فاروق بلوچ کی تحاریر
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

محبت:ایک سرمایہ دارانہ الجھن/کامریڈ فاروق بلوچ

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جسے انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے مقدس، لازوال اور نفع و نقصان کی حد بندیوں سے ماورا سمجھا گیا ہے۔ مگر کیا یہ سچ ہے؟ جدید دنیا میں، جہاں ہر چیز کی قیمت لگائی جاتی←  مزید پڑھیے

افسانہ: آخری صف کا طالب علم / کامریڈ فاروق بلوچ

وہ ہمیشہ آخری صف میں بیٹھتا تھا۔ نہ اتنا نمایاں کہ استاد کی نگاہیں اس پر ٹک جاتیں، نہ اتنا غیر اہم کہ مکمل فراموش کر دیا جاتا۔ وہ ایک درمیانی سا وجود تھا— بین السطور پڑھی جانے والی تحریر،←  مزید پڑھیے

حقیقی انسانیت اور حقِ خود ارادیت/کامریڈ فاروق بلوچ

انسانی تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے— آزادی کی، انصاف کی، برابری کی۔ ہر دور میں انسانیت کی سچائی کو وہی فکر تسلیم کیا گیا ہے جو فرد کے حقِ خود ارادیت کو مقدس جانتی ہے. انسان کو استحصال، جبر اور←  مزید پڑھیے

افسانہ: ردی کی ٹوکری میں شناخت/ کامریڈ فاروق بلوچ

دفتر کی دیواریں ہمیشہ یکساں لگتی تھیں، جیسے صدیوں سے یہاں وقت رک گیا ہو۔ یہاں کام کرنے والے لوگ بھی ایک جیسے تھے—چپ چاپ، مشینی انداز میں چلتے پھرتے، اپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجائے، جیسے وہ کسی نیم←  مزید پڑھیے

کہاں سے لائیں؟-کامریڈ فاروق بلوچ

تھانے کا داخلی راستہ اسی طرح بھیڑ بھاڑ سے بھرا ہوا تھا جیسے ہمیشہ ہوتا تھا۔ لوگ اپنی اپنی فریادیں لیے قطار میں کھڑے تھے، اور ہر چہرے پر امید اور مایوسی کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ میں بھی انہی←  مزید پڑھیے

ترانوے ہزار پتلونیں/کامریڈ فاروق بلوچ

نوجوان سنجیدہ تاثرات کو قائم کرکے بولنے لگا. “لوہے اور پٹرولیم سمیت کئی دھاتوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ موریطانیہ کی غربت زدہ بدحال عوام کو فقط زراعت َاور مویشیوں کا سہارا ہے”. زیرتعلیم نوجوان←  مزید پڑھیے

ذہنی سکون کے حصول کے سنہری اصول /کامریڈ فاروق بلوچ

ذہنی سکون ایک ایسی دولت ہے جس کی طلب ہر انسان کو رہتی ہے، لیکن اسے حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ سکون ان حکمتوں اور اصولوں پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے جو←  مزید پڑھیے

پیپلز پارٹی:انقلاب سے مفاہمت اور پھر زوال تک/کامریڈ فاروق بلوچ

6 نومبر 1968ء کو پاکستان میں ایک انقلاب کا آغاز ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب طاقت ایوانوں سے نکل کر گلیوں، تعلیمی اداروں، کھیتوں اور فیکٹریوں میں آ گئی۔ طلبہ، مزدور، اور نوجوان اس تحریک کا ایندھن بنے، اور←  مزید پڑھیے

بی ایل اے/کامریڈ فاروق بلوچ

گذشتہ روز یعنی 26 اگست کو بلوچستان لبریشن آرمی BLA کے مسلح جنگجوؤں نے صوبے میں مختلف مقامات پہ حملے کئے۔ 20 غیر مسلح مزدور جن کا تعلق پنجاب سے تھا کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔←  مزید پڑھیے

واقعہ کربلا کی جامع عکاسی (3-آخری حصہ)- کامریڈ فاروق بلوچ

حضرت حسین کی موت پر سب سے پہلے اصبغ النبطہ، جابر بن یزید الجوفی، عمار بن معاویہ الدھنی، عوانہ بن الحکم، الثانی نے تصانیف لکھیں مگر آج اُن میں سے کوئی بھی باقی نہیں ہے. کربلا کی داستان کا بنیادی←  مزید پڑھیے

واقعہ کربلا کی جامع عکاسی (حصّہ دوم)- کامریڈ فاروق بلوچ

بالآخر 8 ذی الحجہ 60 ہجری حج سے ایک قبل یعنی 9 ستمبر 680ء کے دن حضرت حسین تقریباً پچاس آدمیوں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ سے کوفہ کی طرف عازم سفر ہوئے. صحرائے عرب کے شمالی کنارے←  مزید پڑھیے

واقعہ کربلا کی جامع عکاسی(حصّہ اول)-کامریڈ فاروق بلوچ

کربلا کی جنگ جسے عربی میں مَعْرَكَة كَرْبَلَاء اور اردو میں واقعہ کربلا بھی کہا جاتا ہے دوسرے اموی خلیفہ یزید اول کی طاقتور فوج اور اسلامی پیغمبر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے حضرت حسین بن←  مزید پڑھیے

ہندوستانی رسم سَتی پر مختصر تبصرہ/کامریڈ فاروق بلوچ

برصغیر کے ہندووَں میں رواج تھا کہ کسی شخص کے مرنے پر اس کی زندہ بیوی اپنے مردہ خاوند کے ساتھ اُس کی چتا میں جل جاتی تھی۔ یہ ہندو رسمِ ستی کہلاتی تھی۔ قدیم ہندوستان میں اس رسم کی←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/10،آخری قسط۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ہندوستان پہ قبضے کے دوران برطانوی سرکار نے یہاں کی علاقائی زبانوں پہ خاصی تحقیق کی تھی۔ سرائیکی زبان اور اِس کے ادب پر کام کرنے والے مشہور محقق ایڈورڈ اوبرائن نے اپنی کتاب “گلاسری آف ملتانی لینگویج” 1881ء میں←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 9۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

احباب سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی نئی قسط حاضر خدمت ہے۔ آغاز سرائیکی کے مہان شاعر اور اختتام ایک نوآموز شاعر کے شعر سے کیا گیا ہے۔ سرائیکی شاعری کا مستقبل خصوصاً غزل کی صنف کا سرائیکی مستقبل بہت←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 8۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی آٹھویں قسط کا آغاز شہر سلطان کے سید اللہ وسایا بخاری جنہیں دنیائے ادب مہجور بخاری کے نام سے جانتی ہے کے شعر سے کرتے ہیں کہ: پاڑیے سویچ ویندن اے وی امید ہے←  مزید پڑھیے

جسے امریکہ بھی قتل نہ کر سکا۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

کاسترو کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اُس کی محبوبہ نے اُس کو زہریلے کیپسول کی مدد سے مارنے کی کوشش کی مگر ناکام ٹھہری، تو فیڈل کاسترو نے اُس کو اپنا پستول دے دیا اور آرام سے بستر←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 7۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

کوٹلہ حاجی شاہ لیہ کے مشہور عزادار، مرثیہ نگار، نقیبِ مجلس اور شاعر مظہر یاسر نے کیا ہی اعلی شعر کہا ہے کہ: من وچے عشق دے مچکے مچے وت وی رہیاں کچیاں مونجھاں (من میں عشق کے شعلے اٹھے←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 6۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

سرائیکی شاعری جہاں مسدس اور ڈوہڑا بنیادی اصناف ہیں لیکن اِس زبان میں غزل کے تجربے کی تابناکی اور بے باکی بھی کئیوں کو متاثر کر چکی ہے۔ اسی طرح جہاں تحصیل تونسہ نے جدید شعراء کی کھیپ مہیا کی←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 5۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی پانچویں قسط پیش خدمت ہے۔ یہ قسط دس سرائیکی اشعار بمعہ اردو ترجمہ شامل ہیں۔ جہاں احبابِ شعر فہم کی جانب سے تھپکیاں ملیں وہاں ناقدین نے بھی سر اٹھائے ہیں۔ جو بندہ تہنیت←  مزید پڑھیے