جب دہلی گرا تو نہ صرف شہر اور مغلیہ دربار بلکہ مغلوں کے ساتھ منسلک سیاسی اور کلچرل خوداعتمادی اور اتھارٹی بھی۔ جس قدر فاش شکست تھی اور جس قدر بڑی تباہی اور جس قدر ذلت، اس نے نہ صرف← مزید پڑھیے
بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کی جگہ برما طے کی گئی۔ دہلی سے دور اور یہاں کی مقامی آبادی کو ہندوستان کے معاملات سے سروکار نہیں تھا۔ بہادر شاہ سفر میں خوشگوار موڈ میں تھے۔ یہ دہلی کی قید سے← مزید پڑھیے
شہر میں انصاف کی باری تھی۔ پھانسیاں نصب ہو گئیں۔ لوگ لٹکنے لگے۔ سب سے بڑا مرکز چاندنی چوک میں بنا۔ لوگ تماشا دیکھنے اکٹھے ہوتے۔ سیٹیاں بجاتے، تالیاں بجائی جاتیں، نعرے لگتے۔ ویسے ہی جیسے انقلابِ فرانس میں ہوا← مزید پڑھیے
ہوڈسن نے ہمایوں کے مقبرے پر پہنچ کر مولوی رجب علی اور مرزا الہی بخش کو بات کرنے اندر بھیجا۔ ان کے ساتھ سکھ رسالدار من سنگھ اور چند محافظ تھے۔ مولوی رجب علی نے یہ مذاکرات کرنے تھے۔ دو← مزید پڑھیے
محل پر قبضے کے بعد شہر میں بدترین مظالم شروع ہوئے۔ شہر کے گھروں میں وہ لوگ جو زخمی تھے یا بیمار کہ وہ چل نہیں سکتے تھے۔ ان کی مشکل تلوار سے آسان کی گئی۔ گھروں سے اسلحہ، کپڑے،← مزید پڑھیے
“مجھے پتا تھا کہ یہ باغی سپاہی صرف تباہی لائیں گے۔ شروع سے ہی مجھے خدشہ محسوس ہو رہا تھا اور میرا خوف ٹھیک نکلا۔ یہ انگریز کے آنے سے پہلے ہی بھاگ گئے۔ میں ایک فقیر اور صوفی ہوں← مزید پڑھیے
“ہماری توپوں نے کام کر دیا تھا۔ اب فوجیوں کی باری تھی۔ پہلی رکاوٹ خندق تھی۔ بیس فٹ گہری اور پچیس فٹ چوڑی۔ اس کو پار کرنے کے لئے سیڑھیاں تھیں۔ اس میں دس منٹ لگے جس میں دشمن نے← مزید پڑھیے
انگریزوں کی دماغ گھما دینے والی سفاکی کی خبریں دہلی پہنچ رہی تھیں۔ کانپور میں جنرل نیل نے جو کچھ کیا تھا، وہ کسی کا بھی دل لرزا سکتا تھا۔ جس جگہ پر قبضہ کیا، وہاں قتلِ عام کیا۔ راستے← مزید پڑھیے
برٹش اچھے حال میں نہیں تھے۔ اگرچہ خوراک کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے علاوہ ان کے لئے صورتحال مخدوش تھی۔ روز کے حملوں اور توپ کے گولوں کے علاوہ ان کا ایک دشمن سورج تھا۔ دہلی← مزید پڑھیے
شہر کے کوتوال معین الدین نے 52 انگریزوں کو قیدی بنایا تھا اور حفاظت کے لئے شاہی محل میں رکھا تھا۔ یہ ان کی جان بچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ سپاہیوں کو جب بھنک پڑی تو انہوں نے حکیم← مزید پڑھیے
انقلاب کا مقابلہ کرنے سب سے موثر جواب لاہور اور پشاور سے آیا۔ لاہور میں جان لارنس ایک اچھے منتظم تھے اور پشاور کے جان نکلسن اور ہربرٹ ایڈورڈز سخت گیر فوجی۔ انہوں نے فوری جواب کا منصوبہ بنایا۔ “ہمیں← مزید پڑھیے
سوموار کا دن تھا۔ عیسوی کیلنڈر میں 11 مئی 1857 جبکہ ہجری کیلنڈر میں سولہ رمضان۔ دہلی میں رمضان میں شہر کی زندگی بدل جایا کرتی تھی۔ دہلی کی بدترین گرمی کا دن تھا۔ دہلی کے مسلمان خاندان سحری سویوں← مزید پڑھیے
دہلی کی جامعہ مسجد کے دروازے پر 18 مارچ 1857 کو ایک پوسٹر چسپاں تھا۔ ایک ننگی تلوار اور ڈھال بنی تھی، جس کے ساتھ لکھا تھا کہ یہ شاہِ ایران کی طرف سے آنے والا پیغام ہے۔ فارس میں← مزید پڑھیے
”برٹش انڈیا جتنا طاقتور آج ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔ ہر طرف امن و سکون ہے۔ قانون کی بالادستی ہے۔ ملک محفوظ ہے۔ لوگ خوش ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں برٹش راج اور ہندوستانی عوام نے بہت ترقی کی ہے۔← مزید پڑھیے
ریورنڈ مجلے جیننگز ہندوستان میں 1832 میں پہنچے تھے۔ وہ کرسچن کمیونیٹی کے مذہبی راہنما تھے اور ان کا ایک اپنا ہی خیال تھا۔ “برٹش سرکار نے ہندوستان سے کوہِ نور ہیرا لے لیا ہے۔ اس کا قرض چکانا ہے← مزید پڑھیے
بہادر شاہ ظفر کی کوشش تھی کہ وہ اپنے بعد اپنی مرضی کا جانشین کا تقرر کر سکیں۔ ان کے بڑے بیٹے دارا بخش کی وفات بخار آ جانے کے بعد 1849 میں ہو گئی تھی۔ اگلا نمبر مرزا فخرو← مزید پڑھیے
فرانسیسی مہم جو فرانسوئے بیمئیر نے شاہ جہاں کی بیٹی روشن آرا بیگم کے 1640 کی دہائی میں کئے گئے کشمیر کے سفر کی داستان لکھی ہے۔ ان کا تبصرہ تھا کہ انہوں نے ایسی شان و شوکت والا سفر← مزید پڑھیے
دہلی کا 1857 کا محاصرہ برٹش راج کے لئے ہندوستان میں آخری سٹینڈ تھا۔ اگر اس میں ہندوستانی انقلابی کامیاب ہو جاتے تو ہندوستان برٹش کے ہاتھ سے نکل جاتا۔ کالونیل دور کا سب سے بڑا پرائز ان کے پاس← مزید پڑھیے
نومبر 1862 کو دریائے رنگون کے کنارے انہیں دفنا دیا گیا۔ آخری رسومات میں دو بیٹے اور ایک معمر ملا نے شرکت کی۔ چھوٹے سے مجمع، جنہیں اس موت کا علم ہوا تھا، نے جمع ہونے کی کوشش کی تھی۔← مزید پڑھیے
تجسس پسند کی زندگی کا پہلا اصول کریٹیکل سوچ ہے۔ اس کے اصول سب سے پہلے اپنے بارے میں اپنائیں۔ ذہنی مغالطے، تعصبات، یادداشت میں خرابیاں، سمجھنے میں غلطیاں، جذباتی استدلال، اپنا علم کا اس سے زیادہ گمان جتنا وہ← مزید پڑھیے