میتیں بھی بکاؤ ہیں ؟۔۔۔ڈاکٹر عزیر سارویہ

کچھ لوگ مسلسل لکھ رہے ہیں کہ ہسپتال (نہ ہسپتال کا نام بتاتے ہیں، نہ کیس کی تفصیل) ان کے کسی عزیز کے، آگے سے کسی عزیز کی میت ان کے عزیزوں کو تھمانے سے قبل کرونا لیبل کرنے کی لاکھوں میں رقم آفر کر رہے ہیں۔

میری رائے یہ ہے کہ لاکھوں چھوڑیے، اگر ہزار بھی آفر ہو رہے ہوتے تو اس دیانت دار قوم نے بکاؤ میتوں کی لائن لگا دی ہوتی۔ پھر ساڑھے آٹھ سو اموات کا ہندسہ مونہہ نہ چڑا رہا ہوتا آفیشل ویب سائیٹ پر۔

پھر اس بات پر بھی حیرانی ہے کہ جس حکومت کے پاس کسی اور کام کے پیسے نہیں، وہ میتوں پر پیسے لٹائے۔ چلیے مان لیا کہ حکومت یا کوئی اور کورونا لیبل کرنے کے پیسے لواحقین کو دے رہا ہے، کیوں دے رہا ہے کوئی اس کی منطقی توجیہ سمجھا دے تو میں مان بھی جاؤں شاید۔

سازشی تھیوریوں کے ماہر دوست نے ایک پوسٹ میں لکھا ہوا تھا کہ کورونا سے کوئی  اموات  نہیں ہو رہیں، دراصل کینسر، شوگر، دل کے امراض وغیرہ سے اموات ہو رہی ہیں۔ اسی پوسٹ میں کچھ آگےجا کر فرمایا ہوا تھا کہ دراصل وینٹی لیٹر زلوگوں کی اموات کی وجہ ہیں، کورونا کا علاج غلط ہو رہا ہے، وینٹی لیٹر   پہ  ڈالنے سے کورونا کا مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ پہلے حصے میں اموات کی وجہ دیگر بیماریاں قرار پا رہی ہیں، یعنی کورونا کو نہیں دیگر بیماریوں کے علاج کی ضرورت ہے۔ اسی تحریر کے اگلے حصے میں کورونا کو یکایک علاج کی ضرورت آن پڑی اور وینٹی لیٹر کی الف بے سے ناواقف اس کے فوائد و نقصانات پر اتھارٹی بھی بن گئے۔

مزے کی بات دیکھیے، کئی دفعہ ڈاکٹروں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی مریض فوت ہوا تو حتمی وجہ کیا بنی۔ اس کام کے لیے میڈیکل آٹاپسی کی جاتی ہے۔۔لیکن سلام ہے سازشی تھیوری میں پی ایچ ڈی عوام کو، جنہیں مریض بیمار ہونے پہ  ہسپتال لے جانا تو ٹھیک لگتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر ڈاکٹر کی تشخیص، اس کے نزدیک مریض کی موت کی ممکنہ وجہ سب پر شک ہوتا ہے اور ان کو وجہ خود پہلے ہی سے معلوم ہوتی ہے۔ بھائی اگر اتنی بے اعتباری ہے تو ایسے جھوٹوں کے پاس مریض لائے کیوں تھے؟۔تشخیص پتا تھی، اتنے عالم فاضل تھے تو ہسپتال کا تکلّف کیوں کیا؟ جن کو کورونا اصل لگتا ہے (یعنی ہیلتھ کیئر والے)، ان کو زحمت دی، ایکسپوژر بڑھایا، اور خود بھی خوار ہوئے۔

انسان کے کردار کا پتا تب چلتا ہے جب وہ اپنے خیالات کو واقعی عملی جامہ پہنانے کا اہل ہو۔ اسے انگریزی میں walk the talk کہتے ہیں۔ صرف ویڈیو یا تحریری پوسٹوں سے دنیا کو اس کرونا نامی عظیم سازش سے آپ آزاد نہیں کروا سکتے۔ آپ اپنے اس یقین کو عمل میں ڈھالیے۔ اس کے لیے میری چند تجاویز:

مغرب میں بینڈز پہننے کا رواج ہے جن پر کبھی DNR یعنی Do Not Resuscitate (یعنی مصنوعی طریقہ پر حرکت قلب یا سانس دوبارہ چلانے کی کوشش نہ کی جائے) وغیرہ جیسی عبارات درج ہوتی ہیں۔ ایسے مریض ہسپتال پہنچتے ہیں تو ڈاکٹر یہ بینڈز دیکھ کر ان کو وہ علاج فراہم نہیں کرتے جس بارے یہ بینڈ کے ذریعہ منع کر چکے ہوتے ہیں۔ کرونا کو ڈرامہ سمجھنے والے آج ہی اپنے اور گھر والوں کے لیے ایسے بینڈز کا بندوبست کریں، جس پر لکھا ہو کہ ہم کرونا کو نہیں مانتے، اگر ڈاکٹر کو لگتا ہے کہ ہمیں کرونا ہے تو ہمارا علاج نہ کرے اور واپس لوٹا دے۔ یقین کیجیے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ (کیونکہ کسی کو شوق نہیں اضافی مریض دیکھنے کا، خصوصاً وہ جس کا علاج کرتے خود بیمار ہونے کا خدشہ ہو، اور جس کے مرنے کے بعد اس کے لواحقین کی جہالت کا شکار بھی بننا پڑ جائے)۔

اگر آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کرونا سازش ہے اور سب ڈرامہ ہے تو سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کوشش کریں کہ کرونا مریضوں کے سنٹروں کا روز دورہ کریں۔ ہسپتال کے کرونا وارڈز میں وقت لگائیں۔ بیمار نہ ہوئے تو خود ہی اس عظیم سازش کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ خالی باتیں کرنے سے نہیں، اس سازش کا مقابلہ عمل سے کیجیے۔

اگر آپ ان خوش نصیبوں کو جانتے ہیں جن کو میت کو کورونا لیبل کروانے کے پیسے مل رہے ہیں یا مل چکے ہیں تو کوئی چیک، کوئی کیش یا پیسے ملنے کا ثبوت پبلک کیجیے۔ تاکہ سب کا بھلا ہو، جس جس کے گھر بیمار لوگ ہیں وہ اس آفر کو اویل کر کے اپنی غربت کا علاج کر سکیں۔ یوں عوام کی خدمت بھی ہو جائے گی سازش بھی بے نقاب ہو جائے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *