اے اہلِ غزہ’ ہمیں معاف کر دو/ڈاکٹر اظہر وحید

اے اہلِ غزہ! اے اہلِ فلسطین! ہمیں معاف کر دو۔ اگرچہ ہمارا جرم کسی بھی طور قابلِ معافی نہیں، لیکن ہم تمہارے سامنے ہاتھ باندھ کر التجا کرتے ہیں، ہمیں معاف کر دو۔ ہم تمہارے سامنے بطور انسان بھی شرمندہ ہیں اور بطور مسلمان بھی!

اے اہلِ غزہ! تم پر ڈھائے جانے والے پیہم مظالم پر خاموش ہیں، ہماری خاموشی ظالموں کو طاقت مہیا کر رہی ہے۔ یوں تمہارے ساتھ ہونے والے اس ظلم میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ بھائی ہونے کے ناتے ہم پر فرض تھا کہ تمہارے لیے ہتھیار اٹھاتے … لیکن افسوس! ہم تمہارے حق میں آواز بھی نہ اٹھا سکے۔ یورپ اور دیگر غیر مسلم ممالک میں تمہارے حق میں بڑی بڑی ریلیاں نکلیں، بڑے مظاہرے ہوئے، قراردادیں منظور ہوئیں … لیکن ہم ہیں کہ، کہنے کو ستاون ممالک ہیں اور ستاون جلوس نہیں نکال سکے۔ وہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز اپنے ایوانوں میں پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ وہ آزاد لوگ ہیں … ہم پابہ زنجیر ہیں۔ ہم پر ہمارے حکمران قابض ہیں اور ہمارے حکمرانوں پر طاغوت! کہنے کو ہم آزاد ہیں لیکن ہماری آزادی گروی رکھی ہوئی ہے۔ ہم بین الاقوامی ساہوکاروں کی مرضی کے خلاف ایک قدم نہیں چل سکتے … ہمیں اندیشہ ہے، کہیں قرقی کا نوٹس نہ مل جائے۔ سو! ہمارے لیے معاش ترجیح اوّل ٹھہر چکی ہے۔ ہم نے دل کی آزادی شہنشاہی کے بجائے شکم، سامانِ موت کا انتخاب کر لیا ہے۔ اس لیے ہمارا ضمیر بھی خاموش ہوتا ہے۔

ہماری آواز خاموش کرا دی گئی ہے۔ ہمیں زعم تھا، شاید ہم آزادی حاصل کر چکے ہیں، لیکن یہ زعم عین اس موقع پر چکنا چور ہو گیا۔ اگر ہم آزاد ملک کے شہری ہوتے تو تمہارے حق میں آواز بلند کرنے پر ہمیں پابندِ سلاسل نہ کیا جاتا۔ آزاد ملک وہ ہوتے ہیں جہاں حکمران عوام کی آواز ہوں۔ جہاں حکمران بیرونی طاقتوں کے ترجمان ہوں، وہ ملک غلام ہوتے ہیں۔ اہلِ غزہ! مجبوروں کی مجبوری قبول کرو، غلاموں کی خوئے غلامی کا احساس کرو ۔۔ ہمارے ضمیر پر بار بار کچوکے نہ لگاؤ۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہم آزاد ہیں اور تم غلام ہو … لیکن تم نے ثبوت دے دیا ہے کہ صرف تم آزاد ہو … باقی سب غلام ہیں … مجبوریوں کے غلام، خوف کے غلام، اپنی اپنی علاقائی عصبیتوں کے غلام اور … چند روزہ زندگانی میں لذات ِ کام و دہن کے غلام! آزاد ہتھیار نہیں ڈالتا … غلام وہ بنتاہے جو ہتھیار ڈال دے۔ تم نے ہتھیار نہیں ڈالے ، تم آزاد ہو۔ ہم ہتھیار ڈال چکے ہیں … ہم غلام ہیں۔ ہم ہتھیاروں کی نمائش کرنے والی قوم بن چکے ہیں، فقط نعرے لگانے والی قوم … زندہ دل قوم !! ہماری چہل پہل دیکھنا ہو تو کسی فوڈ سٹریٹ میں دیکھو، کسی میلے ٹھیلے، کسی تھیٹر میں دیکھو ۔۔ ہم کیسی زندہ دل قوم ہیں۔

اہلِ غزہ! یہ نہ سمجھو کہ ہم دین سے محبت نہیں کرتے ،ہم دین سے بہت محبت کرتے ہیں … ہم صرف اپنے دینی بھائیوں سے محبت نہیں کرتے … دیکھو! ہماری مسجدیں بھری ہوئی ہیں۔ مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں پر ہم صبح شام تمہارے لیے دعائیں اور تمہارے دشمن کے لیے بددعائیں کر رہے ہیں۔ ہم پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو ہم دعا سے پہلے دوا کی طرف بھاگتے ہیں۔ ہم اپنے دشمن کو اسلحے سے مارتے ہیں لیکن تمہارے دشمن کو مارنے کے لیے ہم نے دعائیں جمع کر رکھی ہیں۔ ہماری افطاریوں اور سحریوں کے دستر خوانوں کے طول و عرض بھی ذرا ماپ لو ، ہم کسی بوفے ڈنر کی طرح افطاری کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ٹی وی پر کھلی آنکھوں اور سنتے کانوں سے خبریں ملاحظہ کر تے ہیں کہ آج کتنے بھوکے اور پیاسے فلسطینی بچے اسرائیلی بمباری سے شہید ہو گئے۔ ہمارے دستر خوانوں سے ایک ڈش بھی کم نہیں ہو پاتی! ہمارے افطار کے دستر خوانوں پر ان ہی کمپنیوں کی مصنوعات رکھی ہوتی ہیں جو تمہیں مارنے والوں کی علی الاعلان مالی مدد کرتے ہیں۔ ہم اپنے خبر ناموں میں ہر روز تمہاری گلیاں اور بازار کھنڈروں میں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن ہمارے بازاروں کی رونق ذرا کم نہیں ہوتی، ہماری عید کی خریداری بھی کم نہیں ہوتی۔ ہم بالکل پہلے کی طرح سوتے اور جاگتے ہیں۔ ہماری تعیش زدہ زندگی میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ غفلت کی نیند ہمیں سلا دیتی ہے اور ضرورت کی چبھن ہمیں ہماری آرام گاہوں سے اٹھا کر بازاروں اور دفتروں میں لا پھینکتی ہے۔ یوں ہماری صبح سے شام ہوتی ہے … اور زندگی تمام ہوتی ہے۔

اے اہلِ غزہ! تمہارے اوپر پے در پے ہونے ظلم نے ہم سے انسان ہونے کا تمغہ بھی چھین لیا ہے۔ مسلمان ہونا تو دور کی بات، ہمیں کبھی کبھی اپنے انسان ہونے پر بھی شک ہونے لگتا ہے۔ ہمارا اجتماعی ضمیر ابھی اس طرح ہڑبڑا کر نہیں جاگا کہ ہمارا قول ہمارے عمل کی مہمیز بن جائے۔ اگر ہم ایک اچھے انسان ہوتے تو اچھے مسلمان بھی ہوتے۔

ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا تھا۔ ہمیں اس باب میں قرآن میں تنبیہ کی گئی تھی: ’’کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن ناتواں مردوں عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لیے جہاد نہ کرو؟ جو یُوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لیے خاص اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لیے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔‘‘ گویا ہم عملی طور پر مظلوموں کا مددگار بننے سے انکار کر رہے ہیں۔ دراصل جہاد کی ابتدائی صورت ہی میں ہم غفلت کا شکار ہو گئے … نتیجہ یہ نکلا کہ ہم پر ملوکیت اور آمریت مسلط ہو گئی۔ ہم بہترین جہاد سے غافل رہے۔ ہم رسولِ کریمؐ کی اس ہدایت کو بھول گئے: ’’بہترین جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔‘‘ اگر ہم جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی روایت برقرار رکھتے تو کوئی آمر ہم پر مسلط نہ ہوتا۔ کربلا برپا نہ ہوتی۔ ملوکیت کا دَورِ سیاہ ہماری نسلوں اور صدیوں کو نگل نہ پاتا۔ ہم اہلِ یورپ کو آزادی جمہور کا سبق دے رہے ہوتے۔ لیکن افسوس! خوئے غلامی میں ہم نے پہلے مقامی سلطانوں کے جبر کو قبول کر لیا اور پھر غیر ملکی سلطان بھی ہم پر قابض ہوتے چلے گئے … کبھی بلاواسطہ اور کبھی بالواسطہ! لگتا ہے، ہم خاندانِ غلاماں ہیں۔ اگر ہم غلامانِ محمدؐ و آلِ محمد ہوتے تو اپنی آزادی کو خوف اور لالچ کے عوض کبھی گروی نہ رکھتے۔

اے اہلِ غزہ! ہمیں معاف کر دو! ہمیں زعم تھا کہ ہم مسلمان ہیں، ہم مومن ہیں اور ہم محسن ہیں … لیکن ہماری بے حسی نے ہمیں بتلا دیا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ اگر ہم مومن ہوتے تو جسدِ واحد کی طرح ہوتے … اَز روئے حدیث … اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا وجود تکلیف محسوس کرتا ہے۔ تکلیف محسوس کرنا جسمانی زندگی کی علامت ہے اور درد … دوسروں کی تکلیف محسوس کا نام … روحانی زندگی کا ثبوت ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ہم جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے مردہ ہیں!! خود غرض مردہ ہوتا ہے۔ صرف بے لوث انسان ہی قابلِ ذکر ہوتا ہے۔ خود غرض اس طرح پیوندِ خاک ہوتا ہے کہ اس کا ذکر کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا … اس پر رونے والا کوئی نہیں ہوتا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اہلِ غزہ! ہم شرمندہ ہیں ۔۔۔ ہم ملت سے نکل کر قومیتوں میں بکھر گئے۔ ہماری وحدت پارہ پارہ ہو چکی! ہمارا بیانیہ ملت کا بیانیہ نہیں رہا ۔۔۔ ہمارا ہر بیانیہ مستعار شدہ ہے۔ ہم اپنوں کو غیروں کی نظر سے دیکھتے ہیں اور غیروں کا اپنا سمجھ لیتے ہیں۔ جب تک ہم ”ہم“ نہ بنیں … باہم ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply