نگارشات    ( صفحہ نمبر 984 )

مکالمہ کے اصول ۔ عظیم عثمانی

 بکریوں کے ریوڑ کو آپ باآسانی سنبھال سکتے ہیں، پرندوں کے جھنڈ کو آپ بآسانی سدھا سکتے ہیں، شیروں کے غول کو آپ باآسانی کرتب کروا سکتے ہیں، مگر حضرت انسان کے اذہان کو کسی ایک نقطہ پر مجتمع کرنا←  مزید پڑھیے

اللہ اور خدا ۔ محمد شہباز منج

آج کل بعض احباب کے پیجز پر یہ بحث دیکھنے میں آ رہی ہے کہ مسلمانوں کو لفظ” اللہ” کی بجائے لفظ “خدا” استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔بعض لوگ اصرار کرتے ہیں کہ لفظ “خدا”شرکیہ لفظ ہے ،یا اس میں←  مزید پڑھیے

جنت ذبح کر دی گئی ۔۔۔ عامرہزاروی

انسانیت دم توڑتی جارہی ہے. معاشرہ اخلاقی طور پہ زوال پذیر ہوچکا. رشتوں کا احساس مٹ چکا ہے. مشرقی روایات اپنا اثر کھو چکی ہیں. واعظوں کا وعظ بیکار جا رہا ہے. اہل قلم کے قلم کی جولانیاں کسی کام←  مزید پڑھیے

بیچاری قوم ۔ محمد حسنین اشرف

 انسانی تاریخ کا مطالعہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ ہم مسلسل ایک ارتقائی عمل سے گذر کر اس معراج کو پہنچے ہیں۔ نظریات پیش کئے گئے پرکھے گئے اور پھر وقت نے ان نظریات کو یا تو ہمیش کے←  مزید پڑھیے

علیحدگی پسند تحریکوں کے برپا ہونے کی بنیادی وجہ ۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد

علیحدگی پسند تحریکیں انسانی سماج کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جس نے ان گنت انسانی المیوں کو جنم دیا۔ ریاستِ پاکستاں میں بھی علیحدگی پسند تحریکیں ملک کے مختلف حصوں میں چل رہی ہیں۔ پاکستان خود بھی ایک علیحدگی←  مزید پڑھیے

سوچ کا تعصب اور انسانی ترقی ۔ محمود فیاض

یونیورسٹی میں حاضری بہت کم تھی۔ زیادہ تر طالبعلموں نے میک اپ لیکچر کی بجائے اپنے تھیسس مکمل کرنے کا پروگرام بنایا تھا شائد۔ ہم سات افراد پروفیسر کے انتظار میں اپنے اپنے موبائل پر مصروف تھے کہ ہمیں پتہ←  مزید پڑھیے

موقع کبھی ضائع نہ کریں ۔ محسن حدید

زندگی موقع ضرور دیتی ہے کم نصیب کو بھی خوش نصیب کو بھی مگر اس موقع کو پہچانتا کون ہے اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے یہ چیز آگے چل کر انسانوں کی زندگی کو بدل دیتی ہے مثال کے←  مزید پڑھیے

اقبال اور جرمن فلسفہ (2) ۔ عمران شاہد بھنڈر

ایک نکتہ یہاں پر ذہن نشین رہنا بہت ضروری ہے کہ علمیات اور مابعد الطبیعات میں تعقل کے محدود کردار کو صرف اس لیے اجاگر کیا جاسکا کہ تعقل، مظہر اور جوہر اور بعد ازاں حسیات اور فہم کے درمیان←  مزید پڑھیے

سیاہ سی شاہ جی ۔ منصور مانی

اکیس اگست 2016 سہ پہر زرداری صاحب کا فون آیا، پہلے تو سوچا کے نا اُٹھاوں پھر سوچا اتنے تو اُٹھا چکا ہوں اب اُٹھا لینے میں کیا حرج ہے،موصوف خاصے غصے میں تھے چھوٹتے ہی بولے میری جان پر←  مزید پڑھیے

جمعیت علمائے اسلام ہی کیوں؟ وقاص خان

 ملک میں جب سے کہا جانے لگا ہے کہ پاکستان کے عوام سیاسی اعتبار سے قدرے با شعور ہو گئے ہیں تب سے سیاسی کارکن کی اخلاقی گراوٹ اور بدتمیزی کا شکوہ بھی سننے میں آ رہا ہے۔ دلچسپ امر←  مزید پڑھیے

مکالمہ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے۔ محمد حسین

مکالمے کی لغوی تعریف دولوگوں کے درمیان گفتگو۔ متضاد : مونو لاگ: خودکلامی : اپنے آپ سے باتیں کرنا۔ مکالمے کی عملی تعریف مکالمے کا مطلب کسی مسئلے یا صورتِ حال میں اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے باہمی افہام←  مزید پڑھیے

مکالمے کی ضرورت کیوں ہے؟ ۔ دائود ظفر ندیم

 مکالمے کی ضرورت ہر دور میں ہوتی ہے کیونکہ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا موضوع ریاست اور مذہب کے تعلق کے حوالے سے←  مزید پڑھیے

دھندلی تصویر ۔ عمیر فاروق

کچھ عرصہ قبل کسی تحقیق کیلیے وادی سندھ پہ نئے مواد کی تلاش میں نظر دوڑائی۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کچھ انڈین یونیورسٹیوں کی طرف سے ایک نئی تھیوری یہ پیش کی جارہی ہے کہ وادی سندھ کی←  مزید پڑھیے

مکالمہ، کچھ کھٹی میٹھی باتیں ۔ وسی بابا

آپ کا ڈوب مرنے کو دل چاہے یا سیر کرنے کو کسی جھیل پر جانے کو۔ فون ملک صاحب کو ہی کرنا ہوتا کہ ملک صاحب وادی سون کی کس جھیل کو جایا جائے۔ جانا ہم نے ہوتا کوئی نہیں←  مزید پڑھیے

دو بڑوں کا مکالمہ ۔ محمد فیاض خان سواتی

محترم جناب انعام رانا صاحب کی پر خلوص دعوت پر ”مکالمہ ویب سائیٹ” کے لئے اپنی پہلی تحریر ارسال خدمت ہے ۔ گرقبول افتد زہے عزوشرف مکالمہ عربی زبان کا لفظ ہے جو باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جس کا←  مزید پڑھیے

تہذیبوں میں مکالمہ نہ ہو تو ۔۔۔۔۔ ؟ ژاں سارتر

پاکستان، ہندوستان کے بہت سے لوگوں کے علاوہ دنیا کی آبادی کا کچھ حصہ بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے سینے پر دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، آج سے کم و←  مزید پڑھیے

اقبال اور جرمن فلسفہ ۔ عمران شاہد بھنڈر

ہر فلسفی کا اپنا ایک فلسفیانہ نظام ہوتا ہے، جس میں حسیات، مقولات اور تعقلات کسی فلسفیانہ نظام کے داخلی تقاضوں کے تحت تشکیل دیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف فلسفوں میں مقولات، تعقلات اور خیالات مختلف مفاہیم←  مزید پڑھیے

ام الجہاد یا ام الفساد ۔ محمد اشفاق

ایک بار کہیں افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف جنگ کو “ام الجہاد” کا نام دیا گیا تھا- کیونکہ اس جنگ نے دنیا بھر میں مختلف ممالک میں جہاد کی راہ ہموار کی- یہ الگ بات ہے کہ اس کے←  مزید پڑھیے