ایرانی سینما کی 20 نمائندہ فلمیں(2)-ذوالفقار علی زلفی

1- فلم “خانہ سیاہ است”
عالمی نام: The house is black
سال: 1962
ہدایت کارہ: فروغ فرخ زاد
من خوشه های نارس گندم را
به زیرِ پستان می گیرم
و شیر می دهم
“” میں گندم کے نوخیز خوشوں کو
اپنے پستان سے لگا کر
دودھ پلاتی ہوں””
ہدایت کارہ کا مختصر تعارف
فروغ فرخ زاد کا نام آتے ہی ایک ایسی شاعرہ کا خیال آتا ہے جس نے نسائیت کی بےباک ترجمانی کرکے جدید فارسی شاعری کو ایک نیا آہنگ دیا ـ ،انہیں اردو دنیا سے غالباً فہمیدہ ریاض نے متعارف کروایا، ـ فروغ کو دنیا بھر میں ایک فیمنسٹ شاعرہ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ـ ایران کی تقریباً تمام جدید فیمنسٹ تحریکوں نے اپنے نعرے انہی کے اشعار سے اخذ کئے۔

فروغ 1934 کو تہران میں پیدا ہوئیں ـ کچی عمر میں ہی ان کے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ ان کی شادی ہوگئی ـ ۔اس دوران ان کے اندر ایک باغی شاعرہ جنم لے رہی تھی۔ ـ چند سال بعد ان کے اندر کی باغی شاعرہ نے شادی کے یک طرفہ بندھن کو زبردستی برقرار رکھنے سے انکار کردیا ،ـ رشتہ ٹوٹ گیا، مرد نے بچے پر قبضہ کرلیا۔ ـ سابق شوہر نے ہر ممکن کوشش کی ،ماں دوبارہ بچے سے نہ مل پائے ـ   اور  وہ کامیاب رہا ،ـ طلاق کے بعد فروغ یورپ چلی گئیں۔

یورپ کے سفر نے ان کی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کئے ـ ،وہ تھیٹر جاتی، فلمیں دیکھتی، اطالوی اور فرنچ فلم ناقدین و ادیبوں سے مباحثے کرتی ۔ـ اسی سفر میں ایک ایرانی نوجوان ابراہیم گلستان سے ان کی دوستی ہوگئی۔ ـ ابراہیم کو فلم میں دلچسپی تھی، فروغ فلم کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

دونوں واپس ایران آئے ـ ،اس وقت ایران میں فلمی تحریک چل رہی تھی ـ مختلف دانش ور ایرانی فلموں کی نوعیت اور ساخت پر اکیڈمک مباحث کر رہے تھے ـ یہ دونوں بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ ـ انہوں نے ابراہیم گلستان کی چند مختصر دورانیے اور کچھ فیچر فلموں میں اداکاری بھی کی ،ـ طبعیت میں چین نہ تھا۔۔ ـ انہوں نے ہدایت کاری کے دریا میں چھلانگ لگانے کا فیصلہ کیا، ـ ہدایت کاری کا آغاز جذام کے مریضوں پر ڈاکیومنٹری بنانے سے کیا۔

اس فلم کا شمار جدید ایرانی آرٹ سینما کی بہترین تخلیقات میں کیا جاتا ہے ـ عالمی سطح پر بھی فلم کو سراہا گیا ،ـ انہیں متعدد عالمی ایوارڈز سے نوازا گیا ـ، یہ سب کچھ مگر ان کی زندگی میں نہ ہوا۔اس فلم کے ذریعے نوخیز ایرانی آرٹ سینما کو ایک حساس اور باشعور خاتون ہدایت کارہ کا ساتھ مل گیا ۔ـ فروغ نے بھی شاعری کے ساتھ ساتھ مستقل فلم سازی کا اعلان کردیا   لیکن پھر سانحہ ہوگیا۔

اس فلم کی ریلیز کے پانچ سال بعد یعنی 1967 کو محض 32 سال کی عمر میں وہ فوت ہوگئیں ـ ۔تہران کی سڑک پر کار ڈرائیونگ کے دوران ایک اسکول بس کو بچاتے بچاتے وہ خود حادثے کا شکار ہوگئیں۔ـ

فروغ فرخزاد جدید فارسی شاعری میں نسائیت کی مضبوط نمائندہ سمجھی جاتی ہیں۔ ـ ان کی شاعری کی کتابیں آج بھی بڑی تعداد میں چھپتی اور بکتی ہیں۔ ـ اگر وہ زندہ رہتی تو یقیناً ایک بہترین ہدایت کارہ کے طور پر بھی خود کو ثابت کرتی ـ۔ ان کی ایک ہی فلم نے ان کی فلمسازی کو زندہ رکھا ہے گر زندگی وفا کرتی تو شاید  ۔۔
*فلم پر مختصر تبصرہ*
“خانہ سیاہ است” جذام کے مریضوں پر بنائی گئی کوئی عام دستاویزی فلم نہیں ہے ـ ہدایت کارہ نے ایک ایک تصویر کو اس طرح فلمایا اور ایڈٹ کرکے پیش کیا ہے کہ ہر تصویر خود ایک داستان بن جاتی ہے ـ ۔یہ ایک مکمل مزاحمتی پیشکش ہے جس میں اس وقت کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا گہرا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ـ 20 منٹ  پر مشتمل اس ڈاکیومنٹری کا ہر سین گہری معنویت رکھتا ہے ـ
ڈاکیومنٹری کا معروض یعنی جذام کے مریضوں کا گھر ایران کی علامت ہے جہاں تاریکی، مفلسی، بدصورتی اور جبر کا راج ہے ـ فروغ ایک جگہ کہتی ہے :
“جذام کوئی پیدائشی بیماری نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی لاعلاج مرض ہے مگر اس کا تعلق غربت سے ثابت ہے” ـ
فلم کے شروع میں ایک مرد کی آواز آتی ہے :
“دنیا میں بدصورتی کی کوئی کمی نہیں لیکن یہ بدصورتی اس وقت مزید بڑھ جاتی اگر انسان اپنی آنکھیں بند کر لیتا لیکن انسان نے حل کی راہیں تلاش کیں” ـ۔

فلم میں جذام کے مریض بچے سے پوچھا جاتا ہے دنیا کی بدصورت ترین چیزیں کیا ہیں؟ ـ جواب آتا ہے “ہاتھ، پیر اور سر” ـ۔

فلم کے حقیقی کردار مختلف سرگرمیوں میں مشغول نظر آتے ہیں ـ وہ راشن کی صفوں میں کھڑے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ایک ماں بچے کو دودھ پلا رہی ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو کوئی ناچ گانے میں مشغول ہے، وہ شادی کرتے ہیں، کھیلتے ہیں، ایک “بدصورت” عورت آئینے کے سامنے سنگھار کرتی نظر آتی ہے ـ گویا یہ ایک زندہ انسانی سماج ہے مگر اس سماج کو تاریکی سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ـ ،اسے مقید رکھنے اور لگی بندھی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے ـ۔

فلم کے بیک گراؤنڈ میں تصاویر کی مناسبت سے فروغ کی آواز میں بائبل کی آیتیں سنائی دیتی ہیں، ـ بعض مناظر ان کی اپنی آواز میں ان کی باغیانہ شاعری سے مفاہیم کے مختلف پہلو سامنے لاتی ہیں ـ کیمرہ جمالیات کا لاینحل سوال اٹھاتا ہے ۔ خوب صورتی اور بد صورتی کیا ہے؟ ـ بڑی فن کاری سے مذہب اور سماجی حقیقتوں کے درمیان تضادات کو واضح کیا گیا ہے ـ۔ایک جذام زدہ قیدی بچے کو سرکاری نصاب مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کا شکر ادا کرے کہ وہ دیکھ سکتا ہے، چل پھر سکتا ہے ـ کیمرہ سوال اٹھاتا ہے؛ کیا سرمایہ دار کی تخلیق کردہ غربت اور اس سے پیدا ہونے والی بدصورتی پر بھی صابر و شاکر رہنا چاہیے؟ ـ

افسوس ناک  پہلو یہ ہے کہ  اس فلم کو اپنی ریلیز کے وقت بے قدری کا سامنا کرنا پڑا ـ ایرانی ناقدین نے اسے بکواس، خشک تبلیغ اور سیاسی پروپیگنڈے کا گندا ملغوبہ قرار دیا ـ ۔فروغ فرخ زاد سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلم کو اپنی نحوست سے دور رکھے ـ پھر واقعہ ہوگیا ـ۔۔

فلم یورپ پہنچی، ـ یورپی ناقدین اسے دیکھ کر ششدر رہ گئے ـ۔ جرمنی نے اسے انعام سے نوازا، عالمی ادارہ سائٹ اینڈ ساؤنڈ نے اسے تاریخِ سینما کی 50 بہترین دستاویزی فلموں میں سے ایک قرار دیا۔ ـ

امریکہ کے معروف ناقد جوناتھن روزنبام نے اسے ان فلموں میں سے ایک قرار دیا جن کا دیکھنا ضروری ہے ـ فرنچ دانش ور لوئیس مارکر نے اسے شہکار کے نام سے پکارا ـ۔۔”خانہ سیاہ است” کو جب پہچانا اور سراہا جا رہا تھا تب فروغ فرخ زاد دنیا سے جاچکی تھی ـ وہ اپنی تخلیق کی تحسین دیکھ ہی نہ پائیں ـ۔
آج ایرانی فلم ناقدین، تاریخ دان اور مبصرین کا اتفاق ہے کہ یہ فلم ایرانی سینما کی تاریخ کا اہم ترین واقعہ تھا ـ یہ آج تقریباً تمام فلم انسٹیٹیوٹ کے نصاب کا حصہ ہے ـ اس کی شرح پر، ہر تصویر پر درجنوں  تحاریر لکھی جاچکی ہیں ـ ایران کے ادارہ ثقافت نے اس کی پرنٹ کوالٹی کو بہتر بنا کر تمام یونیورسٹیوں کی فلم لائبریری کا حصہ بنا دیا ہے ـ 2012 کو دنیا بھر کے 250 معتبر ناقدین کی آرا کے تحت اسے دنیا کی سو عظیم ترین دستاویزی فلموں میں سے ایک تسلیم کیا گیا ـ اچھی تخلیق کبھی نہیں مرتی!

فروغ فرخ زاد کو زندگی نے موقع نہیں دیا ـ وہ اس فلم کی تخلیق کے بعد محض پانچ سال مزید زندہ رہیں ـ بقول عرفان خان جب ہم جیسوں کی باری آتی ہے تو درمیان میں موت آجاتی ہے ـ
نوٹ: فلم کا تفصیلی تجزیہ الگ سے کریں گے

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply