نگارشات    ( صفحہ نمبر 64 )

امیر کا انتخاب اور دمنہ کی سازش (1)-محمد ہاشم خان

پچیس سال تک شیر کی صحبت میں رہنے کے بعد دمنہ کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ جنگل کا اگلا امیر وہ بن سکتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ شیر بوڑھا ہو گیا ہے، اب اس کے اندر←  مزید پڑھیے

لوڈوگ وون مائیسس: فکری ہمت و دلیری کی داستان/سجیل کاظمی

ایک ایسے وقت میں جب مارکسزم اور فاشزم تیزی سے یورپ پر چھائے رہے تھے۔ بشمول آسٹریا کے، اور یہ نظریات صرف حمایت حاصل نہیں کررہے تھے بلکہ اس کے حمایتیوں نے لوگوں کا ذہن ایسا بنا لیا تھا کہ←  مزید پڑھیے

پیسے کی اندھی دوڑ اور ہماری نئی نسل/توصیف اکرم نیازی

یہ دور ایک عجیب کھیل بن چکا ہے. ہر طرف صرف ایک ہی آواز گونج رہی ہے: “یہ کورس کرو، لاکھوں کماؤ!” “یہ اسکل سیکھو، کروڑوں بناؤ!” “ڈگری کا کوئی فائدہ نہیں، بس ہنر لو اور پیسے کماؤ!” جیسے پیسہ←  مزید پڑھیے

اردو اور ہندی /ایم اے فاروقی

سن ۱۹۷۶ یا ۷۷ کی بات ہے، میں الہ آباد سے بنارس آرہا تھا،شام کی پسنجر ٹرین تھی، کچھ لوگ میرے سامنے والی برتھ پر بیٹھے تھے ، لباس اور بات چیت سے لگا کہ مہذب اور تعلیم یافتہ لوگ←  مزید پڑھیے

پشتو کا جشن -مادری زبانوں کے عالمی دن/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

ہر سال 21 فروری کو دنیا مادری زبانوں کا عالمی دن مناتی ہے، یہ دن لسانی تنوع کو فروغ دینے اور مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔ خیبر پختونخواہ (کے پی کے)، قبائلی اضلاع اور پاکستان اور افغانستان←  مزید پڑھیے

کچھ سچے اور ہولناک واقعات/پرویز مظفر

۱ : والد صاحب کے انتقال کے بعد غالباََ نومبر یا  دسمبر ۲۰۲۰ کے شروع میں شمیم حنفی صاحب نے ویڈیو کے ذریعہ والد محترم کو خراج عقیدت پیش کیا، اُس میں ایک ہلکا سا اشارہ یہ بھی تھا کہ←  مزید پڑھیے

چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 ایک یادگار تجربہ/عارف خٹک

چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 اپنے اختتام کو پہنچا۔ بظاہر یہ محض دس روزہ تقریبات تھیں، مگر میرے نزدیک یہ خیبر پختونخوا میں ادبی بیداری کا پہلا قطرہ ثابت ہوا اور وہ بھی ایسا قطرہ جس کے برسنے سے←  مزید پڑھیے

زبان اور کلچر کے عروج و زوال کا راز /پروفیسر فضل تنہا غرشین

زبانیں سماجی ضروریات کے تحت لاشعوری طور پر وجود میں آتی ہیں اور شعوری طور پر معاشی، سیاسی، سائنسی، مذہبی اور قانونی ضروریات کے لیے بامِ عروج پر پہنچا دی جاتی ہیں۔ زبانیں عام طور پر انسانی رابطوں کے لیے←  مزید پڑھیے

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی /ناصرالدین مظاہری

سوامی دیال میرے گاؤں مرزاپور لکھیم پور کھیری کے پردھان تھے، بڑے نیک انسان تھے ، جب سے ہوش سنبھالا تو انھیں اپنے والد ، چچا رحمت اللہ اور دیگر اچھے مسلمانوں سے ان کا ہمیشہ تعلق رہا۔یہی سوامی دیال←  مزید پڑھیے

ٹھنڈی میٹھی رُت/شہزاد ملک

مارچ کا مہینہ بھی گذرا جارہا تھا اور دسمبر جنوری کی سرمائی بارشوں کا کہیں اتا پتا ہی نہیں تھا چار دن چمکیلی دھوپ پڑی اور موسم نے تیور بدلنا شروع کر دئیے سردی رخصت ہوتی نظر آنے لگی اور←  مزید پڑھیے

شہباز حکومت: وعدے، چیلنجز/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

پاکستان میں شہباز شریف کی زیرقیادت حکومت، جس نے اپریل 2022 میں اقتدار سنبھالا تھا، شدید جانچ اور بحث کا موضوع رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی کے طور پر، شہباز شریف نے معاشی بدحالی، سیاسی عدم←  مزید پڑھیے

ا ب ج د/حسان عالمگیر عباسی

بالعموم روایتی عملی سیاست سے بچپن ہی سے شغف رکھا ہی نہیں ہے چونکہ سیاست کے باپ داداؤں سے ہیلو ہائے یا تعارف تک بھی نہیں ہے لیکن ظاہر ہے ہم انتخابی سیاست اور مظاہرے اور نام نہاد جمہوری کلچر←  مزید پڑھیے

بلوچستان کا المیہ/قادر خان یوسفزئی

یہاں ناموں کے ساتھ تقدیریں لکھی جاتی ہیں، شناختی کارڈ کی بنیاد پر زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے اور جو مزدور روزی روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں، وہ اکثر تابوت میں لپٹے واپس آتے ہیں۔ بلوچستان کی←  مزید پڑھیے

پاکستان کو درپیش چیلنجز/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، بہت سے چیلنجوں سے نبرد آزما ہے جو اس کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی تانے بانے کو خطرہ ہیں۔ تباہ حال صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور تعلیمی ایمرجنسی سے لے کر←  مزید پڑھیے

ایک سی- ای- او کی ڈائری / محمد ثاقب

پاکستان کے ایک بڑے بزنس گروپ کے سربراہ سے کراچی میں ان کے آفس میں ملاقات ہوئی۔ چوڑی پیشانی، آنکھوں میں چمک اور مصافحے میں گرم جوشی ان کی لیڈرشپ سکل کو ظاہر کر رہی تھی۔ گزشتہ چالیس سال سے←  مزید پڑھیے

سیلون کے ساحل ۔ہند کے میدان( باب نمبر13)پیٹہ،ڈچ میوزیم اور پاکستانی سفارت خانہ /سلمیٰ اعوان

ناشتے کے فوراً بعد پہلا کام تو مسلم لیڈیز کالج جانا تھا۔واقعی نہ جاتے تو ایک بہت اچھا ادارہ دیکھنے سے محروم رہ جاتے۔متاثر کرنے والی پہلی چیز تو عمارت کی شان تھی۔ایک رفاعی ادارہ ہو اور ایسی شان و←  مزید پڑھیے

مراکو کا سفر/طیبہ ضیا چیمہ

نیویارک کے ساحل بحر اوقیانوس سے پرواز چھ گھنٹے سمندر کے اوپر سفر طے کرتی ہوئی شمالی افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع کاسا بلانکا ائیر پورٹ پر لینڈ کر گئی۔ مراکش کے مغربی ساحل پر واقع “کاسا بلانکا”ملک کا←  مزید پڑھیے

چل بشیرے چک سوا تے ٹائر پھاڑیئے/سید بدر سعید

سرکاری عہدہ جتنا باوقار ہے اتنا ہی خوفناک بھی ہے۔ اختیارات، طاقت اور عہدہ سر چڑھ جائے تو اچھے خاصے سمجھدار انسان کو اوقات بھلا دیتا ہے۔ اسے المیہ نہ کہیں تو کیا کہیں۔ پاکستان میں سرکاری ملازمین فرائض کی←  مزید پڑھیے

لاہور اور باقی شہروں کی ٹریفک میں اتنا فرق کیوں؟-ڈاکٹر محمد شافع صابر

“گنگارام ہسپتال ایمرجنسی چوک پر اشارے پر کھڑا تھا ۔ پوسٹ کال تھا،موڈ آف! ننید سے برا حال،بال بکھرے ہوئے تھے، شیو بڑھی ہوئی تھی! اشارہ بند تھا۔ ٹریفک وارڈن آیا، بولا ڈرائیونگ لائسنس دکھائیں۔ دکھا دیا ۔ کہتا چالان←  مزید پڑھیے

استعمار کی نفسیات (2،آخری حصّہ)-محمد عامر حسینی

اختر علی سید کا خیال یہ ہے کہ پاکستان کی تشکیل کے بعد جو ‘سماجی صورت حال ‘ سامنے آئی اس کا ‘پوسٹ کالونیل سائیکو اینالاسز’ نہ تو ہوسکا اور نہ ہی اس کی کوئی روایت سامنے آسکی ۔ میرا←  مزید پڑھیے