• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جسے امریکہ بھی قتل نہ کر سکا۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

جسے امریکہ بھی قتل نہ کر سکا۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

کاسترو کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اُس کی محبوبہ نے اُس کو زہریلے کیپسول کی مدد سے مارنے کی کوشش کی مگر ناکام ٹھہری، تو فیڈل کاسترو نے اُس کو اپنا پستول دے دیا اور آرام سے بستر پہ لیٹ گیا۔ ماریتا پستول تھامے کھڑی رہی اور بالآخر رو کر کہنے لگی میں تمہیں نہیں مار سکتی۔ کاسترو نے کہا درحقیقت مجھے کوئی بھی نہیں مار سکتا۔ لیکن اجل کے ہاتھوں کون زندہ بچ سکتا ہے۔ کاسترو جسے امریکہ بھی قتل نہ کر سکا، آخر آج سے 5 سال قبل 25 نومبر کو طبعی موت مر گیا ہے۔
یکم جنوری 1959 کی ایک عام ہڑتال سے کیوبا مفلوج ہو کر رہ گیا اور آمر بتستا کو کیوبا چھوڑنا پڑا۔ کچھ دنوں بعد گوریلا فوج کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں داخل ہوتی ہے، لوگ کاسترو اور چی گویرا کا عظیم ہیرو کے طور پہ استقبال کرتے ہیں۔ کیوبا کا انقلاب کامیاب ہو چکا ہے۔
انقلاب سے قبل کیوبا کی معیشت پہ بڑی حد تک امریکہ کو غلبہ حاصل تھا۔ کیوبا کی معیشت کا مرکزی ذریعہ گنے کی فصل تھی جو طاقتور شمالی پڑوسی کو ترجیحی قیمتوں پر فروخت کیا جاتا تھا۔ مُلک کی شوگر ملوں پہ امریکی کمپنیوں کا تسلط تھا، اور باقی معاشی اداروں مثلاً تیل، بجلی، ٹیلی فون وغیرہ پہ بھی امریکی تسلط تھا۔ امریکہ کا کیوبا میں زرعی اراضی کی ملکیت پہ تسلط قائم تھا، یعنی مختصر تعداد کے افراد کے پاس اکثریتی زمینوں کی ملکیت تھی، اور کیوبا کے اکثر کسان فقط زرعی محنت کش طبقہ تھے۔ تقریباً 0۔1 فیصد زرعی مالکان کے پاس کل زرعی اراضی کے 20 فیصد کی ملکیت تھی، جبکہ 39 فیصد کسانوں کے پاس 3۔3 فیصد اراضی کی ملکیت تھی۔ کیوبا کا اپنا بورژوازی طبقہ محدود تھا اور بہت معمولی اشیاء کی تیاری میں مصروف تھا۔
دریں اثنا کیوبا کے عوام کے حالات زندگی انتہائی خراب تھے۔ اگر حالات اچھے تھے تو بیروزگاری کی شرح 25 فیصد تک تھی، مگر برے حالات کے دوران بےروزگاری کی شرح 50 فیصد تک ہو جاتی تھی۔ ناخواندگی بہت زیادہ تھی اور فی کس آمدن 312 امریکی ڈالر تک محدود تھی۔
برسوں کیوبا کے محنت کشوں نے سامراج اور سامراج کے مفادات کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ 1930 اور اُس کے بعد سے مسلح بغاوت اور شوگر ملوں میں انقلابی کونسلوں کے قیام سمیت ہڑتالوں اور مظاہروں کی بڑی لہر پیدا ہو گئی۔ پھر عوام کو دھوکہ دینے کیلیے کرنل بتستا نے امریکی کٹھ پتلی جنرل مکاڈو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور خود حاکم بن گیا۔ کیوبن کیمونسٹ پارٹی نے بتستا کی حمایت کی اور بتستا کو کیوبا کے محنت کش طبقہ کا نمائندہ قرار دیا۔ بدلے میں بتستا نے کیمونسٹ پارٹی کو قانونی حیثیت دے دی اور 1942 میں دو وزارتوں سے بھی نواز دیا۔
پھر گراؤ سان مارٹن کی سول حکومت ترتیب دی گئی جو کہ بےتحاشا کرپشن میں ملوث ہو گئی جسے بتستا نے 1952 دوسری بار فوجی بغاوت کے زریعے ختم کر دیا۔ لیکن بتستا کو عوامی پزیرائی نہ مل سکی کیونکہ اُس کے اقدامات سے عوام کی تکالیف میں اضافہ اور امریکی مفادات کو بےپناہ فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔ چھوٹے تاجروں کی ہزاروں کی تعداد بڑی اجارہ داریوں کی وجہ سے دیوالیہ بنا دی گئی۔ چھوٹے چھوٹے زرعی مالکان کو بڑے بڑے جاگیردار امریکی امداد سے مفلوج کر چکے تھے۔ طلباء کی پرت بھی اپنے ملک پہ امریکی تسلط سے شدید دکھی تھی۔
1953 میں طلبا اور دانشوروں کے ایک گروہ نے دستیاب معروض کو بدلنے کیلئے ایک تحریک شروع کی، اور اُن کے مٹھی بھر گروہ نے مونٹکاڈو بیرکوں پر حملے سے تحریک کا آغاز کیا۔ اُس گروہ میں فیڈل کاسترو اور اُس کا بھائی راہول کاسترو بھی شامل تھے۔ اُن کو شکست ہوئی اور جیل بھیج دیا گیا۔ جلد ہی رہائی مل گئی اور یہ لوگ میکسیکو چلے گئے جہاں اُنہوں “26 جولائی موومنٹ” نامی ایک گوریلا تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ تحریک 1956 کو پھر سے کیوبا میں داخل ہو گئی۔
انہوں نے اپنے انقلابی مینی فیسٹو اور اپنی دلیرانہ تین سالہ گوریلا جدوجہد سے کیوبا کے عوام کی حمایت حاصل کر لی، سوائے اُس قلیل تعداد کے جو امریکی بورژوازی کے پٹھو تھے یا پھر بڑے بڑے جاگیردار تھے۔ لڑائی کے دوران تحریک کی اہم بنیاد دیہی علاقوں میں بے زمین اور چھوٹے کسان تھے جن کے لئے ان کے مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ جاگیرداروں کی جاگیروں پہ قبضہ کرنا تھا۔ پھر جنوری 1959 میں عام ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس نے بتستا کو کیوبا چھوڑ کر بھاگ جانے پہ مجبور کر دیا۔
پھر 1960 میں انقلابی حکومت نے تیل کی ریفائنریوں، شوگرملوں، ٹیلی فون اور بجلی کے اداروں قومیا لیا گیا۔ اس کے بعد تمام امریکی کمپنیوں کے ماتحت اداروں کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا اور آخر میں سب سے بڑی کمپنیوں کو عوام کی تحویل میں لیا گیا۔ امریکہ نے کیوبا پہ اقتصادی پابندیاں لگا دیں اور فوجی حملے کی دھمکی دے دی۔ 1961 میں دو ممالک کے سفارتی سمیت تمام تعلقات ختم ہو گئے۔
کیوبا کے کیمونسٹ پارٹی نے فیڈل کاسترو کی مخالفت کی اور اُس کو ایک بدمعاش غنڈہ قرار دیا۔ اُسی دوران انقلابی حکومت نے دو لاکھ کسانوں پہ مشتمل دیہاتوں کی سطح پہ “تحفظِ انقلاب” کمیٹیاں تشکیل دیں۔ تاریخ میں پہلے بار کیوبا کے کسانوں کو جینے اور مرنے کیلئے ایک مقصد مل گیا، اور پہلی بار کسانوں کو کچھ ایسا مل گیا جس کو وہ اپنی ملکیت کہہ کر اُس کے تحفظ کی تمنا پیدا ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ 1961 میں CIA کی جاری کردہ حکومت مخالف سازش کو کسانوں نے کچل دیا۔
معیار زندگی کی بہت بڑی پیش رفت، ناخواندگی کے خاتمے، دنیا میں بہترین صحت کے نظام جیسے اقدامات نے کیوبا کے عوام کے دل جیت لیے۔ لیکن کیوبا کے انقلاب کے بعد بھی عوام، محنت کش طبقے اور کسانوں کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا گیا۔ یقیناً کسانوں کو “انقلابی کمیٹیوں” میں مصروف رکھا گیا، مگر اُن کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ آج کی نوجوان نسل سوشلسٹ حکومت کی اِس غلط پالیسی کے خلاف ہے، مگر بزرگ عوام اُن کو سمجھاتی ہے کہ آج کی زندگی غیرسوشلسٹ حکومت کی زندگی کی نسبت بہت آسان اور خوشحال ہے۔ اب فیڈل کاسترو مَر گیا ہے۔ انقلاب کا باپ مَر گیا۔ امریکی اقتصادی پابندیاں حکومت کو نڈھال کر چکی ہیں۔ سوویت روس کو سوشلسٹ کیوبا کی امداد کرتا تھا خود سرمایہ دارانہ نظام کو اپنا چکا ہے۔ دیکھتے ہیں کیوبا کا انقلاب کس کھونٹے سے باندھا جائے گا۔ چی گویرا کو کیوبا انقلاب میں کاسترو کا بہترین دوست تھا نے کہا تھا کہ “سوشلزم عالمگیر ہوگا تو کامیاب ٹھہرے گا ورنہ کسی نہ کسی دن ختم ہو جائے گا۔” دنیا بھر کے محنت کشوں اور مزدوروں کو ایک ہونا پڑے گا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply