ذوالفقارزلفی کی تحاریر
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

دھرمیندر: عوامی ہیرو کا تجزیہ (2)-ذوالفقار علی زلفی

فلمی کیریئر کا مختصر خاکہ دھرمیندر کے مطابق وہ 1935 میں غیرمنقسم پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ـ فلموں میں آنے کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں دلیپ کمار کی فلم “شہید” (1948) دیکھنے کے←  مزید پڑھیے

دھرمیندر: عوامی ہیرو کا تجزیہ(1) ذوالفقار علی زلفی

دھرمیندر ہندی سینما کے پہلے “hyper-masculine” تھے ـ یہ محض کوئی جذباتی یا غیر ثابت شدہ دعوی نہیں بلکہ ہندی سینما میں اسٹار امیج کی تاریخ سے ثابت شدہ ہے ـ دھرمیندر کی اس شدید مردانگی جس میں مضبوط پٹھوں←  مزید پڑھیے

لیاری اور ہندی فلم “دھرندر” کا ٹریلر/ ذوالفقار علی زلفی

لیاری؛ کراچی کی سب سے قدیم اور پہلی محنت کش آبادی۔ بلوچ اکثریت کے ساتھ یہاں کچھی کمیونٹی دوسری بڑی آبادی ہے ـ مہاجر، میمن، پنجابی اور پشتون بھی لیاری کی سماجی تشکیل کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ خطہ تاریخی←  مزید پڑھیے

سپر سٹار : مارکسی تناظر/ذوالفقار علی زلفی

میڈم سائرہ رباب نے اپنی حالیہ تحریر “فن، جمالیات اور مزاحمت ــــ مارکس سے مارکیوز تک” کے ذریعے ہمارے درمیان جاری بحث کو شعوری یا شاید لاشعوری طور پر الجھانے کی کوششش کی ہے ـ مارکیوز پر میرا مطالعہ محدود←  مزید پڑھیے

کچھ فلموں کے سیمیاتی تجزیے (Semiotic Analysis) -ذوالفقار علی زلفی

 * تعارف   فن کی دنیا میں سینما نسبتاً جدید ہے۔ اسے بمشکل سو سال سے کچھ ہی زیادہ ہوگا۔ فلموں کو اوائل میں محض وقت گزاری اور تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ سینما انسان کی سماجی، ثقافتی←  مزید پڑھیے

پنجابی سپراسٹار پر ایک رائے/ذوالفقار علی زلفی

سلطان راہی کے اسٹارڈم پر  اپنے ناپختہ خیالات کو شیئر کرنے کی اجازت چاہوں گا ـ واضح رہے سلطان راہی پنجابی سینما کے سپراسٹار تھے جب کہ میں کراچی کا ایسا بلوچ ہوں جس کی پنجابی اس کے چند کلاس←  مزید پڑھیے

کراچی، سنسان سڑک اور ایک ڈاکٹر/ ذوالفقار علی زلفی

پرانی بات ہے ـ پلٹ کر دیکھوں تو شاید کل کی ہی کہانی ہے ـ 2008 کی سردیاں ـ کراچی میں آج کل سردی بس منہ دکھائی کے لئے ہی آتی ہے ـ ہمارے بچپن میں سردی کا موسم واقعی←  مزید پڑھیے

مزاحمتی عورت کی فلمی پیش کش/ذوالفقار علی زلفی

ہندی فلموں میں عورت کی پیش کش کے حوالے سے مختصر جائزے پر ہمارے ایک دوست نے سوال اٹھایا کہ اگر فلموں کی اکثریت عورت سے پدرشاہیت کے مطابق ڈھلنے کا مطالبہ کرتی ہیں تو کیا مزاحمتی عورت کی پیش←  مزید پڑھیے

پوسٹر بنتے جوانوں کا دکھ/ذوالفقار علی زلفی

کبھی کبھی لگتا ہے سالا ہر بلوچ مستقبل کا پوسٹر ہے ـ یادش بخیر؛ بانک کریمہ بلوچ ہر ہفتے کسی جبری گم شدہ یا مقتول بلوچ کی تصویر پر مشتمل پوسٹر اٹھائے کھڑی نظر آتی تھی پھر وقت نے ایک←  مزید پڑھیے

نوآبادیاتی شغل (کتاب) میلے/ ذوالفقار علی زلفی

بلوچستان میں کتاب میلوں پر پنجابی نوآبادکار کو کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ـ یہ کتاب میلے عموماً سیاسی دباؤ کم کرنے اور نوآبادکار کا بیانیہ پھیلانے کا کام کرتے ہیں ـ عام طور پر ان میلوں میں سندھ←  مزید پڑھیے

ایرانی سینما کی 20 نمائندہ فلمیں(4،آخری قسط)-ذوالفقار علی زلفی

3 – گاؤ سال : 1969 عالمی نام: The Cow ہدایت کار: داریوش مہرجوئی *ہدایت کار کا مختصر تعارف* ہدایت کار، ایڈیٹر و اسکرین رائٹر داریوش مہرجوئی ایک انقلابی فن کار ہیں ـ انہوں نے ایرانی سینما کی کایا ہی←  مزید پڑھیے

ایرانی سینما کی 20 نمائندہ فلمیں(3)-ذوالفقار علی زلفی

2- خشت و آئینہ سال : 1964 عالمی نام: Brick and mirror ہدایت کار: ابراہیم گلستان *ہدایت کار کا مختصر تعارف* ابراہیم گلستان ایرانی سینما کی نئی لہر کے اہم ترین قائدین میں سے ایک ہیں ـ ،وہ فرنچ نظریہ←  مزید پڑھیے

ایرانی سینما کی 20 نمائندہ فلمیں(2)-ذوالفقار علی زلفی

1- فلم “خانہ سیاہ است” عالمی نام: The house is black سال: 1962 ہدایت کارہ: فروغ فرخ زاد من خوشه های نارس گندم را به زیرِ پستان می گیرم و شیر می دهم “” میں گندم کے نوخیز خوشوں کو←  مزید پڑھیے

ایرانی سینما کی 20 نمائندہ فلمیں(1)-ذوالفقار علی زلفی

ایرانی فلم انڈسٹری کی تاریخ آج 80 سال سے تجاوز کرچکی ہے ـ پہلی ایرانی بولتی فلم “دخترِ لُر” (1933) ہندوستان میں بھارتی ہدایت کار اردشیر ایرانی نے بنا کر ایران میں ریلیز کی تھی ـ ۔اردشیر ایرانی پہلی بولتی←  مزید پڑھیے

اردنی فلم “انشااللہ ولد”/ذوالفقار علی زلفی

اردن کا سینما کتنا ترقی یافتہ ہے میں اس سے لاعلم ہوں مگر فلم “انشااللہ ولد” (Inshallah a boy) کو بلاشبہ شہکار قرار دیا جاسکتا ہے ـ یہ فلم پدرسری عرب سماج میں خواتین کے جنسی، معاشی اور سماجی مسائل←  مزید پڑھیے

ستیہ جیت رے ‘ایک عظیم فنکار/ذوالفقار علی زلفی

ستیہ جیت رے کے سینما کو سمجھنے کے لئے اطالوی نوحقیقت پسند تحریک اور فرنچ موجِ نو کے بانیوں کے نظریات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے ـ ستیہ جیت رے کا سینما فلم اور ناظر کے درمیان فاصلے کم کرنے←  مزید پڑھیے

یہ 70 کی دہائی نہیں ہے/ذوالفقار علی زلفی

پرویز مشرف نے پاکستانی صحافی حامد میر کو انٹرویو دیتے بلوچ کو مخاطب کرکے بڑی رعونت سے کہا تھا: “یہ 70 کی دہائی نہیں ہے جو آپ آگے پیچھے کریں گے، ہم آپ کو ایسی جگہ سے ہٹ کریں گے←  مزید پڑھیے

بلوچ مزاحمت کا نیا رنگ/ذوالفقار علی زلفی

کوہلو، بلوچستان میں مری قبائل کا سرکاری صدر مقام ہے (قبائلی “کاہان”) ـ مریوں کی معلوم تاریخ خون ریز جنگوں سے عبارت ہے ـ ،انگریز نوآبادکار اس قبیلے سے اس حد تک نفرت کرتے تھے کہ انہوں نے مقولہ ایجاد←  مزید پڑھیے

شاہ رخ خان: ایک سپر سٹار کا تجزیہ(5)-ذوالفقار علی زلفی

سپراسٹار شاہ رخ خان کو “کنگ خان” یا “کنگ آف بالی ووڈ” کا خطاب دلانے میں دو فلموں کا اہم کردار ہے ـ اول؛ “کچھ کچھ ہوتا ہے” (1998) اور دوم؛ “محبتیں” (2000) ـ ان دونوں فلموں کی زبردست کامیابی←  مزید پڑھیے

شاہ رخ خان: ایک سپر سٹار کا تجزیہ(4)-ذوالفقار علی زلفی

رام راج و لبرل معاشی نظام میں آؤٹ سائیڈر مڈل کلاس کے لئے مواقع پر مبنی فلمی پیشکش اور شاہ رخ خان “دل والے دلہنیا لے جائیں گے” کے بعد تقریباً لازم و ملزوم ہوگئے ـ رام اور مڈل کلاس←  مزید پڑھیے