شاہین کمال، - ٹیگ

متحرک سائے ۔۔شاہین کمال

متحرک سائے(1)۔۔شاہین کمال/بیشتر لوگ بڑھاپے کی تنہائی سے خوفزدہ رہتے ہیں جبکہ بڑھاپے کی انجمن  آرائی الگ ہی ہے۔ فارغ وقت زندگی کے ہر گوشے میں فراخدلی سے جھانکنے کی سہولت فراہم کرتا ہے کہ کسی نے آنا نہیں اور ہم نے کہیں جانا نہیں گویا←  مزید پڑھیے

جونک۔۔شاہین کمال

اس وقت میں دنیا سے بیزار اور بور ترین شخص ہوں۔ گو میرے چاروں طرف کھلکھلاتے، چہکتے لوگوں کا مجمع ہے ۔ بھئ اب دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانے ، پر بظاہر سب ہی کی باچھیں چری کھلیں←  مزید پڑھیے

تکمیل(افسانچہ)۔۔شاہین کمال

میرے میاں بڑے جانے مانے انٹلکچول ہیں۔ ایک دنیا ان کی گرویدہ و شیدا، خاص کر خواتین میں تو وہ بے حد مقبول و پسندیدہ ۔ ہمارے تین بچے ہیں اور میں سر تا پا گھریلو ذمہ داریوں میں غرق۔←  مزید پڑھیے

لہو پکارے گا آستیں کا۔۔شاہین کمال

افوہ !  آج بہت دیر ہوگئی ہے۔ کبیر نے جلدی جلدی اپنی بد رنگی شرٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے کہا۔ کوئی بات نہیں پہلے ناشتہ تو کر لو۔ میں نے رات کی باسی روٹی کو پانی سے نم کر←  مزید پڑھیے

افسانہ/تنہائی یکجائی(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

جیڈ کو میرے پاس اب سال سے اوپر ہو چلا تھا۔ جولائی کے مہینے کی بات ہے یونیورسٹی میں گرمیوں کی تعطیلات تھیں ۔میں اپنے کپڑے استری کر رہا تھا اور جیڈ مسلسل باوجود میرے منع کرنے کے استری کی←  مزید پڑھیے

افسانہ/تنہائی یکجائی(1)۔۔شاہین کمال

میرا نام عبدل سمیع ہے۔ میری زندگی نہ پوچھیے، گویا تنہائی کی تصویر و تفسیر تھی ،مجھے لوگوں سے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی ۔ نہیں نہیں میں آدم بےزار نہیں! پر جانے کیوں دوسرے لوگوں سے connect نہیں کر پاتا←  مزید پڑھیے

عمر رفتہ کی ایک یاد دل گداز/ماسٹر نذیز۔۔شاہین کمال

محمد پور میں بھلا ماسٹر نذیر کو کون نہیں جانتا تھا۔ وضع دار، خوش اخلاق، دبلے پتلے سرو قد،گندمی رنگت والے ماسٹر نذیر ۔ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے لٹھے کا خالتہ پائجامہ اور کالی دھاری دھار شیروانی،←  مزید پڑھیے

قائدآباد کی قمر سلطانہ۔۔شاہین کمال

گھر میں ہفتے بھر سے مرگ جیسی خاموشی طاری ہے۔ جیسے یہاں کوئی ذی نفس نہیں بستا بلکہ سرگوشیاں کرتے گھٹتے بڑھتے سائے ایک دوسرے پر گِرے جاتے ہیں۔ اب سب اتنے خوش نصیب بھی کب کہ مرگ ہی ہو←  مزید پڑھیے

مُنّی نہیں مانتی۔۔شاہین کمال

اللہ کسی کو اولادوں کی قطار میں بیچ کی اولاد نہ بنائے، انہیں نہ تو بڑی اولا جیسا مان سمان ملتا ہے اور نہ ہی چھوٹوں جیسا لاڈ دلار ، بس ذمہ داریوں کی جکڑ بندیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

راگنی دو دن سے مختارے سلام کو نہیں آیا, کدھر ہے وہ؟ جرنیلی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا؟ میں خبر لیتی ہوں میڈیم، کہیں دو دن کی لگاتار بارش میں بھیگ کر بیمار نہ ہو گیا←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(1)۔۔شاہین کمال

آدم اپنی کامیابی کی میٹھائی لینے چورنگی تک گیا ہے اور میں آدم کا رزلٹ ہاتھوں میں تھامے ساکت بیٹھا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ مجھے اپنے آپ سے کیا گیا وعدہ بھی تو نبھانا←  مزید پڑھیے

فریبِ آرزو۔۔شاہین کمال

عمر کے اس آخری پڑاؤ میں اپنے شجر سایہ  دار تلے سانس لینا یقیناً نعمت خداوندی ہے کہ بےشک اولاد اللہ تعالیٰ کا بیش بہا تحفہ ہے اور اگر سعادت مند اولاد ہو تو کیا ہی کہنے ۔ زندگی کسی←  مزید پڑھیے

ادھوری کہانی محبت کی۔۔شاہین کمال

یہ کہانی کراچی یعنی میرے شہر دلبرا کے ایک گنجان محلے کی ہے جہاں نہ صرف گھر سے گھر ملے ہوئے تھے بلکہ دلوں میں بھی دوریاں نہ تھیں۔ سکون کا زمانہ تھا، رات کے آخری پہر بھی اگر گھر←  مزید پڑھیے

کھڑکی۔۔شاہین کمال

میرا فلیٹ ایک بہت ہی معروف و مصروف چوراہے کے بالمقابل ہے۔ ساتویں منزل پر ہونے کی وجہ سے دور دور تک کے نظارے دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے دیکھنے کو ایسا کچھ خاص ہے نہیں، وہی بے ہنگم ٹریفک اور←  مزید پڑھیے