ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں
1975 کے آخر میں پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر جسٹس اسلم ریاض حسین کے دستخطوں سے جاری ہوئی میری انسانوں کے معالج ہونے کی سند بالکل اصلی ہے مگر اس کا نہ مجھے کوئی فائدہ ہوا اور نہ← مزید پڑھیے
انگریزی زبان کے لفظ “سٹیٹ” کا مطلب کیفیت بھی ہے اور ریاست بھی، ہے نا عجیب بات۔ شاید اس لیے کہ ریاست بھی درحقیقت ایک کیفیت کا نام ہے جیسے جمہوری کیفیت، آمرانہ کیفیت، نیم آمرانہ نیم جمہوری کیفیت (← مزید پڑھیے
مایا سے متعارف کرانے کی ہامی ہلکے سرمئی بالوں کے جتھے سے نکلتے چاندی کے چند تاروں والی اس لڑکی نے بھری تھی جو پندرہ بیس سالوں بعد بھاری آواز، مردوں کی سے کٹے سیاہ و سفید بالوں اور مردوں← مزید پڑھیے
مجھے 8 اکتوبر 2013 کو حج کی سعادت پانے کی خاطر ارض مقدس کے لیے روانہ ہونا ہے۔ مجھے کچھ اعترافات، انکشافات اور شکایات کا اظہار کرنا ہے، جس کے لیے اس سے اچھا موقع نہیں ہو سکتا۔ میں ایک← مزید پڑھیے
آپ نے بے شک فیودر دستاییوسکی یا کسی بھی روسی مصنف کے ناول میں پڑھ رکھا ہو کہ روسی لوگ وادکا شراب میں پانی یا کوئی اور مشروب ملائے بنا غٹ کرکے ایک ہی گھونٹ میں چڑھا لیتے ہیں، منہ← مزید پڑھیے
آپ نے بے شک فیودر دستاییوسکی یا کسی بھی روسی مصنف کے ناول میں پڑھ رکھا ہو کہ روسی لوگ وادکا شراب میں پانی یا کوئی اور مشروب ملائے بنا غٹ کرکے ایک ہی گھونٹ میں چڑھا لیتے ہیں، منہ← مزید پڑھیے
ویزا لیا، ٹکٹ خریدا، طیارے میں سوار ہوئے اور لندن جا اترے۔ میرے لیے لندن ایسا مقام ہے جہاں کی فضا میں پہلا سانس لیتے ہی مجھے گھٹن کے معدوم ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اگرچہ میں جب بھی گیا← مزید پڑھیے
ویسے محاورے تو سارے ہی عوامی اجتماعی تجربے اور عقل کا نچوڑ ہوتے ہیں لیکن “بندر کے ہاتھ میں استرا آ جانا” کوئی یونہی سا محاورہ نہیں ہے۔ اس کا اظہار اب وہ لوگ کرنے لگے ہیں، جن کا بنیادی← مزید پڑھیے
گذشتہ چند ماہ کے دوران اردو زبان میں لکھنے والوں میں شاید بلکہ غالبا” یا یقینا” میں وہ واحد شخص ہوں جس نے اپنے متعلق سب سے زیادہ لکھا۔ یقین جانیے ایسا کرنا کوئی شوق نہیں نہ ہی نرگسیت پسندی۔← مزید پڑھیے
” جمہوریت اگرچہ مثالی طرز نہیں ہے لیکن اس سے بہتر ابھی تک کوئی اور انداز سیاست ہے نہیں” یہ فقرہ شاید بہت سے سیاسی مشاہیر کہہ چکے ہیں۔ مجھ پر یہ بات اس طرح آشکار نہیں ہوئی جس طرح← مزید پڑھیے
میں 1967 میں دسویں کا امتحان پاس کرکے بڑے چاؤ سے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہونے گیا تھا۔ بڑے بھائی کی ہدایت کے مطابق احتیاط کے طور پر ایف سی کالج کا داخلہ فارم بھی بھر کے جمع کروا← مزید پڑھیے
نفسیات کی ایک اصطلاح ” فکسڈ آئیڈییشن ” یعنی ” فکر منجمد ” بھی ہے۔ اسی میں مبتلا ایک سابق مزدور رہنما نے مجھ سے سوال کیا کہ ” آزادی ، جمہوریت اور مساوات ” بارے آپ کا کیا خیال← مزید پڑھیے
معاملہ جبر و قدر کا نہیں مگر معاملہ جبر و قدر کا ہے بھی۔ میں اجبار کا شکار یا مقدر کے مارے غریب لوگوں کو دکھی دیکھ نہیں سکتا، ویسے تو میں خود بھی بالکل نہ امیر ہوں اور نہ← مزید پڑھیے
عمر کا ایک حصہ ہوتا ہی ایسا ہے جس میں انسان عقل و فہم سے اگرچہ عاری نہیں ہوتا لیکن فیصلوں اور رویوں کے انتخاب میں جذبات غالب رہتے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ اس خاص عمر کے جذبات دماغ← مزید پڑھیے
وہ “بوکو حرام” والے تین سو سے زیادہ عیسائی بچیوں کو اٹھا کر لے گئے۔ نائیجیریا کی پوری سرکاری مشینری کو بچیوں کی منتقلی کے سلسلے میں کی جانے والی “نقل و حرکت” کا پتہ ہی نہ چلا۔ مستزاد یہ← مزید پڑھیے
میں پہلی بار لندن، فیض امن میلے میں شرکت کی خاطر گیا تھا۔ تب چونکہ میں خود ڈیجیٹل جرنلزم سے منسلک تھا، ریڈیو وائس آف رشیا کے صدائے روس کہلانے والے اردو شعبہ کے لیے خود بھی اے این پی← مزید پڑھیے
پاکستان کی ایک این جی او کی جانب سے ماسکو میں کی گئی کانفرنس کا یہ موضوع تھا۔ کانفرنس کی عام زبان یا Lingua franca چونکہ انگریزی تھی اس لیے اس کے انگریزی زبان میں دیے گئے موضوع کو میں← مزید پڑھیے
مجھے لگتا ہے کہ گذشتہ مضمون میں میں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دے کر جس میں سرکش ( بدزبان، کج بحث، تنک مزاج ) بیوی کو سمجھانے، بستر علیحدہ کیے جانے کے باوجود چیخنے سے باز نہ← مزید پڑھیے
ویسے تو لوگ، سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں، ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں، پڑھتے ہوئے نہیں تھکتے مگر شاید لفظ “تغیّر” کے معنی کی فہم نہ رکھتے ہوں تبھی کسی “تبدیلی” کی تمنّا و نوید کا← مزید پڑھیے
نوید کی زندگی میں سب سے بڑا چھناکا تب ہوا جب کوئی اس کی تنہائیوں میں مخل ہو گیا لیکن یہ انجانے میں نہیں بلکہ مدہوشی کے ایک خاص وقفے کے تسلسل میں جانے بوجھے کو انجانے میں گنوانے سے← مزید پڑھیے