے پریس نے اس سے دگنا۔

شاہ کے آفیشل نے یہ اعداد سامنے آنے پر اس کی تردید کی اور کہا کہ خرچہ بہت کم ہوا ہے اور صرف ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر (آج کے حساب سے بارہ کروڑ ڈالر) ہے۔ شاہ نے کہا کہ خرچہ تو صرف وہ ہے جو کھانے پر آیا تھا۔ باقی تو ملک میں ہونے والی تعمیرات ہیں۔ اور ساتھ یہ کہ اس پارٹی میں آنے والوں نے جو عطیات دئے ہے اس سے ایران کے دیہاتوں میں تین ہزار سے زائد سکول بنائے جائیں گے۔ یہ سب نیک مقصد کے لئے کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاست میں غربت اور جبر کے درمیان اپنے دوستوں کے لئے پارٹی کرنے کے اس عمل نے شاہ کی عوامی سپورٹ میں بہت کمی کر دی۔ اپوزیشن پارٹیاں، جو نظریاتی اعتبار سے بہت فرق رکھتی تھیں، شاہ کے خلاف متحد ہو گئیں۔

اس سے تین سال بعد شاہ نے عوام سے معذرت کی اور لوگوں سے معافی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہائیوں سے جاری غلط فیصلوں، کرپشن اور ظلم کا جاری طریقہ بدلیں گے۔ لیکن تاخیر ہو چکی تھی۔

ایران میں جاری بغاوت کامیاب ہوئی۔ ۔ 1979 میں پہلوی خاندان کو انقلاب کے نتیجے میں ایران چھوڑنا پڑا۔ ڈھائی ہزار سال فارس سے بادشاہت تمام ہوئی۔ شاہوں کے شاہ کو مصر جلاوطن ہونا پڑا جہاں وہ ایک سال بعد انتقال کر گئے۔

شاہ کے آخری برسوں میں ایران کی ترقی کی رفتار بہت تیز تھی۔ معیشت، صنعت اور تعلیم کی شرحِ نمو کوریا، تائیوان اور ترکی جتنی تھی لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ آیت اللہ خمینی نے ملک واپس آ کر “عظیم راہنما” کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ جبر کا ایک دور ختم ہوا۔ اگلا دور شروع ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرسیپولس میں قدیم ترین بادشاہتوں کے سربراہ اکٹھے ہوئے تھے۔ ہزاروں سال سے قائم رہنے والی یہ بادشاہتیں اگلے چند ہی برسوں میں ختم ہو گئیں۔ ایتھیوپیا کے بادشاہ کو 1974 میں انقلابیوں نے معزول کیا اور پھر قتل کر دیا۔ ایک اور قدیم بادشاہت گریس کی تھی جو 1973 میں ختم کر دی گئی۔ اسی سال افغان بادشاہت کا تخت الٹا دیا گیا، جس کے چند سالوں بعد شروع ہونے والی افغان خانہ جنگی آج تک جاری ہے۔ تاش کے پتوں کی طرح گرتی بادشاہتوں میں شاہ کی یہ دعوت وہ آخری موقع تھی جب حکومت کے اس ختم ہوتے طریقے کے آخری وقتوں میں ایران کے صحرا میں یہ بادشاہت کا جشن منانے کے لئے آخری بار اکٹھے ہوئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقریب کے بعد خیموں کا شہر استعمال کیا جاتا رہا۔ یہاں کرائے پر سرکاری اور نجی تقریبات منعقد ہوتیں۔ انقلاب کے دوران اس کو لوٹ لیا گیا۔ اب یہاں پر سڑکیں اور لوہے کی سلاخیں بچی ہیں۔ شاہ یاد مینار کا نام بدل کر آزادی ٹاور رکھ دیا گیا جو اب تہران کا ایک لینڈ مارک ہے۔

شاہِ ایران نے اس دعوت میں فرانس سے بہت کچھ درآمد کیا تھا۔ شاید غیرارادی طور پر فرانس کی طرز کا ایک عدد انقلاب بھی اس سب کے ساتھ ہی کہیں درآمد ہو گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *