مکالمہ کے اصول ۔ عظیم عثمانی

 بکریوں کے ریوڑ کو آپ باآسانی سنبھال سکتے ہیں، پرندوں کے جھنڈ کو آپ بآسانی سدھا سکتے ہیں، شیروں کے غول کو آپ باآسانی کرتب کروا سکتے ہیں، مگر حضرت انسان کے اذہان کو کسی ایک نقطہ پر مجتمع کرنا نہایت مشکل ہے.

انسان کا شعوری وجود اسے دیگر حیوانات سے منفرد بنادیتا ہے. یہاں اگر ایک بقراط ہے تو دوسرا سقراط ، ایک ارسطو ہے تو دوسرا افلاطون، ایک ہیگل ہے تو دوسرا کارل مارکس، ایک ڈارون ہے تو دوسرا گوتم بدھ. یہاں ہر انسان کا ایک انفرادی فکری وجود ہے جو اپنا منفرد استدلال، سوالات اور نتائج رکھتا ہے اور کسی بھی صاحب شعور انسان کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے واحد راستہ ‘مکالمہ’ کا ہے. جنگ کے ذریعے آپ انسان قتل کر سکتے ہیں مگر ان کی فکر کو نہیں مار سکتے. اسکے لئے تو لازم ہے کہ آپ موجودہ فکر کے سامنے ایک برتر فکر کو آگے بڑھ کر دلائل کی روشنی میں پیش کریں. ‘مکالمہ’ کریں، سابقہ رائج فکر پر علمی تنقید کریں اور پیش کردہ تازہ فکر پر تنقید کا شافی جواب دیں.

‘مکالمہ’ ہی وہ زریعہ ہے جس سے مخاطب شعوری طور پر آپ کے پیش کردہ مقدمہ کو قبول یا رد کرتا ہے اور یہ اسی سے حاصل شدہ منطقی نتیجہ ہوتا ہے جو کسی انسانی جماعت کو ایک فکر پر مجتمع کردیتا ہے. راقم کے نزدیک بحث و جدال اور ‘مکالمہ’ میں بنیادی فرق اخلاص نیت کا ہے. مباحثہ میں اکثر آپ کی نیت ہر قیمت پر اپنی بات منوانا ہوتی ہے اور اس کے لئے مخاطب کی تذلیل و تحقیر سے بھی گریز نہیں کیا جاتا. اس کے برعکس ‘مکالمہ’ ذاتی انا کو بیچ میں لائے بناء حق بات کی تلاش کا نام ہے. ‘مکالمہ’ میں جہاں اپنی بات کو استدلال و براہین سے پیش کرنا اہم ہے، وہاں اتنا ہی اہم مخاطب کے پیش کردہ استدلال کو دیانتداری سے سننا ہے.

‘مکالمہ’ کے دوران مقابل کی بات کو دھیان سے سننے کی بجائے صرف سننے کی اداکاری کرنا سخت علمی بددیانتی ہے. ‘مکالمہ’ کا اسلوب شائستہ اور الفاظ کا انتخاب مہذب نہ ہو تو بات اکثر مثبت نتیجہ سے محروم رہتی ہے۔ آپ کو اکثر بداخلاق لوگ اپنے دفاع میں یہ دلیل دیتے نظر آئیں گے کہ ‘سچ کڑوا ہوتا ہے’ ، کاش کہ انہیں کوئی سمجھا سکے کہ کڑوا اکثر سچ نہیں ہوتا بلکہ آپ کا لہجہ اور الفاظ کا چناؤ کڑوا ہوجاتا ہے. اس کی اعلی ترین مثال رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے ، جنہوں نے اپنے مخاطبین سے نہ صرف ‘مکالمہ’ کیا بلکہ ‘مکالمہ’ کی فضاء کو فروغ دیا. جنہوں نے ساری زندگی ببانگ دھل سچ بولا مگر کبھی کڑوا نہ بولا، جب بھی بولا میٹھا بولا. .

لفظ تاثیر سے بنتے ہیں تلفظ سے نہیں اہل دل آج بھی ہیں، اہل زباں سے آگے ‘مکالمہ’ کرنے والے کیلئے لازم ہے کہ وہ علمی مکالمہ کو کج بحثی میں تبدیل نہ ہونے دے اور اگر پھر بھی ایسی نوبت آجائے تو احسن طریق سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ مشاہدہ ہے کہ بحث و جدال کی کثرت متکلم اور مخاطب دونوں کی ارواح کو تعفن زدہ بنادیتی ہے۔ یاد رکھیں کہ مہذب ‘مکالمہ’ میں اپنے مخاطب کی دل سے عزت کی جاتی ہے اور احقر درجہ میں بھی اسے تذلیل کا نشانہ نہیں بنایا جاتا.

افسوس ان اذہان پر ہے جو ‘مکالمہ’ کے دوران مخاطب کی تضحیک کرکے اپنے نفس کو فربہ کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ایسا کرنے سے ‘نہی عن المنکر’ کا فریضہ انجام پارہا ہے. الفاظ خالی برتن کی مانند ہوتے ہیں، انہیں مفہوم ہم عطا کرتے ہیں . لب پر آتی ہے بات دل سے حفیظ دل میں جانے کہاں سے آتی ہے؟ . لفظ ‘کمینہ’ ایک گالی شمار کیا جاتا ہے لیکن یہ گالی اسی وقت بنتا ہے جب اس کا مفہوم سننے یا بولنے والے کو معلوم ہو. اگر ایک انسان اس لفظ کے مفہوم ہی سے آشنا نہ ہو تو پھر اس لفظ کا کوئی اثر طبیعت پر محسوس نہیں ہوتا. اسی طرح ممکن ہے کہ ایک لفظ کسی زبان میں گالی ہو مگر وہی لفظ دوسری زبان میں توصیفی کلمہ کی حیثیت رکھتا ہو. چنانچہ جس مفہوم سے آپ کی سماعت آشنا ہوگی ، آپ ویسا ہی تاثر اس لفظ کا خود پر محسوس کرسکیں گے. خوب جان لیں کہ ‘مکالمہ’ کے دوران ہر وہ لفظ گالی شمار ہوگا جس سے مخاطب کی تحقیر و تذلیل مقصود ہو. اگر آپ ایسا کوئی بھی لفظ ادا کرتے ہیں جس کے زریعے، سننے والے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، تو امکان ہے کہ اس پر گالی کا اطلاق ہو سکتا ہے. اگر اس تعریف کو سمجھ لیں تو معلوم ہوگا کہ گالی صرف وہ الفاظ نہیں ہیں جنہیں معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے بلکے ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں جنہیں گالی کے طور پر ہم نے خود ایجاد کیا ہے. حد یہ ہے کہ ہم نے مذہبی گالیاں بھی ایجاد کر رکھی ہیں. وہ شیعہ کھٹمل ہے، یہ سنی دشمن اہل بیت ہے .. وہ وہابی نجدی کافر ہے، یہ قبر پرست صوفی ہے .. وہ دیوبند کی گند ہیں ، یہ حلوہ خور بریلوی ہیں … وہ ہرے طوطے ہیں، یہ یہودی ایجنٹ ہیں.

ایک لمبی فہرست ہے گالیوں کی جسے ادا کر کے ہم اپنے مخاطب کی تذلیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں. وہ اسلام جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا تھا ، آج اسکے نام لیوا بڑے فخر سے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو مذہبی گالیاں دیتے ہیں. . ہمیں اپنی نوجوان نسل کیلئے ‘مکالمہ’ کا صحتمند ماحول پیدا کرنا ہے، ہمیں ان کے جدید اذہان کو اظہار رائے کی آزادی دینی ہے، ہمیں انہیں یہ اعتماد دینا ہے کہ وہ اپنا کوئی بھی اشکال یا سوال ‘مکالمہ’ کی صورت میں پیش کرسکیں. سوال نہ پوچھنے سے سوال ختم نہیں ہوتا بلکہ آپ کے لاشعور میں جا دفن ہوتا ہے. ‘مکالمہ’ نہ کرنے سے کبھی کوئی گتھی نہیں سلجھتی بلکہ مزید الجھ کر انسان کو شکوک کے گرداب میں دھنسا دیتی ہے. لہٰذا سوال پوچھیں اور ‘مکالمہ’ کریں. دستک دیں گے تو دروازہ کھلے گا، سوال پوچھیں گے تو جواب حاصل ہوگا، ‘مکالمہ’ کریں گے تو بات واضح ہوگی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *