سید مہدی بخاری

مرالہ کے مقام پر سوہنی کے دریا چناب کے کنارے یوں تو کئی جھگیاں آباد  ہو گئیں تھیں لیکن وه ایک جھگی سب سے الگ ذرا فاصلے پر سڑک کے ساتھ ایسے بسی تھی جیسے باقی برادری نے اسے علاقہ  بدر کر دیا   ہو۔۔۔ صبح صبح مرالہ  کو جاتے میں نے اپنا لال یاماہا روک کر نظر ڈالی۔ یہ  دھند کے دن تھے ۔ آٹھ بجنے کو آئے تھے لیکن سورج کو دھند نے ڈھانپا ہوا تھا، جھگی کا ایک پرده لپیٹ کر اوپر کی طرف تها یا ہوا تھا اور ایک پرده گرا ہوا تھا ۔۔۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی غریب بیوه نے نقاب کیا  ہو ۔ آدھ کھلے کپڑے کے دروازے سے اندر رکھی دو چارپائیاں بھی آدھی آدھی نظر آ رہی تھیں ایک پانی کا کولر بھی پڑا تھا ۔

جھگی کے باہر  مٹی کے بنے چولہے کے گرد مرد عورت اور ان کے تین بچے گول دائرے میں بیٹھے تھے ۔ عورت ایک چولھے پر روٹی پکاتی اور دوسرے چولھے پر دیگچی میں کچھ ابل رھا تھا غالباً چائے ھو گی تھوڑی تھوڑی دیر بعد وه نیچے جھک کر چولھوں کے پھونک مارتی تو دھواں اور چائے کی بھاپ مکس ھو کر اوپر اٹھتے ۔۔۔۔ مرد اور تین بچے ٹوٹے پھوٹے موڑھوں پر بیٹھے تھے ۔۔۔ بچے چھوٹے تھے اور کانوں والی گرم ٹوپیاں پهنے ھوئے تھے ۔۔۔ مرد نے گندی سی چادر اوڑھی ھوئی تھی ۔۔۔ چولھے کے گرد بیٹھا خاندان کبھی آگ سے ھاتھ سینکتا تو کبھی ھاتھ پھر بغلوں میں دبا لیتا ۔۔۔۔ شاید ان کی زندگی کا یه روز کا معمول تھا اس لئے وه اس بات سے بےپرواه تھے که سڑک سے گزرتے لوگ انهیں دیکھتے ھوں گے۔۔۔ سبھی اپنی حال میں مست تھے ۔۔۔ مرد تھوڑی تھوڑی دیر بعد ھنستا تو بچے اور عورت بھی ھنسنے لگتے ۔۔۔ ان کی آوازیں مجھ تک نھیں آ رھی تھیں ۔۔۔۔ شاید یه ناشتے کی ٹیبل والی گپ شپ تھی تو مٹی کے بنے چولھے کے گرد ھو رھی تھی ۔۔۔ کچھ دیر میں نے اس خوش باش خاندان کو دیکھا اور پھر بائیک چلا دی ۔۔۔ جھگی کے اردگرد ، آرپار ۔۔۔سڑک پر ۔۔۔ آسمان پر ۔۔۔ ھر جگه دھند چھائی تھی

بارش تین دن سے موسلا دھار برس رھی تھی ۔۔۔ میں چھٹی کے دن گھر بیٹھے گھبرا رھا تھا تو بارش میں گھومنے بائیک پر نکل پڑا ۔۔۔ مراله کے راستے میں جھگی کے سامنے لال یاماھا رکا ۔۔۔۔ جھگی کا پردا جوں کا توں کا ۔۔۔ آدھا کھلا آدھا گرا ۔۔۔ عورت اور مرد نظر نھیں آ رھے تھے ۔۔۔ جھگی کی چھت پر نارنجی رنگ کا پلاسٹک پھیلا ھوا تھا غالباً بارش سے بچاؤ کے لئے ۔۔۔ آدھ کھلے جھگی کے دروازے پر دو بچے اداس کھڑے تھے ۔۔۔ جھگی کے باھر بنا مٹی کا چولھا آدھا ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔ اس ڈھه چکے چولھے کی مٹی کھُر کھُر کر بارش کے پانی کے ساتھ ایک نالی میں بهتی چلی جا رھی تھی ۔۔۔ یه عارضی نالی تھی ۔۔۔ پانی اپنا راسته خود بنا لیتا ھے ۔۔۔۔ تین دن سے بارشیں لگیں تھیں ۔۔۔ چولھا دیکھ کر خیال آیا که اس خاندان نے کھانا کیسے پکایا ھو گا ۔۔۔ پکایا ھو گا بھی یا نھیں ۔۔۔ سڑک سے تھوڑی دور جدھر باقی جھگی بستی آباد تھی وھاں ایک پکوڑے نان ٹکی کی ریڑھی لگی تھی ۔۔۔۔ میں نے شاپر بیگ میں کھانا بھرا واپس آ کر ایک بچے کو اشاره کیا اور شاپر اسے پکڑا دیا ۔۔۔ وه لے کر جھگی کی طرف دوڑا تو میں نے بائیک چلا دی۔۔۔جھگی کے اوپر ، آرپار۔۔۔سڑک پر ۔۔۔آسمان پر بارش ھی بارش تھی

مارچ کی دھوپ کھِلی تھی۔۔۔ ھلکی سنھری دھوپ ۔۔۔ سات بجے صبح مراله کو جاتے جاتے بائیک رکی تو دیکھا که جھگی کے دونوں پردے گرے ھوئے تھے ۔۔۔ باھر دو ڈنڈوں کو کھڑا کر کے بیچ میں ایک تار لگا دی گئی تھی جس پر رنگ برنگی کپڑے سوکھنے کے لئے پڑے تھے ۔۔۔ چولھا نیا بن چکا تھا ۔۔۔۔ مٹی کی لپائی بتاتی تھی که مرمت ھوئے زیاده عرصه نھیں گزرا ۔۔۔ نه مرد عورت دِکھ رھے تھے نه بچے ۔۔۔ مکمل خاموشی تھی ۔۔۔ شاید آج سب ابھی تک اندر سو رھے تھے ۔۔۔۔ جھگی کے اطرف میں بڑے بڑے تنکے کھڑے تھے جن پر سفید روئی جیسے نازک لمبے پھول کی مانند ریشے تھے ۔۔۔ ان سے گھروں میں صفائی کے کام آنے والی پھول جھاڑو بنتی ھے ۔۔۔۔ ان لمبے تنکوں پر چھوٹی چھوٹی چڑیاں بیٹھی تھیں جن کے بوجھ سے تنکے جھکے ھوئے تھے جب کوئی پھڑپھڑاتی تو تنکے جھولنے لگتے ۔۔۔ جھگی کے اوپر ، آرپار ۔۔۔۔ سڑک پر اور آسمان پر دھوپ ھی دھوپ تھی

اپریل میں پھول کھِلے تو مراله کو جاتے دیکھا که جگه خالی پڑی تھی ۔۔۔ کچھ تنکے ادھر اُدھر بکھرے ھوئے تھے ۔۔۔ ٹوٹا ھوا مٹی کا چولها تھا ۔۔۔۔ باقی جھگی بستی جو ذرا فاصلے پر آباد تھی وه بھی خالی تھی ۔۔۔ کوئی بنده بشر نه دکھتا تھا ۔۔۔۔ اردگرد سے معلوم کرنے پر پته چلا سرکار نے جھگی والوں سے زمین واگزار کروا لی ھے ۔۔۔۔ خانه بدوشوں کو پھر سے ھجرت کرنی پڑی ۔۔۔ میں سوچنے لگا که اب جس جگه یه بستی بسی ھو گی وه زمین کب اور کون واگزار کروائے گا کیا پته ۔۔۔ جپسی اپنے مرد اور بچوں سمیت کسی اور جگه چولھا پھونکنے چلے گئی تھی ۔۔۔ ساری جگه پر ، سڑک پر ، آسمان پر ویرانی ھی ویرانی تھی ۔۔۔ بائیک چلی تو سوار کا ایک آنسو ھوا کے زور سے پلکوں سے ٹوٹا اور اڑ گیا۔

نوٹ:یہ تحریر مہدی صاحب کی فیس بک وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی کی گئی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *