شیربانو۔۔عارف خٹک

لڑکے کی محبت کا خون ہمیشہ اس کے ظالم باپ کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ اور لڑکی کی محبت کا گلا ہمیشہ اس کی طلاق یافتہ پھپھو گھونٹ دیتی ہے۔لڑکے کا باپ تیس سال پہلے خود سے کئے ہوئے ظلم کا بدلہ اپنی ہی اولاد سے لے لیتا ہے۔اور پھپھو کا کیا بتاؤں،جو شادی کے دن گھر میں شادیانوں کے بیچ اچانک دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے اپنی مری ماں کو یاد کرنے بیٹھ جاتی ہے۔اور بھرپور کوشش کے بعد شادی کو ماتم میں بدل دیتی ہے۔

میری پہلی محبت کے انجام کا ذمہ دار میرا باپ نہیں بلکہ ماں تھی۔ قصہ کچھ یوں تھا۔ کہ کیڈٹ کالج کا بچہ جب گاؤں آتا تھا،تو عورتیں تو چھوڑ مردوں کی نیندیں تک حرام ہوجاتی تھیں۔اور ہم خود کو فلم کرن ارجن کا شارخ خان سمجھتے ہوئے ایک نامعلوم انتقام کے تحت گاؤں میں اپنا دُشمن ڈھونڈتے رہتے۔
اسی تلاش میں ایک دن ہماری نظر کھوتے پر پانی بھرتے ہوئے ایک لڑکی پر پڑی ۔جس کی موٹی آنکھیں ہم پر ہی مرکُوز تھیں۔ ہم ان نظروں کی تاب نہ لاسکے۔اور دوسرے دن پوائنٹ پر پہنچ کر ٹیپ ریکارڈر پر لگی کیسٹ میں اپنا حال دل سُنا دیا۔ جواباً اگلے دن کھوتے کے پیچھے چلتے ہوئے اُس نے کیسٹ پھینک دی۔اور اپنے سُلگتے ارمانوں سے آگاہ کردیا۔ معلوم ہوا کہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے۔ ہماری محبت جو کیسٹ سے شروع ہوئی تھی۔اب گاؤں میں زبان زدِ عام و خاص ہوگئی۔ 1997 میں ایسے عشق کا انجام موت ہوتا تھا۔ جو کہ بُہت اچھی ہیپی اینڈنگ ہوتی  تھی۔ورنہ آج کل تو شادی کراکے دوزخ میں دھکیل دیتے ہیں۔

شیربانو سے محبت دن بدن اتنی زور پکڑتی جارہی تھی۔کہ ہر ماہ کالج سے اضافی چُھٹیاں یہ کہہ کر لیتے،کہ دادی کا انتقال ہوگیا ہے۔ اور اُس سے اگلے ماہ نانی کو زندہ درگور کردیتے۔وہ تو بُرا ہو پرنسپل کا،جنہوں نے دفتر بُلا کر کہا،کہ موت کا فرشتہ بہت ہی سنگدل ہے۔ ظالم نے آپ کا ہی گھر دیکھ لیا ہے۔پوچھنے پر معلوم ہوا،دو ماہ میں، میں دو دادیوں اور دو نانیوں کو مار چُکا ہوں۔ پرنسپل صاحب نے والد کے نام تحریر کیا ہوا خط دکھایا،تو آنکھوں میں آنسو آگئے کہ سر اس میں میرا کیا قصور ہے؟شادیاں دادا نے چار کیں اور نانا نے رشتہ داری میں برابری رکھنے کے لئے مقابلے میں چار شادیاں کیں۔اس لحاظ سے ابھی دو دادیاں اور دو نانیاں باقی ہیں ہمارے کام آنے اور عشق مزید پروان چڑھانے کو۔

خیر ہمارا عشق ایک سال تک ایسے ہی چلتا رہا۔جب حالِ دل ختم ہوجاتا،اور کیسٹ میں بھرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔تو میں “ڈر” فلم کے گانے ریکارڈ کرواکے اُسے سُنواتا۔جواباً شیربانو اگلے کیسٹ میں یہ گِلہ ضرور کرجاتی، کہ جانانہ مُجھے انگریزی کہاں آتی ہے۔ ساتھ میں زرسانگہ یا کشور سُلطانہ کے ٹپوں میں اپنی مُحبت لپیٹ کر بھیج دیتی۔رمضان پر اماں نے دس ہزار زکوٰۃ کے پیسے دیئے،کہ فلاں فلاں کو دے کر آجانا۔ میں نے فرمانبرداری سے جی اچھا بول کر پیسے لئے۔ اور لا کر شیربانو کی ہتھیلی پر رکھ دئیے۔ پھر اس کے پھٹے پُرانے آنچل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،کہ اس عید پر اپنے لئے کپڑے اور جُوتے لے لینا۔ اس غریب نے شاید دس ہزار روپے پہلی بار دیکھے تھے۔گھبرا کر بولی،کہ میں پانچ سو لے لیتی ہوں۔باقی کے تم ہماری شادی کےلئے سنبھال کر رکھ لینا۔ کہ ہمارے گھر تو صندوق بھی نہیں ہے،میں کہاں چُھپاتی پھروں گی اتنے سارے پیسوں کو۔اگلے ہفتے زکوٰۃ کے مستحقین ہمارے دروازے تک آ پُہنچے کہ اس سال کی زکوٰة نہیں ملی۔ اماں نے مجھے بُلایا اور پُوچھا کہ پیسے کہاں ہیں؟میں نے سر جُھکا کر کہا کہ کھو گئے ہیں،لہٰذا ڈر کی وجہ سےآپ کو بتا نہیں سکا۔ اماں نے شور ڈال دیا۔ میرا چچا جس کو بڑا دُکھ تھا کہ شاید میں اس کا داماد نہیں بن سکوں گا۔ اپنے گھر سے نکلا اور مارنا شروع کیا۔ اتنا مارا کہ میری ناک اور مُنہ سے خون نکل آیا۔ساتھ ہی ساتھ غصے میں چلاتا رہا۔کہ اس نے وہ پیسے اُس نائن شیربانو کو دیئے ہوں گے۔میری حالت دیکھ کر اماں بپھری ہوئی شیرنی کی طرح دھاڑتی ہوئی آئیں۔کہ جس کو بھی دیئے ہیں اس کے باپ کے پیسے ہیں۔ خبردار جو میرے بیٹے کو ہاتھ لگایا تو۔ یہ مائیں بھی عجیب ہی ہوتی ہیں۔
خود چاہے جتنا بھی دُھنک کر رکھ دیں۔لیکن دوسرے کا ایک سخت لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتیں اولاد کے لئے۔۔

اپنا عشق اب سارے گاؤں میں مشہور تھا۔ ایک دن اسی چچا نے وارننگ دی کہ سُدھر جاؤ،ورنہ اپنے ہاتھوں سے گولی ماردوں گا۔لیکن وہ عشق ہی کیا جو کسی کے ڈرانے دھمکانے سے کمزور پڑ جائے۔ایک دن شیربانو نے پیغام بھجوایا کہ عارف خانہ میری دادی تک آپ کی خبر پہنچ گئی ہے۔اس سے پہلے کہ دونوں کاری قرار دے کر بے وقت مارے جائیں،آپ رشتہ بھیج دو۔شیر بانو کا پیغام سُن کر پُوری رات سوچتا رہا کہ اماں کو کیسے بتاؤں۔ اماں بار بار اپنی بھتیجی کی تعریفیں ابا کے سامنے کرتیں۔ابا کہتے،بھتیجی آپ کی اچھی ہوگی۔لیکن میری بھتیجیوں سے پھر بھی کوئی مقابلہ نہیں،کیوں کہ وہ لاکھوں میں ایک ہیں۔ پُوری رات میں اپنا حوصلہ مجتمع کرتا رہا۔کہ اماں سے ینگ اینگری مین بن کر بات کروں؟یا پھر پیر پکڑ کر اُن کو واسطے دوں؟کون سا طریقہ کارآمد نکلے گا۔ صُبح ہوگئی۔ گرمیوں کے دن تھےاور کرک کی گرمیوں میں قمیض اُتار کر سویا جاتا ہے۔ سو بغیر قمیض کے اماں کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔جو برآمدے میں بیٹھی تھیں۔سامنے نوکرانی جھاڑو لگا رہی تھی۔اماں کاماتھامُجھے دیکھ کر ٹُھنک گیا۔کہ بیٹے کے تیور اُن کو ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ پُوچھا کیا بات ہے بچے؟جواب دیا ،اماں میں نے شیربانو سے شادی کرنی ہے۔اماں نے یہ سُنا تو خوشی سے نہال ہو کر مُجھے گلے لگا لیا۔ کیونکہ شیربانو میری ماموں زاد تھی۔ کہنے لگی بیٹا کل ہی نکاح پڑھواتی ہوں تم دونوں کا۔پھر شُکر ادا کرتے ہوئے بولیں،کہ بھائی میرا کتنا خوش ہوگا سُن کر۔میں نے اماں کے ارمانوں کا خون کرتے ہوئے کہا۔اماں میں ماموں کی بیٹی کی بات نہیں کررہا،بلکہ چچا میر ولی خان نائی کی بیٹی کی بات کررہا ہوں۔ یہ کہنا تھا کہ اماں نے لپک کر نوکرانی کے ہاتھ سے جھاڑو چھینی اور جھاڑو سمیت میرے ننگے وجود پر اس طرح سے حملہ آور ہوئیں۔کہ جھاڑو کے ہر ہر تنکے نے مجھے مُنہ بھر بھر کر چُوما۔ جب جھاڑو کی ہمت جواب دے گئی۔تو اماں نے بانس کی چھڑی اُٹھائی اور دُھن کر رکھ دیا۔پھر ہانپ کر ایک طرف بیٹھ گئیں۔اور گلوگیر لہجے میں بولیں،کہ ہم تمہے اچھے سکول،کالجوں میں پڑھا رہے ہیں۔کہ کُچھ اچھا سیکھو گے،بڑے آدمی بنو گے،ہمارا نام روشن کرو گے۔اس سب کا یہ صلہ مل رہا کہ اب تم نائیوں کے گھر کا داماد بنوگے؟ابھی تیری عمر ہی کیا ہے،جو شادی کے خواب دیکھ رہے ہو۔سن لو آئندہ ایسا ویسا کُچھ سوچا بھی،تو دُودھ نہیں بخشوں گی۔

ابا تک خبر پُہنچی،اگلے دن ابا نے مار مار کر سارا عشق ناک کے رستے باہر نکال دیا۔یہ بول کر کہ تیری ماں کی تربیت ہی ایسی ہے۔ اور میرے بعد اماں کو مارنا شروع ہوگئے۔ اماں پٹنے لگیں تو میرے اندر جیسے کچھ ٹُوٹ سا گیا۔ میں اماں پر گر گیا۔تاکہ اماں پر پڑنے والا ابا کا ہر وار خود پہ سہہ سکوں۔ رات کو اماں چُپکے سے آنسو بہا رہی تھیں۔اور اُن کی سسکیاں سُن کر میں خود کو مُجرم سمجھ رہا تھا۔آخر ضبط نہ ہوا تو جاکر اماں کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ اماں میری چوٹیں دیکھ کر خود پر قابو نہیں پاسکیں۔ کہنے لگیں جا بھگا لے اُسے۔ میں پیچھے سنبھال لوں گی سب۔میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا،معلوم ہے کیسے سنبھالیں گی۔ میں گولی کا شکار کیسے بننے دے سکتا ہوں آپ کو؟

دوسرے دن اپنی زندگی کی آخری کیسٹ ریکارڈ کرکے شیربانو سے کہا مجھے بھول جاؤ،میں نائیوں کا داماد نہیں بن سکتا۔جواب میں اُس نے دو تین کیسٹیں بھیج دیں۔مگر میں نے ایک بھی نہیں سُنی۔ اور کچھ دن بعد اُس کی شادی ہوگئی۔چاولوں کی دیگ پر بیٹھ کر میں نے گاؤں والوں کو چاول بانٹے۔ بارات میں پیسے لُوٹ لئے۔ اور دُلہے کے گلے لگ کر خوب مُبارکباد دی۔میر ولی خان نائی بہت خوش تھا کہ نمبردار کا پوتا ہماری شادی کو عزت بخش رہا ہے۔دُلہن کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھا کر میں جیسے ہی مُڑنے والا تھا۔ تو اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ چُھڑایا۔اور بھاگ کر گھر آگیا۔اور اماں کے گلے لگ کر آخری بار رویا۔بیس سال ہوگئے،پھر کھبی اپنے گاؤں دن کے وقت نہیں گیا۔

ایک عہد تھا خود سے،کہ میر ولی خان نائی کی بیٹی کی اوقات اگر میری بیوی بننے کی نہیں تھیں۔ تو کسی خٹک لڑکی کا شوہر بننا بھی میری اوقات سے باہر ہوگا۔
پچھلے دنوں اماں کی گود میں سر رکھ کر اماں سے باتیں کررہا تھا اور ان کی مُحبتیں سمیٹ رہا تھا۔کہ وہ اچانک سے بول پڑیں۔ بچے آپ کی ریکارڈ کی ہوئی ساری کیسٹیں میں نے سُنی تھیں۔اور جب نئی تعمیرات ہورہی تھیں۔ تو میں نے آپ کے سارے مُحبت نامے اُس میں دفن کردیئے۔ میں نے اماں کے مشفق چہرے کو دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا،اماں کسی دن اس دل سمیت شیربانو بھی دفن ہوجائےگی۔اماں کا جواب سُن کر میں کُچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔جب ڈبڈبائی آنکھوں سے اُنہوں نے بتایا کہ شیربانو دو ماہ قبل ہی دفن ہوچکی ہے۔۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *