شراب،میں جانبدار ہوں۔۔اسد مفتی

روزنامہ جنگ لندن کی ایک خبر کے مطابق سرخ وائن کی فروخت دوگنی ہوگئی ہے،ایک ریسرچ کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ 2019کے پہلے نو ماہ میں ریڈ وائن کی فروخت 383ملین ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔تاجر بھی اپنے مفاد کی اشاعت و تشہیر میں نام نہاد سیاست کاروں سے کچھ کم پُر فن اور ماہر نہیں ہوتے۔چنانچہ حال ہی میں ہالینڈ کی ایک وائن انسٹیٹیوٹ کے ایک عہدہ دار نے ایک دلچسپ اعلان کیا ہے کہ جس میں شراب اور صحت کے موضوع پر مضامین لکھنے والوں کوانعامات حاصل کرنے کی خوش خبری سنائی گئی ہے،جس میں دس ہزار کے تین انعامات دینے کا علان کیا گیا ہے۔پہلا انعام کثیر الاشاعت اخبار یارسالے میں چھپنے والا مضمون،دوسرا انعام پیشہ ور ڈاکٹروں،سپیشلسٹوں میں سے بہترین مضمون لکھنے والے ڈاکٹر کو دیاجائے گا جو طبی معلومات کے حوالے سے مضمون سپردِ قلم کرے گا،اور تیسرا ریڈیو،ٹی وی وغیرہ سے نشر ہونے والے اس مضمون پر دیا جائے گا۔ایک دوسری حالیہ نیوز ریل میں وائن انسٹی ٹیوٹ کے اس عہدے دار نے شراب کے متعلق جو دعوے لکھے ہیں ان کا جائزہ لینے سے حقیقت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔وہ کہتا ہے
ہم جانتے ہیں زمانہ قدیم سے شراب کو ایک بے ضرر اور صحت بخش مشروب کے طورپر استعمال کیا جارہاہے،جس زمانے میں سائنس کو حراروں اور حیاتین کا کوئی علم نہیں تھا،شراب اس وقت بھی ان ضروری چیزوں کو بہم پہنچانے کی کفیل تھی،شراب کو اس وقت بھی غذا میں ایک مستقل مقام حاصل تھا،جب غذا کی نہ توافزائش تھی نہ وہ بہتر قسم کی ہوتی تھی،اُس وقت انسانوں کو سخت محنت و مشقت کرنا پڑتی تھی،اور شراب سے ان کو وہ سکون و آرام میسر آتا تھا جو معاشرے کو ایک بندھن میں باندھنے کے لیے ضروری ہے،اس کے علاوہ وہ دکھی انسان کو دردو غم سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،اور یہ شراب ہے کہ سکون بخشتی ہے،تھکان کو دور کرتی ہے،اور سوسائٹی کو مربوط کرتی ہے،۔۔
یہی عہدے دار آگے چل کرکہتا ہے۔۔
آج ہم اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ شراب میں ایسے بہت سے ضروری اجناس ہوتے ہیں جو تیزی کے ساتھ توانائی پیدا کرتے ہیں،جسم کو قائم رکھنے کے لیے ناگزیر شراب جسم اور دماغ کو سہارا دیتی ہے،اور اس کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتی ہے،توانائی کا عنصر زیادہ تر الکحل کا رہین منت ہے،جو کاربوہائیڈریٹ کی ایک سادہ سی شکل ہے،
پھلوں سے بنائی گئی شکر،جگر کی ضرورت پوری کرتی ہے،اور اس کو شکست و ریخت سے بچاتی ہے،اور غذاؤں کے اجزاء کو تیزی کے ساتھ معدے میں ریزہ ریزہ کرنے میں مدد دیتی ہے،معتدل مقدار میں الکحل غذا کی بہترین ساتھی ہے،اور جگر کے کام آتی ہے،اسی طرح جسم دوسرے اجزا کے لیے بھی کارآمد ہے،غذا کے ساتھ شامل کی جانے والی اکثر شرابوں میں سوڈیم شا مل ہوتا ہے،اور یہ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید اور موزوں ہے جن کی غذاؤں میں سوڈیم کے اجزا کم ہوتے ہیں،
وائین انسٹیٹیوٹ کا یہ عہدے دار اپنا انٹرویو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے
یورپ کے وہ صحتی ادارے جن میں کھانے کے ساتھ وائن بھی شامل ہوتی ہے،یہ دیکھا گیا ہے کہ ان میں داخل ہونے والے مریضوں کی شکایت بڑی حد تک گھٹ جاتی ہیں،اور وہ اپنے آپ کو زیادہ آرام دہ اور راحت میں محسوس کرتے ہیں،جب رات کے کھانے کے ساتھ وائن بھی دی جاتی ہے تو مریض کی مزاجی حالت بہتر ہوجاتی ہے،لہذا وائن ایک بے ضرر اور صحت بخش مشروب ہے۔
یہ تو تھیں وائن کے ڈچ عہدے دار کی اُلٹی سیدھی باتیں،اب آئیے وائن کے اعداد و شمار،تحقیقات،اور سروے کرنے والے برطانوی ذمہ دارافسروں کی اوٹ پٹانگ لیکن مزیدار کہانیاں سنئیے۔۔۔
برطانیہ کی ایک انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اب تک کی تمام تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریڈ وائن کے ایک دو گلاس روزانہ استعمال کرنے سے دل کی بیماریوں کی روک تھام ہوسکتی ہے،لیکن اب سائنس دانوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انگوروں کے خالص جوس میں بھی وہی کار آمد کیمیکل موجود ہیں،ریڈ وائن کے فوائد کا تعلق کئی اشیا سے بتایا گیا ہے۔ان میں سے ایک الکحل بھی ہے،جو خون جمنے سے روکتی ہے،جس کے باعث دل کا دورہ یا فالج ہوتا ہے۔
اب آپ اعداد و شمار اور سروے پر ایک نظر ڈالیے تو بات کھلتی چلی جاتی ہے،الکحل کنسرن کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ستر لاکھ افراد شراب نوشی کی حد پھلانگ کراپنی صحت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں،اس میں زیادہ تعداد مردوں کی ہے،جو بڑھ رہی ہے،ہر سال الکحل سے منسلک بیماریوں کے باعث 33ہزار افراد کو موت کے گھونٹ پینے پڑتے ہیں،بسیار نوشی کے باعث ہر سال 28ہزار افراد کو ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے،جبکہ پندرہ فی صد الکحل کے باعث حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔یہ سب باتیں اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں،لیکن حکومت برطانیہ کی ایک تازہ ترین اطلاع کے مطابق برطانیہ میں وائن کا استقبال 1992کے بعد سے 10فیصد بڑھا۔اس سال برطانیہ میں پہلے نو ماہ میں وائن کی 82ملین بوتلیں درآمد کی گئیں۔
جبکہ ملک میں تیار ہونے والی اور جہان بھر سے خریدی جانے والی وائن کے علاوہ برٹش ائیرویز کی پروازیں 15سو ٹن وائن فرانس سے برطانیہ لانے کے لیے رن وے پر تیار کھڑی ہیں۔
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں؟
کیا ایک چُلّو پانی میں ایمان بہہ گیا؟

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *