مغربی فکر وتہذیب اور حمایت دین کے امکانات

امت مسلمہ میں مغرب کے سیاسی ومعاشی غلبے کا جو رد عمل پیدا ہوا، بڑی حد تک قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ، اس لحاظ سے غیر متوازن ہے کہ اس ساری صورت حال میں امت مسلمہ کا داعیانہ کردار اور اس کے تقاضے ہماری نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئے ہیں۔ ہمارے پاس خدا کی دی ہوئی ایک ہدایت ہے جو ساری انسانیت کے لیے ہے اور امت مسلمہ اس ہدایت کی امین ہونے کے ناتے سے اس بات کے لیے مسوول ہے کہ وہ خود حاکمیت کی حالت میں ہو یا محکومیت کی، اس ہدایت کو کسی تعصب کے بغیر دنیا کے ہر اس گروہ تک پہنچائے جس تک دعوت حق کے پہنچائے جانے کا کسی بھی درجے میں کوئی امکان ہو۔ کسی قوم کے ساتھ سیاسی واقتصادی مفادات حتیٰ کہ مذہبی تصورات کا ٹکراؤ بھی اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ امت مسلمہ اس قوم تک دعوت حق پہنچانے کی ذمہ داری سے غافل ہو جائے۔

مغربی اقوام تک دعوت حق پہنچانے کی یہ ذمہ داری امت مسلمہ پر کامیابی اور قبولیت کے امکانات سے بالکل قطع نظر کر کے عائد ہوتی ہے۔ تاہم اگر دعوت دین کے لیے میسر مواقع اور امکانات کے زاویے سے غور کیا جائے تو مغربی معاشروں میں صورت حال کئی حوالوں سے امید افزا اور سازگار دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ مغربی تمدن میں مذہب اور روحانیت سے دوری اور محض مادی وجسمانی ضروریات کی تکمیل وتسکین پر توجہ کے ارتکاز کا مظہر ایک پہلو سے بڑا بھیانک دکھائی دینے کے باوجود اس لحاظ سے اپنے اندر مثبت پہلو بھی رکھتا ہے کہ اس یک طرفہ طرز زندگی نے انسان کی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا کر دیا ہے جو فطرت انسانی کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ مغربی طرز معاشرت میں اس کا مطالعہ کئی پہلوؤں سے کیا جا سکتا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ یہ چیز شعوری یا لاشعوری طور پر ایک سچی اور فطری روحانی دعوت کی طلب اور پیاس پیدا کرتی ہے اور اگر داعیانہ ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ نیز دعوت دین کے حکیمانہ اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مغربی معاشروں کی اس ضرورت پر توجہ مرکوز کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے اسلام کے دامن رحمت سے وابستگی کے راستے نہ کھل جائیں۔

دعوت دین کی ذمہ داری اور دیارِ مغرب میں اس کے لیے موجود وسیع میدان ہمیں دور جدید کی بعض ایسی اہم خصوصیات کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو نہایت واضح اور بدیہی ہونے کے باوجود، غیر داعیانہ طرز فکر کی بدولت امت کی نگاہ سے اوجھل ہیں۔

مثال کے طور پر حیرت انگیز سائنسی اکتشافات وانکشافات کی روشنی میں کائنات کے نظم میں خالق کے علم وحکمت اور قدرت ورحمت کی جو ایمان افروز تفصیلات سامنے آتی ہیں، وہ ایمان باللہ کی دعوت کے لیے غیر معمولی تائیدی مواد فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے محسوس ومشہود حقائق ہیں جو محض سامنے آجانے سے ہی ایک سلیم الفطرت انسان کے قلب ودماغ پر ایسا تاثر قائم کرتے ہیں کہ اس کے سامنے فلسفیانہ ومنطقی استدلالات ہیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

پھر یہ کہ گوناگوں تاریخی وسماجی عوامل کے نتیجے میں مغربی ذہن میں عمومی سطح پر مذہب کے حوالے سے ایک نوع کی بے تعصبی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جو فکر واعتقاد کی سطح پر کسی بھی نئی بات کو قبول کرنے یا کم از کم اس پر غور کرنے کے لیے بڑی اہم ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اپنے روایتی اور نسلی مذہب کے ساتھ وابستگی اس کے لیے کسی نئے مذہب کو اختیار کرنے میں ہمیشہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مغرب میں فکری سطح پر مذہب کے ساتھ عدم اعتنا اگر ایک جانب منفی پہلو رکھتا ہے تو اس لحاظ سے ایک مثبت پہلو بھی رکھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں‘‘مذہبی تعصب’’جیسی ایک بڑی رکاوٹ بھی بڑی حد تک دور ہوئی ہے جو اسلام کی دعوت کے فروغ میں شاید سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی۔

عقیدہ ومذہب کے معاملے میں ریاستی جبر کے خاتمے نے بھی دعوت حق کے فروغ کے حوالے سے معاون اور سازگار فضا پید اکرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج مغرب میں نہ ریاست کسی مذہب کو اس مفہوم میں تحفظ دے رہی ہے جس مفہوم میں قرون وسطیٰ میں دیتی تھی اور نہ مذہبی احتساب کے وہ ادارے موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے اہل مغرب کے لیے بڑے پیمانے پر کیا، انفرادی سطح پر بھی تبدیلی مذہب ممکن نہیں تھی۔ یہ تاریخ وتہذیب کی سطح پر رونما ہونے والی ایک بہت بڑی اور نہایت جوہری تبدیلی ہے جس کی قدر وقیمت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔

انسانی تہذیب کے ارتقا نے دور جدید میں بڑے پیمانے پر مسلم آبادی کے دیار مغرب کی طرف نقل مکانی اور یوں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے باہمی اختلاط کے وسیع اور پر امن مواقع پیدا کیے ہیں۔ اسباب کی دنیا میں یہ پہلو بھی دعوت دین کے زاویے سے بہت اہم ہے، اس لیے کہ انسانی تاریخ میں مختلف مذاہب کے فروغ اور نشر واشاعت کا عمل بنیادی طو رپر اسی طرح کے اختلاط اور تعامل کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

اس ضمن میں جدید ذرائع ابلاغ اور ان کی اثر انگیزی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ذریعے سے دعوت حق کو کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے آخری کونے میں بسنے والے انسان تک پہنچا دینا جس طرح آج ممکن ہے، اس سے قبل تاریخ کے کسی دور میں ممکن نہیں تھا اور یہ چیز بنی نوع انسان کی سطح پر امت مسلمہ کی ذمہ داریوں اور ترجیحات کے تعین میں اساسی اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *