رمضان کے وہ مزے اب کہاں ۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

سوچا تھا آج انارکلی فوڈ  سٹریٹ جا کر سحری کروں گا۔ اس کے ساتھ میرے لڑکپن و جوانی کی یادیں وابستہ ہیں۔ رمضان میں دو تین بار سیالکوٹ سے گاڑی لے کر آنا ہوتا اور سحری کر کے واپس چلا جاتا۔ ساتھ ایک دوست ہوتا تھا جس کا شوق بس ڈرائیونگ تھا۔جب ہم رات کو سیالکوٹ سے نکلتے تو گاڑی میں جنید جمشید کی کیسٹ لگی ہوتی”چلو تو سہی اعتبار بھی آ ہی جائے گا” اور لاہور سے واپسی پر قوالیاں لگا لیتے “تو معاف کرے گا میرے سارے گناہ”۔ لاہور سے واپس جاتے اعلی الصبح ہمیشہ راوی ٹول پلازہ پر باوردی ڈاکو کھڑے ملتے جو اسپیشل گاڑیاں روک روک کر “عیدی” وصول کرتے تھے۔ ان کی “عیدی” بھی ہمارے بجٹ میں شامل ہوتی تھی۔

تب رمضان میں میلے کا سا سماں ہوا کرتا تھا اور ہم سیدھے سادھے مسلمان تھے “مومن” نہیں ہوئے تھے۔ گڑھی شاہو میں سہیل احمد کا تھیٹر دیکھنا اور اس سے فارغ ہو کر انارکلی سحری کرنے چلے جایا کرنا۔میرا دوست کٹر وہابی ہوتا تھا۔ اسٹیج ڈرامہ دیکھتے اس کی ہنسی سارے ہال میں الگ گونجتی تھی مگر سحری کرتے وقت اس کا تبلیغی موڈ آن ہو جاتا اور وہ مجھے ڈرانے لگتا “مہدی بس آخری ڈرامہ تھا یہ اب بس۔اب تھیٹر نہیں دیکھنا کبھی۔” ۔۔۔ پھر کہتا ” اوئے تو دیکھ لینا تھیٹر میں نہیں دیکھوں گا کیونکہ تجھے اللہ نے زندگی میں ہی سزا دے دی ہے تو شاید آخر میں بخشا جائے۔ تیرا روزہ دس منٹ پہلے بند ہو جاتا ہے اور دس منٹ بعد کھلتا ہے۔” پھر بولتا ” اوئے علی خامنائی کے مرید ! جلدی جلدی کھا تیرا بند ہونے والا ہے” ۔۔۔

سحری میں ہوتے تھے آلو والے پراٹھے، سادہ پراٹھے ، پیڑے والی لسی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ میں دو سال قبل لاہور منتقل ہوا ہوں۔۔۔ آج وہابی دوست کی یادیں تازہ کرنے نکلنے لگا تو بیگم بولی ” کہاں جا رہے ہیں اس وقت؟” ۔۔۔ میں نے کہا ” انارکلی تک جا رہا ہوں ایک دوست کے ساتھ سحری کرنی ہے” ۔۔۔ بولی ” دوست کو گھر بلا لیں یہ سب میں بھی بنا لیتی ہوں آپ کو جانے کی ضرورت نہیں۔ چلیں شاباش سکون سے بیٹھ جائیں میں سب سمجھتی ہوں کونسی سحری” ۔۔۔۔۔۔

لہذا میں سکون سے بیٹھا ہوں اور وہ مجھے بار بار گھور کے کہہ رہی ہے دوست کو بلایا نہیں آپ نے یا دوست گھر آنے کا سن کر بھاگ گیا۔ اس کو کیسے بتاوں کہ وہ کٹر وہابی بزنس میں اپنے سگے بھائی کے ہاتھوں جو اس سے بھی بڑا دین دار تبلیغی تھا دھوکا کھا کر سب لٹا کر اپنا بال بچہ لے کر ملک چھوڑ گیا اور “کافروں” کے دیس جا کر جینز پہنتا ہے۔ جاتے جاتے مجھے کہہ گیا کہ بھائی کے ساتھ روزے رکھنے سے اچھا تھا تیرے ساتھ ہی سحر و افطار کر لیتا ۔۔۔

“ہیں تلخ بہت بندہ شوہر کے اوقات”

اب بیٹھا سوچتا ہوں اور خودکلامی کی عادت بھی پکی ہو چکی ہے کہ مہدی اب وہ زمانہ بھی تو نہیں رہا ، نہ جنید جمشید رہا نہ نصرت فتح علی، نہ دوست رہا نہ گڑھی شاہو کا تھیٹر ، نہ مذہبی رواداری رہی نہ ثقافت ، نہ دوستیاں بے لوث اور صاف رہیں نہ دشمنیاں کھلی ۔۔۔

اب بس منافقت ہے، جہالت ہے ، اور اس گرد میں ہم سب مومن ہیں۔

وہ عمر تو کب کی بیت گئی
وہ عمر بتائے سال ہوئے ۔۔۔

نوٹ:یہ مضمون بخاری صاحب کی فیس بک وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی کیا گیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *