موقع کبھی ضائع نہ کریں ۔ محسن حدید

زندگی موقع ضرور دیتی ہے کم نصیب کو بھی خوش نصیب کو بھی مگر اس موقع کو پہچانتا کون ہے اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے یہ چیز آگے چل کر انسانوں کی زندگی کو بدل دیتی ہے مثال کے طور پر آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں ایک پرائمری سکول ہے پورا گاوں گزر کہ آخری کونے میں دو کمروں پر مشتمل سکول جس میں پانچ کلاسسز بیٹھتی ہیں دیواریں تقریبا نا ہونے کے برابر ہیں اور سکول میں فرنیچر کے نام پر بس 4 یا 5 کرسیاں اور ایک پرانی سی میز ہے، ۔جو کہ اساتذہ کے تصرف میں ہے۔ اپنی بوری اٹھا کر جاتے ہیں، سکول میں تین چار ٹاہلی کے درخت ہیں، جن کی چھاؤں میں مستقبل کے معمار بیٹھتے ہیں

ماسٹر صاحب آتے ہیں اور دو لائنیں سبق دے کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے ہی سوجاتے ہیں۔ ماسٹر جی سو گئے، جب آنکھ کھلے گی تو کسی کو ایویں سبق نہ سنانے کے نام پر دو تین تھپڑ جڑ دیں گے، بس حاضری لگ گئی اب ماسٹر صاحب کا کام ختم۔ ماسٹر صاحب ہیڈ مسٹر صاحب کے کمرے میں موجود واحد پنکھے کے نیچے جا کر بیٹھ گئے۔ اب باتیں ہوں گی ماسٹر کی بھینس کی، اس کے چارے کی، زمین کے ٹھیکے کی، رات بی بی سی پر چلنے والی خبروں کی، یا بے نظیر کے ملک دشمن ایجنڈے کی۔

 بد قسمتی سے ہم پنجابی اس ماحول میں پیدا ہوئے جہاں ضیا صاحب ہیرو تھے اور بھٹو اور اس کی فیملی اینٹی پاکستان۔ تب سکھوں کی لسٹوں کا بہت چرچا تھا۔ باقی بچے تو شائد ان چیزوں سے ناواقف ہوتے تھے مگر میرا مسئلہ کچھ دوسرا تھا۔ دادا ہیڈ ماسٹر، اور نانا بھی ہیڈ ماسٹر، گھر میں اخبار بھی ہر دوسرے چوتھے دن آتا تھا، کچھ کچی پکی علمی باتیں بھی ہوتی تھیں، کم از کم گاوں کے میرے والے حصے میں زندگی دوسرے گھروں سے چند سال آگے تھی۔

بات لمبی ہوگئی نا، بات لمبی ہوجاتی ہے، اپنی جو ہوئی۔ تو موضوع کی طرف لوٹتا ہوں۔ موقع کہاں گیا؟ موقع وہیں ملا تھا، پہلا موقع، جب ماسٹر جی نے کہا تھا ہاں بھئی ماسٹراں دیا منڈیا مانیٹر بن جا کلاس دا۔ میں نے کہا ماسٹر جی میں کہاں اتنا قابل۔ ماسٹر جی نے بات سن کر کہا اور کون بننا چاہتا ہے مانیٹر؟ ایک لڑکے نے ہاتھ کھڑا کر دیا ماسٹر جی نے اسے مانیٹر بنادیا۔ تب مجھے سمجھ آئی کہ موقع ملا تھا میں نے گنوا دیا۔ جو لڑکا مانیٹر بنا تھا بہت ایوریج تھا مگر اختیار اس کے پاس تھا کلاس کے سب سے ذہین اور سوچنے والے بچے کو اس کی بات ماننا پڑتی تھی۔

نفسیاتی طور پر پہلا دھچکہ تب لگا تھا جب ایک نااہل کی سرداری میں زندگی کا ایک قیمتی سال گزارنا پڑا۔ بہت اچھے اسباق سنائے مگر مانیٹر جسے بننا تھا بن چکا تھا، دوبارہ وہ موقع کبھی نہیں آیا۔ جب پھر پوچھا جاتا بات چھیڑی جاتی، میں سوال کرتا تھا، جواب دیتا تھا، ایک سوال کے کئی جواب دیتا تھا، اور وہ مانیٹر ایک سوال کا ایک مناسب جواب بھی نہیں دیتا تھا۔ اس سے اختلاف رہتا (اختلاف فطری تھا مگر بے فائدہ بھی تھا) تب میں نے جانا کہ زندگی اگر کبھی موقع دے تو اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لو ورنہ پچھتاوہ آپ کا مقدر بن جائے گا۔ اور اگر بدقسمتی سے موقعے سے فائدہ اٹھانے والا نااہل نکلا تو ضمیر مزید کچوکے لگائے گا (سیاست ہی دیکھ لیں)۔

دوسرا موقع بھی ملا تھا، جب گھر کے صحن میں میں اور بڑا بھائی کرکٹ کھیل رہے تھے۔ بھائی کی بیٹنگ تھی، ایک کیچ نکلا تھوڑا دور تھا میں نے سوچا کوئی نہیں پھر نکلے گا ٹرائی نہیں کی مگر وہ موقع دوبارہ نہیں ملا۔ ایک دن کی اذیت ناک محنت کے بعد ملا مگر تب تک یہ واقعہ ہمیشہ کے لئے ذہن میں نقش ہوچکا تھا۔ تب میں نے جانا کہ بعض اوقات موقع ملتا ہے اور اس کے لئے شدید محنت کرنا پرتی ہے۔ تب آپ کو اپنی سہولت اور آسانی فراموش کرنا پڑتی ہے اگر تب آپ سہل پسندی کا شکار ہوجائیں تو پھر وہ موقع بہت دیر بعد آتا ہے اور کبھی تو وہ آتا ہی نہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا کہانی لے کر بیٹھ گیا، تو دوستو! مثال کے بعد اب حقیقت کی طرف آتے ہیں۔ بحیثیت قوم اب ہمارے پاس بھی ایک موقع آیا ہے پھر سے  ایک قوم بننے کا۔ الطاف حسین کی مسلسل نادانی اور جہالت نے ہمیں دوبارہ ایک موقع مہیا کردیا ہے۔ جب ہم اپنے کچھ نادان دوستوں کو اپنے پاس بٹھا سکتے ہیں انہیں سمجھا سکتے ہیں کہ غلطی کہاں تھی۔ اگر ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے تو ان سے پوچھا جاسکتا ہے، اسے سلجھایا جاسکتا ہے۔ اگر ہمارے اندر خامی ہے تو اسے دور کیا جا سکتا ہے۔  قدرت نے ایسے حالات پیدا کردئیے ہیں جب بہت سارے چہروں سے نقاب اتر رہے ہیں۔  ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم صورت حال کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں اور اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوئی سبیل نکال لیں۔

 اب بازی ہمارے ہاتھ میں ہے مگر ٹیسٹ میچ کی طرح زندگی بھی سیشن در سیشن چلتی ہے کسی ایک سیشن میں کی گئی غلطی مہلک ہوسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اگلے سیشن میں اس کا ازالہ ہوسکے۔ اب ہمیں اپنے پتے درست طور سے کھیلنا ہوں گے۔ جو خراب ہیں انہیں اچھوں سے علیحدہ کرکے قانون کے دائرے میں لانا ہوگا۔ اور جو اچھے ہیں انہیں احساس دلانا ہوگا کہ ہم ہیں آپ کے خیرخواہ ہمیں احساس ہے آپ کے ہردکھ اور درد کا ہم بنیں گے مسیحا۔

ایک اور اہم بات انفرادی زندگی میں فوائد نقصانات بھی بہت محدود اثرات رکھتے ہیں، مگر اجتماعی زندگی میں الفاظ اور اعمال دونوں اپنا علیحدہ تاثر چھوڑتے ہیں اور یہ اثرات کسی بھی قوم کے لئے سوہان روح بھی ہوسکتے ہیں اور شاندار مستقبل کی طرف پہلا قدم بھی۔ سو مکالمہ کا آغاز اب ہوجانا چاہئے تاکہ یہ موقع ضائع نہ ہوجائے اور خود کو مہاجر کہنے والے پاکستانی کہنا اپنی پہلی ترجیح سمجھنے لگیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *