وہارا امباکر کی تحاریر

کینسر (38) ۔ ایک دوا، ایک حدف/وہاراامباکر

تیرہ ستمبر 1962 کو ICI نے ایک کیمیکل کو پیٹنٹ کروایا تھا۔ یہ ٹیموکسفین تھا۔ اور یہ ایک غیر اہم خبر تھی۔ اس کو بنانے والے ہارمون بائیولوجسٹ آرتھر والپول اور سنتھیٹک کیمسٹ ڈورا رچرڈسن تھے۔ اور اس کا مقصد←  مزید پڑھیے

کینسر (37) ۔ ہارمون تھراپی/وہاراامباکر

گنز نے سوال کیا تھا کہ “کیا ٹیسٹوسٹرن کی کمی کینسر پروسٹیٹ کینسر کو ختم کر سکتی ہے”۔ اس وقت کے عام خیال کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے تجربہ کرنے کا فیصلہ←  مزید پڑھیے

کینسر (36) ۔ پروسٹیٹ/وہاراامباکر

“اگر آپ اپنے دشمن کو جانتے ہیں اور خود کو جانتے ہیں تو سو جنگوں میں آپ کو نقصان نہیں ہو گا۔ اگر آپ خود کو جانتے ہیں لیکن دشمن کو نہیں تو ایک جنگ جیتیں گے اور ایک ہاریں←  مزید پڑھیے

کینسر (35) ۔ کیمیائی بمباری/وہاراامباکر

بارنیٹ روزنبرگ ایک بائیوفزسٹ تھے جو 1965 میں ایک تجربہ کر رہے تھے۔ ان کا سوال تھا کہ “برقی رو کا بیکٹیریا کی تقسیم پر کیا اثر ہوتا ہے؟”۔ جب انہوں نے برقی رو گزاری تو بیکٹیریا نے تقسیم ہونا←  مزید پڑھیے

کینسر (34) ۔ ڈیٹا/وہاراامباکر

سڈنی فاربر کا انتقال 1973 میں ہوا۔ یہ کینسر کے علاج کی تحقیق کے بحران کا وقت تھا۔ ادویات کی دریافت رک چکی تھی۔ تھیوریاں ناکام ہو رہی تھیں۔ ٹرائلز رکے ہوئے تھے۔ اکیڈمک کانفرسز میں لڑائیاں چل رہی تھیں۔←  مزید پڑھیے

کینسر (33) ۔ کینسر ایکٹ/وہاراامباکر

رچرڈ نکسن بے صبرے، جارحانہ اور حدف کے لئے کام کرنے والے امریکی صدر تھے۔ اور وہ تحقیق میں بھی ایسے طریقے کی طرف جھکاوٗ رکھتے تھے۔ بغیر خاص مقصد کے کھلی تحقیق کرنے کا تصور انہیں تنگ کرتا تھا۔←  مزید پڑھیے

کینسر (32) ۔ مرکزِ نگاہ/وہارا امباکر

کینسر کے علاج پر تحقیق جاری تھی۔ اور چند کامیابیاں ملی تھیں، جس نے امید بڑھا دی تھی۔ کئی محققین صبر، باریک بینی اور وقت کا تقاضا کر رہے تھے۔ نیشنل کینسر انسٹیٹوٹ کے ایک ڈائریکٹر نے 1963 میں کہا،←  مزید پڑھیے

کینسر (31) ۔ ایک وجہ/وہارا امباکر

کینسر آخر ہوتا کیوں ہے؟ وجہ کیا ہے؟ اس کی مقبول وضاحت سوماٹیک میوٹیشن تھیوری تھی۔ اس کے مطابق ماحولیاتی کارسنوجن جیسا کہ ریڈیم یا دھویں کی کالک کسی وجہ سے خلیے کے سٹرکچر کو مستقل طور پر ضرر پہنچاتے←  مزید پڑھیے

کینسر (30) ۔ ایک علاج/وہاراامباکر

ملٹی ڈرگ تھراپی کی مدد سے ہوجکن بیماری کی ایڈوانسڈ سٹیج کے خلاف حاصل کردہ کامیابی تحقیق کے مورال کے لئے بھی اہم تھی۔ اس سے قبل ہونے والی ویمپ کی ناکامی کی مایوسی چھٹ رہی تھی۔ ویمپ سے لیوکیمیا←  مزید پڑھیے

کینسر (29) ۔ ملٹی ڈرگ تھراپی/وہاراامباکر

کینسر کی ادویات دریافت کرنے کے تین ذرائع تھے۔ ایک سائنسدانوں کے لگائے گئے اندازے، جیسا کہ فاربر نے اندازہ لگایا تھا کہ اینٹی فولییٹ لیوکیمیا کے خلیوں کے بڑھنے کو بلاک کر سکتا ہے اور اس کیلئے ایمینوپٹرین کو←  مزید پڑھیے

کینسر (28) ۔ مرض کی شخصیت؟/وہاراامباکر

تھامس ہوجکن پیرس کے میوزیم میں “مّردوں کے انسپکٹر” تھے۔ ان کا کام مر جانے والوں کے سیمپل اکٹھے کرنا تھا۔ کچھ برسوں میں انہوں نے سینکڑوں مردوں سے ٹشو لے کر فارملین کے مرتبانوں میں ڈالے تھے۔ لیکن ان←  مزید پڑھیے

کینسر (27) ۔ دو مریض/وہاراامباکر

بین اورمان چوبیس سالہ ایتھلیٹ تھے جب فروری 2004 کی صبح انہیں اپنی گردن میں کشمش کے سائز کی گلٹی محسوس ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ غائب ہو جائے گی لیکن یہ بڑھتی گئی تو وہ ہسپتال گئے۔←  مزید پڑھیے

کینسر (26) ۔ دغا/وہاراامباکر

چار طاقتور زہریلی ادویات کا کمبینیشن ویمپ تھا۔ اس کو 1961 میں زیادہ علیل بچوں پر لگایا گیا۔ پہلے ہفتے کے آخر میں بچوں کی حالت بگڑ چکی تھی۔ چار ادویات نے ان کے جسم میں تباہی مچا دی تھی←  مزید پڑھیے

کینسر (25) ۔ چار زہر/وہاراامباکر

مڈغاسکر کے ایک پودے سے حاصل ہونے والا زہریلا کیمیکل ونکرسٹین تھا۔ یہ ایک پستہ قد بیل تھی جس میں جامنی پھول اگتے تھے۔ یہ کیمیکل 1958 میں دریافت ہوا۔ اس پر ذیابیطس کے لئے تحقیق کی جا رہی تھی←  مزید پڑھیے

کینسر (24) ۔ ٹرائل/وہاراامباکر

جب بیسویں صدی کی وسط میں نئی اینٹی بائیوٹکس آنا شروع ہوئیں تو ایک اہم سوال اٹھ کھڑا ہوا۔ کیسے پتا لگے کہ نئی دوا کام کرتی ہے؟ جب سٹریپٹومائیسین دریافت ہوئی تو اس نے امید جگا دی کہ تپدق←  مزید پڑھیے

کینسر (23) ۔ جادوگر یا متجسس/وہاراامباکر

دوسری جنگِ عظیم کے وقت 1941 میں امریکہ میں آفس آف سائنٹفک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا تھا جس نے ملٹری ٹیکنالوجی کی ایجادات مٰں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایجنسی سائنسدانوں کو بھرتی کرتی←  مزید پڑھیے

کینسر (22) ۔ تنظیم/وہاراامباکر

بیسویں صدی کے وسط میں کینسر کے خلاف ہتھیاروں میں سرجن کا نشتر، ریڈیولوجی کی شعاعیں اور کیمیکل ادویات پر کام کیا جا رہا تھا۔ میڈیکل انقلاب کے اس دور میں کینسر کے خلاف پیشرفت سست تھی۔ کچھ لوگوں کو←  مزید پڑھیے

کینسر (21) ۔ زہریلی فضا/وہاراامباکر

دو دسمبر 1943 کو اٹلی میں باری کے قریب امریکی بحری جہازوں پر جرمن طیاروں نے بمباری کی۔ جہازوں کو آگ لگ گئی۔ ان میں سے ایک جہاز، جان ہاروے، میں ستر ٹن مسٹرڈ گیس موجود تھی۔ ہاروے کے پھٹتے←  مزید پڑھیے

کینسر (20) ۔ جادو کی گولی/وہاراامباکر

ایہرلچ کی لیبارٹری ڈائی بنانے والی فیکٹریوں کے علاقے کے قریب تھی۔ ان کے پاس ہزاروں کمپاونڈ تھے جن کا وہ جانوروں پر ٹیسٹ کر سکتے تھے۔ انہوں نے آغاز جراثیم کش کیمیکل کی تلاش سے کیا۔ انہوں نے چوہوں←  مزید پڑھیے

کینسر (19) ۔ کیمیکل سے علاج/وہاراامباکر

“مصنوعی دنیا اور قدرتی دنیا کے درمیان کوئی سرحد نہیں”۔ برلن کے سائنسدان فریڈرک ووہلر نے لیبارٹری میں یوریا بنا کر اس کو عملی طور پر دکھا دیا۔ اس نے میٹافزکس میں طوفان برپا کر دیا۔ یہ معصوم سا لگنے←  مزید پڑھیے