آنکھ کھولنے سے ہی سلسلہ گفت و شنید کا شوقین رہا ہوں۔ ہمارا گھر محلے بھر میں وہ واحد گھر ہوتا تھا جہاں پی ٹی سی ایل کا فون لگا ہوا تھا۔ اس زمانے میں فون لگوانا جوئے شیر لانے← مزید پڑھیے
میرا خیال تھا کہ پاکستان میں بچے پیدا کرنا سب سے آسان کام ہے کیونکہ یہاں ان کے بھی بچے ہیں جن کی عقل داڑھ بھی نہیں نکلی (اگر نکلی ہوتی تو شاید سوجھ بوجھ سے کام لیتے) لیکن مجھے← مزید پڑھیے
شاعری ان جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہے جو انسان عام طور پر نثر میں نہیں کہہ پاتا۔ شاعری جسے فراز نے تازہ زمانوں کی معمار کہا، سلسلہ کُن فیکون، وہی شاعری ن م راشد کے لیے خواب کی سی← مزید پڑھیے
پامیر کا دل اور واخان کاریڈور کی وادی بروغل میں دمکتی کرمبر جھیل تک پہنچتے مجھے مسلسل پیدل چلنے کی تھکاوٹ سے بخار ہو چکا تھا۔میرا پورٹر سیف اللہ جھیل سے واپسی والے دن میرے پاس آیا اور بولا “صاحب← مزید پڑھیے
میں پاکستان کی سرحد پر کھڑا تھا۔ ارد گرد ویرانی تھی، دور تک خاموشی تھی، اور آسمان سے برف گر رہی تھی۔ نومبر کے دوسرے ہفتے کا آغاز تھا۔ ایسا سفید دن تھا کہ میری سرخ جیپ اور سرمئی رنگ← مزید پڑھیے
اگلی صبح اٹھا اور کشمیر کی آخری انسانی آبادی گگئی گاؤں کی طرف چل پڑا۔ یہ پیدل مسافت کا راستہ تھا۔ راستے میں جنگل تھے۔ کھیت تھے۔ چرند پرند تھے۔ ایک دو مارموٹ تھے۔ میرے ساتھ ساتھ گگئی نالہ جھاگ← مزید پڑھیے
سفر کرنے کی وجہ سے انسان بہت کچھ سیکھتا اور پڑھتا ہے ، سیکھتا زیادہ ہے پڑھنے کو جو ملتا ہے اس کا نوے فیصد جی ٹی روڈ پر پٹرول پمپوں ، ہوٹلوں کے پبلک باتھ رومز ، پبلک ٹرانسپورٹ← مزید پڑھیے
سوچا تھا آج انارکلی فوڈ سٹریٹ جا کر سحری کروں گا۔ اس کے ساتھ میرے لڑکپن و جوانی کی یادیں وابستہ ہیں۔ رمضان میں دو تین بار سیالکوٹ سے گاڑی لے کر آنا ہوتا اور سحری کر کے واپس چلا← مزید پڑھیے
میں خواب دیکھتا ہوں، تعبیروں کی جستجو میں جلتے سفر کے خواب، دور دراز کی جھیلوں کے خواب، رنگوں کے خواب، لوگوں کے خواب، سفر سے تھکے منظروں اور تاروں بھری راتوں کے خواب۔ یہی خواب تو ہیں جنہوں نے← مزید پڑھیے
مرالہ کے مقام پر سوہنی کے دریا چناب کے کنارے یوں تو کئی جھگیاں آباد ہو گئیں تھیں لیکن وه ایک جھگی سب سے الگ ذرا فاصلے پر سڑک کے ساتھ ایسے بسی تھی جیسے باقی برادری نے اسے علاقہ ← مزید پڑھیے
فطرت کو نہ تو دھوکا دیا جا سکتا ہے نہ اور نہ بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ یہ آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اُس کی پوری قیمت وصول کر لیتی ہے۔ نپولین ہِل کراچی← مزید پڑھیے
چار مرغابیوں کا غول اڑا اور دور برفپوش پہاڑوں کی طرف نکل گیا۔ ان کے اڑنے کے ساتھ خوشی بھی رخصت ہوئی۔ ہوٹل واپس پہنچے تک بھوک ستا رہی تھی۔ بوڑھے شخص نے بڑھ کر استقبال کیا اور بولا “حالات← مزید پڑھیے
کچورا کی جھیل کے اردگرد پھیلے جنگل میں رات اُتر چکی تھی۔ یہ نومبر کا آغاز تھا۔ ہوا میں سردی بھری ہوئی تھی جو جسم کو چیرتی ہوئی گزر جاتی تھی۔ زمین پاپولر کے خزاں رسیدہ پتوں سے ایسے سجی← مزید پڑھیے
وکٹوریا کی بندرگاه چھوڑے گھنٹہ بیت چکا تھا۔ فیری اب بحر ہند کے کھُلے سمندر میں جھولتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سمت مڈغاسگر کی طرف تھی۔ براعظم افریقہ کی حدود میں آسمان شفاف اور روشن تھا۔ سورج پوری← مزید پڑھیے