پاکستان کی ساحلی پٹی: سلسلہِ کُن فیکون۔۔۔۔سید مہدی بخاری

فطرت کو نہ تو دھوکا دیا جا سکتا ہے نہ اور نہ بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ یہ آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اُس کی پوری قیمت وصول کر لیتی ہے۔ نپولین ہِل

کراچی کی چکاچوند روشنیوں سے دور کلفٹن کے ساحل پر فروری کی نیم سرد شام بکھر رہی تھی۔ سارے دن رزق کی تلاش میں بھٹکتے تھکے ہارے پرندے ساحلوں کو لوٹ رہے تھے۔ کچھ پرندوں نے ساحلی پٹی کے اطراف لگے خال خال پستہ قد درختوں میں رین بسیرے ڈھونڈنا شروع کردئے تھے۔ اس شام ساحل پر لوگ کم کم تھے اور جو تھے ان کے چہروں کی تھکاوٹ کو سمندری ہوا جذب کر رہی تھی۔ خونچہ فروش اور اونٹ والے اپنے گاہکوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر آوازیں لگاتے پھر رہے تھے۔ایک دن قبل اسی وقت میں کراچی میں واقع ہاکس بے کے ساحل پر کھڑا تھا. شام کے رنگوں نے کروٹ بدلی اور تاریکی کی سیاہ چادر اوڑھنے لگی۔ میرے سائے نے جسم کا ساتھ چھوڑا، ایک لہر قدموں سے لپٹی اور ایک ٹھنڈا ہوا کا جھونکا مجھے اڑا کے لے گیا۔

میرے کمرے کی دیواروں پر میری تصویریں لگی ہیں جوبیتے بارہ سالوں سے میری جنون کی عکاس ہیں، میں جب کمرے میں ان کے بیچ کھڑا اپنے آپ کو دیکھتا ہوں تو گزرے ہوئے ماہ و سال ، سفر میں بیتے لمحے ، جلتی دوپہریں ، ٹھنڈی شامیں ، سُلگتی راتیں ، چاند کی وارداتیں ، بچوں کی ہنسی سب ایک ٹائم لیپس فلم کی صورت میرے ذہن کے پردے پر چلنے لگتے ہیں کبھی کبھی تو تصویریں سچ میں باتیں کرنے لگتی ہیں اور کہتی ہیں تم نے ہمیں قید کیا ہمیں اس فریم سے رہائی دو اور خود بھی ہماری یادوں سے آزادی پاؤ ۔۔۔ مجھے وہ منتر بھول گیا ہے جس کو پڑھ کر میں ان منظروں اور مجسم لوگوں کو رہا کر سکتا ۔۔۔ میرے خدا نے مجھے صرف قید کرنا سکھایا تھا ۔۔۔ میرے لیئے یہ بھی ایک دل پر پتھر ہے کہ روز دکھ سکھ کے دنوں کو خیال میں لا کر اداس ہو جاؤں ۔۔ ایک نگر کی بچی کی ہنستی تصویر ہے جس کی آنکھوں کی پُتلیوں سے اس باغ کا عکس نظر آتا ہے جہاں وہ کھڑی تھی ، جو کہتی ہے کہ آؤ ہمارے ساتھ کھیلو اور میں نمزدہ آنکھوں سے جواب دیتا ہوں کہ کھیلنے کی عمر تو اب خواب ہو گئی ۔ اب تو نہ جنوں ہے نہ سکوں ہے یوں ہے ۔۔۔

بدلتے موسموں کی دلداری اور بیتے شب و روز کی دل آزاری دونوں پر یقین کرنے کے لئے کبھی کبھی بھولی بسری یادوں کو چھُو لینا بھی اچھا ہے۔چار سال قبل پاکستان کے شمال پر ڈان میں سیریز کی صورت اپنا فن پیش کرنا شروع کیا۔ اب جب گلگت بلتستان کی سیاحت کو ان سالوں کو میں کافی عروج مل چکا ہے اور میں کافی داد و تحسین سمیٹ چکا ہوں، سیاحت پر منعقد ایونٹس بھگتا چکا ہوں، ریاستی عہدے داروں اور اداروں کے لئے اپنی تئیں خدمات سر انجام دے چکا ہوں تو اب کچھ ذکر پاکستان کے ساوتھ یعنی بلوچستان و سندھ کا بھی ہو جائے۔ یوں بھی مسافر کو قیام سے کیا غرض۔ وہ تو پل بھر کو کسی شاخِ سبز کی چھاؤں میں سستانے کو رکتا ہے، زادِ سفر لیتا ہے اور پھر نئی منزل کی تلاش میں گردِ سفر ہو جاتا ہے۔ نئے پاکستان میں سیاحت کی فروغ کے چرچے ہیں۔ ریاستی وعدے ہیں۔ روشن مستقبل کو میل کے پتھر نصب کرنے کے ارادے ہیں ایسے میں میرے اندر کا فنکار اپنے صحنِ گل کو چھوڑ کر صحرا کی سمت لینا چاہتا ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی جو کراچی سے گوادر تک پھیلی ہے اس کے کنوارے ساحلوں پر نقشِ پا ثبت کرنا چاہتا ہے جب تک کوئی نئی لہر کوئی طوفانی ہوا کا جھونکا انہیں مٹا نہ دے۔

گھر کا سکون مجھے بے چین کر دیتا ہے۔ بے چینی میں مجھے کچھ نہیں سوجھتا۔ یوں لگتا ہے جیسے خلا میں معلق ہوں۔ بے سکون ہو کر راحت ملتی ہے۔ نڈھال ہو کر چین۔ سفر کی دلداری ، سڑک کے موڑ، ڈھابوں کی چائے، انسانی آبادی سے دور ستاروں بھری راتیں کے سناٹے میں سگریٹ سلگانے کو لائیٹر جلنے کی آواز میں ہی قرار ہے۔ برستی بارش کی رات میں لاہور کو چھوڑا اور اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے دہائیوں بعد ریل کے ذریعے کراچی کو نکل کھڑا ہوا۔ میرا ارادہ کراچی سے بذریعہ کوسٹل ہائے وے ساحلی پٹی کے ہمراہ سفر کرتے گوادر جانے کا تھا۔

ریل چلتی رہی، بارش برستی رہی، رات کی تاریکی میں سوئے ہوئے شہر گزرتے رہے۔ اپنے کیبن کے دروازے پر کھڑا اپنے بچپن کو یاد کرتا رہا۔ کبھی کبھی ریل کے ہمراہ بہتی ہواؤں میں پھیلتا ارتعاش آسمان میں چھائی ہوئی حاملہ بدلیوں میں کراہنے لگتا۔ تیزحیرت زدہ ہوائیں پھنکارتیں، ریل کے ڈبوں کو لڑھکاتیں، کھڑکاتیں، دیوانے کتے کی طرح بھونکارتیں، آسمان میں حاملہ بدلیوں کے بطن کو جھنجھوڑتی رہیں۔ بجلی چمکتی تو دھماکا سنائی دیتا۔ مسافر اپنے اپنے کیبن میں دبکے لیٹے اونگھتے رہے۔ رات کے بیشمار آنسو ایک ایک کر کے صبح کے کشکول میں ٹپکنے لگے۔ پٹری کے اطراف کھجور کے درختوں میں گھوک سوئے ہوئے پرندوں کو صبح کی سفیدی جگانے آنے لگی۔ ریل ضیا الحق کی زمین سے نکل کر بھٹو کے علاقے میں داخل ہوئی تو منظر جوں کے توں ہی رہے البتہ مٹی کا مزاج بدل گیا۔ پٹری کے اطراف کھجور کے درخت قطار اندر قطار چلنے لگے۔ علی الصبح اطراف کی کچی بستیوں میں کچی پگڈنڈیوں پر آدھ برہنہ بچے اور کتے ایک ساتھ کھیلتے دکھتے رہے۔ طلوع آفتاب کے بعد کی پہلی پہلی روپہلی کرنیں ان کچی بستیوں کی گاڑے مٹی سے بنی دیواروں کی پیلاہٹ کو بھڑکانے لگیں۔ وہیں کہیں پہ لال کرتا پہنے ایک ملنگ منہ آسمان کی سمت اٹھائے جھومتا رہا پھر سرخ نقطہ بن کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ریل کی سیٹی گونجی تو صبح کی یخ ٹھنڈی فضا کو تار تار کرتے کھیتوں میں پھیلتی گئی۔

کراچی اسٹیشن پر قدم پڑے تو میرے کراچی کے دوست عادل جدون اور ابوذر نقوی میرے منتظر تھے۔ یہ دونوں زبردست سیاح ہیں۔ بلوچستان و سندھ میں دس سالوں سے آوارگی کر رہے ہیں اور انہوں نے ہی مجھے اکسایا تھا۔ ہم نے اگلی صبح کراچی کو الوداع کہہ کر گوادر کی سمت نکل جانا تھا۔ دھیان ٹوٹا تو کلفٹن کا ساحل مکمل تاریک ہو چکا تھا۔ خونچہ فروش ساحل سے دور جا چکے تھے۔ سمندر کا شور بڑھنے لگا تھا۔ رات کراچی میں کبھی نہیں سوتی مگر مجھے تھکان کے مارے نیند آنے لگی۔ اپنے بستر پر لیٹا اگلے سفر کے خواب بُنتے سو گیا۔

جیپ نے کراچی کو چھوڑا۔ حب چوکی کی ٹریفک سے نکلتے ہوئے کوئٹہ جانے والی شاہراہ پر سفر ہوتا رہا۔ راستے میں گڈانی آیا تو جیپ گڈانی کے ساحل کو مڑ گئی۔ گڈانی کیا ہے ، بحری جہازوں کا قبرستان۔ شپ بریکنگ یارڈ کے ساحل پر بڑے جہاز دم توڑنے کو آئے ہوئے تھے۔ آخری سانس لینے کو اس ساحل سے خوبصورت بھی کیا ہو سکتا تھا۔ ڈوبتے سورج کی روپہلی کرنیں ان جہازوں کے عرشوں کو تانبا بنانے لگیں۔ مزدروں کا انبواہ تھا جو جہازوں پر پِل پڑا تھا۔ ٹوٹتے، بکھرتے، دم توڑتے جہاز اور ان کے سکریپ میں روزی تلاشتے غریب انسان۔ ان محنت کشوں کے بیچ پھرتے آوارہ کتے اور ہم۔ کیمرے کے شٹر کی آوازیں جہازوں کی کراہٹوں میں دب کر رہ گئیں۔ اس سے پہلے کہ تاریکی پنجے کھولے جھپٹنے لگتی اور سورج ہچکیاں لیتے افق پر ڈوبنے لگتا جیپ نے موڑ کاٹا اور واپس قومی شاہراہ پر دوڑنے لگی۔ بلوچستان کا آغاز ہو چکا تھا، آگے ضلع لسبیلہ کا شہر اوتھل تھا۔ ہوا نے اپنے سُر پھر سے اونچے کئے تو سڑک پر مٹی و ریت سانپ جیسی شبیہہ بناتے جیپ کے آگے آگے دوڑنے لگی۔ جیپ کئی سانپوں کو کچلتی رہی۔ ہوا چلتی رہی۔

اوتھل کے آتے آتے آسمان تاریک ہوا۔ شہر سے ذرا پہلے کراچی کوئٹہ شاہراہ کو چھوڑتی ہوئی ایک سڑک بائیں ہاتھ گوادر کی راہ لیتی ہے۔ کوسٹل ہائے وے کا آغاز تاریکی میں ہوا۔ تارکول بچھی یہ سڑک پاکستان چائنہ اکنامک کاریڈور کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کا روشن مستقبل اسی سڑک سے وابستہ ہونے کے ریاستی دعوے ہیں۔ سڑک کے دونوں اطراف ریتلے میدان ہیں کہیں کہیں ٹرک ہوٹل دکھائی پڑتا ہے۔ اکا دکا پٹرول پمپس ہیں جن پر ایران سے سمگل شدہ تیل بیچا جاتا ہے۔ ایرانی مصنوعات گھی،بسکٹ، آئس کریم،کیک، چاکلیٹس وغیرہ باآسانی دستیاب ہیں۔ جیپ اپنی ہیڈلائٹس کی رہنمائی میں چلتی چلتی سڑک کو چھوڑ کر بائیں ہاتھ میدان میں اُتر گئی۔ بھربھری مٹی کا یہ میدان کیچڑ کے آتش فشاں یعنی مڈ والکینوز کا ایریا ہے۔ یہیں کہیں ہندوؤں کا مقدس مقام چندر گپ واقع ہے جو کہ تیس سو فٹ اونچا دنیا کا واحد کیچڑ کا آتش فشاں ہے۔ آج کی رات اس مقدس مڈ والکینو کے دامن میں بسر کرنے کا ارادہ تھا۔ آسمان پر ستاروں کی بادل کی ٹکریوں سے آنکھ مچولی جاری تھی۔، سامنے چندرگپ کھڑا تھا، ہوا میں خنکی بھری ہوئی تھی۔

تین سو فٹ کی چڑھائی چڑھتے ، ہانپتے کانپتے چندر گپ کے دہانے پر کھڑا ستاروں و بادل بھرے آسمان کو دیکھتا رہا۔ کنارے پر کھڑے کیچڑ کے اُبلنے کی آوازیں آتیں۔ یاترا ہو چکی تو واپس نیچے اُتر کر اپنے ٹینٹ میں لیٹا ستارے شمار کرتا رہا پھر نیند کی دیوی نے بانہیں پھیلا دیں۔ صبح سورج کی آمد کے ساتھ آنکھ کھُلی۔ چندرگپ دن کی روشنی میں سامنے کھڑا کسی اوتار کا تخت لگ رہا تھا۔ ملک بھر سے ہندو اس پہاڑ کی یاترا کرنے ہر سال اپریل میں اس مقام پر آتے ہیں۔ دلوں میں مرادیں لئے اس کے کیچڑ میں لت پت ہو کر اپنے گناہوں کا کفارا ادا کرتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کے لئے یاتریوں کوہنگول میں واقع ہنگلاج مندر جسے نانی مندر کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے سے یہاں تک اکیس کلومیٹر کی پیدل مسافت کڑکتی دھوپ میں طے کرنا پڑتی ہے لہذا یاتریوں کو سب سے زیادہ کھٹنائیاں بھی اسی چندر گپ یاترا میں اُٹھانی پڑتی ہیں۔

رات بیتی اور جیپ واپس کوسٹل ہائے وے پر دوڑنے لگی۔ کنڈ ملیر کا مقام آیا۔ مچھیروں کی یہ بستی ابھی اونگھ رہی تھی۔ کشتیاں ساحل پر اوندھی پڑی سو رہی تھیں۔ سمندر شانت تھا۔ کنڈملیر پلک جھپکنے میں ہی گزر گیا۔ سڑک نے موڑ کاٹا اور سمندر سے جدا ہوئی۔ ہنگول نیشنل پارک کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہنگول پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔ ۱۶۵۰ کلومیٹر پر محیط ہنگول طلسماتی دنیا کا دوسرا نام ہے۔ اس کے لینڈ اسکیپ کی رنگا رنگی ، بناوٹ اور لمحہ بہ لمحہ بدلتے منظروں میں مقناطیسی کشش ہے۔ کہیں یہ جھک کر سطح سمندر جتنا نیچا ہو جاتا ہے اور کیچ کے میدانوں تک پھیل جاتا ہے تو کہیں آواران کے سربلند پہاڑوں سے خراج وصولتا ہے۔ کہیں بھربھری مٹی کی پہاڑیوں کو ہوا نے اپنی کاٹ سے تراش کر دیو ہیکل مورتیوں، قلعوں ، پرانی فصیلوں اور شطرنج کے مہروں کی شبیہہ بنا دیا ہے تو کہیں میلوں تک پھیلی ہاتھ کی ہتھیلی جیسی ہموار وادیاں اور ریت کے ٹیلوں کے انبار ہیں جنہوں نے مل کر صحرا کا روپ دھار رکھا ہے۔ یہیں کیچڑ اچھالتے آتش فشاں ہیں اور اسی کے ہمراہ بحیرہ عرب کروٹ بدلتا چلتا ہے۔ میرے سامنے ہنگول کا بابِ طلسم کھُلنے لگا اور پھر کھُلتا ہی چلا گیا۔

افق پر لالی ابھرنے لگی۔ سمندر ایک بار پھر سڑک کے ساتھ آن ملا۔ یہ گولڈن بیچ تھا۔ ریت کے چھوٹے ٹیلوں کے عقب میں طلوع ہوتے سورج کی شفق کے رنگ سمندر کی لہروں پر پھیل رہے تھے۔ جیپ کچھ دیر کو اس ساحل کنارے رکی۔ سورج ماند پڑتے بادلوں کی پتلی تہہ سے باہر نکلنے لگا۔ وہیں کہیں ساحل کے پاس ڈولفن مچھلیوں کا گروہ تیرتا نظر آیا۔ سمندر کی لہریں میرے پاؤں کو بھگوتی رہیں۔ ڈولفن مچھلیوں کا گروہ کچھ فاصلے پر تیرتا رہا۔ کیمرے کا پردہ گرتا رہا۔ رخصت ہوتے جیپ کی سائیڈ مرر سے آخری بار ڈولفن پر نظر ڈالی اور پھر منظر ڈوب گئے۔ سڑک پھر سے سمندر سے جدا ہو کر بھربھری مٹی کی پہاڑیوں کے دامن میں اُتر گئی۔ دریائے ہنگول کا پل گزرا۔ آگے بوزی پاس تھا۔

میرے ہمسفر عادل جدون اور ابوذر نے چلتے چلتے اک بار پھر سڑک کو چھوڑا اور بائیں ہاتھ کیچڑ کے میدان میں جیپ اتار دی گئی۔ کیچڑ سے جیپ لڑتی رہی۔ یہ سارا دلدلی میدان تھا۔ اب کے بار رات گزارنے کی منزل یہاں سے بارہ کلومیٹر دور اس کیچڑ بھرے میدان کو پار کر کے سپت کے مقام پر واقع ساحل پر تھی۔ سپت کا ساحل کرشماتی دنیا ہے۔ ہنگول کا اک اور بابِ طلسم وا ہونے کو تھا۔ شام رنگ بکھرنے لگے۔ سپت کا ساحل آیا۔ پھر رات ہوئی اور تارے نکلے۔ تارے کیا نکلے میرے اندر کا سیاح مچل اٹھا۔ رات کو ساحل کنارے فوٹوگرافی کرتے یقین نہیں آتا تھا کہ میں یہ معجزہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ انسانی پہنچ سے دور ہونے کے سبب اس ساحل پر رات کو سمندر کی لہروں میں ایک قدرتی عمل ظہور پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں بہت کم ساحلوں پر دیکھا جاتا ہے۔ ساحلوں پر آتی پانی کی لہروں میں نیلی روشنیاں چمکتی ہیں۔ ان نیلی روشنیوں کی وجہ پانی کے اندرموجود کوئی حیاتیاتی مخلوق ہے۔ سائنسدان اس عمل کو Bio luminescence کہتے ہیں۔ ایک حیرت کا باب مزید کھلنے لگا۔ رات تھک ہار کر اپنے کیمپ میں لیٹا تو خواب میں نیلی روشنیاں آتی رہیں۔

رات کا پردہ چاک ہوا تو سپت کے ساحل نے رنگ اوڑھنے شروع کیئے۔ طلوعِ آفتاب سے ذرا پہلے آسمان کی سرخی لہروں پر اترنے لگی تھی۔ پھر سورج آیا اور منظر پیلے رنگ میں رنگے گئے۔ پرندوں کی ڈار آسمان سے گزری ۔ پہلی روشنی سپت کے ساحل پر اُتری تو وہیں کہیں ایک بڑا کچھوا زمین کھود کے نکلا اور لہروں کی سمت بڑھنے لگا۔ سورج کرنیں تیز کیئے اُبھرتا رہا۔ جیپ نے واپسی کی راہ لی۔ اک بار پھر کیچڑ کا میدان راہ روکے ملا۔ اب کے جیپ ایسی دھنسی کہ صبح سے دوپہر ہو گئی۔ کیچڑ میں اُتر کر لت پت ہوتے جیپ کو دھکے لگاتے آدھا دن بِیت گیا بلآخر جیپ کیچڑ سے نکلی اور کوسٹل ہائے وے پر آتے آتے ہم مٹی کے بھوت بن چکے تھے۔ کپڑوں پر سر سے پاؤں تک لگا کیچڑ سوکھ کر ہمیں پلاسٹر آف پیرس کے مجسمے بنا رہا تھا۔ اک ڈھابے پر رک کر کپڑے بدلے اور اک اور بابِ طلسم میں داخل ہونے لگے۔

اک اور بابِ طلسم کھلا چاہتا تھا۔ بوزی پاس کی چڑھائیوں سے ذرا پہلے جیپ نے اک بار پھر سڑک کو چھوڑا اور کٹے پھٹے، نوکیلے پہاڑوں کے بیچ ہچکولے کھاتے چلتی رہی۔ لگ بھگ دو گھنٹے کی آف روڈ مسافت کے بعد میرے سامنے ایسا منظر کھُلا جیسے میں بذریعہ کوسٹل ہائے وے مریخ پر نکل آیا ہوں۔ چھوٹے گول پہاڑی ٹیلے تھے جن کے عقب میں نوکیلے پہاڑ اکڑے کھڑے تھے۔ پل بھر کو احساس ہونے لگا کہ یہ سطح مرتفع زمین کی نہیں یا میں کہیں خواب میں چل رہا ہوں۔ اس علاقے کا نام پچھڑی رکھا گیا ہے۔ پچھڑی کیا تھا بس ایک خواب۔ جو دیکھا کیا اور پھر آنکھ کھُل گئی۔ اک بابِ طلسم بند ہوا۔ جیپ کوسٹل ہائے وے پر واپس آنے لگی۔

واپسی کے سفر میں مارخور ملے۔ یوں اتنے قریب سے میں نے اس جنگلی جانور کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مارخور کی فیملی بالکل میرے سامنے کھڑی تھی۔ ہنگول کے اتنے اندر شاید انسانوں کو آتے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا اس لئے وہ ڈرے بنا حیرت میں گم مجھے دیکھتے رہے اور میں اپنی حیرت میں ڈوبا ان کو دیکھتا رہا۔ ابھی قدرتی ماحول میں اپنے قریب ڈولفن مچھلیوں کو تیرتے دیکھنے کی حیرت چھٹی نہیں تھی، ابھی تو سپت ساحل کے جادو کا اثر زائل نہیں ہوا تھا کہ اک اور حیرت کا سامنا ہو گیا۔ جیپ آگے بڑھی تو حیرت دھول ہو گئی۔ بوزی پاس کی چڑھائیاں شروع ہوا چاہتی تھیں۔

سڑک کے دونوں اطراف شکلیں بنی کھڑی تھیں، ہر موڑ پر مورتیاں بدلتی رہیں۔ ابوالہول کی مورت سے نکلا تو پرنسز آف ہوپ سامنے آن کھڑی ہوئی۔ امید کی دیوی۔ ہوا کا تراشا ایک اور شاہکار۔ سڑک پر چند مقامی سیاحوں کی گاڑیاں کھڑی تھیں جو امید کی دیوی کو دیکھے جاتے تھے۔پرنسز آف ہوپ پیچھے رہ گئی۔ بوزی پاس کی اُترائیاں شروع ہونے لگیں۔ میں اطراف میں کھڑے پہاڑوں کی بناوٹ کو دیکھتا رہا۔ سفر ہوتا رہا۔ اوڑمارہ کا مقام آنے تک رات پھیل رہی تھی۔ سمندر اک بار پھر سڑک سے آن ملا تھا مگر پل بھر کے لئے۔ سفر میں اک اور رات بسر ہوئی۔ اگلی صبح آسمان سے اُترنا چاہتی تھی کہ جیپ گوادر کی سمت چل پڑی۔۔

پہاڑوں کے دامن سے نکل کر کوسٹل ہائے وے اک بار پھر ریتلے کھلے میدانوں میں دوڑنے لگی۔ پسنی کے آتے آتے سڑک کے اطراف پھر سے چھوٹے پہاڑے ٹیلے ہمسفر ہوئے۔ گاڑی پسنی میں داخل ہوئی۔ شہر کو پار کر کے پسنی کے ساحل پر رکا تو سائیبیریا سے ہجرت کر کے آئے مہمان راج ہنسوں کے غول اُتھلے پانیوں پر بیٹھے تھے۔ عقب میں کھڑی پہاڑیوں پر سورج اپنی پیلاہٹ بکھیر رہا تھا۔ ان راج ہنسوں کو دیکھتے رہنا بھی ایک مشغلہ رہا ہے۔ یہ میرے آبائی شہر سیالکوٹ میں دریائے چناب کے پانیوں پر اُتریں یا سالٹ رینج میں واقع سون سکیسر کی جھیلوں پر بسیرا ڈالیں۔ راج ہنسوں کو دیکھنے کی چاہ میں میں نے کئی سفر کیئے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے چند راج ہنس اُڑے اور آسمان میں ڈوب گئے. کچھ فاصلے پر ریت کے ٹیلے تھے۔ پسنی کے اس صحرا میں خاک اڑانے کو وافر تھی۔ وہیں ایک کُٹیا تھی اور ایک کُتا اس کی حفاظت پر معمور تھا شاید۔ آبادی سے ہٹ کر صحرا میں یہ کُٹیا کسی مقامی چرواہے نے بنا رکھی ہے۔ میرا دل چاہنے لگا کہ ان مقام پر عمر گزار دوں۔ اک عجب اُداسی تھی جو پسنی کے صحرا پر پھیلی تھی۔ شام ہونے کو آ رہی تھی اور میری وحشت تھی کہ صحرا بھی جس پر قابو نہ پا سکا تھا۔ پھر سے رات ہوئی۔ پسنی کے ساحل پر کھڑی کشتیوں کے پاس مقامی بلوچ نوجوان مقامی گیت گانے لگا۔ کیچ کے صحرا میں محبت کی لازوال داستان دفن ہے۔ سسی پنوں کی قبریں ہیں ۔ یہ گیت اس محبت کی یاد دہانی تھا۔ سمندر کا شور گلوکار کی آواز سے تال میل خود ہی بنانے لگا۔ رات ڈوبتی رہی۔

اک اور صبح آئی۔ جیپ نے کوسٹل ہائی وے کو چھوڑا اور جیوانی کی راہ لی۔ جیوانی کا ساحل مجھے بُلا رہا تھا۔ پاکستان کی ساحلی پٹی پر گھومنے کے پلان میں جیوانی شامل تھا۔ مچھیروں کی اس بستی میں ایرانی مصنوعات سے ہماری مہمان نوازی کی گئی۔ مقامی بلوچ نوجوانوں نے اپنی محرومیوں کے قصے سنائے۔ سنتے سنتے شام ہونے لگی ۔ جیوانی کا ساحل چھُٹا اور جیپ رات گئے گوادر شہر میں داخل ہوئی۔ گوادر سو رہا تھا۔ میں نے اپنے ہوٹل کے کمرے میں سامان پھیلایا اور نیند میری ہمبستر ہوئی۔

اک اور سورج آنے سے ذرا پہلے میں گوادر میں واقع اونچے مقام کوہِ باطل پر کھڑا تھا۔ منہ اندھیرے اس پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا تا کہ سورج کی روشنی میں گوادر کا اوپر سے منظر دیکھ سکوں۔ میرے نیچے گوادر شہر پھیلا تھا۔ کشتیاں ساحل پر لگی سو رہی تھیں۔ آسمان کا پردہ چاک ہوا۔ میرے سامنے اک منظر کھُلا۔ مستقبل کی معاشی شہہ رگ میرے سامنے تھی۔ یہیں سے ترقی کے نئے سفر کا آغاز ہونا ہے۔ ہوا کے جھونکے کوہ باطل کی چوٹی پر کھڑے مجھے تھپک رہے تھے۔ میرے سفر کا اختتام ہو رہا تھا۔ اس سفر میں لکھنے کو بہت کچھ تھا جو ایک کالم میں سمونا ممکن نہیں۔ بلوچ نواجوانوں کے خدشات، سرداروں کے مطالبات، ریاست کی منصوبہ سازی، ترقیاتی کاموں کی رفتار سمیت کئی موضوعات لکھنے کو الگ سے وقت مانگتے ہیں۔

پاکستان کی ساحلی پٹی خوبصورت ہے۔ ان چھوئے مناظر ہیں، شفاف پانیوں کے ساحل ہیں، سنہری ریت کے ٹیلے ہیں اور جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ میری کوشش رہے گی کہ پاکستان کے جنوب پر کام کرتا رہوں۔ شمال کی گلیوں میں پھرتے بارہ سال کیسے بیتے پتا ہی نہ چل سکا۔ مڑ کے دیکھوں تو اک خواب کا سفر لگتا ہے۔ اب اک نیا خواب پاکستان کی تعبیر ہونے کو ہے۔

اک دور تھا جو بِیت چُکا ، اک دور ہے جو آئے گا
اک خواب دیکھا جا چُکا، اک خواب دیکھا جائے گا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *