• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان کا قومی شناخت کا بحران۔۔۔منور حیات سرگانہ

پاکستان کا قومی شناخت کا بحران۔۔۔منور حیات سرگانہ

کسی بھی فرد کی شناخت کی کئی جہتیں ہوتی ہیں ،آپ ان کو اس فرد کی ذیلی شناختیں بھی کہہ سکتے ہیں ۔مثلاً ایک فرد مسلمان،ہندو یا عیسائی ہے۔یہ اس کی مذہبی شناخت ہے،وہ پنجابی یا پٹھان ہے،یہ اس کی نسلی شناخت ہے،وہ پنجابی زبان یا پشتو بولتا ہے،یہ اس کی لسانی شناخت ہے،اور وہ پاکستانی ہے یا ہندوستانی ہے،یہ اس کی ملکی یا قومی شناخت ہے۔اب یہ سب شناختیں ایک فرد کا بنیادی حق ہیں اور اس کا فخر ہیں،اور ضروری نہیں کہ یہ شناختیں ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔یا ایک شناخت دوسری شناخت کے لئے خطرہ ہو، بلکہ یہ سب شناختیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔جیسا کہ ایک جاندار کے مختلف اعضاء جو کہ آپس میں مناسب تال میل سے ،ایک مکمل صحت مند جسم بناتے ہیں۔اب یہ بنیادی سوال کہ ہم آج تک صرف پنجابی،پٹھان،بلوچ اور سندھی وغیرہ کیوں ہیں،اور ایک پاکستانی قوم کیوں نہیں بن سکے۔
جواب کئی ایک ہو سکتے ہیں،مگر میرا خیال ہے، پے در پے کئی نظاموں کے تجربات,صرف ایک ہی شناخت اپنانے پر اصرار اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے احترام سے انکار نے اس تسلسل کو قائم ہی نہ ہونے دیا،جس سے گزر کر کسی بھی متحدہ قوم کی تشکیل ممکن ہو پاتی۔یوں تو یہ تجربات ہر شعبہ زندگی میں جاری رہے،جیسا کہ تعلیم و تربیت،معیشیت،اور سیاست،مگر اس ملک کا سب سے پہلا المیہ ایک متفقہ آئین اور نظام حکومت کی تشکیل پر متفق نہ ہو سکنا قرار دیا جا سکتا ہے۔جس کی وجہ سے جمہوریت کا پودا تناور درخت کبھی نہ بن سکا،اور مختلف چھوٹی قومیتیوں،اور نسلی و لسانی اکائیوں، کے افراد میں احساس محرومی اور امور مملکت میں عدم شرکت و غیر متعلق ہونے کا احساس پوری شدت سے پروان چڑھتا گیا۔جبکہ دوسرا المیہ ایک وطنیت کے تصور پر ضرورت سے زیادہ اصرار،اور اس کے متوازی چل سکنے والی دوسری لسانی اور علاقائی شناختوں کو تسلیم کرنے سے احتراز بلکہ خوف زدہ ہونا بھی رہا۔اور آخری اور سب سے جان لیوا بات یہ ثابت ہوئی،کہ ایک اکثریتی مذہب کی بالادستی کی خواہش اور شناخت اپنانے کی غیر فطری کوشش نے پورے معاشرے کو تنوع یا تکثیریت سے محروم کر دیا،جو کہ کسی بھی قوم کی تشکیل اور ایک متحدہ قومیت کی بنت کے لئے ایک بنیادی عامل کے طور پر ازحد ضروری تھی۔
مطالبہ پاکستان اور اس نئی ریاست کا قیام مسلمانان ہند کو ہندو اکثریتی قوم کی بالادستی سے محفوظ رکھنے کے لئے کیا گیا تھا،نہ کہ ایک کٹر مسلمان مذہبی ریاست بنانے کے لئے کیا گیا تھا۔بد قسمتی سے قائد اعظم کی ناگہانی رحلت سے قیادت کےپیدا ہونے والے قیادت کے خلا کو فوراً آگے بڑھ کر ان قوتوں نے پورا کرنے کی کوشش کی جن کی اکثریت قیام پاکستان کی ہی مخالف تھی۔ان طاقتوں نے بدقسمتی سے پاکستان کو ایک کٹر مسلمان مذہبی ریاست بنانے کی ابتداء کی،جب وہ قائد اعظم کی کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں 11 آگست 1947 کو کی گئی تقریر ،جس میں ریاست پاکستان کے بنیادی خدوخال طے کر دیے گئے تھے،کے برخلاف 1949 کو قرارداد مقاصد کو پاکستان کے آئندہ منظور ہونے والے آئین کی بنیادی دستاویز بنانے میں کامیاب رہے۔
قائد اعظم کی سوچ اس بارے میں مکمل صاف تھی کہ پاکستان ایک جمہوری اور فلاحی اسلامی ریاست ہوگی،جس میں اقلیتی برادریاں برابر کی شہری ہونگی ۔انہوں نے ریاست پاکستان کے آئین کی تشکیل کے لئے جو بنیادی خدوخال طے کئے تھے ،وہ ان کی 11 آگست والی تقریر کے اس اقتباس سے نمایاں ہیں۔
” ﺁﭖ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ۔ ﺁﭖ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﺫﺍﺕ ﯾﺎ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﮨﻮ۔ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ”۔
قائد اعظم کے ویژن کے مطابق جو پاکستان تھا،اس میں تقریباً پچیس فیصدی اقلیتی آبادی شامل ہوتی،اور ان کے اس خواب کے مطابق اتنے بڑے انتقال آبادی کی ضرورت بالکل نہ پڑتی ،جو کہ بنگال اور پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے اچانک بھڑک اٹھنے والے خونیں فسادات کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا۔اس کے بعد پاکستان میں اگرچہ اقلیتوں کا وہ تناسب نہ رہا،مگر پھر بھی مشرقی پاکستان میں تقریباً دس فیصدی ہندو اقلیتی برادری باقی رہی۔قائد کی سوچ کے برخلاف قرار داد مقاصد کو دستور کی اساس بنانے اور ایک ہی اکثریتی مذہب کی شناخت پر اصرار نے ایک متنوع اور تکثیریت پر مبنی پاکستانیت کی تشکیل کرنے کے قائد اعظم کے خواب کو ابتداء میں ہی دفن کر دیا۔ یوں ایک ایسا پاکستان جس کے پہلے وزیر قانون ہی ہندو اقلیتی برادری کے نمائندے جوگندر ناتھ منڈل تھے،جہاں پر ہر ایک کے لئےجمہوریت،مساوات اور سماجی انصاف کا خواب دیکھا گیا تھا،کو ایک تنگ نظر مذہبی ریاست میں بدلنے کی ا بتداء ہوئی ،جس نے اقلیتوں کو مرکزی قومی دھارے سے دور کر دیا۔یوں قیام پاکستان کے ساتھ ہی فرقہ واریت کے مسئلے کی بنیاد رکھ دی گئی،جس نے آگے چل کر ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔
آزادی کے وقت پاکستان اور ہندوستان کے حصے میں تقریباً ایک جیسے ہی مسائل آئے تھے۔دونوں ملکوں میں کئی مذہبی،نسلی اور لسانی اکائیاں آباد تھیں۔تیس کروڑ آبادی اور لاکھوں مربع میل پر پھیلے اس وسیع ترین خطے میں ہزاروں بولیاں اور سینکڑوں زبانیں رائج تھیں۔رسوم و رواج الگ تھے،ثقافتیں مختلف تھیں،اب نئی شناختوں کے ساتھ سبھی قومیتوں کو ایک ہی مشترکہ قومیت کی لڑی میں پرونے کا کام دونوں ملکوں میں جاری تھا۔ہندوستان میں،ملک کو آئینی طور پر سیکولر جمہوریہ قرار دے کر مذہبی مسئلے سے خوش اسلوبی سے نمٹ لیا گیا تھا،اور ان کے ہاں سترہ بڑی زبانوں کو بیک وقت قومی زبانیں قرار دے دیا گیا،اور اس کے ساتھ ہی آٹھ بڑے صوبوں اور سینکڑوں دیسی ریاستوں کو ملا کر اپنی انتظامی و جغرافیائی ضرورتوں کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کا کام شروع کر دیا
گیا تھا۔ادھر ہمارے ہاں،کسی بھی وسیع تر مشاورت کے بغیر 1948 میں حکومت نے اردو کو سرکاری زبان قرار دے دیا۔حکومت کے عجلت پسندی میں اٹھائے گئے،اس یکطرفہ اقدام نے مختلف لسانی اکائیوں میں اپنی شناخت کے متعلق خدشات پیدا کر دیے،اور ریاست کے ایک ایسی زبان کو قومی زبان کے طور پر اپنانے کے اصرار نے،جو مختلف اکائیوں کے لئے مکمل اجنبی تھی ،ردعمل کے طور پر تمام لسانی اکائیوں کو اپنی زبان کے تحفظ کے لئے مزاحمت کرنے پر مجبور کر دیا۔مشرقی پاکستان میں رہنے والوں کی مجبوری یہ تھی کہ وہ اردو زبان سے بالکل نا آشنا تھے۔اس کا رسم الخط تک ان کے لئے مکمل اجنبی تھا،اور ایک انتہائی جامع مادری زبان بنگالی کی موجودگی میں ایک نئی اور بدیسی زبان زبردستی ان پر ٹھونس دینا کہیں سے بھی دانش مندانہ فیصلہ نہیں تھا۔نتیجتاً مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کے تحفظ ،و ترویج اور اسے سرکاری و دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کے لئے تحریک کا آغاز ہوا۔21 فروری 1952 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علموں اور کچھ سیاسی جماعتوں نے بنگلہ زبان کو قومی زبان قرار دلوانے کے مطالبہ کو لے کر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔حکومت اس طرح کے احتجاجی جلسے جلوسوں پر پہلے ہی پابندی لگا چکی تھی۔نتیجتاً پولیس نے بپھرے ہوئے طلباء کو سختی سے قابو کرنے کی کوشش کی ،بالآخر پولیس کی طرف سے گولی چلا دی گئی،جس سے کئی لوگ موقع پر ہی مارے گئے۔اس دلخراش واقعے نے پورے مشرقی پاکستان میں آگ لگا دی۔اگرچہ بعد از خرابی بسیار 1956 میں مرکزی حکومت نے بنگالی زبان کو بھی اردو کے ساتھ ساتھ سرکاری زبان قرار دے دیا،لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی، بنگالیوں کے سینے پر لگا گھاو کبھی بھی نہ بھر سکا۔چنانچہ بعد ازاں، یہی لسانی تحریک ،آگے چل کر بنگالی قوم پرستی کی تحریک میں ڈھل گئی،جو بد قسمتی سے 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوئی۔
باقی ماندہ پاکستان میں سے بھی،کسی بھی علاقے کی مادری زبان اردو نہیں تھی،مغربی پاکستان کے ہر صوبے میں وہاں کی ترقی یافتہ زبانیں اور تہذیب و ثقافتیں موجود تھیں۔پنجاب کی مادری زبان، پنجابی،سرحد سے لے کر دہلی تک بولی اور سمجھی جاتی تھی،جبکہ سندھ والوں کی سندھی زبان انتہائی قدیم زمانے سے پھلتی پھولتی آ رہی تھی،اسی طرح پشتو پاکستان کے دو صوبوں،سرحد اور بلوچستان میں مستعمل تھی،تو باقی علاقائی زبانیں جیسا کہ بلوچی، ،براہوی،شینا،کشمیری،بلتی،چترالی اور ہندکو وغیرہ بھی قدیم زمانے سے اپنے اپنے علاقوں میں رائج تھیں۔اردو ان سب علاقوں کے لئے نسبتاً نئی اور قدرے انجان بولی تھی۔یہ عملی طور پر تو صرف تقسیم کے وقت ،یوپی،سی پی،دہلی اور بہار کے علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والوں کی زبان تھی۔دراصل آزادی سے بہت پہلے اردو ،ہندی زبان کے تنازعے کے دور میں مسلمانوں کے کئی حلقوں نے اردو کو اپنی شناخت کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تھا،جس کی وجہ سے نئے ملک پاکستان میں کسی وسیع تر مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کئے بغیراسے واحد قومی زبان کے طور پر رائج کرنے کی کوشش کی گئی۔جو کہ بالکل ایک غیر فطری بات تھی۔جس کا نتیجہ مزاحمت کی صورت میں نکلنا یقینی تھا۔
ایک قومی وحدت میں نہ ڈھل سکنے کی ایک بہت بڑی وجہ 14 اکتوبر 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کا غیر دانشمندانہ فیصلہ بھی تھا۔جس کی رو سے ملک کو دو انتظامی حصوں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں تقسیم کر دیا گیا۔اس اقدام کو بھی لوگوں نے اپنی خود مختاری پر حملہ تصور کیا۔
سب سے پہلے تو وہ دیسی ریاستی،آزادی کے وقت جن سے ان کی خود مختاری کے احترام کا وعدہ کیا گیا تھا،اس اقدام سے ان کی خود مختارحیثیت ختم کر دی گئی۔ان میں ریاست بہاولپور،خیر پور اور ریاست قلات نمایاں تھیں۔اس اقدام سے ان ریاستوں کے باشندوں میں ناراضگی پیدا ہوئی اور ان کے اندر بے بسی کے احساس نے جنم لیا۔ایک ایسے وقت میں جبکہ نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹ ،جیسا کہ پڑوسی ملک بھارت میں بنائے جا رہے تھے،بنانے کی ضرورت تھی ،تاکہ ان علاقوں کے لوگ سہولت کے ساتھ اپنے اپنے معاملات چلا سکیں،اور مقامی طور پر اپنے اپنے علاقوں کی تعمیر وترقی میں شریک ہوں،غیر فطری طور پر اتنے وسیع وعریض خطے کو ایک بے معنی اور غیر منطقی اکائی میں تبدیل کر دینا سمجھ سے بالاتر بات تھی۔درحقیقت اس وقت اس اقدام کا اصل مقصد مشرقی خطے کی لسانی و سیاسی وحدت کا توڑ کرنا تھا۔اس وقت لوگوں کو انتظامی سہولت کی ضرورت کی نوید سنا کر اس بے مقصد اقدام کو قبول عام بنانے کی کوشش کی گئی۔اس اقدام سے پاکستان کی تمام چھوٹی اکائیوں کی شناخت پر کاری ضرب لگی،اور انہیں اپنے غیر متعلق اور بے بس ہونے کا شدید احساس ہوا۔اس پر مزید ستم یہ ہوا کہ 1958ء کی فوجی بغاوت کے بعد وزیراعلیٰ کا عہدہ ختم کر کے فوجی صدر ایوب خان نے اختیارات اپنے قبضے میں لے لئے۔اس اقدام سے ملک کے دونوں حصوں میں لوگوں کی فیصلہ سازی میں شمولیت کا رہا سہا امکان اور بھرم بھی ختم ہو گیا۔اور اپنی تہذیب و شناخت کے چھن جانے کا احساس قوی تر ہوتا گیا۔
بد قسمتی سے وہ ملک جو جمہوری طریقے سے ووٹ کی طاقت سے معرض وجود میں آیا تھا،اور جس میں جمہوریت اور سب کے لئے مساوی حقوق کا خواب دیکھا گیا تھا،اس سے جمہوریت کا پودا ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔1970ء میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل یحییٰ خان نے ایک لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا،جس کے تحت ون یونٹ کو ختم کر دیا گیا،جس کے نتیجے میں صوبے تو بحال ہو گئے، مگر ریاستوں کو بحال نہیں کیا گیا،اور انہیں صوبوں میں ضم کر دیا گیا۔اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنے وسیع و عریض ملک کو پانچ صوبوں سے مزید چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کر دیا جاتا،جیسا کہ ہندوستان میں کیا گیا،تاکہ صوبائیت کے زہر کو پھیلنے سے روک دیا جاتا،مگر ایسا نہیں  کیا گیا۔
1970کے انتخابات کے بعد بدقسمتی سے اکثریت کا مینڈیت تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے ،ملک کا مشرقی بازو ہم سے علیحدہ ہو گیا۔باقی ماندہ پاکستان کے لئے 1973 ء میں نیا آئین منظور ہوا،جس کے تحت ملک کا نیا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔دو ایوانی پارلیمانی جمہوریت ،کہ جس میں حکومت کا سربراہ ایک وزیراعظم ہو گا،کے ذریعے سے ملک کا انتظام چلانا طے پایا۔اس آئین کے تحت مرکزی حکومت کے پاس زیادہ اختیارات رکھے گئے،صوبہ کی سطح پر صوبائی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کے بعد کی تاریخ مختلف تجربوں کی تاریخ ہے۔مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نئے ملک کے پہلے وزیراعظم بنے،جو کہ سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے،سب سے پہلے اچھی بھلی پھیلتی پھولتی ملک صنعت کو قومیا لیا گیا،اور اپنی پارٹی کے جیالوں کے حوالے کر دیا گیا ،جس سے ملک کی صنعتی ترقی کا پہیہ ٹھپ ہو گیا۔ان کے اس اقدام سے سب سے زیادہ پنجاب اور کراچی کے صنعتی و کاروباری افراد متاثر ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی منتخب حکومتوں کو بر طرف کر کے وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے قیام کی کوششیں شروع کیں ۔بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کروا دیا گیا۔جس کے نتیجے میں ،اس صوبے میں مرکز سے نفرت پروان چڑھی۔نئے آئین میں پھر اردو کو بتدریج سرکاری اور دفتری زبان بنانے کا وعدہ کیا گیا،اور مقامی زبانوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا،مگر عملاً انگریزی ہی دفتری،عدالتی اور سرکاری زبان کے طور پر رائج رہی ۔اسی دور میں بلوچستان کے لوگوں میں احساس محرومی بڑھا ،اور صوبہ سرحد میں پختونستان کی تحریک شروع ہوئی۔ بھٹو کے دور حکومت میں ہی تحریک نظام مصطفیٰ شروع ہوئی،جس کے نتیجے میں پاکستان کی پارلیمان نے جماعت احمدیہ کے لوگوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ملک میں بالغ رائے دہی کے نظام کے باوجود اقلیتیوں کے لئے جداگانہ انتخاب کا نظام اپنایا گیا،ان اقدامات سے مذہبی طبقہ تو مطمئن ہوا مگر ملک میں مذہبی انتشار بڑھ گیا۔جولائی 1977 ء کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے ملک میں پھر مارشل لاء لگا دیا،لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے،اور جمہوریت کا بوریا بستر لپیٹ دیا گیا۔مسٹر بھٹو کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا،جہاں سے ایک قتل کے مقدمے میں پھنسا کر1979 میں ان کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔کیونکہ بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا ،چنانچہ اس کے بعد سندھ میں سندھی قوم پرستوں نے سندھو دیش کی تحریک شروع کی،ان کے زور کو توڑنے کے لئے کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے ایک لسانی جماعت کھڑی کروائی گئی۔اب جہاں سندھ میں آباد پنجابی اور مہاجر آباد گاروں کو تشدد اور جبر کے ذریعے سے سندھ سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا،وہی کراچی میں،سندھی ،پٹھان،پنجابی اور مہاجر کا خونی  جھگڑا شروع ہوا۔بد قسمتی سے اسی دور میں ملک میں شیعہ سنی مسلکی جھگڑے بھی شروع ہو گئے۔کسی نہ کسی سطح پر ریاست بھی اکثریتی فرقے کی پشت پناہی کرتی رہی ۔یہ کلی طور پر پاکستانی معاشرے کے انتشار کا دور ثابت ہوا،جہاں ایک طرف مختلف صوبوں میں،نسلی طور پر قوم پرستی کی مضبوط تحریکیں چل رہی تھیں،تو دوسری طرف لسانی طور پر برسر پیکار گروہ اور تنظیمیں ،ایک دوسرے کا خون بہا رہی تھیں۔تیسری طرف مسلکی لڑائیوں میں ملوث ملک ایک دوسرے کے خلاف طاقت حاصل کرنے کے لئے دھڑا دھڑ اپنے اپنے مسلک سے متعلق اداروں،شخصیات اور مدرسوں کو دل کھول کر پیسہ دے رہے تھے۔اور آخری اور تباہ کن اقدام یہ ثابت ہوا کہ ضیاالحق حکومت نے امریکہ اور سوویت روس کی جنگ میں امریکی حکومت کے اتحادی کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔،یوں جہاں ایک طرف سے تو دنیا بھر کے جنگجو اور مذہبی شدت پسندوں کو امریکی سی آئی اے کی نگرانی میں جہاد کے نام پر پاکستان میں اکٹھا کیا گیا،جبکہ دوسری طرف ایک مخصوص مکتبہ فکر کے مدارس کا دھڑا دھڑ قیام عمل میں لا کر سعودی پیسے اور امریکی تربیت اور ہتھیاروں سے مقامی جہادی گروہوں کی کھیپ تیار کر کے افغانستان کی جنگ میں جھونک دی گئی۔اس پالیسی کے تباہ کن اثرات سے پاکستان آج تک باہر نہیں نکل سکا۔1988 میں جنرل ضیا الحق کی طیارہ حادثہ میں موت کے بعد مختصر وقت کے لئے لولی لنگڑی جمہوری حکومتوں کا دور آیا ،جن میں مذہبی ،لسانی لڑائیاں اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری جاری رہی،جس کے بعد اکتوبر 1999میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے پھر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔اس کے دور حکومت میں کراچی سرگرم عمل لسانی تنظیم ایم کیو ایم کو خوب کھل کھیلنے کا موقع ملا ،اور انہوں نے ہزاروں بے گناہوں کا خون بہایا۔بلوچستان میں بزرگ بلوچ لیڈر نواب اکبر خان بگٹی کو ایک فوجی ایکشن میں قتل کر دیا گیا،جس کے بعد احساس محرومی اور پسماندگی کے شکار اس وسیع و عریض صوبے میں علیحدگی پسند مسلح بلوچ تنظیموں کی جدو جہد شروع ہوئی۔اسلام آباد میں لال مسجد واقعے کو بنیاد بنا کر شدت پسند مذہبی تنظیموں نے ملک کے اندر اپنی مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا،جس کے نتیجے میں ستر ہزار پاکستانیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑا۔اور حال میں ہی کراچی میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود کی المناک موت کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ شروع ہوئی۔
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کو اگر مختصراً دیکھ لیا جائے، تو یہی بات سامنے آتی ہے،کہ ابھی تک ہم یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے،کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہماری شناخت کیا ہونی چاہیے ؟۔
شروعات ایک جمہوری ریاست سے ہوئی،پھر پتا چلا کہ نہیں اسے تو ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے تھا،پھر ،آئین جیسی بنیادی دستاویز پر ہی اتفاق رائے نہ ہو سکا،پہلے1956میں آئین بنا پھر 1962ء میں اور بالآخر 1973ء میں،اس کے بعد بھی آئین کی چیر پھاڑ کا کام جاری رہا۔نظام حکومت کے طور پر کبھی صدارتی نظام کا تجربہ کیا گیا،تو کبھی پارلیمانی جمہوریت کا ،کبھی ون یونٹ تو کبھی صوبے،اور بیچ میں فوج نے جب چاہا ،سیاست کی ساری بساط ہی لپیٹ دی۔کبھی مغربی جمہوریت اپنائی گئی،تو کبھی سوشلزم اپنا لیا گیا،کبھی اسلامی نظام کا دھوکہ ملا تو کبھی روشن خیالی کی گولی دی گئی۔اگر نہیں دیے گئے تو لوگوں کو بنیادی حقوق نہیں دیےگئے،ان بنیادی شناختوں کا احترام نہیں کیا گیا،انہیں انصاف سے محروم رکھا گیا،ان کی رائے کو احترام نہیں دیا گیا،ان پر ذبردستی کی گئی،اور مشاورت کے عمل سے انہیں محروم رکھا گیا۔
آئین پاکستان کے مطابق اب پاکستان ایک اسلامی جمہوری مملکت تھا،جس کےعوام کو ووٹ کے ذریعے سے اپنے حکمران چننے کا اختیار تھا،لیکن عوام کے اس بنیادی اختیار پر بار بار شب خون مارا گیا ۔اب بھی یہی صورتحال ہے ،کہ کچھ طاقتور ادارے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق بھی دینے پر تیار نہیں۔لوگ اپنے آپ کو غیر متعلق سمجھتے ہیں۔لوگوں کی انصاف تک رسائی نہیں ہے،اور لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں،اور ایک ایسی ریاست جو کہ ابھی تک اپنی پہچان کے بارے میں بھی یکسو نہیں ہے،اس کے رہنے والے اپنی بقا اپنی بنیادی شناختوں ،جیسا کہ پنجابی،پٹھان،بلوچی،سندھی،سرائیکی اور مہاجر ،میں ڈھونڈتے ہیں۔
یہ بالکل ایک سادہ سی بات ہے،کہ ریاست کی حیثیت اپنے لوگوں کے لئے ایک ماں کے جیسی ہوتی ہے۔اور کسی بھی ریاست میں بسنے والی،نسلی اور لسانی اکائیاں اس ماں کی اولاد کی طرح ہوتی ہیں۔جن کی پہچان کے لئےان کے الگ الگ نام ہوتے ہیں۔ماں اپنی اولاد کو پہچان کے لئے مختلف نام دیتی ہے،اور ان کے ناموں کی محافظ ہوتی ہے۔اور کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ،ماں ان کے ناموں کو اپنے نام اور پہچان کے لئے خطرہ سمجھ کر ان کے نام مٹانے پر تل جائے،اور ایک ہی نام سے پکارے جانے پر اصرار کرے۔بد قسمتی یہاں ہمیشہ ایسا ہی کرنے کی کوشش کی گئی۔ردعمل کے طور پر لوگ اپنی شناختوں کے معاملے پر ذیادہ حساس ہو گئے،اور ہم ایک متحدہ قوم بننے میں کافی حد تک ناکام رہے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *