تجسس پسند کیسے بنیں(حصّہ اوّل)۔۔وہاراامباکر

تجسس پسند کی زندگی کا پہلا اصول کریٹیکل سوچ ہے۔ اس کے اصول سب سے پہلے اپنے بارے میں اپنائیں۔ ذہنی مغالطے، تعصبات، یادداشت میں خرابیاں، سمجھنے میں غلطیاں، جذباتی استدلال، اپنا علم کا اس سے زیادہ گمان جتنا وہ ہے ۔۔ یہ دوسروں پر نہیں آپ پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ اور اس سے پچھلے فقرے کو ذرا آہستہ اور دھیان سے دوبارہ پڑھیں۔ یہ تصورات اس لئے نہیں کہ ان کے ذریعے دوسروں پر حملہ کیا جائےاور خود کو برتر سمجھا جائے۔ یہ وہ اوزار ہیں جن کی آپ کو ضرورت ہے تا کہ اپنی غلطیاں اور تعصبات اور بے کار چیزوں کو کم کر سکیں جو دماغ کی نمو روکتی ہیں۔

اس چیز کو تسلیم کر لیں کہ آپ کبھی بھی ان غلطیوں اور تعصبات سے چھٹکارا نہیں پا سکیں گے۔ صرف ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور محنت کرنے کی کہ ان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ اور جب آپ خود کے اندر کی روشنی جلا سکیں گے تو ہی ذہن کے ان گوشوں کو پہچان سکیں گے جو آپ کی شناخت کا حصہ ہیں اور جن سے جذباتی لگاوٗ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے انسان ہونے سے انکار کر دیا جائے۔ شناخت اور جذبات کے بغیر زندگی نہیں۔ ان کے ساتھ ملکر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔

فکری دیانتداری بھی شناخت کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اگر کسی جگہ پر اپنی غلطی کا معلوم ہو جائے تو یہ ایک موقع ہے۔ کیا آپ اس کو ٹھیک کر سکتے ہیں؟ اگر کبھی محسوس کریں کہ فلاں معاملے میں غلطی کی شناخت ہو جانے پر ذہن تبدیل کر لیا ہے تو یہ کمزوری نہیں۔ غلط ہونے کا احساس انا کو مجروح کرتا ہے۔ لیکن یہ رویہ اپنایا جا سکتا ہے کہ اگر غلط تھے اور پھر بھی غلطی درست کرنے سے انکار کر دیا ۔۔۔ شرم کا باعث ہے، فخر کا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب دوسروں سے معاملہ کریں تو سب سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ ہم سب خامیاں رکھنے والے انسان ہیں جو اس پیچیدہ اور کئی بار ڈرا دینے والی دنیا کا حصہ ہیں۔ ہم اپنے حالات کا نتیجہ ہیں۔

ہم کہاں پیدا ہوئے؟ کیسی تربیت ہوئی؟ کیا مواقع ملے؟ اساتذہ کیسے ملے؟ دوست کیسے تھے؟ حالات کیا تھے؟ ان پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔ کسی کا بھی کوئی کنٹرول نہیں۔ پیدائش کے وقت ذہن کیسا ملا؟ صلاحیتیں کیا تھیں؟ اس پر بھی ہمارا کنٹرول صفر ہے۔ جس طرح میرا کنٹرول نہیں تھا، اس طرح کسی اور کا بھی نہیں۔

میں اپنی زندگی میں آج جہاں پر بھی ہوں، خوش ہوں اور اس میں بڑا احسان ان تمام لوگوں کا ہے جنہوں نے میری راہنمائی کی ہے، مجھے سکھایا ہے۔ بہترین کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ اس قرض کو دوسروں کو سکھانے اور راہنمائی کرنے سے چکا سکتا ہوں، جہاں پر اس کا موقع ہو۔ اگر کوئی کسی جگہ پر غلط نظر آئے تو استاد کا رویہ رکھا جا سکتا ہے یا پہلوان کا۔ طریقے سے سکھایا جا سکتا ہے یا گھونسا مارا جا سکتا ہے۔ پہلا طریقہ اکثر کام کر جاتا ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اپنے اعمال کے ذمہ دار نہیں۔ وہ لوگ جو دانستہ طور پر غلط بیانی کرتے ہیں، لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، ان پر غصہ آتا ہے۔ جو پیسہ بنانے کے لئے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں، وہ سزا کے حقدار ہیں۔ خواہ وہ پانی سے گاڑی چلانے کا ہو، جن نکالنے کا، روشنی سے علاج کا یا کوئی اور۔ جہاں تک ان کی باتوں کو سچ مان لینے والوں کا تعلق ہے، وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ تنقید ان کو مان لینے والوں پر نہیں، تنقید غلط خیالات کے لئے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *