بیچاری قوم ۔ محمد حسنین اشرف

 انسانی تاریخ کا مطالعہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ ہم مسلسل ایک ارتقائی عمل سے گذر کر اس معراج کو پہنچے ہیں۔ نظریات پیش کئے گئے پرکھے گئے اور پھر وقت نے ان نظریات کو یا تو ہمیش کے لئے امر کرکے مورخ کے قلم کی سپرد کردیا یا پھر وقت کی تیزی نے ان پر  گرد ڈال کر انہیں دھندلا دیا۔ تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو ہمیں ہزاروں شخصیات اور نظریات گردش ایام میں ابھر کر گم ہوتے معلوم ہونگے۔

ایک وقت میں جنگوں کے لئے خاص قسم کا لباس، خاص قسم کی جگہ اور مخصوص ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے تھے۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا اور یکدم میدان جنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ کسی قوم کی آزادی کبھی میدان جنگ میں شہسواروں اور شہہ زوروں کے ہاتھوں میں ہوا کرتی تھی۔ اور پھر یوں ہوا کہ یہ فیصلے بیرکس میں ہونے لگے۔ ہتھیار بدلے، چالیں بدلیں اور جو نہ بدلے وہ قصہِ پارینہ ہو گئے۔

وہ اقوام جنکی زندگی میں ارتقا نہی ہوتا، وہ اقوام جو جمود کا شکار ہوجائیں۔ جنکی سوچ جکڑی جائے وہ اقوام عالم کے درمیان سر اٹھا کر جینے کا حق کھو دیتی ہیں۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے وہ اپنی شناخت کھو کر مخبوط الحواسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ہمارا شمار بھی انہی چند اقوام میں ہوتا ہے جو بدحواسی کا شکار ہیں۔

میری قوم وہ قوم ہے جو بیچاری ایک سہانے خواب سے ابھی ابھی جاگی ہے۔ سونے سے قبل یہ قوم قسطنطنیہ پہ جھنڈے لہرا کر سوئی تھی۔ سونے سے قبل یہ حال تھا کہ ہارون الرشید بادلوں سے مخاطب ہو کر کہا کرتے تھے کہ جہاں بھی برسو گے حکومت میری ہی ہوگی۔ اس غفلت کی نیند نے میری قوم سے اسکی شناخت، اسکی ثقافت، اسکا تمدن، اسکی معشیت یہاں تک کہ اسکے تہوار اور تہذیب بھی چھین لی۔ اب وہ بدحواسی کے عالم میں اندھیرے میں ہاتھ پیر چلا رہی ہے اور جو ہاتھ میں آتا ہے اسے سینے سے لگا لیتی ہے۔

کبھی اسکے ہاتھ جہاد آتا تو اسے سینے لگا لیتی، پھر خلافت، پھر جمہوریت، اور پتہ نہی کیا کیا۔ اور پھر وہی ہوا جو آج بھی ہو رہا ہے شکست خوردگی اور ندامت کے آنسو ہمارے آنکھوں پہ ظلم، دجل، فریب اور بیوقوفیوں کی پٹیاں باندھ گئے۔ اور پھر ہمارے ہاتھ جسکا گلا آیا ہم نے کاٹ کر رکھ دیا اور خون کی گرمی اور بہتی دھاروں سے اپنے آپکو تسکین دی کہ آنے والے وقت میں کھوپڑیوں کے مینارے ہمارے ہاتھوں تعمیر ہونگے۔ہم نے سوچا

؎  ہمارے ہاتھ میں قسمت ہے اب زمانے کی

        ہمارے ساتھ ہیں اب لشکر سو خدا ہم ہیں

پر یہ قوم جب۔۔۔

نیند کی خماری میں، ادھ کھلی آنکھوں اور شانے پر بکھری زلفوں کے ساتھ قہر ڈھاتی کسی دوشیزہ کی طرح جب اقوام عالم کے درمیان کھڑی ہوئی تو اسکی آنکھیں اس چمک کی تاب نہ لا سکیں۔ اسکے پاؤں میں چھالے پڑ گئے سانس پھول گئی تو گلی میں کھیلنے والے کسی اڑیل بچے کی طرح کھیل کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ بیچاری اس بات سے بے خبر تھی کہ کھیل کے سارے اصول و قوانین تو بدل چکے تھے۔

کبھی ہتھیار اقوام عالم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوا کرتا تھا۔ ہم میں سے درد دل رکھنے والے چند لوگوں نے کوشش کی ہتھیار اٹھا کر دوبارہ دنیا پر اپنا پرچم لہرایا جائے اور دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی عزت ڈھونڈ لی جائے۔ پر معلوم پڑا کہ اب تو اقوام کا سرمایہ علوم و فنون  ہے۔ اب جنگیں ہتھیاروں سے نہی دلائل سے لڑی جاتی ہیں۔ غلامی،  طوق پہنانے کو نہی ذہنی طور پر تابع کرلینے کو کہا جاتا ہے۔ اور پھر اس جرات کا انجام ہوا کہ میری قوم کے ملکوں آگ سلگی جو اب تک سلگ رہی ہے۔ اور یہ تب تک سلگتی رہے گی جب ہم اس اقوام عالم کے درمیان اپنا قد نہ بڑھا لیں۔جب تک ہم سیکھ نہ لیں کہ ایک قوم زندگی کیسے گذارا کرتی ہے؟ وہ کیا قدریں ہوا کرتی ہیں جنکی حامل اقوام دنیا پر راج کیا کرتی ہے؟

اور نتیجہ ہوا کہ میری قوم بدتمیزی، بد تہذیبی، بد اخلاقی، بے عقلی، بے عملی اور کم علمی جیسے بہت سے تمغے سینوں پر سجا کر کھڑی ہوئی۔اور اسے کسی بھی قوم کی معراج مان کر اپنےآپکو  واحد مسیحا بنا لیا۔ اور حالت یہ تھی کہ اجداد کے قصص کے علاوہ پچھلی چند صدیوں میں فرقہ واریت، قتل،فساد اور دہشت گردی کے علاوہ ہمارے بہترین دماغ کچھ دریافت نہ کرسکے۔ اور اس پر ظلم کہ ہم نے ہر درندگی کے جواز کے لئے قران و سنت اور ضعیف روایات کو اپنی روحانی تسکین کا سامان بنائے رکھا۔ ہم نے تقدس کے احساس کی خاطر جلتے گھروں کی راکھ سے تیمم اور بہتی خون کی ندیوں سے غسل کیا۔ اور ضمیر کی آواز معصوموں کی چیخوں سے دبائے رکھی۔

کتنی بیوقوف ہے وہ قوم جس نے اپنی جنگلی طبعیت کی تسکین کے لئے جواز ڈھونڈا بھی تو کہاں، دین میں۔ واہ رے تیری چالاکیاں! حد ہوتی ہے خود فریبی کی لیکن اس قوم نے اپنے آپکو اور اپنے ساتھ خودساختہ نظام کو پوری دنیا کی آخری امید سمجھ کر اپنے آپکو اس فریب میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اب جب اس دنیا کی ترقی اور اس پر راج کا نسخہ ہمارے ہاتھوں میں ہے ساری دنیا شب و روز اس فکر میں گم ہے کہ یہ نسخہ کیسے اس قوم سے حاصل کیا جائے؟

وہ قوم جو اپنا بوجھ نہی اٹھا سکتی وہ دین کے نام پر کشمیر اور افغانستان کا بوجھ اٹھائے گی؟ وہ قوم جسکی اپنی پولیو زدہ ٹانگیں اسکا اپنا وزن اٹھانے کے قابل نہی وہ دین کو سرفرازی دلائینگی؟ وہ قوم جسکی اخلاقی حالت گرواٹ کی انتہاؤں کو بھئ پار کرچکی ہو، جسکے علماء اور مشائیخین دین اور سلف اسلاف کی سربلندی پر لوگوں کی ماؤں بہنوں کو تول دیتے ہوں۔ وہ قوم اس شخصیت کا نام لیتی ہے جسکے بارے میں حجر اسود نسب کرتے وقت لوگ پکار اٹھے یہ امانتدار ہیں یہ محمد ہیں ہم راضی ہوگئے؟

یہ ہے میری قوم! بیچاری قوم!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *