کالم    ( صفحہ نمبر 249 )

گِرہ کھل چکی ہے۔۔جاوید چوہدری

امریکا کے 36 ویں صدرلنڈن بی جانسن کا ایک قول سیاست کی بے شمار کتابوں میں نقل ہوا‘ صدر جانسن نے کہا تھا ”آپ اگر سیاست دان ہیں اور آپ کسی کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور آپ کو داخل←  مزید پڑھیے

برطانیہ میں اسلام دشمنی کی بے قابو ہوتی آگ۔۔آصف جیلانی

عین اس وقت جب کہ برطانیہ کی حکمران ٹوری پارٹی اقتدار کے لیے انتخابی جنگ میں مصروف ہے، ٹوری پارٹی کی ممتاز رہنما اور پارٹی کی سابق چیر پرسن، سعیدہ وارثی نے پارٹی میں اسلامو فوبیا، اسلام سے منافرت کے←  مزید پڑھیے

بیجنگ سے دو شکایتیں ۔۔یاسر پیرزادہ

بیجنگ سے دو شکایتیں تھیں، ایک سردی جعلی ہے اور دوسرے کافی پینے کا سلیقہ نہیں۔ سردی کا گلہ تو بیجنگ نے ایسے دور کیا ہے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ چنگ شا سے جب جہاز بیجنگ میں←  مزید پڑھیے

’’مڈل مین ‘‘کے بغیر کاروبار چلانے کی تھیوری۔۔۔نصرت جاوید

افغانستان میں استعمال ہونے والی فارسی جسے وہاں کے باسی’’ دری‘‘ پکارتے ہیں خوب صورت محاوروں سے مالا مال ہے۔ان محاوروں کے پیچھے کئی قصے ہیں جو اساطیری کرداروں سے وابستہ ہیں۔ایسے ہی محاوروں میں ایک ’’رحمِ ازبک‘‘ کی حقیقت←  مزید پڑھیے

پاکستان کا قومی شناخت کا بحران۔۔۔منور حیات سرگانہ

کسی بھی فرد کی شناخت کی کئی جہتیں ہوتی ہیں ،آپ ان کو اس فرد کی ذیلی شناختیں بھی کہہ سکتے ہیں ۔مثلاً ایک فرد مسلمان،ہندو یا عیسائی ہے۔یہ اس کی مذہبی شناخت ہے،وہ پنجابی یا پٹھان ہے،یہ اس کی←  مزید پڑھیے

کیا ماؤ مثالی لیڈر اور راہنما تھا؟۔۔۔سلمیٰ اعوان

کرپشن کرپشن سُنتے کان پک گئے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے تو لگتا ہے کوئی اور سبق پڑھا ہی نہیں بس اسی کا ڈھنڈورا پیٹے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ہمارے وزیر اعظم کا دورئہ چین بھی اسی تذکرے کے←  مزید پڑھیے

’’خدمت کو عزت دو‘‘ والا کامیاب ہوتا بیانیہ ۔۔۔نصرت جاوید

ذاتی حوالوں سے میرے لئے جنرل ضیاء کا دور بہت تکلیف دہ رہا۔طویل بے روزگاری۔پری سنسر شپ کی اذیت۔جوانی کے خمار میں لیکن ڈھٹائی برقرار رکھی۔ 1981میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی۔اس کی وجہ سے ریاستی جبر میں ذرا←  مزید پڑھیے

مشرق وسطی کے خطرناک رجحانات ۔ہماری دہلیز پر/آصف محمود

مشرق وسطی کی سیاست کا آزار پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے ، یہ فیصلہ اب ہم نے کرنا ہے کواڑ مقفل کر لینے ہیں یا دروازے وا کر کے اس آزار کو گلے لگانا ہے۔ سوال یہ←  مزید پڑھیے

طلسمِ ہوش ربا ۔۔۔سہیل وڑائچ

الف لیلوی کہانیوں کی بنیاد تو بغداد میں پڑی لیکن برصغیر میں بھی اس روایت کو خاصا فروغ ملا، منشی محمد حسین جاہ کی داستان ’’طلسمِ ہوشربا‘‘ (زمانۂ تحریر 1888-1889) منشی نول کشورپریس سے شائع ہوئی تو بھوت پریت، جنوں←  مزید پڑھیے

پی ٹی آئی اور ’’خاموشی‘‘ کی پریکٹس ۔۔۔حسن نثار

سمجھ نہیں آتی پی ٹی آئی والوں کا مسئلہ کیا ہے۔ان کے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے، زبانیں تالو سے نہیں لگتیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جلتے کوئلے کھا کر سندھ کی سرخ مرچوں کا مربہ بطور سویٹ ڈش←  مزید پڑھیے

یہ کون لوگ ہیں؟۔۔جاوید چوہدری

عرسوف اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے‘ یہ گاﺅں میڈی ٹیرین سی کے ساتھ چٹان پر قائم ہے‘ آبادی 166 افراد پر مشتمل ہے مگر یہ اپنی لوکیشن اور تاریخ کی وجہ سے اسرائیل کے مہنگے ترین علاقوں میں←  مزید پڑھیے

شراب،میں جانبدار ہوں۔۔اسد مفتی

روزنامہ جنگ لندن کی ایک خبر کے مطابق سرخ وائن کی فروخت دوگنی ہوگئی ہے،ایک ریسرچ کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ 2019کے پہلے نو ماہ میں ریڈ وائن کی فروخت 383ملین ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔تاجر بھی←  مزید پڑھیے

خدارا عدالت کو فریق نہ بنائیں۔۔۔نصرت جاوید

یہ بات تو بہت پرانی ہوگئی کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ آج کے مابعداز حقائق (Post Truth)دور میں مستقل اُبلتے ہیجان کی وجہ سے یہ سوچنے کو مجبور ہورہا ہوں کہ شاید سیاست کے دماغ میں یادداشت←  مزید پڑھیے

کارکردگی کہاں ہے؟۔۔۔آصف محمود

سترہ روپے کلو ٹماٹر اور پانچ روپے کلو مٹر سے قوم کے شعور اجتماعی کی توہین کے بعد اب ارشادِ تازہ یہ ہے کہ کسی بے روزگار کو نوکری دینا حکومت کا مینڈیٹ ہی نہیں۔جناب حفیظ شیخ کی اس رفو←  مزید پڑھیے

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔۔حامد میر

ہماری سیاست اور ادب ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جن کے پاس ادب نہ ہو اُن کا مقدر رسوائیاں بنتی ہیں۔ یہ ناچیز اُس ادب کا ذکر نہیں کر رہا جس کا تعلق احترام سے ہے۔←  مزید پڑھیے

خوداپنی تلاش میں ناکام ونامرادآدمی۔۔حسن نثار

ماحول ایسا ہے کہ کراہت محسوس ہوتی ہے اس لئے حکومت، سیاست و دیگر ایسے معاملات پر سوچنے لکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آئیڈیل صورتحال یہی ہے کہ آدمی ناک پر رومال رکھ کر ذرا تیز تیز قدموں←  مزید پڑھیے

کشمیر: زنجیر سلامت ہے،جھنکار سلامت ہے۔۔ انعام رانا

صاحبو، تاریخ کی کتاب پہ سو سال بھی فقط ایک پیرا ہوتے ہیں۔ ہاں آج کشمیر بطور ایک ریاست نا رہا، مگر کشمیری تو قائم ہیں۔ بس اپنی آزادی کی، آزاد وطن کی خواہش کو، جذبے کو اور کوشش کو مرنے مت دیجئیے گا۔ جب تک آپ کو آپ کا وطن دوبارہ نا مل جائے اپنے ہاتھوں میں پہنائی گئی زنجیروں سے وہ جھنکار پیدا کرتے رہیے جو دنیا اور تاریخ کو کشمیر بھولنے نا دے، کشمیری قائم رکھے۔ آپ کی بغاوتیں برقرار رہیں، آپ کی شاعری کشمیر کی وادیوں میں گونجتی رہے اور آزادی کی شمع خواہ دھیمے شعلے سے جلے اسے جلائے رکھئیے۔ ←  مزید پڑھیے

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 15 مہینوں میں پاکستان کی صورتحال اور اصلی تبدیلی کیوں ضروری ہے؟۔۔غیور شاہ ترمذی

وزیر اعظم عمران خان نے اکتوبر کے دوسرے عشرے کے اختتام پر تسلسل سے کئی ٹویٹ کیے جس میں اس نے اپنی ”دیسی آئی ایم ایف کی ٹیم“ کو معاشی صورتحال میں ایک سال میں ”تبدیلی“ لانے پر مبارک باد←  مزید پڑھیے

مسلمان بننے کے بعد کیا ہوا؟۔۔۔جاوید چوہدری

سوشل میڈیا پر پچھلے دنوں ایک کالم بہت وائرل ہوا‘یہ کالم نو مسلم ڈاکٹر لارنس براؤن کے بارے میں تھا اور یہ جاوید چودھری نے لکھا تھا‘ کالم میں چودھری صاحب امریکن ڈاکٹر لارنس براؤن کا ذکر کرتے ہیں‘ ڈاکٹر←  مزید پڑھیے

ایم ٹی آئی:حقیقت اور افسانہ۔۔۔یاسمین راشد

آج کا موضوع مجوزہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ ہے جس پر ماضی قریب میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ٹیچنگ اسپتال صحت عامہ کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی←  مزید پڑھیے