قول ایک دعویٰ ہے، عمل اس دعوے کی تصدیق ہے، اور کردار، عملِ پر استقامت کا صلہ ہے۔ قول ہمارے اعتقاد کو ظاہر کرتا ہے۔ عمل اس اعتقاد سے وابستگی کا اظہار ہے۔ کردار ہمارے اعتقاد کا ایک قابلِ اعتبار← مزید پڑھیے
انسان اس دنیا کا باشندہ معلوم نہیں ہوتا۔ لگتا ہے جیسے یہ اس نظام فطرت کا حصہ نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ فطرت کے قوانین وضع ہونے سے پہلے بھی کہیں موجود تھا۔ اسے اس نظامِ کائنات میں← مزید پڑھیے
اسلام دینِ وحدت ہے۔ یہ واحد اور اَحد ذات کی طرف سے پیغامِ ہدایت و فوز و فلاح ہے ۔ کُل عالمین کے لیے! کیا اسلام میں رہتے ہوئے کسی فرقے کی گنجائش موجود ہے؟ کیا اسلام کا مزاج فرقہ← مزید پڑھیے
”پدرم سلطان بود“ کہنا آسان ہے، ”پسرم سلطان است“ کہلوانا اصل کام ہے۔ اپنے آباء کا تعارف بننا ایک کارِ سعادت ہے۔ سعادت مند اَولاد اپنے آبا و اجداد کا نام روشن کرتی ہے … اور وہ روشنی جو اُن← مزید پڑھیے
کائنات میں ظلم کہیں نہیں ۔۔۔ یعنی کائناتی کلیوں میں، تخلیقی حقیقتوں میں اَزلی سچائیوں میں کہیں ظلم کا وجود نہیں۔ زندگی ظلم ہے، نہ موت ہی ظلم کہلائے گی۔ کائنات میں ظلم صرف حضرتِ انسان کرتا ہے ۔۔۔ کبھی← مزید پڑھیے
باطن اپنی بالیدگی سے پہچانا جاتا ہے۔ ایک سنورا ہوا باطن ہی پہچان کا سبب ہوتا ہے۔ ایک روشن چراغ ہی فانوس کی خوبصورتی بیان کر سکتا ہے۔ باطن ہمارے حاضر اور غائب کے درمیان ایک پل کی طرح ہے← مزید پڑھیے
پیغمبرِ اخلاق رسولِ کریمؐ کا فرمان ِ عالی شان ہے: ’’جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت کرے‘‘۔ روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیمؑ جو رسولِ کریمؐ کے جدِ امجد ہیں،← مزید پڑھیے
اے اہلِ غزہ! اے اہلِ فلسطین! ہمیں معاف کر دو۔ اگرچہ ہمارا جرم کسی بھی طور قابلِ معافی نہیں، لیکن ہم تمہارے سامنے ہاتھ باندھ کر التجا کرتے ہیں، ہمیں معاف کر دو۔ ہم تمہارے سامنے بطور انسان بھی شرمندہ← مزید پڑھیے
ہمارے عمل کی بنیاد ہمارا فکر ہے اور ہمارے فکر کی اساس ہمارا نظریہ ہے۔ ہم جس نظریہ حیات کو قبول کرتے ہیں، اس کے مطابق ہمارے فکر کا رخ متعین ہوتا ہے اور پھر اس فکر کے مطابق ہم← مزید پڑھیے
محاورے بنی نوعِ انسانی کی اجتماعی دانش کے مقولے ہوتے ہیں۔ صدیوں کا تجربہ جب ایک جملے میں مجتمع ہوتا ہے تو محاورہ جنم لیتا ہے۔ ایک زبان میں مستعمل محاورے کا متبادل محاورہ بالعموم دوسری زبانوں میں بھی پایا← مزید پڑھیے
تصوف کے موضوع پر ایک ہزار برس قدیم دستاویز ”کشف المحجوب“ میں ایک عجب بات درج ہے۔ یوں تو یہاں مندرج ہر جملہ غور کرنے والوں کے لیے ایک محیر العقول مقالہ ہے، لیکن جنابِ حسن بصریؒ کا ایک مکالمہ← مزید پڑھیے
الفاظ معانی کے سفر میں ایک سواری کا کام کرتے ہیں۔ ہر سواری کا ایک رخ ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسافر اپنے سفر میں کسی غلط سواری کا انتخاب کر بیٹھے تو وہ اپنی مطلوبہ منزل سے قریب ہونے کے← مزید پڑھیے
زندگی کیا ہے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ زندگی میں انسان کیوں داخل کیا گیا ہے؟ کیا یہ زندگی کسی مقصد کے حصول کے لیے دی گئی ہے؟ زندگی کی گہما گہمی کہیں انسان کو اس مقصد سے غافل تو← مزید پڑھیے
وہ بھی 13 جنوری کا دن تھا، جب پہلے پہل ایک کرن نے اپنے سورج سے ملاقات کی تھی۔ کرنوں کا وجود سورج کے ساتھ ہے۔ سورج کو ذات کہہ لیں تو کرنیں اُس کا جلوہ ہیں ۔۔۔ ایک دل← مزید پڑھیے
آزاد کشمیر سے سیّد غلام رسول لکھتے ہیں: ”سر! کیا مسائل سے نظریں چرا لینا، کسی حسین اتفاق کا منتظر رہنا، تلخ حقائق سے چشم پوشی کر کے خود کو تسلّی دینا، کیا یہ سب مثبت سوچ کے پہلو ہیں؟؟← مزید پڑھیے
راولپنڈی سے ایک نوجوان شہزاد حسین ہیں، آج کل قاہرہ میں، جامعۃ الازہر میں بغرضِ تعلیم مقیم ہیں، اُن کا ایک خط موصول ہوا، سوال کی صورت، کافی دلچسپ ہے۔ روزمرہ معاملات میں ایسی صورتحال بعض لوگوں کو درپیش ہوتی← مزید پڑھیے
سچ… خوشبو کا مرغولہ ہے اور جھوٹ بدبودار بھبھکا۔ بتایا گیا ہے کہ سچ بولتے بولتے انسان سچوں میں شمار ہو جاتا ہے، اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا نام جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا← مزید پڑھیے
منصف اور مصنّف کے ہجوں کی ترتیب میں اگرچہ ذرا سا فرق ہے لیکن اُن کے منصب کی نوعیت میں ذرا سا بھی فرق نہیں۔ مصنّف اگر اپنے الفاظ کے ساتھ منصفی نہ کرے تو مصنّف بننے کا اہل نہیں← مزید پڑھیے
نقطے پر غور کرنے والے عجب نکتہ رس ہیں۔ نقطے سے عجیب عجیب نکات نکالتے ہیں۔ ایک نقطہ ہے جو مرکزِ پرکارِ ہستی ہے۔ اُسے مرکزِ توحید کہیں یا ذاتِ بحت، اُس کا سراغ باطن میں ملے گا، ظاہر میں← مزید پڑھیے
توبہ کی حیثیت ایک وعدے کی ہے، اور توبہ شکنی کی حیثیت وعدہ خلافی کی سی!! جب انسان توبہ کرتا ہے تو اپنے ساتھ، اپنی روح کے ساتھ، اپنے ضمیر اور اپنے دل کے ساتھ۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ دل← مزید پڑھیے