پاکستان کا قومی شناخت کا بحران۔۔۔سعید ابراہیم

پاکستان میں قومی شناخت کے حوالے سے میرا ایک خاص نکتہء نظر ہے جو میں نے زیرِ نظر مضمون میں بیان کیا ہے۔ اگر آپکو اس مسئلے کو سمجھنے میں دلچسپی ہے تو شائد یہ مضمون آپکی مدد کرسکے۔ سعید ابراہیم

ہمارے ہاں قوم کا لفظ اپنے دامن میں بہت سے ابہام لیے ہوئے ہے، سو ضروری ہوگا کہ بات آگے بڑھانے سے پہلے قوم کی اصطلاح کو واضح کرلیا جائے۔
قوم سے مراد لوگوں کا ایسا گروہ ہے جن کی ثقافت اور زبان مشترک ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں معروف معنوں میں کم و بیش سات قومیں آباد ہیں، یعنی سندھی، بلوچ، پنجابی، سرائیکی، پوٹھوہاری، ہندکو اور پشتون۔قوم کی مروجہ تعریف کے مطابق پاکستانی کا لفظ قوم کے مفہوم سے لگا ؤ نہیں کھاتا ہاں اسے وطنیت ضرور کہا جاسکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملکوں کی جغرافیائی حدود اور شناخت میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے مگر ان کے اندر موجود قوموں کی شناخت قائم رہتی ہے۔ آج سے انتالیس برس پہلے بنگلہ دیش مشرقی پاکستان کے نام سے پاکستان کا حصہ تھا مگر اب وہ اپنی کلچرل شناخت کی بنیاد پر بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ خودہماری مملکت نے پاکستان کے نام سے اپنی شناخت صرف پون صدی پہلے حاصل کی جبکہ پاکستان کی حدود میں بسنے والی اقوام کی شناخت اور تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔

اگرچہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ مذہب لوگوں کی زندگی کا اہم جزو ہوتا ہے مگر اسے پھر بھی قومی شناخت کی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلچر کے مقابلے میں مذہب بہرحال ایک اختیاری اور غیرمستقل معاملہ ہے۔ کوئی بھی فرد یا گروہ کسی بھی وقت رضاکارانہ طور پر یا کسی جبر کے تحت اپنا مذہب تبدیل کرسکتا ہے مگر بڑے سے بڑے جبر کے باوجود بھی زبان اور رہن سہن کے طریقوں کو یک دم چھوڑ کر نئی ثقافت نہیں اپنائی جاسکتی۔ کوئی ایسا کرنا بھی چاہے گا تو اس کے لیے نسلوں کا سفر درکار ہو گا۔

مذہب کے مقابلے میں کلچر کو یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ اس کے بغیر سماجی زندگی ممکن ہی نہیں جبکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ بہت سے معاشرے بنا کسی مذہب کے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کلچر کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ کمیونٹی کے افراد میں ایک فطری ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے اور اس کمیونٹی کے سبھی افراد بنا کسی جبرو اکراہ کے سماجی روایات پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس مذہب کسی بھی ثقافتی اکائی کو مخالف گروہوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ پاک و ہند میں اس کی بے شمار مثالیں دیکھنے کو مل جائیں گی۔ ایک پنجابی مسلم بھی ہوسکتا ہے، سکھ، عیسائی اور ہندو بھی۔ جہاں کلچر ایک طرف انہیں میل ملاپ کے معاملات میں ہم آہنگ بناتا ہے وہیں مذہب انہیں عقائد کی بنیاد پر بالکل الگ الگ دائروں میں بند کردینے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ علیحدگی بذاتِ خود اجتماعی ہم آہنگی کو نیست و نابود بھی کرسکتی ہے۔

برصغیر میں تاریخی طور پر ہندو مسلم تضاد نے مسلمانوں کی نفسیاتی ساخت میں ایک گرہ کا کردار ادا کیا۔دوسرے الہامی اور غیر الہامی مذاہب کے برعکس مسلم ذہن اس خیال کی گرفت میں ہے کہ وہ ایک اعلیٰ ترین آفاقی مذہب سے وابستہ ہے ج کا سبھی انسانوں پر نفاذ ضروری ہے۔ سو اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ پوری دنیا کو اسلام کے زیرِ نگیں لانے کے لیے تبلیغ اور جہاد، دونوں سے کام لے۔ یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جو خود کو اچھا، نیک، خدا کا برگزیدہ جبکہ دوسروں کو بد، غلط اور گمراہ سمجھنے پر اکساتا ہے۔ برصغیر میں اس مائنڈ سیٹ کا عمل دخل محمد بن قاسم کی فتح سے شروع ہوا اور ہم آج کے جدید دور میں بھی اسی سوچ کے اسیر ہیں۔یہ مائنڈ سیٹ ایسی نفرت سے مملو ہوتا ہے کہ اسے دوسرے مذاہب سے وابستہ افراد کی تباہی اور ذلت سے بے پناہ خوشی ملتی ہے۔ اس ذہن کو سمجھنے کے لیے مجدد الف ثانی کا ایک جملہ بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے جو ان کی جانب سےشیخ فرید کے نام لکھے گئے ایک مکتوب میں درج ہے۔ لکھتے ہیں۔ “اسلام اور مسلمانوں کی عزت کفر اور کافروں کی ذلت میں ہے۔ جزیہ سے مقصود کافروں کی خواری اور ان کی اہانت ہے۔” اسی مکتوب میں یہ بھی ہدائت کی کہ کتوں کی طرح ان کو (یعنی ہندوؤں کو) دور کرنا چاہیے۔

بابر سے لے کر شاہ جہان تک سبھی مغل حکمران کم و بیش صلح کل کی پالیسی پر عمل پیرا رہے مگر اورنگزیب کی صورت میں یہ ذہنیت ایک بار پھر شدت سے ابھر آئی۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ مسلم سکالرز نے مجدد الف ثانی کے ساتھ ساتھ شاہ ولی اللہ اور ان کے پیروکار سید احمد شہید کو خوب گلیمرائز کیا۔ یہ سید احمد ہی تھے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ “اس فقیر کو پردہ غیب سے کفار یعنی لانبے بالوں والے سکھو ں کے استیصال کے لئے مامور کیا گیا ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ، رحمانی بشارتوں کے ذریعے نیک کردار مجاہدین کو ان پر غلبہ پانے کی بشارت دینے والا مقرر کیا گیا ہے۔ لہٰذا جو شخص آج اپنی جان و مال عزت اور وجاہت کو اس پاک پروردگار کے کلمے اور سنت رسول کو زندہ کرنے میں بطیب خاطر خرچ نہیں کرے گا اس سے کل ضرور جبراً مواخذہ کیا جائے گا اور اس کو سوائے حسرت و ندامت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔”

سید صاحب کی متشدد مذہبی سوچ کا یہ حال تھا کہ وہ صرف سکھوں کے ہی مخالف نہیں تھے بلکہ خود سے مختلف عقائد رکھنے والے مسلمانوں کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے تئیں خود کو خدا کا فرستادہ سمجھتے ہوئے اپنی اطاعت کے لیے مسلمانوں پر بھی تلوار اٹھانے کو جہاد کہتے تھے۔ اپنے ایک مکتوب میں خود اپنی ذات کی پیروی کے باب میں یوں رقم طراز ہیں۔
“لہٰذا جنابِ والا کی اطاعت تمام مسلمانوں پر لازمی ہے، جو شخص جنابِ والا (یعنی سید احمد شہید) کی امامت کو ابتدا میں قبول نہ کرے یا قبول کرنے کے بعد انکار کرے تو سمجھ لیجئے کہ وہ باغی، مکار، فریبی ہے اور اس کا قتل کرنا کافروں کے قتل کی طرح عین جہاد ہے۔۔۔ پس معترضین کے جوابات اس خصوص میں اس عاجز کے پاس تو تلوار کے گھاٹ اتارنا ہے نہ کہ تحریرو تقریر سے ( انھیں جواب دینا)۔”

سرحد کے مسلمان خوانین پر حملے کے لیے انہوں نے امیرِ تیمور کے اس فتوے کا سہارا لیا جس کے تحت اس نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا۔ اس فتوے کے مطابق “ایسے ملک پر حملہ کرنا کہ جہاں کافرانہ رسومات ہوں جائز ہے۔ چاہے وہاں کا حکمراں مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے ملک میں فوج کا لوگوں کو قتل کرنا اور مال غنیمت و دولت لوٹنا بھی جائز ہے۔”
غور کریں تو سید احمد شہید کی سوچ اس ردعمل کا شاخسانہ ہے جو مسلم اقتدار کے خاتمے سے پیدا ہوا۔ایک طرح سے یہی سوچ تحریکِ پاکستان میں بھی منعکس ہوئی جس کا ثبوت جناح کے اس معروف جملے کی صورت میں سامنے آیا کہ پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز پہلا شخص یہاں (ہندوستان میں) مسلمان ہوا تھا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی عظیم اکثریت ردعمل کی پیداوار مذہبی علما ، مُلّاؤں اور گدی نشین پیروں کی پیروکار تھی۔ سن چھتیس کے انتخابات میں مسلم لیگ کی تباہ کن شکست نے قائدِاعظم کو باور کروادیا تھا کہ سیاسی محاذ پر کامیابی کے لیے مذہب کا نعرہ لگائے بنا کوئی چارہ نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے متحدہ قومیت کے موقف کو ترک کرکے مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ایک قوم منوانے کی جدوجہد کا ڈول ڈالا۔
کانگریس چونکہ سیکولر بنیادوں پر سیاست کرنے کی دعویدار تھی سو اس وجہ سے بھی مسلم لیگ کی مجبوری تھی کہ وہ مذہبی بیانئے کو اپنائے۔ بذاتِ خود مسلم لیگ کا اپنا نام بھی ایک مخصوص مذہبی گروہ کا نمائندہ تھا جس میں کسی اور مذہب کے لوگوں کی شمولیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔تحریکِ پاکستان کے ہنگام لگایا جانے والا نعرہ “مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ” مذہب کی بنیاد پر علیحدگی کی خواہش کا ہی آئنہ دار تھا۔ مذہب کا یہی استعمال دو قومی نظرئیے کی اساس بنا۔

مسلم لیگ نے اقبال کو تصورِ پاکستان کے خالق کے طور پر پیش کیا جبکہ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدگی کا یہی تصور ایک ہندو ادیب اور مورخ لالہ لاجپت رائے خطبہ الہ باد سے چھ برس پہلے سن 1924 میں پیش کرچکے تھے۔ اب جہاں تک اقبال کا معاملہ ہے تو وہ ایک زمانے میں سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا جیسی نظمیں لکھ رہے تھے مگر بعد میں انہوں نے بھی خود کو مسلم قوم پرستی کے دائرے تک محدود کرلیا۔

مسلم قوم پرستی کے تصور کو مسلم ذہن میں راسخ کرنے کے لیے لازم تھا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کی زمینی یعنی ثقافتی شناخت کا شدت سے انکار کیا جائے تاکہ ان کی اسی علاقہ میں بسنے والے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی سانجھی شناخت کو ممکنہ حد تک پس منظر میں دھکیلا جاسکے۔ متحدہ قومیت کے شدیدحامی جناح کو سن چھتیس کے انتخابات میں مسلم لیگ کی شکستِ فاش نے یہ بات باور کروادی تھی کہ مسلمانوں کو اپنی قیادت میں جمع کرنے کے لیے مذہب کا نعرہ لگانا ناگزیر ہوگا۔ سو اس کے بعد ان کی تقریروں میں اسلام کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ شامل ہونے لگا۔ اگرچہ انہوں نے گیارہ اگست کو کی گئی معروف تقریر میں اپنے پرانے موقف کی جانب لوٹنے کی کوشش کی مگر وہ اب تک اپنی تقریروں سے جو مذہب پرستانہ ذہن تشکیل دے چکے تھے، اس نے ان کی اس غیرفرقہ وارانہ تقریر کو تسلیم کرنے سے یکسر انکار کردیا۔

اب اربابِ حل وعقد کی پوری کوشش یہی تھی کہ پاکستانیت اور اسلام کو ہم معنی تصور کے طور پر راسخ کردیا جائے۔اس مقصد کے لیے مقامی قومی شناختوں کو رد کرنا ضروری ٹھہرا سو ان کی زبانوں سے انکار کر کےانہیں ایک ایسی زبان بولنے اور لکھنے پر مجبور کیا گیا جو پاکستان کے کسی بھی علاقے کی زبان نہیں تھی۔ یہ زبان تھی اردو۔ مقامی ثقافتوں اور زبانوں کو صوبائی تعصب کا زہریلا عنوان دے کر رد کرنے کا رویہ اپنایا گیا۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ مزاحمت بنگالیوں کی جانب سے ہوئی جن کی تعداد مغربی پاکستان کی کل آبادی سے زیادہ تھی۔ اس مزاحمت کی مذمت کرنے کے لیے قائد کو بیماری کے باوجود مشرقی پاکستان کا دورہ کرنا پڑا جہاں انہوں نے ایک عوامی جلسے میں یہ مشہور جملہ بولا۔ “پاکستان کی قومی زبان ایک ہوگی۔ اور وہ ہوگی اردو اردو اردو۔” جبکہ ستم ظریفی کی بات یہ تھی کہ قائدِ اعظم خود اردو زبان سے بالکل نابلد تھے۔ لگتا ہے زبان اور ثقافت کے بارے میں قائد کا فہم خاصا مکینکل بلکہ سٹیریو ٹائپ تھا۔ ان کے تئیں شیروانی ، شلوار اور قراقلی ٹوپی ہی پاکستانی لباس تھا۔وہ قومی ثقافتوں اور ان کی زبانوں کو پاکستانیت کے لیے تخریبی عوامل سمجھتے تھے۔ ان کا گمان تھا کہ صرف اردو کے نفاذ سے ہی ایک یک رنگ قسم کی پاکستانی قومیت متشکل ہو جائے گی۔

قائدِاعظم کی اس سادہ دلی کے برعکس مسلم لیگ میں شاطر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا ایک ایساگروہ بھی شامل تھا جو اردو اور اسلام کے پردے میں پورے ملک کے وسائل پر قابض ہونا چاہتا تھا۔
قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کی کل آبادی 6 کروڑ نوے لاکھ تھی جس میں بنگالیوں کی تعداد دوتہائی یعنی 4 کروڑ چالیس لاکھ تھی ۔ اردو صرف ان چند فیصد خاندانوں کی زبان تھی جو یوپی سے ہجرت کرکے آئے تھے۔مگر لیاقت علی خان جیتے جاگتے حقائق کے برعکس یہ بات منوانے پر مصر تھے کہ اردو برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کی زبان ہے۔ گویا وہ کوئی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر پاکستان کی حقیقی قومی زبانوں کے وجود سے صاف انکار کر رہے تھے۔ عوام کی مادری زبانوں کےخلاف جبر کی یہ صورت تھی کہ اسمبلی میں کسی ممبر کو اردو اور انگریزی کے سوا کسی اور زبان میں تقریر کی اجازت نہیں تھی۔

حکمرانوں کے اسی روئیے سے شہ پاکر اُردو کو پورے پاکستان پر بزور نافذکرنے کے خواہشمند حضرات نےقیامِ پاکستان کے ایک ماہ بعد ہی کراچی میں سندھ کے وزیرِتعلیم پیر الٰہی بخش کی زیرِ صدارت ‘انجمن اردو’ قائم کرلی۔ اس تنظیم کے منتظمین کے نام لیاقت علی خان کا پیغام ہمارے اوپر پیش کیے گئے مؤقف کی تصدیق کے لیے کافی ہوگا۔ ان کا پیغام تھا کہ
“یہ امر بالکل مناسب ہے کہ کراچی کو پاکستان کی انجمن اردو کا مرکز بنایا جائے کیونکہ قیامِ پاکستان کے بعد اس شہر کو ایک نئے سیاسی اور معاشی مرکز کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ کراچی ہماے ثقافتی مرکز کا کردار بھی ادا کرے۔ اردو زبان ہمارے ثقافتی ورثہ کی محافظ رہی ہے اور اس سے بین الاقوامی رابطہ کی تشکیل ہوئی ہے۔۔۔”

اس پیغام سے واضح طور پر یہ بتایا جارہا تھا کہ زبان کے زور پر معاشی پالیسیاں طے کرنے کا حق صرف اور صرف اردو بولنے والوں کو ہوگا اور بنگالی خود کو اس دائرے سے باہر سمجھیں۔ستم ظریفانہ حقیقت یہ ہے اردو سپیکنگ مہاجرین کی تعداد محض سات فیصد تھی۔ کارپردازانِ اقتدار کی اس شاونسٹک اور انصاف دشمن پالیسی کا ردعمل صرف ایسٹ پاکستان سے آیا جبکہ باقی صوبوں سے ایک بھی آواز نہیں ابھری۔ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ واحد بنگالی تھے جنہیں روزِ اوّل سے ہی اقتدار سے دور رکھنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اور اس فیصلے کو طاقت فراہم کرنے کے لیے پنجاب، سندھ ، سرحد اور بلوچستان کے جاہ پسند سیاسی عناصر کو ہڈی ڈالی جاچکی تھی۔ اور سرحد کے سرخ پوشوں جیسے جن جن عناصر سے خطرہ تھا، ان کے بندوبست کے پروگرام پر عمل درآمد شروع ہوچکا تھا۔ جیسے کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت توڑ دی گئی۔

پنجاب کا معاملہ سب سے زیادہ ستم ظریفانہ تھا کہ یہ واحد صوبہ تھا جس کے کرتا دھرتا سرسید کی تحریک کے زیرِ اثر عرصہ پہلے ہی پنجابی کو تیاگ کر اردو اور انگریزی کو اپنا چکے تھے۔ انہیں بھی اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے باب میں سب سے زیادہ خطرہ بنگالیوں کی اکثریت سے تھا۔ سو انہوں نے بلا دریغ حکمرانوں کے بنگالی دشمن اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ پنجابی کاروباری لوگ تھے جنہوں نے ایسٹ پاکستان میں اپنے کاروبار جمائے اور مرکزی حکومت کی آشیر باد سے ان کا معاشی ہی نہیں جنسی استحصال بھی کیا۔یہ لوگ ایسٹ پاکستان میں قیام کے دوران بنگالی عورتوں کو ملازم رکھتے اور گھر کے کام کروانے کے ساتھ ساتھ ان سے رکھیل والا کام بھی لیتے۔ اور پھر دوستوں میں اس کا فخریہ انداز میں تذکرہ بھی کرتے۔

اقتدار کو مغربی پاکستان میں مرتکز رکھنے کے لیے ایک اور حربہ بھی اختیار کیا گیا۔ بنگالیوں کو صرف بیوروکریسی سے ہی نہیں بلکہ فوج میں شمولیت سے روکنے کا بھی مکمل بندوبست کیا گیا۔ آرمی کی ایسٹ رجمنٹ کے لیے ریکروٹمنٹ پنجاب سے کی گئی۔ بہانہ یہ بنایا گیا کہ بنگالی اپنے چھوٹے قد اور کمزور صحت کی بنا پر فوج میں شمولیت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ اس مقصد کے لیے مارشل ریس کا لغو نظریہ گھڑا گیا۔

بنگالیوں سے نفرت کا یہ سلسلہ سن ستر میں بنگلہ دیش کی صورت پاکستان سے علیحدگی پر منتج ہوا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن کہ نہیں کہ بنگالیوں کے خلاف سب سے زیادہ نفرت سنٹرل پنجاب کے باسیوں اور یوپی کے مہاجروں میں ہی پائی جاتی تھی جو مشترکہ طور پر اسلام، نظریہء پاکستان اور اردو کو استحصالی حربے کے طور پر گلے لگائے بیٹھے تھے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد جب بنگالیوں کا کانٹا نکل گیا تو دوسری قومیتوں خصوصاً سندھیوں اور بلوچوں کو بھی پنجاب کے استحصالی کردار کا احساس ہونے لگا۔ جبکہ بھٹو کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اردو سپیکنگ خود بھی مظلوم ہونے کا شور مچانے لگے تھے۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک یہ کہ ممتازبھٹو نے بطور وزیرِاعلیٰ اپنے صوبے میں سندھی زبان کو لاگو کرکے اردو کے تسلط کو چیلنج سے دوچار کردیا تھا۔ اور دوسری یہ کہ سندھ میں کوٹہ سسٹم کے نفاذ نے اردو بولنے والوں کے اپنے حصے سےزیادہ معاشی مفادات کے حصول میں خاصی کمی کردی تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ وہی اردو سپیکنگ جو اسلام اور پاکستانیت کے نام پر کسی کو اپنی زبان، کلچر اور معاشی حقوق کا نام لینے کی اجازت تک نہیں دیتے تھے بلکہ انھیں صوبائیت پرست اور غدار کہہ کر مطعون کرنے کے عادی تھے، خود پانچویں قومیت بن بیٹھے۔

کسی زمانے میں بنگالیوں کو جو شکائت مغربی پاکستان اور خصوصاً پنجاب سے تھی، اب پنجاب سے وہی شکائت دوسرے صوبوں کو ہے، حتیٰ کہ اس احتجاج میں خود جنوبی پنجاب کے لوگ بھی اپنی آواز شامل کرچکے ہیں۔ انھیں شکائت ہے کہ وسائل کا ایک بڑا حصہ تخت لاہور پر خرچ کیا جارہا ہے۔ ان کے ہاں بھی اب مادری زبان کے حصول کا نعرہ عروج پر ہے۔ جبکہ سنٹرل پنجاب میں اب بھی کوئی خال خال ایسےگروپ ہیں جو مادری زبان کی اہمیت کی بات کرتے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کی عظیم اکثریت کو نہ تو ان کے کام کا علم ہے اور نہ ہی وہ ان کی بات پر کان دھرنے کو تیار ہیں۔

پاکستان میں قومی شناخت کے بحران کی سب سے بڑی ذمہ داری پنجابی اور یوپی کے مہاجروں کے گٹھ جوڑ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے مذہب، اردو اور نظریہء پاکستان کا مقدس غلاف بُنا اور اسے دوسری قومیتوں کو اوڑھا کر ممکنہ حد تک لوٹا۔ عام پنجابی جو سیاسی شعور میں دوسری قومیتوں کے مقابلے میں ہمیشہ کم تر درجے پر رہے، اپنی اکثریت کے خمار میں مسلسل ایک بے حسی میں مبتلا چلے آتے ہیں۔ دوسروں کے وسائل کی مدد سے حاصل ہونے والی نام نہاد ترقی اور خوشحالی کی وجہ سےانہوں نے کبھی اس سوال پر غور ہی نہیں کیا کہ قوموں کی حقیقی ترقی میں اپنی زبان، کلچر اورتاریخ کی کیا اہمیت ہے۔ ادھاری زبان اور کلچر اپنا کر انہوں نے اپنا چہرہ تو بگاڑا سو بگاڑا، انہیں یہ بھی گوارہ نہیں کہ دوسری اقوام اپنی زبان، کلچر اور تاریخ کی بات کریں۔

زبان اور کلچر کوئی نمائشی شناخت کا معاملہ ہرگز نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ان کا تعلق فرد اور اقوام کے تخلیقی جوہر کی ترقی سے جڑا ہے۔ اوپری زبان اور کلچر قوم کو اس کے نگھر ماضی سے کاٹ کر اپنی ذات کے بارے میں بے اعتمادی کے خلاء میں معلق کردیتے ہیں۔ پنجاب کا مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف اس نے اپنی شناخت گنوا کر اپنے افراد کی تخلیقی ترقی کا راستہ روکا بلکہ دوسری قومیتوں کو بھی خود سے نفرت پر مجبور کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب کے اپنی شناخت گنوا دینے کے عمل نے ہی قومی شناخت کے عمل کو ایک دوسرے سے نفرت کی راہ پر ڈالا۔ اس تعصب اور ایک دوسرے پر بداعتمادی سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ یہاں مذہب کو ثقافتی شناختوں کے مقابل لانے کی بجائےہر کلچر کو فطری انداز میں ترقی کرنے کا راستہ فراہم کیا جاتا۔ انہی شناختوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادیت رکھتے ہوئے مشترکہ پاکستانی شناخت میں ڈھلنا تھا، مگر افسوس کہ نفرت کے راستے پر ہم اتنے سنگِ میل گاڑ چکے ہیں کہ واپسی ناممکن لگتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *