یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے جب میں شاید چارسال کا ہونگا اور ہم ہنہ پور جہلم میں رہا کرتے تھے ۔وہاں ہنہ پور ریلوے اسٹیشن کی پرانی بلڈنگ کے ساتھ ہی ریلوے کے چند کوارٹر ہوا کرتے تھے ۔یہ← مزید پڑھیے
لاہور سمیت پنجاب بھر میں خوف کا عالم ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر،ٹریفک پولیس نے زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔ بھاری جرمانے،ایف آئی آرز کی بھرمار اور← مزید پڑھیے
بتائیے کہ ایک دور تھا جب کتابوں کے حوالے سے بھی یہ بحث رہتی تھی کہ کون سی پڑھی جائیں اور کون سی نہ پڑھی جائیں اور اسی تناظر میں اکبر الہ بادی کہہ اٹھے کہ: ہم ایسی کل کتابیں← مزید پڑھیے
کارل مارکس نے اپنی بیٹی کو ایک خط لکھا۔ تاریخ کے صفحات اس خط کی تفصیل محفوظ نہ رکھ سکے، مگر اس کے جملوں کے بیچ چھپی ہوئی سچائی آج بھی زندہ ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”مسلمان کے لیے محکومیت← مزید پڑھیے
محترم دوستو! غیر حاضری کی معذرت، ان شاء اللہ آپ لوگ پھر سے باقاعدگی سے میری تحریریں پڑھیں گے۔ انٹرویوز کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور کامیاب لوگوں کی زندگی سے کامیابی کے پروٹوکولز آپ سے ڈسکس کریں گے۔← مزید پڑھیے
پاکستان میں ڈیجیٹل پالیسیوں کی تشکیل کا عمل 2000 کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوا جب حکومت پاکستان نے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کو نجی اداروں کے لیے کھولا۔ پی ٹی اے کو 1996 میں ریگولیٹری ادارے کے طور پر← مزید پڑھیے
عوامی ہیرو اور پاپولر لٹریچر کیوں غیر تسلیم شدہ رہ جاتا ہے؟ ثقافتی سرمایہ کا تجزیہ (culture capital theory)-آج ایک پوسٹ میں پڑھا کہ دھرمیندرا جی کو میڈیا، فلمی نقاد اور سینما اسکالرز نے وہ مقام کبھی نہیں دیا جو← مزید پڑھیے
مشہور دانش ور اور مزاح نگار کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس کا کا تجزیہ اور مشاہدہ ہوتے ہیں۔ جو اس کے گردوپیش ہونے والی حرکات و سکنات کا ایک جامع لباس ہوتا ہے۔ اس لباس میں کچھ← مزید پڑھیے
آئین پاکستان کے تحت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے سرکاری تعلیمی نظام معیاری اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق نہیں ہے جس← مزید پڑھیے
یونیورسٹی کے پہلے دن یہی سوچا تھا کہ یہ چار سال کب ختم ہوں گے؟ آج انہی چار سالوں کا آخری دن اپنی اختتام کو آپہنچا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پلک جھپکتے ہی یہ عرصہ بیت گیا۔ یہ← مزید پڑھیے
خبط عظمت/ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، آج کوئی لفظ، کوئی جملہ یا کوئی فقرہ وائرل ہو جائے تو پھر عوام اسے دن رات چبا کر اس کا مزہ لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں یہی کچھ ہوا جب ملک کے معروف صحافی← مزید پڑھیے
ایمرسن یونیورسٹی کے شعبہ کامرس اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی دو خواتین اساتذہ کی طرف سے ایک پروفیسر کے خلاف دی جانے والی “ہراسانی” کی درخواست پر انکوائری بند کردی گئی۔ معاملہ دبا دیا گیا۔ اس معاملے پر رپورٹنگ← مزید پڑھیے
افغانستان کا کچرا/میرے ایک دوست نے کہا، یہ درست وقت ہے کہ ہمیں افغانستان پر حملہ کر دینا چاہئے، کابل سے قندھار تک قبضہ کر لینا چاہئے۔ وہ طالبان رجیم کی طرف سے پاکستان کے اس جائز اور منطقی مطالبے← مزید پڑھیے
کراچی، ماڈل شہر سے تباہ حال شہر تک کا سفرکہا جاتا ہے کبھی کہ دنیا کی خوبصورت شہروں میں ایک شہر کراچی بھی ہوا کرتے تھے، یہاں کی سڑکوں کو روز صبح سے دھویا کرتے تھے، ٹرام، ڈبل ڈیکر بسیں← مزید پڑھیے
پاکستان میں لِو اِن ریلیشن کا تصور رات گہری تھی۔ اسلام آباد کے ایک اپارٹمنٹ کی بالکونی میں زرد بلب ٹمٹما رہا تھا اور کمرے کے اندر دو وجود خاموش بیٹھے تھے۔ ایک لڑکی اپنے کپ میں چمچ ہلا رہی تھی← مزید پڑھیے
بوریت اور دلچسپی سے آگے : تعلیم، شعور اور تہذیب تعلیم عامہ کے ناقدین کا چوتھا مغالطہ یہ ہے کہ چونکہ پڑھائی کے جدید سہل اور دلچسپ طریقے، رنگین کتابیں، اسمارٹ کلاس رومز، ویڈیوز اور اینیمیشن کے باوجود طلبہ بیزار← مزید پڑھیے
لفظ، خیال اور خوشبو/لاہور گیریژن یونیورسٹی کے حلقہِ ادب (بک کلب) کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ نوجوان لکھاری فہد خورشید یہ دعوت نامہ لے کر کلینک پہنچا اور بتایا کہ آپ وہاں مہمانِ خصوصی کے طور پر← مزید پڑھیے
تصوف سے سمندری تجارت تک/ پاکستان میں روایتی نظام تعلیم کے برابر ایک نئی فکری اور تعلیمی روایت ابھر رہی ہے جو محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کی باطنی تشکیل کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ اگلے← مزید پڑھیے
ہم اس صدی کا آخری اوریجنل پرنٹ ہیں / ہم سب اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے علم میں اضافہ کر رہی ہے اور ہم ایک “فوق البشر” (Super Human) دور کی طرف بڑھ رہے← مزید پڑھیے
بھارتی پروپیگنڈے کا غبار اور زمینی حقائق/بین الاقوامی سیاست کی بساط پر سچ اور جھوٹ کی تمیز اب اتنی مشکل ہو چکی ہے کہ اکثر اوقات حقیقت کی تلاش میں انسان کو پروپیگنڈے کی کئی تہوں کو کھودنا پڑتا← مزید پڑھیے