• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 15 مہینوں میں پاکستان کی صورتحال اور اصلی تبدیلی کیوں ضروری ہے؟۔۔غیور شاہ ترمذی

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 15 مہینوں میں پاکستان کی صورتحال اور اصلی تبدیلی کیوں ضروری ہے؟۔۔غیور شاہ ترمذی

وزیر اعظم عمران خان نے اکتوبر کے دوسرے عشرے کے اختتام پر تسلسل سے کئی ٹویٹ کیے جس میں اس نے اپنی ”دیسی آئی ایم ایف کی ٹیم“ کو معاشی صورتحال میں ایک سال میں ”تبدیلی“ لانے پر مبارک باد دی ہے۔ اس تبدیلی اور عمران حکومت کے معاشی بحالی کے دعوؤں میں وہی حقیقت ہے جو مارکیٹ میں فروخت ہونے والے 300 روپے کلو والے ٹماٹر کو مشیر خزانہ حفیظ شیخ 17 روپے کلو کا بتا رہے تھے۔ عمران خان اور اس کی کابینہ کا ایک دوسرے کو نام نہاد معاشی بحالی پر مبارکبادیں دینا صرف اور صرف بے حسی کے ساتھ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ ان دعوؤں کی حقیقت کا اندازہ اتوار بازاروں اور مارکیٹوں میں عوام کی کسمپرسی اور بے چارگی سے لگایا  جا سکتا ہے۔

درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام خود عوام کے ساتھ ایک گھناؤنے اور بھیانک مذاق سے کم نہیں جس کی نظر میں لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی انفرادی ضروریات مہیا کرنا معاشی بحالی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ان اعشارئیوں اور اہداف کا حصول معاشی بحالی ہے جن کو یہ میکرو اکنامک انڈیکیٹرز کہتے ہیں اور جن کی بہتری کے لئے قربانی کا بکرا دولت مندوں کے بجائے عوام کو بننا پڑتا ہے۔ عمران خان  حکومت کے گزشتہ سوا سال کے دوران اقدامات سے یہ بھی ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ کون سی معاشی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں؟۔ ملک کے افراد کو بھوک و ننگ کی جھولی میں ڈال کر سرمایہ دارانہ ساہوکاروں کی قسطیں پوری کرنا کیا معاشی تبدیلی ہے؟۔ پہلے ہی سال 10 لاکھ لوگوں کو بے روزگار اور 40 لاکھ لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے پھینکنے کا نام معاشی تبدیلی ہے؟۔ کیا عمران خان یہ نہیں جانتے کہ اگلے سال مزید 8 لاکھ لوگ بے روزگار اور 40 لاکھ مزید لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے ہیں؟۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہ معاشی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی معاشی خودمختاری کا سودا اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کو ملک گروی رکھوانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزارتِ خزانہ اور سٹیٹ بینک دونوں براہ راست آئی ایم ایف کے نمائندوں کو دے دیئے گئے۔ کیا لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے وقت عمران خان کو یہ احساس نہیں ہوا کہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر 2019ء تک 11.4 فیصد مہنگائی ریکارڈ کی گئی جس کا بڑا سبب خوراک اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ ملک میں سٹیٹ بینک کی سود کی شرح 13.25 فیصد جبکہ کاروباری افراد کیلئے 18 فیصد کے قریب ہے۔ کیا عمران خان اپنے آقاؤں کی ان رپورٹوں سے بھی نابلد ہیں جس میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پاکستان کے شرح نمو (GDP growth rate) مزید گرنے اور اگلے تین سالوں تک معاشی سست روی کے جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے اور کیا یہ سب جاننے کے لئے کسی معاشی ادارے کی رپورٹ کی ضرورت ہے جبکہ منڈی اور بازار کا ایک چکر آپ کو لوگوں کی بے چارگی اور کسمپرسی کی ساری تصویر واضح کر دیتا ہے۔ حیرانگی ہے کہ پھر یہ کیسے سنگ دل لوگ ہیں جو اس ڈھٹائی سے عوام سے ایسا تلخ مذاق کر سکتے ہیں۔

عمران خان صاحب اور ان کے مشیران، معاشی تبدیلی درآمد شدہ اشیاء کو ملک میں بنانے (import substitution) کو کہتے ہیں۔ یہ درآمدات پر ڈیوٹیاں لگا کر معیشت کیلئے ضروری خام مال مہنگا کر کے مینوفیکچرنگ کا گلہ گھونٹنے کو نہیں کہتے تو خان صاحب بتائیں، اس سلسلے میں ان کی کیا کارکردگی ہے؟۔ معاشی تبدیلی ڈالر کی بنیاد پر مبنی بین الاقوامی تجارت سے ناطہ توڑ کر سونے اور چاندی کی بنیاد پر تجارت کو کہتے ہیں جو مہنگائی کی بھی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ معاشی تبدیلی چند فیصد برآمدات بڑھا کر ڈالر جمع کرنے اور اسے آئی ایم ایف اور چین کو قسطوں میں دینے کو نہیں کہتے تو اس سلسلے میں عمران خان کی حکومت کی کیا پیش رفت ہے؟۔ معاشی تبدیلی سود کو کم سے کم کرنے جیسے انقلابی اقدامات کرنے اور غریب عوام پر بالواسطہ اور بلا واسطہ تمام ٹیکس ختم کرنے کو کہتے ہیں جس سے معاشی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ  ہوتا ہے۔ یہ شرح سود اور ٹیکس بڑھا کر طلب میں کمی (demand contraction) کو نہیں کہتے، جو معیشت کا بھٹہ بٹھا دیتی ہے۔ شرح سود اور ٹیکس بڑھانے کے بعد کس معاشی تبدیلی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں؟۔

معاشی تبدیلی استعماری قرضوں کے کوکین کے نشے سے انکار کا نام ہے، اس کے عادی نشئی بننے کا نہیں جبکہ اس حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ مجموعی قرضوں میں جون 2019ء تک ایک سال میں 11 ہزار ارب جبکہ بیرونی قرضوں میں 6 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ دوسری طرف یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ اگر مہنگائی میں اسی شرح سے اضافہ ہوتا رہا تو پاکستان اپنے سرکاری شرح سود جو کہ 13.25 فیصد ہے پر قائم نہ رہ سکے گا اور اسے یہ بڑھا بھی پڑ سکتا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ لوگوں کی قوت خرید کم کر دیتا ہے جس کا ناگزیر اثر یہ ہے کہ شہریوں کی آمدن کا ایک بڑا حصہ بنیادی ضروریات کی اشیاء و خدمات کی خریداری پر خرچ ہو جاتا ہے اور وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ لگژری اشیاء و خدمات پر خرچ کر سکیں جس کا نقصان یہ ہے کہ ان لگژری اشیاء و خدمات کی ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کی کل قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں کمی آ جاتی ہے۔

اسی طرح مانیٹری پالیسی کا یہ اصول ہے کہ لوگوں کے پیسوں کی اصل ویلیو (Time Value of Money) کی بھی حفاظت کی جائے۔ مثال کے طور پر اگر 2017 ء میں میرے پاس 100 روپے تھے جس سے میں فرض کیا دس سیب خرید سکتا تھا۔ اگر 2018 ء میں 10 فیصد مہنگائی ہوئی اور میں صرف 9 سیب خرید سکا تو اس کا مطلب ہے کہ میرے 100 روپے (Money) کی ایک سال (Time) میں قوت خرید (ویلیو) 10 فیصد کم ہوئی ہے۔ ٹائم ویلیو آف منی کا سب سے زیادہ اثر سیونگ یعنی بچت پر ہوتا ہے اس لئے سنٹرل بنکس سیونگ پر شرح سود مہنگائی کی شرح سے کچھ زیادہ ہی رکھتی ہیں۔ یہ کنونشنل مانیٹری پالیسی کا اصول ہے۔ پاکستان جیسا ملک جہاں سیونگ پہلے ہی کم ہے اور دوسری طرف آئی ایم ایف جیسے ادارے حکومت کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مانٹری پالیسی میں ڈسپلن قائم کرے، شرح سود بھی شرح مہنگائی میں کمی سے کم ہوتا اور اس میں اضافے سے بڑھتا ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شرح مہنگائی بڑھتی گئی تو شرح سود بڑھتا جائے گا، اگر شرح سود بڑھتا گیا تو سرمایہ کاروں کے لئے بنک سے قرض پر سود (Borrowing cost) بھی بڑھتا جائے گا۔ اب اگر ان سرمایہ کاروں کی نفع پر شرح، سود کی شرح سے زیادہ ہوئی تو وہ قرض لیں گے وگرنہ نہیں لیں گے۔ فی الحال اگر سنٹرل بنک کی شرح سود 13.25 فیصد ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بنک بڑے کاروباری اداروں کو تقریبا 14 فیصد پر قرض دے رہے ہوں گے اور درمیانی لیول کے کاروباری اداروں کو سترہ یا اٹھارہ فیصد پر دے رہے ہوں گے۔

یاد رہے کہ بنک اپنا شرح سود اپنے رسک لیول کو دیکھ کر دیتے ہیں۔ جہاں ڈیفالٹ کا رسک زیادہ ہوتا ہے وہاں شرح سود زیادہ لگائی جاتی ہے اور جہاں کم وہاں سود کی شرح کم لگائی جاتی ہے۔ بڑے کاروباری ادارے نسبتاً  محفوظ ہوتے ہیں اس لئے وہاں شرح سود بھی کم ہوتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانی سطح کے کاروباری اداروں میں ڈیفالٹ کا رسک زیادہ ہوتا ہے اس لئے پریمیم (شرح سود) بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہاں surveillance کاسٹ بھی زیادہ ہوتی ہے۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ جہاں ایک طرف قوت خرید کو کم کرتا ہے دوسری طرف انڈسٹریل سرگرمیوں کو شرح سود میں اضافے کے سبب بھی کم کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں قومی پیداوار کم ہوتی ہے۔ اسی لئے مہنگائی ایسا فیکٹر ہے جو جتنی بڑھتی ہے معیشت دانوں کی معیشت کے ضمن میں پریشانی بھی بڑھتی جاتی ہے۔

حکومت اگر یوٹیلٹی بلز میں اضافے کا بوجھ عوام پر نہ ڈالے تو مہنگائی کی شرح میں اتنا اضافہ نہ ہو جتنا ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے ماہ صرف گیس کی قیمتوں میں 114.64 فیصد اضافہ ہوا ہے – اسی طرح پٹرول کی قیمتیں جنہیں اوگرا سیٹ کرتی ہے میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے – گیس اور پٹرول کی قیمتوں کی ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر اثر ہے جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ سروسز کے کرایوں میں 11.5 فیصد اضافہ ہوا ہے – بالکل اسی طرح جب تیل و گیس کی قیمتوں میں اس لیول پر اضافہ ہو گا تو اس پر انحصار کرنے والی دیگر اشیاء و خدمات کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گا جس سے ان کی قیمتیں بڑھیں گی اور مہنگائی میں مزید تیزی آئے گی – یاد رہے کہ حکومت تیل و گیس کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں تیل و گیس کی قیمتوں کے مطابق طے نہیں کر رہی بلکہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ریونیو (جسے ایف بی آر نان ٹیکس ریونیو کہتا ہے) اکٹھا کرنا ہے – حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ موجودہ دور زبوں حالی معیشت میں اس کی پالیسیاں سارے میکرو اکنامک اسٹرکچر کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں اور کاروبار پر لاگت (Cost of doing business) اور معیار زندگی پر خرچ بڑھ رہا ہے۔

یہ حقیقت کوئی نہ بھولے کہ دنیا کا سب سے زیادہ چرب زبان آدمی بھی کسی بھوکے کو اس بات پر قائل نہیں کر سکتا کہ اس کا پیٹ بھرا ہوا ہے اس لئے ممکن ہو تو ایک کروڑ نوکریوں اور 50لاکھ گھروں جیسی گپیں چھوڑنے سے بچا جائے کیونکہ ایسے کھوکھلے دعوے عوامی فرسٹریشن اور غصے  میں اضافے  کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ حقیقی زمینی صورتحال تو یہ ہے کہ معیشت تھوڑی بہت سنبھل بھی جائے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں، تھوڑی بہت سے کچھ زیادہ بہتر بھی ہو جائے تو عام آدمی کو قرار نصیب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹیکس ہدف حاصل کرنا کسی چیلنج سے کم نہ ہو گا۔سرمایہ کاری جمود کا شکار۔پانی کی قلت سے زرعی شعبہ بے حال ہو رہا ہے۔توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مالیاتی خسارہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ان حالات میں تو کوئی پشتینی اور پیدائشی جھوٹا بھی کسی قسم کی ”معاشی نوید مسرت“ سنانے کی جرأت نہیں کر سکتا تو یہ کون لوگ ہیں جو پے در پے ایسا جھوٹ بول رہے ہیں جو قدم قدم پر رنگے ہاتھوں پکڑا جائے گا۔

مؤقر انگریزی روزنامہ کی خبر ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں گندم اور آٹے کی شدید قلت ہے۔ اس کو ڈسٹرکٹ سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کوہاٹ میں بھی یہی حالت ہے۔ دوسری طرف پنجاب میں گندم صوبے سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس خبر کے بہت سے پہلو ہیں جن سے پچھلی تمام حکومتوں کی نااہلی اور عوام کے مسائل سے لاتعلقی نظر آتی ہے۔ اور ملکی سالمیت کے لئے خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔جی ڈی پی کا تقریبا” 45فیصد زراعت کے شعبے سے منسلک ہے۔ لیبر فورس کا تقریباً  50 فیصد حصہ بھی زراعت کے شعبے سے اپنی روزی کماتا ہے۔یہاں عوام کے لئے خوراک کی کمی کا کوئی جواز نہیں سوائے اس کے کہ حکمران طبقہ کو عوام کی کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے اسکے لئے نہ کوئی پلاننگ کی ہے اور نہ آئندہ کرنے کا ارادہ ہے۔ ابھی تک زراعت کا نظام ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 100 سال پیچھے ہے۔ زرعی الات، آبپاشی کے طریقے، بیجوں کی قسمیں، خوراک کی سٹوریج وغیرہ سب شامل ہیں۔ لیکن اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ زمین کے بارے میں کوئی جامع پالیسی نہیں ہے۔ زمین کو ایک سٹریٹجک اثاثے کے طور پر نہیں بلکہ امیروں کو مزید امیر بنانے اور اس پر جوا کھیلنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ جس کا دل چاہتا ہے زمین خرید کر گھروں کی سوسائٹیاں اور بڑے بڑے محلات بنا دیتا ہے، زرعی زمینیں فارم ہاؤسوں کی نظر ہو رہی ہیں۔ امیروں نے زمینیں خرید کر ایسے ہی چھوڑی ہوئی ہیں۔ زمین کا ایک بہت بڑا حصہ جو کاشت ہو سکتا ہے، بے کار پڑا ہے اور غیر ملکیوں کو زمین خریدنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں حتیٰ کہ معاملہ خانہ جنگی تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں جہاں تک سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ اگر 70 سال سے اقتدار پر اصلی قابض اسٹیبلشمنٹ نے کچھ نہیں کیا تو آئندہ بھی اس کی امید نہ رکھیں۔ اگر ہم پاکستان کی سالمیت چاہتے ہیں اور اس خطے کے لوگوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو پڑھے لکھے لوگوں کو خود سیاست میں آنا ہو گا۔ اس ملک میں فیصلہ کرنے کا اختیار اگر اسٹیبلشمنٹ سے واپس لے کر اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

یہ واضح ہے کہ حکومت کو اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے بہتر اقدامات کرنے ہوں گے وگرنہ ساری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے گی۔ اس سنگین صورتحال کو سمجھنے کے لئے ایک بنیادی اصول ہے کہ جب تک اقتصادی شرح نمو اور آبادی شرح نمو کا جائز، ناجائز تعلق اور تال میل طے نہیں ہو جاتا تب تک کوئی بھی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ ہر وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے جو عوام کو آنے والے دنوں میں معاشی استحکام کی خوشخبریاں سنا رہا ہے۔ یہ ناممکن ہو گا اور ایک ایسا ہدف ہے جسے حاصل کرنا ممکن ہی نہیں۔ حکومت کی کوئی سوکن نہیں، سٹیٹ بینک کہہ رہا ہے کہ معاشی نمو نچلی ترین سطح پر ہے اور مہنگائی بارہ فیصد تک پہنچ جانے کے امکانات روشن ہیں۔ مزید خوشخبریاں یہ ہیں کہ برآمدات 9 ارب 25 ڈالر کے اردگرد رہیں گی۔ اسے کاؤنٹر کرنے کی عجیب پالیسی یہ بنائی جا رہی ہے کہ درآمدات پر پابندی لگا کر اس خلاء کو ختم کیا جا سکے۔ عمران حکومت پچھلے سوا سال سے جس تجارتی خسارے کی دہائیاں دے رہی ہے، اس کی وجہ بین الاقوامی تجارت میں ڈالر کی اجارہ داری کو قبول کرتے ہوئے پاکستانی کرنسی کو ڈالرسے منسلک کرنا ہے، جس کے باعث امپورٹس جب ایکسپورٹس سے مسلسل زیادہ ہوں تو ڈالروں کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور مزیددرآمدات اور قرضوں کی واپسی کے لئے ڈالر کم پڑ جاتے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل ضروری امپورٹس پر مزید ڈیوٹیاں اور ٹیکس لگا کر ملکی معیشت کا گلا گھونٹنا، مزید قرضے لینا اور ایکسپورٹ انڈسٹری قائم کرنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ ڈالر کمائے جاسکیں۔ مگر مسئلہ کا حل مکمل طور پر یہ نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنی اپروچ میں فوری اور ڈیمانڈنگ تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

ہمیں سمجھنا ہو گا کہ خود کو تبدیل کئے بغیر اور نئی ٹیکنالوجی کو قبول کئے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہ سنہ 1998ء کی بات ہے۔ کوڈک میں 1 لاکھ 70 ہزار ملازمین کام کر رہے تھے۔ دنیا میں بننے والے پیپر کا %85 پیپر فوٹو کی صورت میں فروخت کرتے تھے لیکن کچھ ہی سالوں میں ڈیجیٹل فوٹو گرافی نے انہیں بازار سے نکال دیا۔ کوڈک دیوالیہ ہو گیا اور اس کے تمام ملازمین سڑک پر آگئے۔ یہ صرف کوڈک ہی کی نہیں بلکہ HMT Watch, BAJA Scooters, DYNORA TV, MURPHY Radio, NOKIA Mobile, RAJDOT M/Cycle, AMBASDOR Car, DINESH Cloth جیسی بیسیوں کمپنیوں کی کیس سٹڈی دیکھ لیجیے، ان سب کے معیار میں کوئی کمی نہیں تھی لیکن ایک وقت کے بعد وہ بھی وہ مارکیٹ سے باہر ہو گئے۔ وجہ؟۔ صرف ایک اور وہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ تبدیل نہیں ہوئے۔ آنے والے 10 سالوں میں نئی دنیا پوری طرح سے تبدیل ہو جائے گی اور آج کی صنعتوں میں سے %70سے %90بند ہوجائیں گی کیونکہ چوتھا صنعتی انقلاب پھیل رہا ہے۔ یاد رکھیں کہ اوبر (Uber) صرف ایک سافٹ ویئر ہے۔ اپنی ایک بھی کار نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے۔ ایئر بی این بی (Air BNB) دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ہے حالانکہ ان کے پاس اپنا کوئی ہوٹل نہیں ہے۔ پیٹیم، اولا ٹیکس، اویو کمرے جیسی بہت سی مثالیں ہیں۔ اب امریکہ میں نوجوان وکلاء کے لئے کوئی کام باقی نہیں ہے کیونکہ آئی بی ایم واٹسن (IBM Watson) سافٹ ویئر ایک لمحے میں بہتر قانونی مشورے دیتا ہے

اگلے 10 سالوں میں 90% امریکی وکیل بے روزگار ہو جائیں گے اور جو %10 لوگ بچ جائیں گے، وہ ماہرین قانون ہی ہوں گے۔ میڈیکل میں بھی واٹسن نامی سافٹ ویئر انسانوں کے مقابلے میں کینسر کی تشخیص 4 گنا زیادہ درست طریقے سے انجام دیتا ہے۔ سنہ 2030ء تک کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں گے۔ اگلے 10 سالوں میں %90 پٹرول کاریں جدید دنیا کی سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی اور جو بچ جائیں گی وہ یا تو الیکٹرک کاریں ہوں گی یا ہائبرڈ۔ سڑکیں خالی ہوں گی۔پٹرول کی کھپت میں %90کمی واقع ہو جائے گی اور تمام عرب ممالک دیوالیہ جائیں گے۔ آپ کو اوبر جیسے سافٹ وئیر سے کار مل جائے گی۔ کچھ ہی لمحوں میں ڈرائیور لیس گاڑی آپ کے دروازے پر کھڑی ہوگی اور اگر آپ اسے کسی کے ساتھ شیئر کر لیتے ہیں تو وہ سواری آپ کو موٹر سائیکل سے بھی سستی پڑے گی۔ کاروں کے ڈرائیور لیس (Driverless) ہونے کی وجہ سے %99 حادثات بند ہو جائیں گے۔ کرہ زمین پر ڈرائیور جیسا کوئی روزگار نہیں چھوڑا جائے گا۔ جب %90 کاریں شہروں اور سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی تو ٹریفک اور پارکنگ جیسے مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے کیونکہ ایک کار 20 کاروں کے برابر ہو گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جسے یقین نہیں ہے وہ ذرا غور کرے اور دیکھے کہ 5 یا 10 سال پہلے ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں پی سی او (PCO) نہ ہو۔ پھر جب موبائل فون سب کی جیب میں آیاتو پی سی او بند ہونا شروع ہوگئے۔ پھر تمام پی سی او والے لوگوں نے فون کا ری چارج بیچنا شروع کردیا۔ اب یہاں تک کہ ری چارج بھی آن لائن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ آج کل مارکیٹ میں ہر تیسری دکان پر موبائل فون ہیں۔ فروخت، خدمت، ری چارج، لوازمات، مرمت، بحالی وغیرہ وغیرہ۔ اب سب کچھ اے ٹی ایم سے کیا جا رہا ہے۔ اب لوگوں نے اپنے فون سے ہی ریلوے ٹکٹ بک کرنا شروع کر دی ہیں، اب پیسوں کا لین دین بھی تبدیل ہو رہا ہے۔کرنسی نوٹ کو پہلے پلاسٹک منی نے تبدیل کیا تھا اور اب یہ ڈیجیٹل ہو گئی ہے۔ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے، آنکھیں اور کان کھلے رکھیں ورنہ آپ بہت پیچھے رہ جائیں گے۔وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونے کے لئے تیار رہیے۔ لہذا حکومت کے علاوہ ہم سب کو بھی چاہئے کہ وہ وقت گزرنے کے سا تھ اپنے کاروبار کی نوعیت کو بھی بدلتا رہے۔ کاروبار کو وقت کے ساتھ ساتھ اپ گریڈ کرتے رہا کریں۔ وقت کے ساتھ آگے بڑھیں اور کامیابی حاصل کریں تاکہ مستقبل اچھا ہو۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply