مکالمہ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے۔ محمد حسین

مکالمے کی لغوی تعریف

دولوگوں کے درمیان گفتگو۔ متضاد : مونو لاگ: خودکلامی : اپنے آپ سے باتیں کرنا۔

مکالمے کی عملی تعریف

مکالمے کا مطلب کسی مسئلے یا صورتِ حال میں اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے باہمی افہام و تفہیم کی کوشش ہے۔

مکالمہ: وقت کی ضرورت ہے کہ یہ وقت مکالمے کا تقاضا کررہا ہے۔ وہ متحرک عمل، مکالمے کا تقاضا کررہا ہے جس نے ہمارے سماج کا چہرہ بدل دیا ہے۔ معاشرے میں مختلف لوگوں کی موجودگی مکالمے کا تقاضا کررہی ہے۔ آج کے انسان کی پختگی مکالمے کا تقاضا کررہی ہے۔ و ہ پختگی اور بلوغت جس کے حصول کے لیے سفر کا آغاز ہم نے کسی غار سے شروع کیا تھا۔ کوئی کسی بھی تہذہب،  مذہب اور  سماج سے تعلق رکھتا ہو، ہر وہ انسان جو سوچتا اور بولتا ہے ؛ اُس انسان کا وقار مکالمے کا تقاضا کررہا ہے۔

مکالمے کا مقصد سماج میں موجود مختلف  طبقات کے درمیان عملی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے زحمت اور تکلیف کا باعث بننے کے بجائے سماج کی تعمیر و ترقی اور امن و آشتی کے لیے معاون و مددگار بن سکیں۔  مکالمے سے مُرادمختلف ثقافتوں،  مذاہب، عقائد، پس منظر کے امن پسند لوگوں اور اداروں کے مابین تنازعات کے حل پر مرکوز تعمیری فکر بھی ہے۔ لہٰذا مکالمے کی مدد سے مختلف  مذاہب، ثقافتوں اور طبقات کے درمیان افہام و تفہیم، مفاہمت اور قبولیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ بین المذاہب مکالمے کا مقصد نئے عقائد متعارف کروانا یا مختلف مذاہب کے نمائندوں کا اپنے اپنے مذاہب سے دست بردار ہونا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے نمائندہ افراد اور اداروں کا اپنے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے ان کے درمیان پُرتشدد تنازعات کے  خدشات کو ختم یا کم  کرکے تعاون کی راہیں روشن کرنا ہے۔

مکالمہ ضروری ہے کہ مکالمہ ایسے مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے جو پیچیدہ ہوں اور تنازعات کی وجہ بن سکتے ہوں۔

مکالمہ تنازعات کو طول دینے کے بجائے رُک کر ایک دُوسرے کی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھ کر تنازع کا حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مکالمہ ایک بار مکمل بھی ہوسکتا ہے اور متحرک بھی رہ سکتا ہے۔

مکالمہ ایک مسلسل تعامل کا نام ہے۔

مکالمہ متنوع معاشروں میں پُرامن بقائے باہمی کا بنیادی راز ہے۔

مکالمہ مذہب سے دست برداری یا کسی نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کا نام نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات کی روح کا اپنے رویوں کے ذریعے احیاء نو کر کے امن، احترام، محبت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کو عام کرنے کا نام ہے۔

اسی مکالمے کے چند بنیادی اصول ہیں۔

مکالمہ تعاون پر مبنی ہوتا ہے: دو یا اس سے زیادہ فریقین یا افراد مسائل کے متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا مقصد معاشرتی ربط اور تعلقات میں بہتری لانا ہے۔

مکالمے میں ذاتی تجربے کو شعورِ ذات اور تفہیم کی بنیادی اکائی تصور کیا جاتا ہے۔

مکالمے میں شناخت اور اختلافات کی دریافت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

مکالمے میں ہر ایک اپنے بہترین خیالات سامنے لاتا ہے۔ اپنے خیالات پیش کرنے والا یہ جانتا ہے کہ دُوسرے لوگوں کی آراء و خیالات اُس کے خیال میں مزید بہتری لاسکتے ہیں۔

مکالمہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم وقتی طور پر اپنے پیشگی فیصلے  اور پہلے سے قائم مفروضے معطل کردیں۔ مکالمے کے دوران مفروضہ جات اور تعصبات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مکالمے کے دوران ایک فرد یا گروہ اپنے خیالات یا مؤقف پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔

مکالمے کے دوران ہم دُوسروں کی بات اس لیے سنتے ہیں تاکہ ہم اُن کے مؤقف کو جان سکیں، مشترکہ معانی تلاش کرسکیں اوروہ مقامات تلاش کرسکیں جہاں تعاون ممکن ہو۔

مکالمے کے دوران ہماری توجہ مسئلہ پر مرکوز ہوتی ہے۔ لیکن ہم دُوسروں کو بھی پُورا موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنا مؤقف بیان کرسکیں۔

مکالمے کے دوران ہم دُوسروں کے مؤقف کی خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مکالمہ تفہیم کے راستے کھولتا ہے اور ہمیں اپنے تعصبات اور غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔

مکالمے میں جذبات لوگوں کے مؤقف، خیالات اور ضروریات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

مکالمے کے دوران ہمیں غلط فہمیاں دور کرنے اور تعلقات مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے اور توجہ مثبت اور صحت مند نتائج پر مرکوز ہوتی ہے۔

مکالمہ متحرک اور جاری رہنے والا عمل ہے۔

مکالمے کا اصل مقصد مشترکات  کی تلاش مقصد ہوتا ہے۔

سو دوستو وقت کی ضرورت اور حالت کا تقاضا ہے کہ مکالمہ ہو۔ اسی لیے “مکالمہ” ضروری ہے۔

  محمد حسین ۔  گزشتہ  کئی سالوں سے امن و مکالمہ  کے ماہر نصابیات و ٹرینر کے طور پر  کام  کر رہے ہیں، مختلف موضوعات  پر ایک درجن سے زائد کتابوں کی تحریر و تدوین کے علاوہ  مذہبی  ہم آہنگی  پر کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین کو ٹریننگ دے چکے ہیں، وہ امن اور  مکالمہ  کے موضوعات  و مسائل پر منعقدہ متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ مکالمے مکالمے کا ایک استاد “مکالمہ” سے جڑ گیا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *