“تبدیلی” چہ معنی دارد؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

ویسے تو لوگ، سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں، ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں، پڑھتے ہوئے نہیں تھکتے مگر شاید لفظ “تغیّر” کے معنی کی فہم نہ رکھتے ہوں تبھی کسی “تبدیلی” کی تمنّا و نوید کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر گذرتا ہوا لمحہ ، بڑھتی ہوئی عمر، پیدا ہوتی ہوئی زندگیاں، دنیا سے کوچ کرتے ، محو ہوتے یا فنا ہوتے ہوئے انسان ، جانور اور جمادات، دن کا رات اور رات کا دن میں تبدیل ہونا غرض ہر شے تغّیر پذیر ہے، تو پھر لوگ کس تبدیلی کی بات کرتے ہیں؟
معاف کیجیے یہ کوئی عمران خان پر تنقید نہیں ہے کیونکہ ان سے بہت پہلے “تبدیلی” کو اسی طرح اور انہیں معانی میں اپنی انتخابی مہم میں باراک اوبامہ نے استعمال کیا تھا البتہ انہوں نے دکھایا دایاں ہاتھ تھا اور چلایا دوسرا تھا چنانچہ تھپڑ کہیں اور جا کر لگا۔ پہلے “بہار عرب” کے نام سے شمالی افریقہ اور مشرق وسطٰی کے کچھ ملکوں میں ہوئی تبدیلی کی شکل میں جس کے اثرات کی بھیانک تصویر آئے روز “دریائے قلزم” کو لکڑی کے گھوڑوں پر پار کرنے کی سعی میں سمندری مخلوق کی غذا بنتے یا لاشوں کی صورت ساحل پر بکھرے انسانوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہے یا شام میں لگا جہاں بربادی ہو گئی مگر بشارالاسد ٹکے ہوئے ہیں البتہ دولت اسلامیہ جم چکی ہے جہاں خبروں کے مطابق ایک ڈاکٹر مبینہ طور پر حاملہ یزدی عورت کے پیٹ پر اس لیے بیٹھ گیا کہ اس پیٹ میں کافر بچہ مرنا چاہیے اور اس کی جگہ اس “یرغمالی کنیز” کے بطن میں اس کا “مسلمان بچہ” پنپنا چاہیے، پھر یوکرین میں تبدیلی لائی گئی جہاں کے لوگ دربدر ہوئے، جہاں کی سرزمین سہ لخت ہوئی، جہاں کی فضا میں طیارے کو میزائل سے نشانہ بنا کر بے گناہ لوگوں کی باقیات کو کئی کلومیٹر کے رقبے میں بکھرایا گیا۔ غرض تبدیلی کو جن معنوں میں باراک اوبامہ نے استعمال کیا تھا وہ “تبدیلی معکوس” ہو گئی۔
مگر بات باراک اوبامہ اور عمران خان کی کہی تبدیلی کی نہیں ہو رہی بلکہ اس تبدیلی کے معنوں کی ہو رہی ہے جس کو ہمارے ملک کے لوگ “منتر” سمجھ کر جپنے لگے ہیں۔ کل ہی پاکستانی تنظیموں سے وابستہ لوگوں کے وفود پر مشتمل ماسکو پہنچے ہوئے ہم وطنوں کی ایک کانفرنس میں ایک صاحب نے “رجائیت پسندانہ” نوید دی کہ کم از کم پاکستان میں “تبدیلی” کی بات ہونے لگی ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔
ابھی الیکشن ٹریبیونل نے دو حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کو بھی لوگوں نے سمجھا کہ “تبدیلی” ہے جبکہ عرف عام میں یہ ایک عمومی عمل ہے۔ ہمیشہ ہی عذر داریاں پیش کی جاتی رہی ہیں، شنوائی بھی ہوتی رہی ہے اور انتخابات بھی کالعدم ہوئے ہیں، ضمنی انتخابات کرائے جانا بھی ایک معمول ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں دو ہی طرح کی تبدیلی ہوتی رہی ہے یا تو اکثر بار فوج حکومت کو چلتا کرکے خود حکومت پر قابض ہوتی رہی ہے یا پھر سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کی مشترکہ کوششوں کو عارضی طور پر باور کرکے کنارہ کشی اختیار کیا اور کچھ عرصے کے لیے سیاسی حکومت کو آنے دیا جاتا رہا ہے۔
تبدیلی ربڑ کے کھنچنے کو بھی کہا جاتا ہے مگر ربڑ کی ہئیت میں یہ تبدیلی عارضی ہوتی ہے کہ کھنچاؤ ختم ہوتے ہی اس کی ہئیت پہلی سی ہو جاتی ہے۔ نالی میں رکھی گئی کتے کی دم بھی بظاہر سیدھی ہو کر تبدیل ہوئی لگتی ہے جو ایک سو سال بعد بھی نالی سے نکل کر ویسے ہی ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ تبدیلی انقلاب کے لیے استعمال کیے جانے والا لفظ ہو سکتا ہے جس کے دوران نہ صرف سب کچھ بظاہر تبدیل بلکہ اتھل پتھل بھی ہوا لگتا ہے۔
تبدیلی دراصل اس اصلاحاتی عمل کو کہا جاتا ہے جس کے بعد پہلے سے موجود کسی عمل میں ہوئی تبدیلی چاہے وہ کتر بیونت ہو، کمی و اضافہ ہو، تصحیح و درستگی ہو، وہ دیرپا ثابت ہو۔ گذشتہ چند برسوں میں ہمارے ہاں اعلٰی عدالتی رویوں میں تبدیلی آئی ہے مگر اس کا نچلی سطح تک انجذاب نہیں ہوا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس “تبدیلی” میں کوئی نقص یا سقم ہے۔ آئین میں تبدیلیاں آئی ہیں جسے اٹھارویں ترمیم کہا جاتا ہے۔ اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے ہیں مگر تاحال صوبوں اور مرکز کے اختیارات میں ہم آہنگی پیدا ہونے کی بجائے کشیدگی اور کشاکش کا پہلو ہی زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک تبدیلی بذات خود “تحریک انصاف” کا ابھرنا ہے، جس کو ایک سوبے میں فی ا لواقعی تبدیلی کرکے دکھانے کا موقع ملا ہے لیکن اس کے دعوے عمران خان کو کسی نہ کسی طریقے سے وزیراعظم بنانے کی کوششوں کی نظر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے بارے میں رویوں کی تبدیلی کو بھی کسی حد تک تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔
تبدیلی کے ساتھ ساتھ اصلاحات کے عمل کا مسلسل ہونا ہی اس تبدیلی کو دیرپا بنا سکتا ہے۔ اگر تبدیلی تبدیلی محض ہو تو وہ ماسوائے دکھاوے کے اور کچھ نہیں کہلا سکتی۔ تبدیلی کی خواہش سبھوں میں ہوتی ہے جیسے مالی یا سماجی حالات بدلنے کی خواہش یا سماجی صورت احوال تبدیل ہونے کی تمنا مگر ان کو تبدیل کرنے کے لیے سعی کرنے کی لگن بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایسی سعی قربانی کی متقاضی ہے۔ قربانی چاہے وقت کی ہو یا سختیاں اور صعوبتیں سہنے کی۔ تبدیلی کو روکنے کی خواہاں وہ قوتیں اور ان قوتوں کے نمائندے ہوتے ہیں جو معاملات کو جوں کا توں رکھنے کے خواہاں ہوں۔ ان کا جب بھی داؤ لگے وہ پہلے سے ہوئی تبدیلی کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کرنے سے نہیں چوکتے۔ ایسی قوتوں اور ان قوتوں کے نمائندوں کا ساتھ دینے کے لیے موقع پرست ہمیشہ ہی میسّر آ جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر ماسکو میں مقیم پاکستانی برادری تارکین وطن افراد کی وہ واحد برادری ہے جس میں انتخابات کرائے جانے کو رواج دیا گیا۔ موجودہ قیادت بلا مقابلہ منتخب ہوئی تھی جس کو دو سال بعد مزید دوسال کے لیے رہنمائی کرنے کا موقع بھی مل گیا کیونکہ انتخابی عمل میں اس بار دلچسپی نہیں لی گئی تھی۔ اب جب ایک بار پھر انتخابات کی بات ہونے لگی تو کل انتخابی کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ انہیں سفارت خانے سے فون آیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ برادری کے انتخابات ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو وہ منتخب قیادت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ان کی پذیرائی ہوگی ہاں البتہ اگر پہلے سے موجود ترتیب کو برقرار رکھا جائے یا انتخاب کے بغیر کوئی نئی ترتیب بنا لی جائے تو انہیں قبول ہے۔ اگر اتنی چھوٹی سطح پر انتخاب کو پسند نہیں کیا جاتا تو قومی سطح پر مسلسل انتخابات ہونے سے تو ہئیت مقتدرہ کے پیٹ میں درد اور دل میں ہول اٹھ رہے ہونگے۔ مگر ہمیں ایسے لوگ ہونا چاہیے جو اگر تبدیلی لے آئیں تو اس کو قائم رکھنے کے لیے دفاع بھی کرنا جانتے ہوں۔ اس لیے جس بھی طرح کی تبدیلی لانے کی بات کی جائے تو پہلے تبدیلی کے معانی، تبدیلی کو دیرپا بنانے کی کوششوں اور تبدیلی کے مخالف چلنے والی رو سے نمٹنے سے متعلق سوچنا چاہیے اور ثابت قدم رہنا چاہیے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply