ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 239 )

پاسخِ قلم کی یافت۔۔۔۔ شاد مردانوی

میں نے سطریں کیوں کھینچیں..؟ میں نے قرطاس کے سینے پر سیاہ ہیولے کیوں بنائے..؟ اور ان ہیولوں میں افلاس، غم، حسرت اور نا امیدی کے گہرے سلیٹی رنگ کیوں بھرے.؟ میں اس جانکنی سے روز کیوں گزرتا رہا.. تم←  مزید پڑھیے

جہاز ۔۔۔۔ عظمت نواز

دنیا مفت میں ہمیں طعنے دیتی ہے کہ مسلمانوں نے آج تک آخر ایک سوئی تک تو ایجاد نہیں کی اورچلے ہیں دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے۔ مگر راقم الحروف نے جب معلوم انسانی تاریخ کےاوراق کھنگالے تو انگشت←  مزید پڑھیے

نذر غالب، نظم آنند(۳)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

؎ از درختان ِ ِ خزاں دیدہ نہ باشم کیں ہا    ناز بر تازگی ٔ برگ و نوا نیز کنند  ۰۰ خزاں کا موسم تو آ گیاہے میں ٹُنڈا مُنڈا سا ، ایک جو گی ہوں ہاتھ میں ایک←  مزید پڑھیے

زندگی کے میلے ۔ ۔ ۔ آصف جاوید قیصرانی

چاچا سرور بیری کے درخت کی سب سے اوپر والی شاخ پہ بیٹھا ہوا اپنی کلہاڑی سے بیری کی ٹہنیاں کاٹ رہا تھااور نیچے اس کی بکریاں اور بھیڑیں گری ہوئی ٹہنیوںسے بیری کے پتے اور بیر کھانے میں لگی←  مزید پڑھیے

یکے از بکریاتِ و قربانیات ۔۔۔۔ سہیل اکبر کروٹانہ

ہن مسئلے ميڈے ڈُو ماہى هہک بكرا، تے ہک توں ماہى مذکوره بالا شعر میں جن دو فریقین کو خاکسار نے مخاطب کیا ہے وه بلاشبہ قصاب اور بکرا ہیں ،، عید الاضحٰی سے ایک روز قبل بکرا خریدنے کے←  مزید پڑھیے

یوسفی کی پیش دستی اور سراپا نازوں کا دَھول دَھپـا ۔۔۔ حافظ صفوان محمد چوہان

ابھی تک کوئی ایسی تکڑی ایجاد نہیں ہوئی جس کے تین پلڑے ہوں کہ اگر تین چیزوں کو برابر تولنا ہو تو انھیں بیک وقت ایک ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے۔ آج ایک ایسی صورتِ حال کا سامنا ہے←  مزید پڑھیے

تم ہو کہ نہیں ہو؟۔۔۔شاد مردانوی

عجیب ہے تیرا چاہنے والا اور تیری تابش سے انکاری بھی میں نے چشم وا کی جلوہ رنگ و گِل دیکھا، نغمہ جانفزا سنا، صفیرِ بلبل نے توجہ چاہی میری بستی کے لوگ کہتے رہے کہ یہ تیری ضیاء پاشی←  مزید پڑھیے

پہچان کا سفر 3: لاجواب اور چنے ہوئے لوگ ۔ ۔ ۔ محمود فیاض

دوستو! پہچان کے سفر کے پچھلے پڑاؤ میں ہمارے انتہائی سخت گیر استاد خانصاؔحب ہمیں جنت کی راہ دکھلاتے دکھلاتے، خود مسجد جیسی پاک جگہ سے ڈورے مون کی طرح ایک دروازہ جہنم کا کھول کر روانہ ہو گئے۔ ہم←  مزید پڑھیے

اردو ادب میں غیرمسلموں کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے اظہار خیال— ظفر ندیم داود

حسین اگر بھارت میں اتارا جاتا یوں چاند محمد کا، نہ دھوکے میں مارا جاتا نہ بازو قلم ہوتے، نہ پانی بند ہوتا گنگا کے کنارے غازی کا علم ہوتا ہم پوجا کرتے اس کی صبح و شام ہندو بھاشا←  مزید پڑھیے

حسین(ر) کی تلاش۔۔۔ انعام رانا

جورو ستم سے بھر گیا ربِ  رحیم کا جہاں دہشت، ظلم، خاموشی پھیلتے ہیں بے کراں ہر جگہ یزید ہے پر حسین(ر) ہے کہاں؟ حکومتوں کے حکم میں سیاستوں کے ستم میں زاہدوں کے زہد میں عالموں کے علم میں←  مزید پڑھیے

” وہ سب کو باغی بنا رہے ہیں “۔۔۔۔بیورگ بلوچ 

جو تخت سے پھر ُاتر رہے ہیں فرشتہ بن کے جو آ رہے ہیں ہمارے کھاتے سے قرض لے کر ہماری دولت ہمارے کاسوں میں بھیک دے کر جو بھر رہے ہیں وہ ظالموں کے نڈر ملازم ہمارے حاکم ہیں←  مزید پڑھیے

سیاہ جوڑا..رضاشاہ جیلانی

میں ماں کی یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکا کہ وہ مجھے سیاہ لباس پہننے کیوں نہیں دیتی تھیں.. جہاں میں سیاہ رنگ کا جوڑا خرید کر لاتا تو وہ اس میں کئی بہانوں سے ہزار نقص نکال لیتیں یا←  مزید پڑھیے

گدھا کون۔۔۔۔۔۔خرم بٹ

سنا ہے گدھے سے کسی نے پوچھا کہ تم گدھے کیوں ہو تواپنے لمبے کان ہلا کر کہنے لگا کیونکہ میں گدھا ہوں۔ گدھے کے گدھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسکی ولادت ہی گدھی کے ہاں←  مزید پڑھیے

دو بوتلوں کی کہانی۔۔۔لالہ صحرائی

استاد نے شاگرد سے کہا اندر سے بوتل اٹھا کے لاؤ، شاگرد کو اپنے بھینگے پن کی وجہ سے اندر دو بوتلیں نظر آئیں، استاد نے کہا، ارے وہ ایک ہی ہے تم اٹھا کے لے لاؤ بس، شاگرد پھر←  مزید پڑھیے

ساب ۔۔ زندہ باد۔۔۔مبین امجد

منظر:1 ساب جلدی آئیے ۔۔۔۔ گجب ہوگیا۔۔۔ گجب کیا ہوا گامے کیوں اتنا شور مچا رہے ہو۔۔؟ ساب وہ سائٹ پہ مزدوروں نے ہڑتال کر دی ہے۔۔۔ افف ایک تو ان مزدوروں نے ناک میں دم کیا ہوا ہے (خود←  مزید پڑھیے

مکالمہ ۔۔۔ سرسید احمد خان 

سر سید احمد خان نے صدی سے زائد عرصہ ہوا “بحث و تکرار” کے نام سے یہ مضمون لکھا۔ سر سید زندہ ہوتے تو شائد “مکالمہ” کیلیے یہ ہی مضمون بھیجتے۔ ایڈیٹر۔  جب کتے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں←  مزید پڑھیے

امام حسین(ع) کو غیر مسلم شعرا کا خراجِ عقیدت۔۔۔۔طاہر یاسین طاہر

امام حسین ؑ صرف مسلمانوں کے لیے ہی قابل ِ تعظیم نہیں بلکہ دنیا کا ہر عدل پسند انسان امام ِ عالی ؑ مقام کی قربانی اور ہدف کو تعظیم و تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔بے شک مسلم مشاہیر،مفکرین،علما←  مزید پڑھیے

مارکس، مذہب اور مغالطے۔۔۔یوسف حسن

یوسف حسن خطہ پوٹھوہار سے معروف مارکسی دانشور ہیں۔ سن دو ہزار چودہ میں “ایکسپریس” نے انکا انٹرویو شائع کیا جو کئی فکری مغالطے دور کرتا ہے۔ بشکریہ ایکسپریس یہ انٹرویو شائع کیا جا رھا ہے۔ ایڈیٹر ایکسپریس: ترقی پسندی←  مزید پڑھیے

لکھو ۔۔۔ لیکن وہ لکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مبارک حسین انجم

دل و دماغ کا مکالمہ بھی کیا خوب ہوتا ہے، یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جس میں ہر فریق دوسرے کی ہی برتری تسلیم کرتے ہوئے خود کو ہارا ہوا ہی سمجھے رہتا ہے ـ دل اور دماغ کی←  مزید پڑھیے

مرزا غالب معاصر حوالے سے۔۔ڈاکٹر مجاہدمرزا

شاعر نہ تو علم نجوم میں درک رکھتا ہے اور نہ ہی پیش بینی کا دعویدار ہوتا ہے اور وہ بھی مرزا اسداللہ خان غالب کے سے شاعر جن کے جب تک قوٰی مضمحل نہیں ہوئے تھے اور عناصر میں←  مزید پڑھیے