صاحبو، تاریخ کی کتاب پہ سو سال بھی فقط ایک پیرا ہوتے ہیں۔ ہاں آج کشمیر بطور ایک ریاست نا رہا، مگر کشمیری تو قائم ہیں۔ بس اپنی آزادی کی، آزاد وطن کی خواہش کو، جذبے کو اور کوشش کو مرنے مت دیجئیے گا۔ جب تک آپ کو آپ کا وطن دوبارہ نا مل جائے اپنے ہاتھوں میں پہنائی گئی زنجیروں سے وہ جھنکار پیدا کرتے رہیے جو دنیا اور تاریخ کو کشمیر بھولنے نا دے، کشمیری قائم رکھے۔ آپ کی بغاوتیں برقرار رہیں، آپ کی شاعری کشمیر کی وادیوں میں گونجتی رہے اور آزادی کی شمع خواہ دھیمے شعلے سے جلے اسے جلائے رکھئیے۔
← مزید پڑھیے