تم ہو کہ نہیں ہو؟۔۔۔شاد مردانوی

عجیب ہے تیرا چاہنے والا اور تیری تابش سے انکاری بھی

میں نے چشم وا کی جلوہ رنگ و گِل دیکھا، نغمہ جانفزا سنا، صفیرِ بلبل نے توجہ چاہی میری بستی کے لوگ کہتے رہے کہ یہ تیری ضیاء پاشی کا کرشمہ ہے

میں نے ایک نرغے میں آئے ہوئے لاچار کے ماننے جیسا مان لیا

تم ہو کہ نہیں؟

عجیب ہے ترا چاہنے والا بھی اور تری تابش سے انکاری بھی

ترے ہونے پر اپنے ہونے کو ہونے جیسا سمجھنے والے اور ترے نہ ہونے پر اپنے ہونے میں کسی وہم کا شکار نہ ہونے والے سبھی حیات کے ہر رنگ سے یکساں رنگے ہوئے ہیں.

پہچان کیا ہو کہ تم ہو

معیار کیا ہو کہ تم نہیں ہو

تم اگر ہو تو سنو

تجھ میں تو اس لڑکی جتنا ناز بھی میں نے نہ دیکھا جس کے نام میری زندگی تھی وہ خود کو میرا نہ ہونے دیتی اور نہ ہی مجھے کسی کا ہونے دیتی. وہ مجھے اپنے حریری ڈور سے باندھے رکھتی. تمہیں بھی کیا اب سمجھانا پڑے گا کہ ناز ضروری ہے.

تم ہو کہ نہیں ہو؟

تمہاری چاہ کے سودائی آگ کی لپٹ کو تیرا غضب اور پانیوں کی بے لگامی کو تیرے چشم فسوں ساز کا اشارہ مانتے ہیں لیکن آگ کی لپٹ اور پانیوں کی بے لگامی نے ان کو بھی اجل کا نوالہ کردیا جو سودائی ہونے پر قدرت ہی نہ رکھتے تھے جو جمادات تھے، بے روح تھے…

تم ہو کہ نہیں ہو؟

تیرے سنگِ در کی ٹھوکروں میں جن کے دل مندر کی گھنٹیاں بج اٹھتی ہیں وہ اپنی مسرت تیرے نام کے ہجوں اور تیرے حسن کی خبر دینے والے رسولوں کی خوش آمدی اور جی حضوری میں تلاش کرتے ہیں اور وہ یہ باور کراتے ہیں کہ ان کو مسرت مل جاتی ہے۔

تم ہو کہ نہیں ہو؟

میں اس کو تیرے اور تیرے حسن ناکی کی دلیل ماننے کو تیار نہیں ہوں. جو کالی چٹانوں سے تراشے گئے وجود ہیں جن کا خوابناک جمال ان کے پجارنوں سے کہیں پست درجے پر ہے اس کا سنگ در بھی مسرت کا لاکھوں سالہ قدیم مخزن ہے

تو پھر تم نہیں ہو تم بس کچھ خوش عقیدہ، مجبور، ڈرے ہوئے، بقا کی جنگ لڑتے ہوئے ضرورت رکھنے والے انسانوں کیلئے تیز بارشوں کا چھپر، چلچلاتی دھوپوں کا سائبان، بھوک میں نوالہ دینے والے، شیر اژدھے سے بچاؤ کرنے والے ہو.

ایسے تو بہت سارے با اختیار میں بھی گھڑلوں….

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تم ہو کہ نہیں ہو؟۔۔۔شاد مردانوی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *