سیاہ سی شاہ جی ۔ منصور مانی

اکیس اگست 2016

سہ پہر زرداری صاحب کا فون آیا، پہلے تو سوچا کے نا اُٹھاوں پھر سوچا اتنے تو اُٹھا چکا ہوں اب اُٹھا لینے میں کیا حرج ہے،موصوف خاصے غصے میں تھے چھوٹتے ہی بولے میری جان پر بنی ہوئی ہے!!!۔ میں نے عرض کیا حضرت جیل میں اے کلاس بھی دلوا دی تھی پھر با عزت بری بھی کروا دیا دبئی کا کیا ہے جب آپ بولیں گے بھجوا دیں گے پر اس بار صرف پانچ ہزار ڈالر کے ساتھ ، کہنے لگے شاہ جی میں اپنی جان کی بات کر رہا ہوں۔ میں تو شش و پنج میں پڑھ گیا کہ اب کون سی والی جان پر بن آئی ہے۔۔ پھر خود ہی میری مشکل آسان کرتے ہوئے کہنے لگے شاہ جی میں بقلم خود پریشان ہوں۔پھر میں نے لاکھ سر اپنا موبائل فون پر مارا مگر زرداری صاحب نہیں بول کے دیئے، ایک تو اس ڈھائی لاکھ مالیت کے فون میں ایک ہی خرابی ہے، کسی کی بھی پریشانی کا سن کر سائلینٹ موڈ پر چلا جاتا ہے ۔دیکھو بھلا بعد میں بندہ لاکھ تاویلیں دیتا پھرے کے بھائی فون کا مسلۂ تھا، آواز ہی نہیں آئی ورنہ آپ کی پریشانی میری پریشانی۔۔۔ابھی زرداری صاحب کے فون کو ایک گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کے بینش سلیم کا فون آ گیا اپنے شو کے لئے ٹائم مانگ رہی تھی۔ میں نے تو جھٹ سے معذرت کر لی کہ محترمہ کو بولنے کی تمیز نہیں، سمجھ نہیں آتا کیسے کیسے لوگ منہ اُٹھا کر اینکر بن جاتے ہیں، کل بھی ایک اینکر صاحب اپنے محلے میں بیٹھ کر بھونک رہے تھے کہ سندھ حکومت بھنگ پی کر سو رہی ہے، لو خود جو چرس پی کے اٹھارہ سال کی لڑکی کوبغل میں داب کر بالغ صحافی بناتے ہو جب کچھ نہیں ! پڑے بھونکتے رہو۔۔ ہمارے محلے میں آو ذرا کبھی ہم بھی شیر ہیں۔

tripako tours pakistan

بائیس اگست 2016

دو پہر تین بجے ایک نامانوس بکواس سے آنکھ کھل گئی،نظر ٹی وی پر گئی ایک ٹی وی چینل پر حملے کے مناظر تھے ، اُٹھ کر بیٹھ گیا، رات کا ہینگ اُوور ابھی تک تھا، سر جھٹک کہ سوچا کم کرنا پڑے گی، سنا ہے جگر خراب ہو جاتا ہے، اپنا ڈھائی لاکھ کا فون اُٹھایا تو کئی مس کالز لندن سے تھیں اور کچھ ڈی جی رینجرز کی تھیں، کچھ فارق ستار بھائی کی بھی تھیں، ایک تو سب کو مشکل وقت میں، شاہ ہی یاد آتا ہے حفظِ مراتب سب سے پہلے اکبر بھائی کو فون کیا، اکبر تو جیسے فون پر ہی چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا، ابھی فون کی بیل بھی نہیں گئی تھی کہ اُٹھا لیا، چھوٹتے ہی کہنے لگا، بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، کیا ہوا اکبر بھائی کیا کوئی آپ لوگ بھی کوئی ٹاون اسکیم لا رہے ہیں، ارے نہیں شاہ جی اکبر بھائی نے جواب دیا، تو کیا اندرون سندھ فشنگ کے دھندے سے کوہ نور مل گیا؟؟ یا پھر تیل نکالنے کا ٹھیکا مل گیا؟ میں نے دریافت کیا؟ شاہ جی آپ جانتے ہیں کس سے بات کر رہے ہیں مجھ سے بات کرتے وقت لہجہ دھیما رکھا کریں اکبر نے قدرے ناراضگی سے کہا، سن کر مجھے تو جو تلوے سے لگی سر تک پہنچی، میں نے کہا اکبر تم تو جانتے ہو میرے ایک چچا جرنیل ہیں اور ایک چچا کور کمانڈر، تین بھائی وفاقی وزیر اور ایک بھائی عدالت عظمی کا جسٹس، اور رہا میں تو مجھے تو تم جانتے ہی ہو میں نے سرد لہجے میں کہا، سن کر بھائی اکبر بہت پیار سے بولے ارے شاہ جی آپ تو ناراض ہو گئے میں تو مذاق کر رہا تھا، اچھا سنیں اپنے کل کے بچے نے اپنی تقریر میں پاکستان کے خلاف زہر اُگلا ہے، اب دیکھنا ہم کیا کرتے ہیں ۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں ۔۔۔۔لو لگتا ہے اس کا بیلنس ختم ہو گیا، اس کا نمبر بلاک پر لگاتا ہوں کہیں یہ بھی اسما کی طرح پانچ سو کا بیلنس نا مانگ لے۔۔۔

لندن کی کال مہنگی پڑتی ہے اور میں ٹھیرا غریب ارب پتی، بھائی کو مس کال دینے میں ہی عافیت جانی، ترنت ہی کال آ گئی۔۔۔بھائی لہرا کر بولے۔۔۔پردہ اُٹھ گیا شاہ جی۔۔۔۔ ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے، بھائی نے کہا ، میں نے کہا بھائی یہ جو پی کر ،بہک کر ،آپ نے اپنے دل کا گند سر عام نکال دیا اس پر ہنگامہ تو ہونا ہی تھا، بھائی روتے ہوئے بولے مینوں بچا شاہ میں تو پنجابی آں،میں پریشان آں ۔۔۔۔ایک دم سناٹاچھا گیا، میں سوچ میں پڑ گیا یا اللہ خیر کہیں اکبر تو لندن نہیں پہنچ گیا، فون دیکھا تو لائن کٹ چکی تھی اور فون ایک بار پھر سائلنٹ موڈ پر تھا۔۔

ابھی بیٹھا کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ پی اے نے کہا ، نجم سیٹھی آئے ہیں، میں نے کہا آنے دو، آتے ہی کہا شاہ جی یہ اپنے بلوچستان میں بی ایل اے والوں نے میری چڑیا پکڑ لی ہے کچھ کریں، میں نے کہا سیٹھی اپنی ماضی کی چند تصاویر اور خطوط دکھا دے چھوڑ دیں گے اور اگر نا بھی چھوڑیں تو دفع کر، تیری چڑیا کسی کام کی تو ہے نہیں ، دنیا بھر کی فارغ خبریں دیتی ہے تجھے، سیٹھی اونٹ کی طرح بلبلا کر بولا، ارے شاہ جی یہ وہ پر والی چڑیا نہیں، ہیں میرے منہ سے یکدم نکلا، ارے سیٹھی کچھ شرم کر گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے والی نوبت ہے تیری ، اب چڑیا آ بھی جائے تو کیا کر لے گا دفع کر، یہ بتا اب ایم کیو ایم کا کیا ہو گا میں نے سوال کیا ؟، شاہ جی ایم کیو ایم تو وہ چھینکا ہے جو ہر اینکر اور سیاست دان کے بھاگوں اب جا کر ٹوٹا ہے، اچھا اب میں چلتا ہوں کچھ نئے ٹوٹے آئے ہیں اپنے کاشف عباسی کو بھی دکھانے ہیں ، پھر ملیں گے۔۔

یکم ستمبر 2016

پورے دس دن جوڑ توڑ میں لگے اب جا کر حالات کو اپنی ڈھب پر لانے کا فارمولہ بنا ہے، میں تو ملک کی خدمت کر کر کے تھک گیا اور دس دن میں ملا کیا صرف دس ارب اب بھلا بتاو اس دس ارب میں ریاست کے ہر ستون کا بیس ٹکا نکال کر میرے پلے کیا بچے گا؟؟ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا ان پیسوں میں! ابھی اسی سوچ میں گم تھا کہ زرداری صاحب کی پھر کال آ گئی، جی سائیں، میں نے کہا، کہنے لگے ارے شاہ یہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر کھاتی ہے اس کا مطلب کیا ہے ؟ میں نے کہا شاہ جی کتنا کھا لیا کہنے لگے صرف نوے ارب ، پھر کہاارے بابا تو مجھے صرف یہ بتا کہ یہ ڈائن کون سے سات گھر چھوڑ کر کھاتی ہے، میں نے کہا کہ کیوں سائیں، کہنے لگے ارے اس نے جو سات گھر چھوڑے ہیں وہ ہم کھا لیں گے نا۔۔ہاہاہاہا ، میں نے کہا سائیں پورے پانچ سال کھایا، اب کسی اور کے لئے بھی چھوڑ دیں، سنتے ہی لائن کاٹ دی، میں نے بھی گھڑی کی طرف نظر ڈالی، دیکھا تو ایک بج رہا تھا رات اندھیری ہو چلی تھی، کمرے میں زیرہ پاور کا بلب روشن تھا، روشنی مدہم تھی، پر اس روشنی میں بستر پر پڑی چڑیا کے پر چمک رہے تھے، بڑی لمبی پرواز طے کر کے آئی تھی، آنکھیں موندیں سو رہی تھی۔

منصور احمد (مانی)، معروف صحافی ہیں۔ منصور کو ہمیشہ کریز سے نکل کر چھکا لگانا، کبڈی کا “لاک” اور آخری مکا مارنا پسند ہے۔ انکی عنایت کہ “مکالمہ” کو اپنے فن سے نوازا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سیاہ سی شاہ جی ۔ منصور مانی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *